مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تحریک آزادی ہند اور مسلمان

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "تحریک آزادی ہند اور مسلمان" ایک ایسی علمی و فکری تحریر ہے جو ہندوستانی مسلمانوں کے سامنے پیش آنے والے سیاسی، تہذیبی اور وجودی بحران کا گہرائی سے تجزیہ پیش کرتی ہے۔ اس کتاب کا مرکزی خیال یہ ہے کہ اسلام محض عبادات تک محدود نہیں بلکہ زندگی کا ایک جامع نظام ہے جس کا مقصد اللہ کی حاکمیت کو تمام شعبوں—سیاست، معیشت، معاشرت، تعلیم—میں قائم کرنا ہے۔ غلامی اور اسلام باہم منافی چیزوں ہیں؛ لہٰذا مسلمانوں کی آزادی کی جدوجہد صرف سیاسی آزادی تک محدود نہیں رہ سکتی بلکہ اس کا مقصد دارالاسلام کی تشکیل ہونا چاہیے، جہاں اسلامی نظامِ حیات غالب ہو۔

کتاب کا آغاز مسلمانوں کی غلامی سے آزادی کی تاریخی جدوجہد سے ہوتا ہے، جس میں سید احمد شہیدؒ، فرائضی تحریک اور 1857ء کی جنگِ آزادی کو اسلامی استقلال کی عکاسی قرار دیا گیا ہے۔ مودودی صاحب واضح کرتے ہیں کہ برطانوی سامراج نے نہ صرف سیاسی بلکہ تہذیبی اور ذہنی غلامی کو فروغ دیا، جس کے نتیجے میں مسلمانوں کی قومی شناخت متزلزل ہو گئی۔ انیسویں صدی کے آخر میں مغربی تہذیب کے ساتھ سمجھوتہ کرنے والی روش نے مسلم معاشرے میں ایک گہری کشمکش پیدا کر دی، جہاں قدامت پسند اور جدیدیت پسند دونوں راستے ناکام ثابت ہوئے۔

باب دوم "ہم کہاں کھڑے ہیں؟" میں مصنف مسلمانوں کی موجودہ فکری اور سیاسی بے چینی کا جائزہ لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ خلافت تحریک کی ناکامی کے بعد قیادت کا فقدان ہوا اور ملت ایک انتشار کی حالت میں چلی گئی۔ کتاب کے وسطی مضامین جماعتِ اسلامی کے قیام (1941ء) کے بعد کے سیاسی مؤقف کو تاریخی ترتیب سے بیان کرتے ہیں: مسلم لیگ سے اختلاف کی نوعیت، غیر اسلامی قانون ساز مجلسوں کی رکنیت کا شرعی حکم، پرامن انقلاب کے راستے پر اصرار، اور 1946ء کے انتخابات اور صوبہ سرحد کے ریفرنڈم میں جماعتِ اسلامی کے مسلک کی وضاحت شامل ہے۔

کتاب کے آخری مضامین 1947-48ء کے دوران تقسیمِ ہند اور قیامِ پاکستان کے بعد پیدا ہونے والے سوالات پر مرکوز ہیں: تقسیم کے وقت مسلمانوں کی حالت کا جائزہ، کیا پاکستان کو ایک مذہبی ریاست ہونا چاہیے، اور پاکستان میں اسلامی قانون کے نفاذ میں حائل رکاوٹیں اور اسے نافذ کرنے کا طریقہ کار۔ یوں کتاب مجموعی طور پر مسلمانانِ ہند کی جدوجہدِ آزادی کے فکری سفر کو غلامی کے دور سے لے کر ایک نظریاتی ریاست کے قیام کے فوری بعد تک، بلاتعطل تاریخی ترتیب میں پیش کرتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

اسلامی حکومت کس طرح قائم ہوتی ہے؟(دسمبر ۱۹۴۱ء)

[یہ ایک مقالہ ہے‘ جو ۱۲؍ ستمبر۱۹۴۰ء کو اسٹریچی ہال‘ مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ میں پڑھا گیا تھا۔]

اس مقالے میں مجھے اُس عمل (process) کی تشریح کرنی ہے‘ جس سے ایک طبعی نتیجہ کے طور پر اسلامی حکومت وجود میں آتی ہے۔ آج کل میں دیکھ رہا ہوں کہ اسلامی حکومت کا نام بازیچۂ اطفال بنا ہوا ہے۔ مختلف حلقوں سے اس تصوّر اور اس مقصد کا اظہار ہورہا ہے‘ مگر ایسے ایسے عجیب راستے اس منزل تک پہنچنے کے لیے تجویز کیے جا رہے ہیں‘ جن سے وہاں تک پہنچنا اتنا ہی محال ہے جتنا موٹر کار کے ذریعہ سے امریکا تک پہنچنا۔ اس خام خیالی (loose thinking)کی تمام تر وجہ یہ ہے‘ کہ بعض سیاسی وتاریخی اسباب سے کسی ایسی چیز کی خواہش تو پیدا ہوگئی ہے‘ جس کا نام ’’اسلامی حکومت ہو‘ مگر خالص علمی (scientific)طریقہ پر نہ تو یہ سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے‘ کہ اس حکومت کی نوعیت کیا ہے‘ اور نہ یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ وہ قائم کیونکر ہوا کرتی ہے۔ایسی حالت میں یہ ضرورت محسوس ہوتی ہے‘ کہ علمی طریقہ پر اس مسئلے کی پوری تحقیق کی جائے۔

نظامِ حکومت کا طبعی ارتقا

جو لوگ اجتماعیات میں کچھ بھی نظر رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں‘ کہ حکومت خواہ کسی نوعیت کی ہو‘ مصنوعی طریقہ سے نہیں بنا کرتی۔ وہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے‘ کہ کہیں وہ بن کر تیار ہو‘ اور پھر اُدھر سے لاکر اس کو کسی جگہ جما دیا جائے۔ اس کی پیدائش تو ایک سوسائٹی کے اندر اخلاقی نفسیاتی‘ تمدّنی اور تاریخی اسباب کے تعامل سے طبعی طور پر ہوتی ہے۔ اس کے لیے کچھ ابتدائی لوازم (prerequisites)‘ کچھ اجتماعی محرّکات‘ کچھ فطری مقتضیات ہوتے ہیں‘ جن کے فراہم ہونے اور زور کرنے سے وہ وجود میں آتی ہے۔ جس طرح منطق میں آپ دیکھتے ہیں‘ کہ نتیجہ ہمیشہ مقدمات(premises)کی ترتیب ہی سے بر آمد ہوتا ہے۔ جس طرح علم الکیمیا میں آپ دیکھتے ہیں‘ کہ ایک کیمیاوی مرکب ہمیشہ کیمیاوی کشش رکھنے والے اجزا کے مخصوص طریقہ پر ملنے ہی سے بر آمد ہوتا ہے‘ اسی طرح اجتماعیات میں بھی یہ حقیقت ناقابلِ انکار ہے‘ کہ ایک حکومت صرف ان حالات کے اقتضاء کا نتیجہ ہوتی ہے‘ جو کسی سوسائٹی میں بہم ہوگئے ہوں۔ پھر حکومت کی نوعیت کا تعین بھی بالکُلیہ ان حالات کی کیفیت پر منحصر ہوتا ہے‘ جو اس کی پیدائش کے مقتضی ہوتے ہیں‘ جس طرح یہ ممکن نہیں کہ مقدمات کسی نوعیت کے ہوں ‘اور ان کی ترتیب سے نتیجہ کچھ اور نکل آئے‘ درخت لیموں کا لگایا جائے‘ اور نشوونما پا کر وہ پھل آم کے دینے لگے‘ اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں ہے‘ کہ اسباب ایک خاص نوعیت کی حکومت کے فراہم ہوں‘ ان کے مل کر کام کرنے کا ڈھنگ بھی اسی نوعیت کی حکومت کے نشو ونما پانے کے لیے مناسب ہو‘ مگر ارتقائی مراحل سے گزر کر جب وہ تکمیل کے قریب پہنچے تو انہی اسباب اور اسی عمل کے نتیجہ میں بالکل ایک دوسری ہی نوعیت کی حکومت بن جائے۔

