مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تحریک آزادی ہند اور مسلمان

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "تحریک آزادی ہند اور مسلمان" ایک ایسی علمی و فکری تحریر ہے جو ہندوستانی مسلمانوں کے سامنے پیش آنے والے سیاسی، تہذیبی اور وجودی بحران کا گہرائی سے تجزیہ پیش کرتی ہے۔ اس کتاب کا مرکزی خیال یہ ہے کہ اسلام محض عبادات تک محدود نہیں بلکہ زندگی کا ایک جامع نظام ہے جس کا مقصد اللہ کی حاکمیت کو تمام شعبوں—سیاست، معیشت، معاشرت، تعلیم—میں قائم کرنا ہے۔ غلامی اور اسلام باہم منافی چیزوں ہیں؛ لہٰذا مسلمانوں کی آزادی کی جدوجہد صرف سیاسی آزادی تک محدود نہیں رہ سکتی بلکہ اس کا مقصد دارالاسلام کی تشکیل ہونا چاہیے، جہاں اسلامی نظامِ حیات غالب ہو۔

کتاب کا آغاز مسلمانوں کی غلامی سے آزادی کی تاریخی جدوجہد سے ہوتا ہے، جس میں سید احمد شہیدؒ، فرائضی تحریک اور 1857ء کی جنگِ آزادی کو اسلامی استقلال کی عکاسی قرار دیا گیا ہے۔ مودودی صاحب واضح کرتے ہیں کہ برطانوی سامراج نے نہ صرف سیاسی بلکہ تہذیبی اور ذہنی غلامی کو فروغ دیا، جس کے نتیجے میں مسلمانوں کی قومی شناخت متزلزل ہو گئی۔ انیسویں صدی کے آخر میں مغربی تہذیب کے ساتھ سمجھوتہ کرنے والی روش نے مسلم معاشرے میں ایک گہری کشمکش پیدا کر دی، جہاں قدامت پسند اور جدیدیت پسند دونوں راستے ناکام ثابت ہوئے۔

باب دوم "ہم کہاں کھڑے ہیں؟" میں مصنف مسلمانوں کی موجودہ فکری اور سیاسی بے چینی کا جائزہ لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ خلافت تحریک کی ناکامی کے بعد قیادت کا فقدان ہوا اور ملت ایک انتشار کی حالت میں چلی گئی۔ کتاب کے وسطی مضامین جماعتِ اسلامی کے قیام (1941ء) کے بعد کے سیاسی مؤقف کو تاریخی ترتیب سے بیان کرتے ہیں: مسلم لیگ سے اختلاف کی نوعیت، غیر اسلامی قانون ساز مجلسوں کی رکنیت کا شرعی حکم، پرامن انقلاب کے راستے پر اصرار، اور 1946ء کے انتخابات اور صوبہ سرحد کے ریفرنڈم میں جماعتِ اسلامی کے مسلک کی وضاحت شامل ہے۔

کتاب کے آخری مضامین 1947-48ء کے دوران تقسیمِ ہند اور قیامِ پاکستان کے بعد پیدا ہونے والے سوالات پر مرکوز ہیں: تقسیم کے وقت مسلمانوں کی حالت کا جائزہ، کیا پاکستان کو ایک مذہبی ریاست ہونا چاہیے، اور پاکستان میں اسلامی قانون کے نفاذ میں حائل رکاوٹیں اور اسے نافذ کرنے کا طریقہ کار۔ یوں کتاب مجموعی طور پر مسلمانانِ ہند کی جدوجہدِ آزادی کے فکری سفر کو غلامی کے دور سے لے کر ایک نظریاتی ریاست کے قیام کے فوری بعد تک، بلاتعطل تاریخی ترتیب میں پیش کرتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

مقدمہ طبع اوّل(فروری ۱۹۴۱ء)