یہ گمان نہ کیجیے کہ میں یہاں جبریت(determinism)کو دخل دے رہا ہوں‘ اور انسانی ارادہ واختیار کی نفی کر رہا ہوں۔ بلا شبہ حکومت کی نوعیت متعین کرنے میں افراد اور جماعتوں کے ارادہ وعمل کا بہت بڑا حصّہ ہے‘ مگر دراصل میں یہ ثابت کر رہا ہوں کہ جس نوعیت کا بھی نظامِ حکومت پیدا کرنا مقصود ہو‘ اسی کے مزاج اور اسی کی فطرت کے مناسب اسباب فراہم کرنا اور اسی کی طرف لے جانے والا طرزِعمل اختیار کرنا بہرحال ناگزیر ہے۔اس کے لیے ضروری ہے‘ کہ ویسی ہی تحریک اُٹھے‘ اسی قسم کے انفرادی کیرکٹر تیار ہوں‘ اسی طرح کا اجتماعی اخلاق بنے‘ اسی طرز کی لیڈر شپ ہو‘ اور اسی کیفیت کا اجتماعی عمل ہو‘ جس کا اقتضاء اس خاص نظامِ حکومت کی نوعیت فطرۃً کرتی ہے‘ جسے ہم بنانا چاہتے ہیں۔ یہ سارے اسباب وعوامل جب بہم ہوتے ہیں‘ اور جب ایک طویل مدّت تک جدوجہد کرنے سے ان کے اندر اتنی طاقت پیدا ہوجاتی ہے‘ کہ ان کی تیار کی ہوئی سوسائٹی میں کسی دوسری نوعیت کے نظامِ حکومت کا جینا دشوار ہوجاتا ہے تب ایک طبعی نتیجہ کے طور پر وہ خاص نظامِ حکومت ابھر آتا ہے‘ جس کے لیے ان طاقت ور اسباب نے جدوجہد کی ہو۔ بالکل اسی طرح جس طرح کہ ایک بیج سے جب درخت پیدا ہوتا ہے‘ اور اپنے زور میں بڑھتا چلا جاتا ہے‘ تو نشوونما کی ایک خاص حد پر پہنچ کر اسی میں وہی پھل آنے شروع ہوجاتے ہیں‘ جن کے لیے اس کی فطری ساخت زور کر رہی تھی۔ اس حقیقت پر جب آپ غور کریں گے تو آپ کو یہ تسلیم کرنے میں ذرا تامّل نہ ہوگا کہ جہاں تحریک‘ لیڈر شپ‘ انفرادی سیرت‘ جماعتی اخلاق‘ اور حکمت ِعملی ہر ایک چیز ایک نوعیت کا نظامِ حکومت پیدا کرنے کے لیے موزوں ومناسب ہو‘ اور اُمید یہ کی جائے کہ ان کے نتیجہ میں بالکل ہی ایک دوسری نوعیت کا نظام پیدا ہوگا وہاں بے شعوری‘ خام خیالی اور خام کاری کے سوا کوئی چیز کام نہیں کر رہی ہے۔

اصولی حکومت

اب ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ حکومت جس کو ہم اسلامی حکومت کہتے ہیں‘ اس کی نوعیت کیا ہے۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلی خصوصیت جو اسلامی حکومت کو تمام دوسری حکومتوں سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے‘ کہ قومیّت کا عنصر اس میں قطعی ناپید ہے۔ وہ مجرد ایک اصولی حکومت ہے۔ انگریزی میں میں اس کو (ideological state)کہوں گا۔ یہ ’’اصولی حکومت‘‘ وہ چیز ہے‘ جس سے دنیا ہمیشہ ناآشنا رہی ہے‘ اور آج تک ناآشنا ہے۔ قدیم زمانہ میں لوگ صرف خاندانوں یا طبقوں کی حکومت سے واقف تھے۔ بعد میں نسلی اور قومی حکومتوں سے واقف ہوئے۔ محض ایک اصولی حکومت‘ اس بنیاد پر کہ جو اس اصول کو قبول کر لے وہ بلا لحاظ قومیّت اسٹیٹ کو چلانے میں حصّہ دار ہوگا‘ دنیا کے تنگ ذہن میں کبھی نہ سما سکی۔ عیسائیت نے اس تخیل کا بہت ہی دھندلا سانقش پایا‘مگر اس کو وہ مکمل نظام فکر نہ مل سکا‘ جس کی بنیاد پر کوئی اسٹیٹ تعمیر ہوتا۔ انقلابِ فرانس میں اصولی حکومت کے تخیل کی ایک ذرا سی جھلک انسان کی نظر کے سامنے آئی مگر نیشنل ازم کی تاریکی میں گم ہوگئی۔ [اس کی بنیاد نفرت پر تھی‘ اس لیے شروع ہی سے خود اپنی قوم کے لوگوں پر وہ ظلم وستم توڑے گئے‘ اور اس قدر بے دردی سے قتل عام کیا گیا کہ چنگیز اور ہلا کو کے قصے مات پڑ گئے۔ اس کے بعد اس کا رخ نیشنل ازم کی طرف پھر گیا۔(جدید)] اشتراکیت نے اس تخیل کا خاصا چرچا کیا‘ حتیٰ کہ ایک حکومت بھی اس کی بنیاد پر تعمیر کرنے کی کوشش کی اور اس کی وجہ سے دنیا کی سمجھ میں یہ تخیل کچھ کچھ آنے لگا تھا‘ مگر اس کی رگ وپے میں بھی آخر کار نیشنل ازم گھس گیا۔ ابتدا سے آج تک تمام دنیا میں صرف اسلام ہی وہ مسلک ہے‘ جو قومیّت کے ہر شائبہ سے پاک کر کے‘ حکومت کا ایک نظام خالص آئیڈیالوجی کی بنیاد تعمیر کرتا ہے‘ اور تمام انسانوں کو دعوت دیتا ہے‘ کہ اس آئیڈیالوجی کو قبول کر کے غیر قومی حکومت بنائیں۔

یہ چیز چونکہ نرالی ہے‘ اور گردوپیش کی تمام دنیا اس کے خلاف چل رہی ہے‘ اس لیے نہ صرف غیر مسلم بلکہ خود مسلمان بھی اس کو اور اس کے جملہ مضمرات (impllcations) کو سمجھنے سے قاصر ہورہے ہیں۔ جو لوگ مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہوئے ہیں‘ مگر جن کے اجتماعی تصوّرات تمام تر یورپ کی تاریخ‘ یورپ ہی کے سیاسیات اور علومِ عمران (social sciences)سے بنے ہیں‘ ان کے ذہن کی گرفت میں یہ تصوّر کسی طرح نہیں آتا۔ بیرون ہند کے وہ ممالک جن کی بیشتر آبادی مسلمان اور سیاسی حیثیت سے آزاد ہے۔ وہاں اس قسم کے لوگوں کے ہاتھ میں جب زمام حکومت آئی تو ان کو حکومت کا کوئی نقشہ قومی حکومت (national state)کے سوا نہ سوجھا‘ کیونکہ وہ اسلام کے علم وشعور اور اصولی حکومت کے تصوّر سے بالکل خالی الذّہن تھے۔ ہندستان میں بھی جن لوگوں نے اس طرز کی دماغی تربیت پائی ہے‘ وہ اسی مشکل میں مبتلا ہیں۔ اسلامی حکومت کا نام لیتے ہیں‘ مگر بے چارے اپنے ذہن کی ساخت سے مجبور ہیں‘ کہ ہِرپِھر کر جو نقشہ بھی نظر کے سامنے آتا ہے قومی حکومت ہی کا آتا ہے‘ قوم پرستانہ طرز فکر (nationalistic ideology)ہی میں دانستہ ونادانستہ پھنس جاتے ہیں‘ اور جو پروگرام سوچتے ہیں وہ بنیادی طور پر قوم پرستانہ ہی ہوتا ہے۔ ان کے نزدیک پیشِ نظر مسئلہ کی نوعیت بس یہ ہے‘ کہ ’’مسلمان‘‘ کے نام سے جو ایک ’’قوم‘‘بن گئی ہے اس کے ہاتھ میں حکومت آجائے‘ یا کم از کم اس کو سیاسی اقتدار نصیب ہوجائے۔ اس نصب العین تک پہنچنے کے لیے یہ جتنا بھی دماغ پر زور ڈالتے ہیں۔ اس کے سوا کوئی طریق کار انہیں نظر نہیں آتا‘ کہ دنیا کی قومیں عموماً جو تدابیر اختیار کیا کرتی ہیں وہی اس قوم کے لیے بھی اختیار کی جائیں۔ جن اجزا سے یہ قوم مرکب ہے ان کو جوڑ کر ایک ٹھوس مجموعہ بنایا جائے‘ ان میں نیشنل ازم کا جوش پھونکا جائے۔[ہندوستان کے مسلمانوں کو محض ایک قوم سمجھتے ہوئے ان کو نیشنل ازم کی بنیاد پر اُٹھانے کے نتائج اس وقت تو کسی کی سمجھ میں نہیں آرہے تھے‘ جب ۱۹۴۰ء میں یہ تقریر کی گئی تھی‘ لیکن ۱۹۷۱ء میں یہ بات سب کے سامنے آگئی کہ مشرقی پاکستان میں‘ زبان کی بنیاد پر ایک نئے نیشنل ازم نے‘ مسلمان کو مسلمان سے پھاڑ دیا اور خود مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا وہ قتل عام ہوا‘ جس کی نظیر مسلمانوں کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ پھر ۱۹۷۲ء میں یہ بھی دنیا نے دیکھ لیا کہ سندھ میں علی الاعلان یہ تحریک اُٹھی‘ کہ سندھی زبان بولنے والے مسلم اور غیر مسلم‘ ایک قوم ہیں‘ اور جو مسلمان سندھی نہیں بولتے وہ نہ صرف دوسری قوم ہیں‘ بلکہ کہنے والوں نے یہاں تک کہا کہ سندھ میں ان کو رہنے کا حق بھی نہیں ہے۔(جدید)] ان کے اندر مرکزی اقتدار ہوان کے نیشنل گارڈ س منظم ہوں‘ ان کی ایک قومی ملیشیا تیار ہو‘ وہ جہاں اکثریت میں ہوں وہاں اقتدار اکثریت(majority rule)کے مسلم جمہوری اصول پر ان کے قومی اسٹیٹ بن جائیں‘ اور جہاں ان کی تعداد کم ہووہاں ان کے ’’حقوق‘‘ کا تحفظ ہوجائے ان کی انفرادیت اسی طرح محفوظ ہو‘ جس طرح دنیا کے ہر ملک میں ہر قومی اقلیت (national minority) اپنی انفرادیت محفوظ کرنا چاہتی ہے‘ ملازمتوں اور تعلیمی وانتخابی اد ارات میں ان کا حصّہ مقرر ہواپنے نمائندے یہ خود چنیں‘ وزارتوں میں ایک قوم کی حیثیت سے یہ شریک کیے جائیں‘ وغیر ذالک من القومیّات۔یہ سب باتیں کرتے ہوئے یہ لوگ اُمت‘ جماعت‘ ملت‘ ملیت‘ امیر‘ اطاعت ِامیر اور اسی قسم کے دوسرے الفاظ‘ اسلامی اصطلاحات سے لے کر بولتے ہیں‘ مگر اسلامی فکر کے اعتبار سے یہ سب ان کے لیے مذہب ِقوم پرستی کی اصطلاحوں کے مترادفات ہیں‘ جو خوش قسمتی سے پرانے ذخیرے میں گھڑے گھڑائے مل گئے‘ اور غیراسلامی رنگ کے لیے اسلامی رنگ کیخلاف کا کام دینے لگے۔

اصولی حکومت کی نوعیت آپ سمجھ لیں تو آپ کو یہ بات سمجھنے میں ذرہ برابر بھی دقّت پیش نہ آئے گی کہ اس کی بِنا رکھنے کے لیے یہ طرزِ فکر‘ یہ اندازِ تحریک‘ یہ عملی پروگرام نقطہ آغاز کا بھی کام نہیں دے سکتا کجا کہ تعمیر کے انجام تک پہنچا سکے۔ بلکہ زیادہ صحیح یہ ہے‘ کہ اس کا ہر جُزو ایک تیشہ ہے‘ جس سے اصولی حکومت کی جڑکٹ جاتی ہے۔ اصولی حکومت کے تخیل کی تو بنیاد ہی یہ ہے‘ کہ ہمارے سامنے قومیں اور قومیّتیں نہیں‘ صرف انسان ہیں‘ ہم ان کے سامنے ایک اصول اِس حیثیت سے پیش کرتے ہیں‘ کہ اسی پر تمدّن کا نظام اور حکومت کا ڈھانچہ تعمیر کرنے میں ان کی فلاح ہے‘ اور جو اس کو قبول کر لے وہ اس نظام کو چلانے میں برابر کا حصّہ دار ہے۔ غور کیجیے‘ اس تخیل کو لے کر وہ شخص کس طرح اُٹھ سکتا ہے‘ جس کے دماغ‘ زبان‘ افعال وحرکات‘ ہر چیز پر قومیّت اور قوم پرستی کا ٹھپّا لگا ہوا ہو۔ اس نے تووسیع تر انسانیت کو اپیل کرنے کا دروازہ خود ہی بند کر دیا‘ پہلے ہی قدم پر اپنی پوزیشن کو آپ غلط کر کے رکھ دیا۔ قوم پرستی کے تعصّب میں جو قومیں اندھی ہورہی ہیں‘ جن کے لڑائی جھگڑوں کی ساری بنیاد ہی قوم پرستی اور قومی ریاستیں ہیں‘ ان کو انسانیت کے نام پر پکارنے اور انسانی فلاح کے اصول کی طرف بلانے کا آخر یہ کونسا ڈھنگ ہے‘ کہ ہم خود اپنے قومی حقوق کے جھگڑے اور قومی اسٹیٹ کے مطالبہ سے اس دعوت کی ابتدا کریں؟کس طرح آپ کی عقل یہ بات قبول کرتی ہے‘ کہ مقدمہ بازی سے لوگوں کو روکنے کی تحریک خود ایک مقدمہ عدالت میں دائر کرنے سے شروع کی جا سکتی ہے؟

خلافت الٰہیہ

اسلامی حکومت کی دوسری خصوصیت یہ ہے‘ کہ اس کی پوری عمارت خدا کی حاکمیت کے تصوّر پر قائم کی گئی ہے۔ اس کا بنیادی نظریہ [تفصیل کے لیے ملا حظہ ہومیرا رسالہ ’’اسلام کا نظریہ سیاسی‘‘۔(قدیم)] یہ ہے‘ کہ ملک خدا کا ہے۔ وہی اس کا حاکم ہے۔ کسی شخص یا خاندان یا طبقہ یا قوم کو بلکہ پوری انسانیت کو بھی حاکمیت (sovereignty) کے حقوق حاصل نہیں ہیں۔ حکم دینے اور قانون بنانے کا حق صرف خدا کے لیے خاص ہے۔ حکومت کی صحیح شکل اس کے سوا کوئی نہیں کہ انسان خدا کے خلیفہ کی حیثیت سے کام کرے‘ اور یہ حیثیت صحیح طور پر صررف دو صورتوں سے قائم ہوسکتی ہے‘ یا تو کسی انسان کے پاس براہِ راست خدا کی طرف سے قانون اور دستور حکومت آیا ہویا وہ اس شخص کی پیروی کواختیار کرے جس کے پاس خدا کی طرف سے قانون اور دستور آیا ہے۔ اس خلافت کے کام میں تمام وہ لوگ شریک ہوں گے‘ جو اس قانون پر ایمان لائیں اور اس کی پیروی کرنے پر تیار ہوں۔ یہ کام اس احساس کے ساتھ چلایا جائے گا‘ کہ ہم سب بہ حیثیت مجموعی‘ اور ہم میں سے ہر ایک فرد اً فرداً خدا کے سامنے جواب دہ ہے‘ اس خدا کے سامنے جو ظاہر اور پوشیدہ ہر چیز کو جاننے والا ہے‘ جس کے علم سے کوئی چیز چھپی نہیں رہ سکتی اور جس کی گرفت سے ہم مرکر بھی نہیں چھوٹ سکتے۔خلافت کی ذمّہ داری جو ہمارے سپرد کی گئی ہے یہ اس لیے نہیں ہے‘ کہ ہم لوگوں پر اپنا حکم چلائیں ان کو اپنا غلام بنائیں‘ ان کے سر اپنے آگے جھکوائیں‘ ان سے ٹیکس وصول کر کے اپنے محل تعمیر کریں‘ حاکمانہ اختیارات سے کام لے کر اپنے عیش‘ اپنی نفس پرستی اور اپنی کبریائی کا سامان کریں‘ بلکہ یہ سارا بار ہم پر اس لیے ڈالا گیا ہے‘ کہ ہم خدا کے قانونِ عدل کو اس کے بندوں پر جاری کریں۔ اس قانون کی پابندی اور اس کے نفاذ میں ہم نے اگر ذراسی کوتاہی بھی کی‘ اگر ہم نے اس کام میں ذرہ برابر بھی خود غرضی‘ نفس پرستی‘ تعصّب‘ جانب داری یا بددیانتی کو دخل دیا تو ہم خدا کی عدالت سے سزا پائیں گے‘ خواہ دنیا میں ہر سزا سے محفوظ رہ جائیں۔