’’مسلمان اور موجودہ سیاسی کش مکش‘‘ کے عنوان سے میرے مضامین کے دو مجموعے اس سے پہلے شائع ہوچکے ہیں [ اب یہ دونوں مجموعے ’’تحریک آزادیِ ہند اور مسلمان‘‘ حصّہ اوّل، دوم کے نام سے شائع ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ’’مسئلہ قومیّت‘‘ مستقل کتاب کی صورت میں بھی مل سکتی ہے(جدید)]۔اب اُسی سلسلہ کا یہ تیسرا مجموعہ شائع کیا جارہا ہے۔ بظاہر پہلے دونوں مجموعوں سے اس تیسرے مجموعہ کا فاصلہ اتنا زیادہ ہے‘ کہ ایک شخص بادی النظر میں یوں محسوس کرے گا کہ میں نے حصّہ دوم کے بعد سے یکایک اپنی پوزیشن بدل دی ہے‘ اور خود اپنی بہت سی کہی ہوئی باتوں کی تردید کرنے لگا ہوں۔ لیکن دراصل ان تینوں مجموعوں میں ایک نصب العین کی طرف تدریجی ارتقا ہے‘ جس کی توضیح یہاں کر دینا چاہتا ہوں‘ تاکہ ناظرین کو کسی قسم کا خلجان پیش نہ آئے۔

یہ بات تھوڑے غور وتامل سے ہر شخص کی سمجھ میں آسکتی ہے‘ کہ ایک پرانی تحریک کو زوال وانحطاط کے بعد دوبارہ زندہ کرنے کا کام کسی نئی تحریک کی ابتداء کرنے کی بہ نسبت زیادہ دشوار اور پیچیدہ ہوتا ہے۔ نئی تحریک پیش کرنے والے کا راستہ تو بالکل صاف ہوتا ہے۔ اسے صرف ان لوگوں سے سابقہ پیش آتا ہے‘ جو اس تحریک سے بیگانہ ہوتے ہیں۔ اس کو محض اپنے اصول ومقاصد کی تبلیغ کرنی ہوتی ہے۔ پھر یا تو لوگ ا سکی دعوت کو ردّ کر دیتے ہیں‘ یا قبول کر لیتے ہیں۔ لیکن جو کسی پرانی تحریک کو زوال وانحطاط کے بعد دوبارہ زندہ کرنا چاہے اس کے لیے صرف یہی ایک کام نہیں ہوتاکہ بیگانوں کے سامنے اپنی دعوت پیش کرے بلکہ اسے یگانوں پر بھی نظر رکھنی پڑتی ہے۔ وہ ان لوگوں کو کسی طرح نظر انداز نہیں کر سکتا جو پہلے سے اس تحریک کے ساتھ وابستہ ہیں‘ اور بہرحال بیگانوں کی بہ نسبت اس سے قریب تر ہیں۔ اس کو سب سے پہلے یہ دیکھنا ہوتا ہے‘ کہ انحطاط کا عمل ان کے اندر کہاں تک ہوچکا ہے‘ اور اصل تحریک کا اثر کس حد تک ان میں باقی ہے۔ پھر اسے یہ فکر بھی کرنی پڑتی ہے‘ کہ جس حد تک بھی وہ دور نکل گئے ہیں اس سے آگے نہ جانے پائیں اور جو کچھ اثر ان کے اندر باقی ہے وہ محفوظ رہے۔ ان کی حیثیت اس تحریک کے حق میں بالکل اس سرمایہ کی سی ہوتی ہے‘ جو کسی شخص کے پاس بچا کُھچا باقی رہ گیا ہو‘ اور ظاہر ہے‘ کہ ایک عقل مند آدمی کسی طرح یہ گوارا نہیں کر سکتاکہ جو کچھ اس کا ہے وہ بھی ہاتھ سے جاتا رہے۔ لہٰذا اس کے لیے ناگزیر ہوتا ہے‘ کہ اس تحریک کے ساتھ لوگوں کی وابستگی جیسی کچھ بھی سرِدست ہے اس کو کم از کم اسی حد پر بر قرار رکھنے کی کوشش کرے‘ اور اس کو مزید اضمحلال سے روکے۔ تحفظ کی اس تدبیر میں کسی حد تک کامیاب ہوجانے کے بعد اس کے لیے لازم ہوتا ہے‘ کہ وہ انہیں موجودہ حالت پر نہ ٹھیر نے دے بلکہ اصل تحریک کی طرف ان کو کھینچنے کی کوشش کرے‘ اور کسی دوسری چیز کو ان کا نصب العین اور ان کی کوششوں کا مرکز ومحورنہ بننے دے۔ اتنے مرحلوں سے گزر کر پھر کہیں اس کے لیے دعوتِ عام کا موقع آتا ہے‘ اور وہ اس مقام پر پہنچتا ہے‘ جہاں سے ایک نئی تحریک پیش کرنے والے کا کام شروع ہوتا ہے۔