اس نظریہ کی بنیاد پر جو عمارت اُٹھتی ہے وہ اپنی جڑ سے لے کر چھوٹی سے چھوٹی شاخوں تک ہر چیز میں دنیو ی حکومتوں (secular states)سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ اس کی ترکیب‘ اس کا مزاج اس کی فطرت‘ کوئی چیز بھی اُن سے نہیں ملتی۔ اس کو بنانے اور چلانے کے لیے‘ ایک خاص قسم کی ذہنیت‘ خاص طرز کی سیرت‘ اور خاص نوعیت کے کردار کی ضرورت ہے۔ اس کی فوج‘ اس کی پولیس‘ اس کی عدالت اس کے مالیات‘ اس کے قوانین‘ اس کے محاصل‘ اس کی انتظامی پالیسی‘ اس کی خارجی سیاست‘ اس کی صلح وجنگ کے معاملات‘ سب کے سب دنیوی ریاستوں سے مختلف ہیں۔ ان کی عدالتوں کے چیف جسٹس‘ اس کی عدالت کے کلرک‘ بلکہ چپراسی تک بننے کے اہل نہیں ہوسکتے۔ ان کی پولیس کے انسپکٹر جنرل وہاں کانسٹیبل کی جگہ کے لیے بھی موزوں نہیں ٹھیرتے۔ ان کے جنرل اور فیلڈ مارشل وہاں سپاہیوں میں بھرتی کرنے کے قابل بھی نہیں۔ ان کے وزارئے خارجہ وہاں کسی منصب پر تو کیا فائز ہوں گے‘ شاید اپنے جھوٹ‘ دغا‘ اور بددیانیتوں کی بدولت جیل جانے سے بھی محفوظ نہ رہ سکیں۔ غرض وہ تمام لوگ جو ان حکومتوں کے کاروبار چلانے کے لیے تیار کیے گئے ہوں‘ جن کی اخلاقی وذہنی تربیت ان کے مزاج کے مناسب حال کی گئی ہو‘ اسلامی حکومت کے لیے قطعی ناکارہ ہیں۔ اس کو اپنے شہری‘ اپنے ووٹر‘ اپنے کونسلر‘ اپنے اہل کار‘ اپنے سپاہی‘ اپنے جج اور مجسٹریٹ‘ اپنے محکموں کے ڈائریکٹر‘ اپنی فوجوں کے قائد‘ اپنے خارجی سفراء اور اپنے وزیر‘ غرض اپنی اجتماعی زندگی کے تما م اجزاء اپنی انتظامی مشین کے تمام پرزے‘ بالکل ایک نئی ساخت کے درکار ہیں۔ اس کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہے‘ جن کے دلوں میں خدا کا خوف ہو‘ جو خدا کے سامنے اپنی دمہ داری کا احساس رکھتے ہوں‘ جو دنیا پر آخرت کو ترجیح دینے والے ہوں‘ جن کی نگاہ میں اخلاقی نفع ونقصان کا وزن دنیوی نفع ونقصان سے زیادہ ہو‘ جو ہر حال میں اس ضابطے اور اس طرزِعمل کے پابند ہوں‘ جو ان کے لیے مستقل طور پر بنا دیا گیا ہے‘ جن کی تمام سعی وجہد کا ہدفِ مقصود خدا کی رضا ہو‘ جن پر شخصی یا قومی اغراض کی بندگی اور ہوا وہوس کی غلامی مسلّط نہ ہو‘ جو تنگ نظری وتعصّب سے پاک ہوں‘ جو مال اور حکومت کے نشہ میں بدمست ہوجانے والے نہ ہوں‘ جو دولت کے حریص اور اقتدار کے بھوکے نہ ہوں‘ جن کی سیرتوں میں یہ طاقت ہوکہ جب زمین کے خزانے ان کے دست قدرت میں آئیں‘ تو وہ پکے امانت دار ثابت ہوں‘ جب بستیوں کی حکومت ان کے ہاتھ میں آئے‘ تو وہ راتوں کی نیند سے محروم ہوجائیں‘ اور لوگ ان کی حفاظت میں اپنی جان‘ ‘ مال‘ آبرو‘ ہر چیز کی طرف سے بے خوف رہیں جب وہ فاتح کی حیثیت سے کسی ملک میں داخل ہوں‘ تو لوگوں کو ان سے قتل وغارت گری‘ ظلم وستم اور بدکاری وشہوت رانی کا کوئی اندیشہ نہ ہو‘بلکہ ان کے ہر سپاہی کو مفتوح ملک کے باشندے اپنی جان ومال اور اپنی عورتوں کی عصمت کا محافظ پائیں‘ جن کی دھاک بین الاقوامی سیاست میں اس درجہ کی ہوکہ ان کی راستی‘ انصاف پسندی‘ اصول اخلاق کی پابندی اور عہدوپیمان پر تمام دنیا میں اعتماد کیا جائے۔ اس قسم کے اور صرف اسی قسم کے لوگوں سے اسلامی حکومت بن سکتی ہے۔ اور یہی لوگ اس کو چلا سکتے ہیں۔رہے مادّہ پرست‘ افادی ذہنیت (utilitarian mentality)رکھنے والے لوگ‘ جو دنیوی فائدوں اور شخص یا قومی مصلحتوں کی خاطر ہمیشہ ایک نیا اصول بناتے ہوں‘ جن کے پیشِ نظر نہ خدا ہو‘ نہ آخرت‘ بلکہ جن کی ساری کوششوں کا مرکز ومحور اور ساری پالیسیوں کا مدار صرف دنیوی فائدہ ونقصان ہی کا خیال ہو‘ وہ ایسی حکومت بنانے یا چلانے کے قابل تو کیا ہوں گے‘ ان کا اس حکومت کے دائرے میں موجود ہونا ہی ایک عمارت میں دیمک کی موجودگی کا حکم رکھتا ہے۔