چونکہ میرے پیشِ نظر تحریک اسلامی کا احیا ہے‘ اس لیے مجھے بھی اُسی تدریج کے ساتھ اپنے مقصد کی طرف پیش قدمی کرنی پڑی ہے‘ جس کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا ہے۔’’ترجمان القرآن‘‘ کی زندگی کے ابتدائی چار سال اس کو شش میں صرف ہوئے کہ مسلمانوں کے مختلف طبقوں میں گمراہی کی جو جو شکلیں پیدا ہوگئی ہیں ان پر گرفت کی جائے‘ اور اسلام سے جو روزافزوں بعد ان میں پیدا ہورہا ہے اسے روکا جائے۔[میری کتاب ’’تنقیحات‘‘ اسی کوشش کا آئینہ ہے۔(قدیم)] ابھی یہ کوشش جاری تھی کہ ۳۷ء میں یکایک یہ خطرہ سامنے آگیا کہ ہندستان کے مسلمان کہیں اس وطنی قومیّت کی تحریک کے شکار نہ ہوجائیں‘ جو آندھی اور طوفان کی طرح ملک پر چھائی چلی جا رہی تھی۔ یہ ظاہر بات ہے‘ کہ ہم موجودہ ظالمانہ نظامِ حکومت[مراد ہے انگریزی حکومت جو اس وقت پورے برصغیر ہندو پاکستان پر مسلّط تھی۔(جدید)] کے خواہ کتنے ہی مخالف ہوں‘ اور ہمارے دل میں اس کے پنجے سے نکلنے کی خواہش چاہے کانگریسی حضرات سے بھی بڑھی ہوئی کیوں نہ ہو‘ مگر ہم کسی طرح بھی یہ گوارا نہیں کر سکتے کہ جو لوگ اس وقت تک تھوڑے یا بہت اسلام کے حلقہ اثر میں ہیں ان کو ہندستانی قوم پرستی کی تحریک اپنی ربط عوام (mass contact) کی تدبیروں سے اور اپنی واردھا اسکیم اور وِدّیا مندر اسکیم کے ذریعہ سے‘ اور اپنے سیاسی ومعاشی تفوّق کے زور سے اپنے اندر جذب کر لے‘ اور ان کے نظریات اور ان کی زندگی کو اتنا متغیّر کر دے کہ ایک دو پشتوں کے بعد ہندستان کی آبادی میں اسلام اتنا ہی اجنبی ہوکر رہ جائے جتنا جاپان یا امریکہ میں ہے۔[ اس کا پس منظر سمجھنے کے لیے میری کتاب ’’تحریک آزادی ہند اور مسلمان‘‘ حصّہ اوّل ملا حظہ فرمائیں۔ (جدید)] اس خطرہ کو جس چیز نے اور زیادہ پریشان کن بنا دیا وہ یہ تھی کہ محض انگریزی اقتدار سے آزاد ہونے کے لالچ میں مسلمانوں کے مذہبی رہنمائوں کا ایک سب سے زیادہ بااثر طبقہ وطنی قوم پرستی کی تحریک کا معاون بن گیا‘ اور اس نے انگریز دشمنی کے اندھے جوش میں اس چیز کی طرف سے بالکل آنکھیں بند کرلیں کہ اس تحریک کا فروغ ہندستان میں اسلام کے مستقبل پر کس طرح اثر انداز ہوگا۔[مراد ہے علما کا وہ گروہ جو اس وقت کانگریس کا ساتھ دے رہا تھا۔(جدید)] لہٰذا اس خطرے کا سد باب کرنے کے لیے میں نے ’’مسلمان اور موجودہ سیاسی کش مکش‘‘ کے عنوان سے مضامین کا ایک سلسلہ ۳۷ء کے آخر میں اور پھر دوسرا سلسلہ ۳۸ء کے آغاز میں شائع کیا۔ ان مجموعوں میں میرے پیشِ نظر صرف یہ چیز تھی کہ مسلمان کم از کم اپنی مسلمانیت کے موجودہ مرتّبے سے نیچے نہ جانے پائیں اور اپنے تشخص کو گم نہ کردیں۔ اس لیے میں نے ان کے اندر اسلامی قومیّت کا احساس بیدار کرنے کی کوشش کی‘ ان کو اُس جمہوری لادینی نظامِ حکومت کے نقصانات سے آگاہ کیا جو واحد قومیّت کے مفروضہ پر ہندستان میں قائم کیا جا رہا تھا‘ ان آئینی تحفظات اور ’’بنیادی حقوق‘‘ کی حقیقت واضح کی جن پر اعتماد کر کے مسلمان اس مہلک جمہوری دستور کے جال میں پھنسنے کے لیے آمادہ ہورہے تھے‘ اور ان کے سامنے ’’شبہ دارالاسلام[یعنی ہندستان اگر پورا دارالاسلام نہ بن سکے‘ تو دارالاسلام سے مشابہ ایک ایسا ملک بن جائے‘ جس میں ان کا اسلامی تشخص بر قرار رہ سکے۔(جدید)] ‘‘ کا نصب العین پیش کیا‘ تاکہ کسی نصب العین کے موجود نہ ہونے سے خیالات اور اعمال کی جو پراگندگی ان کے اندر پیدا ہوگئی ہے وہ بھی دور ہو‘ اور ان کو نظر جمانے کے لیے ایک ایسا مطمح نظر بھی مل جائے‘ جو نہ تو اصل اسلامی سمت سے ہٹا ہوا اور نہ اتنا زیادہ بلند ہوکہ اس کی بلندی کو دیکھ کر ان کی ہمتیں پست ہوجائیں۔