اسلامی انقلاب کی سبیل

اسلامی حکومت کی اس نوعیت کو ذہن میں رکھ کر غور کیجئے کہ اس منزل تک پہنچنے کی کیا سبیل ہوسکتی ہے۔ جیسا کہ میں ابتدا میں عرض کر چکا ہوں‘ کسی سوسائٹی میں جس قسم کے فکری‘ اخلاقی‘ تمدّنی اسباب ومحرکات فراہم ہوتے ہیں اُن کے تعامل سے اُسی قسم کی حکومت وجود میں آتی ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے‘ کہ ایک درخت اپنی ابتدائی کو نپل سے لے کر پورا درخت بننے تک تو لیموں کی حیثیت سے نشو ونما پائے‘ مگر بار آوری کے مرحلے پر پہنچ کر یکا یک آم کے پھل دینے لگے۔ درحقیقت اسلامی حکومت کسی معجزے کی شکل میں صادر نہیں ہوتی۔ اس کے پیدا ہونے کے لیے ناگزیر ہے‘ کہ ابتداء میں ایک ایسی تحریک اُٹھے جس کی بنیاد میں وہ نظریۂ حیات‘ وہ مقصد زندگی‘ وہ معیارِ اخلاق‘ وہ سیرت وکردار ہوجو اسلام کے مزاج سے مناسبت رکھتا ہے۔ اس کے لیڈر اور کارکن صرف وہی لوگ ہوں‘ جو اس خاص طرز کی انسانیت کے سانچے میں ڈھلنے کے لیے مستعد ہوں۔ پھر وہ اپنی جدوجہد سے سوسائٹی میں اسی ذہنیت اور اسی اخلاقی روح کو پھیلانے کی کوشش کریں۔ پھر اسی بنیاد پر تعلیم وتربیت کا ایک نیا نظام اُٹھے جو اس مخصوص ٹائپ کے آدمی تیار کرے۔ اس سے مسلم سائنٹسٹ‘ مسلم فلسفی‘ مسلم مورخ‘ مسلم ماہرین مالیات ومعاشیات‘ مسلم ماہرین قانون‘ مسلم ماہرین سیاست‘ غرض ہر شعبہ علم وفن میں ایسے آدمی پیدا ہوں‘ جو اپنی نظر وفکر کے اعتبار سے مسلم ہوں‘ جن میں یہ قابلیت ہوکہ افکار ونظریات کا ایک پورا نظام اور عملی زندگی کا ایک مکمل خاکہ اسلامی اصولوں پر مرتّب کر سکیں‘ اور جن میں اتنی طاقت ہوکہ دنیا کے ناخداشناس ائمہ فکر کے مقابلہ میں اپنی عقلی وذہنی ریاست (intellectual leaderrship)کا سکّہ جما دیں۔[ملاحظہ ہومیرا رسالہ ’’نیا نظامِ تعلیم‘‘۔(قدیم)] اس دماغی پس منظر کے ساتھ یہ تحریک عملاً اس غلط نظامِ زندگی کے خلاف جدوجہد کرے جو گردو پیش پھیلا ہوا ہے۔ اس جدوجہد میں اس کے علم بردار مصیبتیں اُٹھا کر سختیاں جھیل کر‘ قربانیاں دے کر‘ مار کھا کر اور جانیں دے کر اپنے خلوص اور اپنے ارادے کی مضبوطی کا ثبوت دیں۔ آزمائشوں کی بھٹی میں تپائے جائیں‘ اور ایسا سونا بن کر نکلیں‘ جس کو ہر پرکھنے والا ہر طرح سے جانچ کر بے کھوٹ کا مل العیار(finest standard) سوناہی پائے۔ اپنی لڑائی کے دوران میں اپنے ہر قول اور ہر فعل سے اپنی اس مخصوص آئیڈیالوجی کا مظاہرہ کریں‘ جس کے علم بردار بن کر وہ اُٹھے ہیں۔ اور ان کی ہر بات سے عیاں ہوکہ ایسے بے لوث‘ بے غرض‘ راست باز‘ پاک سیرت‘ اثیار پیشہ‘ بااصول‘ خدا ترس لوگ انسانیت کی فلاح کے لیے جس اصولی حکومت کی طرف دعوت دے رہے ہیں اس میں ضرور انسان کے لیے عدل اور امن ہوگا۔ اس طرح کی جدوجہد سے سوسائٹی کے وہ تمام عناصر جن کی فطرت میں کچھ بھی نیکی اور راستی موجود ہے اس تحریک میں کھنچ آئیں گے‘ پست سیرت لوگوں اور ادنیٰ درجہ کے طریقوں پر چلنے والوں کے اثرات اس کے مقابلہ میں دبتے چلے جائیں گے‘ عوام کی ذہنیت میں ایک انقلاب رونما ہوگا۔ اجتماعی زندگی میں اس مخصوص نظامِ حکومت کی پیاس پیدا ہوجائے گی‘ اور اس بدلی ہوئی سوسائٹی میں کسی دوسرے طرز کے نظام کا چلنا مشکل ہوجائے گا۔ آخر کار ایک لازمی اور طبعی نتیجہ کے طور پر وہی نظامِ حکومت قائم ہوجائے گا‘ جس کے لیے اس طور پر زمین تیار کی گئی ہو‘ اور جوں ہی کہ وہ نظام قائم ہوگا اس کو چلانے کے لیے ابتدائی اہل کاروں سے لے کر وزراء اور نظماء تک ہر درجہ کے مناسب کل پرزے اس نظامِ تعلیم وتربیت کی بدولت موجود ہوں گے‘ جس کا ذکر ابھی میں کر چکا ہوں۔

یہ ہے اس انقلاب کے ظہور اور اس حکومت کی پیدائش کا فطری طریقہ جس کو اسلامی انقلاب اور اسلامی حکومت کہا جاتا ہے۔ دنیا کے انقلابات کی تاریخ آپ کے سامنے ہے۔ آپ سے یہ بات پوشیدہ نہیں رہ سکتی کہ ایک خاص نوعیت کا انقلاب اسی نوعیت کی تحریک‘ اسی نوعیت کے لیڈر اور کارکن اور اسی نوعیت کا اجتماعی شعور اور تمدّنی واخلاقی ماحول چاہتا ہے۔انقلابِ فرانس کو وہی خاص اخلاقی وذہنی اساس درکار تھی جو روسو‘ والٹیر اور مونٹسکیو جیسے لیڈروں نے تیار کی۔ انقلابِ روس صرف مارکس کے انکار اور لینن اور ٹراٹسکی کی لیڈر شپ اور ان ہزارہا اشتراکی کارکنوں ہی کی بدولت رونما ہوسکتا تھا جن کی زندگیاں اشتراکیت کے سانچے میں ڈھل چکی تھیں۔ جرمنی کا نیشنل سوشلزم اُس مخصوص اخلاقی‘ نفسیاتی اور تمدّنی زمین ہی میں جڑ پکڑ سکتا تھا‘ جو ہیگل‘ فشتے‘ گیوتھے‘ نیتشے اور بہت سے مفکرین کے نظریات اور ہٹلر کی لیڈر شپ نے تیار کیا‘ اسی طرح سے اسلامی انقلاب بھی صرف اُسی صورت میں برپا ہوسکتا ہے‘ جب کہ ایک عمومی تحریک قرآنی نظریات وتصوّرات اور محمدیa سیرت وکردار کی بنیاد پر اُٹھے‘ اور اجتماعی زندگی کی ساری ذہنی‘ اخلاقی‘ نفسیاتی اور تہذیبی بنیادوں کو طاقت ورجدوجہد سے بدل ڈالے۔ یہ بات کم ازکم میری سمجھ میں نہیں آتی‘ کہ قوم پرستانہ نوعیت کی کوئی تحریک جس کا پس منظر یہ ناقص نظامِ تعلیم ہوجو اس وقت ہمارے ہاں پایا جاتا ہے‘ اور جس کی بنیاد افادی اخلاقیات (utilitarian morals)اور مصلحت پرستی (pragmatism)پر ہو‘ اسلامی انقلاب آخر کس طرح برپا سکتی ہے؟میں اس قسم کے معجزات پر یقین نہیں رکھتا‘ جن پر فرانس کے سابق وزیر اعظم موسیور ینو یقین رکھتے تھے۔[دوسری جنگ ِعظیم میں فرانس کی شکست سے چند روز پہلے موسیورینو نے‘ جو اس وقت وزیر اعظم تھے ریڈیو پر تقریر کرتے ہوئے کہا تھا‘ کہ ’’اب فرانس کو صرف ایک معجزہ ہی بچا سکتا ہے‘ اور میں معجزات کا قائل ہوں‘‘۔(قدیم)] میں تو اس کا قائل ہوں کہ جیسی تدبیر کی جائے گی ویسے ہی نتائج بر آمد ہوں گے۔

خام خیالیاں

ہمارے ہاں یہ سمجھا جا رہا ہے بس مسلمانوں کی تنظیم ان کے تمام دردوں کی دوا ہے۔ ’’اسلامی حکومت‘‘ یا ’’آزاد ہندستان میں آزاد اسلام کے مقصد تک پہنچنے کی سبیل یہ سمجھی جا رہی ہے‘ کہ مسلمان قوم جن افراد سے مرکب ہے وہ سب ایک مرکز پر جمع ہوں‘ متحد ہوں‘ اور ایک مرکزی قیادت کی اطاعت میں کام کریں‘ لیکن دراصل یہ قوم پرستانہ پروگرام ہے‘ جو قوم بھی اپنا بول بالا کرنے کے لیے جدوجہد کرنا چاہے گی ‘وہ یہی طریق کار اختیار کرے گی‘ خواہ وہ ہندو قوم ہو‘ یا سکھ‘ یاجرمن‘ یا اطالوی‘ قوم کے عشق میں ڈوبا ہوا ایک لیڈر‘ جو موقع ومحل کے لحاظ سے مناسب چالیں چلنے میں ماہر ہو‘ اور جس میں حکم چلانے کی خاص قابلیت موجود ہو‘ ہر قوم کی سر بلندی کے لیے مفید ہوتا ہے خواہ وہ مونجے یا ساور کر ہو‘ یا ہٹلر یا مسولینی۔ ایسے ہزاروں لاکھوں نوجوان جو قومی عزائم کے لیے اپنے لیڈر کی اطاعت میں منظم حرکت کر سکتے ہوں‘ ہر قوم کا جھنڈا بلند کر سکتے ہیں‘ قطع نظر اس سے کہ وہ جاپانیت پر ایمان رکھتے ہوں‘ یا چینیت پر۔ پس اگر ’’مسلمان‘‘ ایک نسلی وتاریخی قومیّت کا نام ہے‘ اور پیشِ نظر مقصد صرف اس کا بول بالا کرنا ہے‘ تو اس کے لیے واقعی یہی سبیل ہے‘ جو تجویز کی جا رہی ہے۔ اس کے نتیجہ میں ایک قومی حکومت بھی میسر آسکتی ہے‘ اور بدرجہ اقل وطنی حکومت میں اچھا خاصا حصّہ بھی مل سکتا ہے‘ لیکن اسلامی انقلاب اور اسلامی حکومت کے مقصد تک پہنچنے کے لیے یہ پہلا قدم بھی نہیں‘ بلکہ اُلٹا قدم ہے۔