اس وقت چونکہ تحفظ کا کام مقدم تھا اس لیے میں نے آزادی‘ قومیّت‘ قومی تہذیب‘ حکومت ِخود اختیاری‘ اقلیت واکثریت وغیرہ کے متعلق رائج الوقت تصوّرات کے خلاف کچھ کہنے سے قصدًا احتراز کیا‘ اور ان الفاظ کے جومفہومات ذہنوں میں راسخ تھے ان کو جوں کا توں قبول کر کے اسی زبان میں گفتگو کی جس کو لوگ سمجھ سکتے تھے۔ اسی طرح میں نے مطلوب اصلی سے بحث کرنے کے بجائے حالت واقعی تک اپنی بحث کو محدود رکھنا زیادہ مناسب سمجھا‘ تاکہ دونوں چیزوں کو بیک وقت پیش کرنے سے دماغ پراگندہ نہ ہوجائیں‘ اور ایک ہی چھلانگ میں مقصد ِبعید تک پہنچنے کی کوشش کہیں مقصد قریب کے بھی ہاتھ سے جانے کی موجب نہ بن جائے۔

یہ کام جس غرض کے لیے کیا گیا تھا اﷲ کے فضل وکرم سے وہ پچھلے دو تین سال میں حاصل ہوچکی ہے‘ اور اب اس امر کا کوئی خطرہ باقی نہیں ہے‘ کہ ہند ستان کے مسلمان کسی وطنی قومیّت میں اپنے آپ کو گُم کر دیں گے یا اپنے آپ کو کسی ایسے جمہوری نظام میں نتھی کر الیں گے‘ جو واحد قومیّت کے مفروضہ پر تعمیر کیا گیا ہو۔ یہ جو کچھ ہوا کسی انسانی کوشش سے نہیں‘ بلکہ محض اﷲ کے فضل سے ہوا۔ اسی کی مہربانی سے متعدد اسباب ایسے پیدا ہوئے‘ جن کی بدولت مسلمان اس خطرے سے بچنے کے لیے تیار ہوگئے۔ اس سلسلہ میں جن لوگوں کو اس نے تھوڑی یا بہت خدمت کی توفیق بخشی ان کے لیے فخر کا مقام نہیں‘ بلکہ شکر کا مقام ہے۔

اس مرحلہ کے طے ہوجانے کے بعد اب میرے سامنے دوسرا سوال یہ تھا‘ کہ آیا مسلمانوں کو اس نتیجہ پر مطمئن ہونے دیا جائے‘ جو حاصل ہوچکا ہے‘ یا ان میں مزید بے چینی پیدا کر کے انہیں اسلام کے اصلی نصب العین کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی جائے؟ آیا مسلمانوں کو سیاست واجتماع کے انہی غلط تصوّرات میں مبتلا رہنے دیا جائے‘ جو مغربی جاہلیت سے انہوں نے سیکھے ہیں‘ یا ان کے سامنے اسلام کے اجتماعی وسیاسی تصوّرات کو صرف علمی حیثیت ہی سے نہیں‘ بلکہ ایک عملی مطمحِ نظر کی حیثیت سے بھی پیش کر دیا جائے؟ آیا مسلمانوں کو محض اپنی انفرادیت کے سنبھالنے ہی میں لگا رہنے دیا جائے‘ یا انہیں یہ بتایا جائے کہ تمہاری انفرادیت مقصود بالذّات نہیں‘ بلکہ ایک عظیم تر مقصد کے لیے مطلوب ہے؟ یہ سوال سامنے آتے ہی میرے ضمیر نے قطعی فیصلہ صادر کیا کہ پہلی شق غلط ہے‘ اور صرف دوسری شق ہی صحیح ہے۔چنانچہ اگر کوئی دوسرا سبب پیش نہ آتا تب بھی مجھے وہ کام کرنا ہی تھا‘ جو میں نے کیا۔ لیکن بدقسمتی سے اس کے ساتھ دو مزید وجوہ ایسے پیدا ہوگئے‘ جنہوں نے مجبور مجھے کر دیا کہ پچھلے مجموعہ کی اشاعت کے فوراً بعد ہی ان مضامین کا سلسلہ شروع کر دوں جن کا مجموعہ اس وقت ہدیہ ناظرین کیا جا رہا ہے۔

پہلی وجہ یہ تھی کہ اس نئی تحریک کے دور میں عامۃ مسلمین کی قیادت ورہنمائی ایک ایسے گروہ کے ہاتھ میں چلی گئی جو دین کے علم سے بے بہرہ ہے‘ اور محض قوم پرستانہ جذبہ کے تحت اپنی قوم کے دنیوی مفاد کے لیے کام کر رہا ہے۔ دین کا علم رکھنے والا عنصر اس گروہ میں اتنا بھی نہیں جتنا آٹے میں نمک ہوتا ہے‘ اور اس قدر قلیل کو بھی کوئی دخل رہنمائی میں نہیں ہے۔ یہ براہِ راست نتیجہ ہے علما کرام کی اس غلط سیاسی روش کا جس پر وہ ابھی تک اصرار کیے چلے جا رہے ہیں۔ اور میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ ہندستان میں اس سے پہلے کبھی عام مسلمانوں کا اعتماد علمائے دین سے ہٹ کر اس شدت کے ساتھ غیر دیندار اور ناواقف دین رہنمائوں پر نہیں جما تھا۔ میرے نزدیک یہ صورت حال اسلام کے لیے وطنی قومیّت کی تحریک سے کچھ کم خطر ناک نہیں ہے۔ اگر ہندستان کے مسلمانوں نے دین سے بے بہرہ لوگوں کی قیادت میں ایک بے دین قوم کی حیثیت سے اپنا علیحدہ وجود برقرار رکھا بھی(جیسا کہ ٹرکی اور ایران میں بر قرار رکھے ہوئے ہیں[یہ اس وقت کی کیفیت تھی‘ جب یہ مضمون لکھا گیا تھا۔(جدید)] تو ان کے اس طرح زندہ رہنے میں اور کسی غیر مسلم قومیّت کے اندر فنا ہوجانے میں آخر فرق ہی کیا ہے؟ ہیرے نے اگر اپنی جو ہریت ہی کھو دی تو پھر جوہری کو اس سے کیا دلچسپی کہ وہ کم بخت پتھر کی صورت میں باقی رہے یا منتشر ہوکر خاک میں رَل مِل جائے۔[یہ بات جب لکھی گئی تھی تو لوگوں کو بہت ناگوار ہوئی تھی۔ لیکن اب ۱۹۷۲ء کے پاکستان میں جو حالت ہے اسے سب دیکھ رہے ہیں۔(جدید)]