یہاں جس قوم کا نام مسلمان ہے وہ ہر قسم کے رطب ویا بس لوگوں سے بھری ہوئی ہے۔ کیرکٹر کے اعتبار سے جتنے ٹائپ کافرقوموں میں پائے جاتے ہیں‘ اتنے ہی اس قوم میں بھی موجود ہیں‘ عدالتوں میں جھوٹی گواہیاں دینے والے جس قدر کا فر قومیں فراہم کرتی ہیں‘ غالباً اس تناسب سے یہ بھی فراہم کرتی ہے۔ رشوت‘ چوری‘ زنا جھوٹ اور دوسرے ذمائم اخلاق میں یہ کفّار سے کچھ کم نہیں ہے۔ پیٹ بھرنے اور دولت کمانے کے لیے‘ جو تدبیریں کفار کرتے ہیں‘ وہی اس قوم کے لوگ بھی کرتے ہیں۔ ایک مسلمان وکیل جان بوجھ کر حق کے خلاف اپنے موکل کی پیروی کرتے وقت خدا کے خوف سے اتنا ہی خالی ہوتا ہے‘ جتنا ایک غیر مسلم وکیل ہوتا ہے۔ ایک مسلمان رئیس دولت پا کر‘ یا ایک مسلمان عہدہ دار حکومت پا کر‘ وہی سب کچھ کرتا ہے‘ جو غیر مسلم کرتا ہے یہ اخلاقی حالت جس قوم کی ہو‘ اس کی تمام کالی اور سفید بھیڑوں کو جمع کر کے ایک منظم گلہ بنا دینا اور سیاسی تربیت سے ان کو لومڑی کی ہشیاری سکھانا‘ یا فوجی تربیت سے ان میں بھیڑئیے کی درندگی پیدا کر دینا‘ جنگل کی فرماں روائی حاصل کرنے کے لیے تو مفید ہوسکتا ہے‘ مگر میں نہیں سمجھتاکہ اس سے اعلائے کلمتہ اﷲ کس طرح ہوسکتا ہے۔ کون ان کی اخلاقی برتری تسلیم کرے گا؟کس کی نگاہیں ان کے سامنے عزت سے جھکیں گی؟کس کے دل میں انہیں دیکھ کر اسلام کے لیے جذبہ احترام پیدا ہوگا؟کہاں ان کے ’’انفاسِ قدسیہ‘‘ سے<< یدخلون فی دین اﷲ افواجا>> [ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہورہے ہیں۔النصر 2:110] کا منظر دکھائی دے سکے گا؟کس جگہ ان کی روحانی امامت کا سکّہ جمے گا؟اور زمین پر بسنے والے کہاں ان کا خیر مقدم اپنے نجات دہندوں کی حیثیت سے کریں گے؟اعلائے کلمتہ الحق جس چیز کا نام ہے اس کے لیے تو صرف ان کارکنوں کی ضرورت ہے‘ جو خدا سے ڈرنے والے اور خدا کے قانون پر فائدہ ونقصان کی پروا کیے بغیر جمنے والے ہوں‘ خواہ وہ اس نسلی مسلمان قوم میں سے ملیں یا کسی دوسری قوم سے بھرتی ہوکر آئیں۔ ایسے دس آدمی اس مقصد کے لیے زیادہ قیمتی ہیں بہ نسبت اس کے کہ وہ انبوہ جس کا میں اوپر ذکر کر آیا ہوں‘ ۲۵ لاکھ یا پچاس لاکھ کی تعدا د میں بھرتی ہوجائے۔ اسلام کو تانبے کے ان سکوں کا خزانہ مطلوب نہیں ہے‘ جن پر اشرفی کا ٹھپہ لگا دیا گیا ہو۔ وہ سکّہ کے نقوش دیکھنے سے پہلے یہ دریافت کرتا ہے‘ کہ ان نقوش کے نیچے خالص سونے کا جو ہر بھی ہے‘ یا نہیں۔ ایسا ایک سکّہ جعلی اشرفیوں کے ڈھیر سے اس کے نزدیک زیادہ قیمتی ہے۔

پھر جس لیڈر شپ کی اعلائے کلمتہ اﷲ کے لیے ضرورت ہے وہ ایسی لیڈر شپ ہے‘ جو ان اصولوں سے ایک انچ بھی ہٹنے کے لیے تیار نہ ہوجن کا بول بالا کرنے کے لیے اسلام اُٹھا ہے خواہ اس ہٹ کی بدولت تمام مسلمان بھوکے ہی کوں نہ مر جائیں بلکہ تہ تیغ ہی کیوں نہ کر دیئے جائیں۔ہر معاملہ میں اپنی قوم کا فائدہ تلاش کرنے والی اور اصول سے بے نیاز ہوکر ہر اس تدبیر کو جس میں قوم کی دنیوی فلاح نظر آئے‘ اختیار کر لینے والی لیڈر شپ اور وہ لیڈر شپ جس میں تقویٰ اور خدا ترسی کا رنگ مفقود ہو‘ اس مقصد کے لیے قطعی ناکارہ ہے‘ جس پر اسلام نے اپنی نظر جما رکھی ہے۔

پھر وہ نظامِ تعلیم وتربیت جس کی بنیاد اس مشہور مقولہ پر رکھی گئی ہے‘ کہ ’’چلو تم ادھر کو ہوا ہوجدھر کی‘‘۔ اس اسلام کی خدمت کے لیے کس طرح موزوں ہوسکتا ہے‘ جس کا قطعی ناقابلِ ترمیم فیصلہ یہ ہے‘ کہ ہوا خواہ کسی طرف کی ہو۔ تم بہرحال اس راستہ پر چلو جو خدا نے تمھارے لیے معین کر دیا ہے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آج اگر آپ کو ایک خطّہ زمین حکومت کرنے کے لیے دے بھی دیا جائے‘ تو آپ اسلامی اصول پر اس کا انتظام ایک دن بھی نہ چلا سکیں گے۔اسلامی حکومت کی پولیس‘ عدالت‘ فوج‘ مال گزاری‘ فِنانس ‘ تعلیمات اور خارجی پالیسی کو چلانے کے لیے جس ذہنیت اور جس اخلاقی روح رکھنے والے آدمیوں کی ضرورت ہے‘ ان کو فراہم کرنے کا کوئی بندوبست آپ نے نہیں کیا ہے۔ یہ تعلیم جو آپ کے کالجوں میں دی جارہی ہے‘ غیراسلامی حکومت کے لیے سیکرٹری اور وزراء تک فراہم کر سکتی ہے‘ مگر بُرا نہ مانیے‘ اسلامی عدالت کے لیے چپراسی اور اسلامی پولیس کے لیے کانسٹیبل تک فراہم نہیں کر سکتی۔ اور یہ بات جدید تعلیم ہی تک محدود نہیں ہے۔ ہمارا وہ پرانا نظامِ تعلیم جو حرکت زمین کا سرے سے قائل ہی نہیں ہے‘ وہ بھی اس معاملہ میں اتنا ناکارہ ہے‘ کہ اس دور جدید میں اسلامی حکومت کے لیے ایک قاضی‘ ایک وزیر مال‘ ایک وزیر جنگ‘ ایک ناظم تعلیمات اور ایک سفیر بھی مہیا نہیں کر سکتا۔ اس تیاری پر اسلامی حکومت کا حوصلہ ! سوائے اس کے اور کیا کہا جا سکتا ہے‘ کہ جو لوگ یہ نام زبان پر لاتے ہیں ان کے ذہن اسلامی حکومت کے صحیح تصوّر سے خالی ہیں۔