دوسری وجہ یہ تھی کہ میں نے اس تحریک کے اندر داعیہ دینی کے بجائے داعیہ قومی کو بہت زیادہ کار فرما دیکھا۔ اگرچہ ہندستان کے مسلمانوں میں اسلام اور مسلم قوم پرستی ایک مدّت سے خَلْطْ مَلْط ہیں‘ لیکن قریبی دور میں اس معجون کا اسلامی جُزو اتنا کم اور قوم پرستانہ جُزو اتنا زیادہ بڑھ گیا ہے‘ کہ مجھے اندیشہ ہے‘ کہ کہیں اس میں نِری قوم پرستی ہی قوم پرستی نہ رہ جائے۔ حدیہ ہے‘ کہ ایک بڑے ممتاز لیڈر کو ایک مرتّبہ اس امر کی شکایت کرتے ہوئے سنا گیا کہ ممبئی اور کلکتہ کے دولت مند مسلمان اینگلو انڈین فاحشات کے ہاں جاتے ہیں‘ حالانکہ مسلمان طوائفیں ان کی سر پرستی کی زیادہ مستحق ہیں! اس حد کمال کو پہنچ جانے کے بعد اس مسلم قوم پرستی کے ساتھ مزید رواداری برتنا میرے نزدیک گناہ عظیم ہے۔ یہ ظاہر بات ہے‘ کہ مستحکم جماعتی زندگی پیدا کرنے کے لیے افراد میں بہرحال کوئی ایک مشترک وفاداری پیدا کرنا کافی ہے: خواہ وہ خدا کی وفاداری ہویا قوم کی یا وطن کی۔ اس لحاظ سے جن لوگوں کو محض جماعتی استحکام مطلوب ہے ان کے لیے تو یہ امر کسی تشویش کا باعث نہیں ہوسکتاکہ مسلمانوں میں خدا کے بجائے قوم کی مشترک وفاداری سے یہ مقصد حاصل ہو۔ لیکن ہم خدا پر ایمان رکھنے والوں کو آخر کس زمین میں پناہ اور کس آسمان کے نیچے سر چھپانے کی جگہ ملے گی اگر ہم بھی خدا کے ان بندوں کو خدا کے بجائے کسی اور کی مشترک وفاداری پر مجتمع ہوتے دیکھتے رہیں اور کچھ نہ بولیں۔

یہ ہیں وہ محرکات جن کے تحت اس مجموعہ کے مضامین لکھے گئے ہیں۔ میں نے ان مضامین میں مسلمانوں کی مختلف جماعتوں پر اور کہیں کہیں ان کے لیڈروں پر بھی صاف صاف تنقید کی ہے‘ مگر خدا شاہد ہے‘ کہ کسی شخصیت یا کسی پارٹی سے مجھ کو کوئی ذاتی عداوت نہیں ہے۔ میں صرف حق کا دوست اور باطل کا دشمن ہوں۔ جس چیز کو میں نے حق سمجھا ہے اس کے حق ہونے کی دلیل بیان کر دی ہے‘ اور جسے باطل سمجھا ہے اس کے بطلان پر بھی دلائل بیان کر دئیے ہیں۔ اگر کوئی شخص مجھ سے اختلاف رکھتا ہو‘ اور وہ دلیل سے میری رائے کی غلطی واضح کر دے تو میں اپنی رائے واپس لے سکتا ہوں۔ رہے وہ حضرات جو صرف یہ دیکھ کر کہ کچھ ان کی پارٹی یاان کی محبوب شخصیتوں کے خلاف کہا گیا ہے غضب ناک ہوجاتے ہیں‘ اور پھر اس سے بحث نہیں کرتے کہ جو کچھ کہا گیا ہے وہ حق ہے‘ یا باطل‘ تو ایسے لوگوں کے غیظ وغضب کی مجھے کوئی پر وا نہیں۔ میں نہ ان کی گالیوں کا جواب دوں گا ‘اور نہ اپنے طریقہ ہی سے ہٹوں گا۔

ابوالاعلیٰ

لاہور

محرّم ۱۳۶۰ ھ(فروری۱۹۴۱ء)