بعض لوگ یہ خیال ظاہر کرتے ہیں‘ کہ ایک دفعہ غیراسلامی طرز ہی کا سہی‘ مسلمانوں کا قومی سٹیٹ قائم تو ہوجائے‘ پھر رفتہ رفتہ تعلیم وتربیت اور اخلاقی اصلاح کے ذریعہ سے اس کو اسلامی اسٹیٹ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ مگر میں نے تاریخ‘ سیاسیات اور اجتماعیات کا جو تھوڑا بہت مطالعہ کیا ہے اس کی بنا پر میں اس کو ناممکن سمجھتا ہوں ‘اور اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوجائے‘ تو میں اس کو ایک معجزہ سمجھوں گا۔ جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں حکومت کا نظام اجتماعی زندگی میں بڑی گہری جڑیں رکھتا ہے۔ جب تک اجتماعی زندگی میں تغیّر واقع نہ ہو‘ کسی مصنوعی تدبیر سے نظامِ حکومت میں کوئی مستقل تغیّر پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ عمر ابن عبدالعزیز جیسا فرمانروا جس کی پشت پر تابعینؒ وتبع تابعینؒ کی ایک بڑی جماعت بھی تھی‘ اس معاملہ میں قطعی ناکام ہوچکا ہے‘ کیونکہ سوسائٹی بحیثیت مجموعی اس اصلاح کے لیے تیار نہ تھی۔ محمدتغلق اور عالم گیر جیسے طاقت وربار شاہ اپنی شخصی دینداری کے باوجود نظامِ حکومت میں کوئی تغیّر نہ کر سکے۔ مامون الرشید جیسا باجبروت حکمران نظامِ حکومت میں نہیں‘ بلکہ صرف اس کی اوپری شکل میں خفیف سی تبدیلی پیدا کرنا چاہتا تھا‘ اور اس میں بھی ناکام ہوا۔ یہ اس وقت کا حال ہے‘ جب کہ ایک شخص کی طاقت بہت کچھ کر سکتی تھی۔ اب میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ جو قومی اسٹیٹ جمہوری طرز پر قائم ہوگا وہ اس بنیادی اصلاح میں آخر کس طرح مدد گار ہوسکتا ہے۔ جمہوری حکومت میں اقتدار ان لوگوں کے ہاتھ میں آتا ہے‘ جن کو ووٹروں کی پسندیدگی حاصل ہو۔ ووٹروں میں اگر اسلامی ذہنیت اور اسلامی فکر نہیں ہے۔ اگر وہ صحیح اسلامی سیرت وکردار کے عاشق نہیں ہیں۔ اگر وہ اسے بے لاگ عدل اور ان بے لچک اصولوں کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں‘ جن پر اسلامی حکومت چلائی جاتی ہے‘ تو ان کے ووٹوں سے کبھی ’’مسلمان‘‘ قسم کے آدمی منتخب ہوکر‘ پارلیمنٹ یا اسمبلی میں نہیں آسکتے۔ اس ذریعہ سے تو اقتدار انہی لوگوں کو ملے گا‘ جو مردم شماری کے رجسٹر میں چاہے مسلمان ہوں‘ مگر اپنے نظریات اور طریق کار کے اعتبار سے جن کو اسلام کی ہوا بھی نہ لگی ہو۔ اس قسم کے لوگوں کے ہاتھ میں اقتدار آنے کے معنی یہ ہیں‘ کہ ہم اسی مقام پر کھڑے ہیں‘ جس پر غیر مسلم حکومت میں تھے۔بلکہ اس سے بھی بدتر مقام پر کیونکہ وہ ’’قومی حکومت‘‘ جس پر اسلام کا نما ئشی لیبل لگا ہوگا انقلاب کا راستہ روکنے میں اس سے بھی زیادہ جری اور بے باک ہوگی جتنی غیر مسلم حکومت ہوتی ہے غیر مسلم حکومت جن کاموں پر قید کی سزا دیتی ہے‘ وہ ’’مسلم قومی حکومت‘‘ان کی سزا پھانسی اور جلا وطنی کی صورت میں دے گی‘ اور پھر بھی اس حکومت کے لیڈر جیتے جی غازی اور مرنے پر رحمتہ اﷲ علیہ ہی رہیں گے۔پس یہ سمجھنا قطعی غلط ہے‘ کہ اس قسم کی ’’قومی حکومت‘‘ کسی معنی میں بھی اسلامی انقلاب لانے میں مدد گار ہوسکتی ہے‘‘۔ اب سوال یہ ہے‘ کہ اگر ہم کو اس حکومت میں بھی اجتماعی زندگی کی بنیادیں بدلنے ہی کی کوشش کرنی پڑے گی‘ اور اگر ہمیں یہ کام حکومت کی امداد کے بغیر بلکہ اس کی مزاحمت کے باوجود اپنی قربانیوں ہی سے کرنا ہوگا‘ تو ہم آج ہی سے یہ راہِ عمل کیوں نہ اختیار کریں؟اس نام نہاد ’’مسلم حکومت‘‘ کے انتظار میں اپنا وقت یا اس کے قیام کی کوشش میں اپنی قوّت ضائع کرنے کی حماقت آخر ہم کیوں کریں‘ جس کے متعلق ہمیں یہ معلوم ہے‘ کہ وہ ہمارے مقصد کے لیے نہ صرف غیر مفید ہوگی‘ بلکہ کچھ زیادہ ہی سدِّراہ ثابت ہوگی۔[پاکستان کی ۲۵ سالہ تاریخ سے یہ بات کس حد تک ثابت ہوئی ہے‘ وہ ناظرین کے سامنے ہے۔(جدید)]

اسلامی تحریک کا مخصوص طریق کار

اب میں ایک مختصر تاریخی بیان کے ذریعہ سے اس امر کی تشریح کرنا چاہتا ہوں۔کہ اسلامی انقلاب کے لیے اجتماعی زندگی کی بنیادیں بدلنے اور از سرِنو تیار کرنے کی صورت کیا ہوتی ہے‘ اور اس جدوجہد کا وہ مخصوص طریق کار (technique)کیا ہے‘ جس سے یہ کامیابی کی منزل تک پہنچتی ہے۔

اسلام دراصل اس تحریک کا نام ہے‘ جو خدائے واحد کی حاکمیت کے نظریہ پر انسانی زندگی کی پوری عمارت تعمیر کرنا چاہتی ہے۔ یہ تحریک قدیم ترین زمانہ سے ایک ہی بنیاد اور ایک ہی ڈھنگ پر چلی آرہی ہے۔ اس کے لیڈر وہ لوگ تھے‘ جن کو رُسُل اﷲ (خدا کے فرستادے) کہا جاتا ہے۔ ہمیں اگر اس تحریک کو چلانا ہے‘ تو لامحالہ انہی لیڈروں کے طرزِعمل کی پیروی کرنی ہوگی‘ کیونکہ اس کے سوا کوئی اور طرزِعمل اس خاص نوعیت کی تحریک کے لیے نہ ہے‘ اور نہ ہوسکتا ہے۔ اس سلسلہ میں جب ہم ابنیاء علیہم السّلام کے نقش قدم کا سراغ لگانے کے لیے نکلتے ہیں‘ تو ہمیں ایک بڑی دقت کا سامنا ہوتا ہے۔قدیم زمانہ میں جو انبیاء گزرے ہیں‘ ان کے کام کے متعلق ہمیں کچھ زیادہ معلومات نہیں ملتیں۔ قرآن میں کچھ مختصر اشارات ملتے ہیں‘ مگر ان سے مکمل اسکیم نہیں بن سکتی۔ بائبل کے عہد جدید(new testament)میں سید نامسیح علیہ السّلام کے کچھ غیر مستند اقوال بھی ملتے ہیں‘ جن سے کسی حد تک اس پہلو پر روشنی پڑتی ہے‘ کہ اسلامی تحریک اپنے بالکل ابتدائی مرحلہ میں کس طرح چلائی جاتی ہے‘ اور کن مسائل سے اس کو سابقہ پیش آتا ہے‘ لیکن بعد کے مراحل حضرت مسیح علیہ السلام کو پیش ہی نہیں آئے ‘کہ ان کے متعلق کوئی اشارہ وہاں سے مل سکے۔[چونکہ مسیح علیہ السلام کا طریق تعلیم وتربیت بھی اس تحریک کے ابتدائی مرحلے کو سمجھنے کے لیے مفید ہے‘ اس لیے انجیل متی ولوقا کے چند اقتباسات اس مضمون کے ضمیمہ کے طور پر آخر میں درج کر دیے گئے ہیں۔(قدیم)] اس معاملہ میں ہم کو صرف ایک ہی جگہ سے صاف اور مکمل رہنمائی ملتی ہے‘ اور وہ سیدنا محمدؐ کی زندگی ہے۔ اس طرف ہمارے رجوع کرنے کی وجہ نری عقیدت مندی ہی نہیں ہے‘ بلکہ دراصل اس راہ کے نشیب وفراز معلوم کرنے کے لیے اسی طرف رجوع کرنے پر ہم مجبور ہیں۔ اسلامی تحریک کے تمام لیڈروں میں سے صرف ایک محمدؐ ہی وہ تنہا لیڈر ہیں‘ جن کی زندگی میں ہم کو اس تحریک کی ابتدائی دعوت سے لے کر اسلامی اسٹیٹ کے قیام تک اور پھر قیام کے بعد اس اسٹیٹ کی شکل‘ دستور‘ داخلی وخارجی پالیسی اور نظمِ مملکت کے نہج تک ایک ایک مرحلے اور ایک ایک پہلو کی پوری تفصیلات اور نہایت مستند تفصیلات ملتی ہیں۔ لہٰذا میں اسی ماخذ سے اس تحریک کے طریق کار کا ایک مختصر نقشہ آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔

رسولؐ اﷲ جب اسلام کی دعوت پر مامور ہوئے ہیں‘ تو آپ کو معلوم ہے‘ کہ دنیا میں بہت سے اخلاقی‘ تمدّنی‘ معاشی اور سیاسی مسائل حل طلب تھے‘ رومی اور ایرانی امپیریلزم بھی موجود تھا۔ طبقاتی امتیازات بھی تھے۔ ناجائز معاشی انتفاع (economic exploitation) بھی ہورہا تھا‘ اور اخلاقی ذمائم بھی پھیلے ہوئے تھے خود آپ کے اپنے ملک میں بہت سے ایسے پیچیدہ مسائل موجود تھے‘ جو ایک لیڈر کے ناخن تدبیر کا انتظار کر رہے تھے۔ ساری قوم جہالت‘ اخلاقی پستی‘ افلاس‘ طوائف الملوکی اور خانہ جنگی میں مبتلا تھی۔ کویت سے یمن تک مشرقی اور جنوبی عرب کے تمام ساحلی علاقے‘ عراق کے زر خیز صوبے سمیت ایرانی تسلّط میں تھے‘ شمال میں حجاز کی سرحد تک رومی تسلّط پہنچ چکا تھا۔ خود حجاز میں یہودی سرمایہ داروں کے بڑے بڑے گڑھ بنے ہوئے تھے‘ اور انہوں نے عربوں کو اپنی سُود خواری کے جال میں پھانس رکھا تھا۔ مغربی ساحل کے عین مقابل حبش کی عیسائی حکومت موجود تھی‘ جو چند ہی سال پہلے مکہ پر چڑھائی کر چکی تھی۔ اس کے ہم مذہب اور اس سے ایک گونہ معاشی وسیاسی تعلق رکھنے والوں کا ایک جتھا خود حجاز اور یمن کے درمیان نجران کے مقام پر موجود تھا۔ یہ سب کچھ تھا مگر جس لیڈر کو اﷲ نے رہنمائی کے لیے مقرر کیا تھا اس نے دنیا کے اور خود اپنے ملک کے ان بہت سے مسائل میں سے کسی ایک مسئلہ کی طرف بھی توجہ نہ کی‘ بلکہ دعوت اس چیز کی طرف دی کہ خدا کے سوا تمام الہٰوں کو چھوڑ دو اور صرف اسی ایک الٰہ کی بندگی قبول کرو۔

اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ اُس رہنما کی نگاہ میں دوسرے مسائل کوئی اہمیت نہ رکھتے تھے یا وہ کسی توجہ کے لائق ہی نہ تھے۔ آپ کو معلوم ہی ہے‘ کہ آگے چل کر اس نے ان سب مسئلوں کی طرف توجہ کی‘ اور ان سب کو ایک ایک کر کے حل کیا۔ مگر ابتداء میں ان سب کی طرف سے نظر پھیر کر اُسی ایک چیز پر تمام زور صرف کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اسلامی تحریک کے نقطۂ نظر سے انسان کی اخلاقی وتمدّنی زندگی میں جتنی خرابیاں بھی پیدا ہوتی ہیں‘ ان سب کی بنیادی علّت انسان کا اپنے آپ کو خود مختار (independent) اور غیر ذمّہ دار (Irresponsible)سمجھنا‘ بالفاظ ِدیگر آپ اپنا الٰہ بننا ہے‘ یا پھر یہ ہے‘ کہ وہ الٰہ العالمین کے سوا کسی دوسرے کو صاحب ِامر تسلیم کرے‘ خواہ وہ دوسرا کوئی انسان ہویا غیر انسان۔ یہ چیز جب تک جڑ میں موجود ہے‘ اسلامی نظریہ کی رُو سے کوئی اوپر ی اصلاح‘ انفرادی بگاڑیا اجتماعی خرابیوں کو دور کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ ایک طرف سے خرابی کو دور کیا جائے گا ‘اور کسی دوسری طرف سے وہ سر نکال لے گی۔ لہٰذا اصلاح کا آغاز اگر ہوسکتا ہے‘ تو صرف اسی چیز سے ہوسکتا ہے‘ کہ ایک طرف تو انسان کے دماغ سے خود مختاری کی ہوا کو نکالا جائے‘ اور اُسے بتایا جائے کہ تُو جس دنیا میں رہتا ہے‘ وہ درحقیقت بے بادشاہ کی سلطنت نہیں ہے‘ بلکہ فی الواقع اس کا ایک بادشاہ موجود ہے‘ اور اس کی بادشاہی نہ تیرے تسلیم کرنے کی محتاج ہے نہ تیرے مٹائے سے مٹ سکتی ہے نہ تو اس کے حدود سلطنت سے نکل کر کہیں جا سکتا ہے۔ اس اُمت ِاور اٹل واقعہ کی موجودگی میں تیرا خود مختاری کا زُعم ایک احمقانہ غلط فہمی کے سوا کچھ نہیں ہے‘ جس کا نقصان لامحالہ تیرے ہی اوپر عائد ہوگا‘ عقل اور حقیقت پسندی (realism)کا تقاضا یہ ہے‘ کہ سیدھی طرح اس کے حکم کے آگے سر جھکا دے‘ اورمطیع بندہ بن کر رہ‘ دوسری طرف اس کو واقعہ کا یہ پہلو بھی دکھا دیا جائے کہ اس پوری کائنات میں صرف ایک ہی بادشاہ‘ ایک ہی مالک اور ایک ہی مختار کار ہے۔ کسی دوسرے کو نہ یہاں حکم چلانے کا حق ہے‘ اور نہ واقع میں کسی کا حکم چلتا ہے۔ اس لیے تو اس کے سوا کسی کا بندہ نہ بن‘ کسی کا حکم نہ مان‘ کسی کے آگے سر نہ جھکا۔ یہاں کوئی ہزہائینس نہیں ہے ہائینس صرف ایک ہی کو زیبا ہے یہاں کوئی ہزہولی نس نہیں ہے‘ ہولی نس ساری کی ساری اسی ایک کے لیے خاص ہے‘ یہاں کوئی ہز لارڈ شپ نہیں ہے‘ لارڈ شپ بالکلیہ اسی ایک کا حصّہ ہے‘ یہاں کوئی قانون ساز (law giver) نہیں ہے قانون اسی کا ہے‘ اور وہی قانون بنانے کا حق دار وسزا دار ہے‘ یہاں کوئی سرکار‘ کوئی ان داتا‘ کوئی ولی وکار ساز‘ کوئی دعائیں سننے والا اور فریاد رس نہیں ہے‘ کسی کے پاس اقتدار کی کنجیاں نہیں ہیں‘ کسی کو برتری وفوقیت حاصل نہیں ہے‘ زمین سے آسمان تک سب بندے ہی بندے ہیں۔ رب اور مولیٰ صرف ایک ہے۔ لہٰذا تو ہر غلامی‘ ہراطاعت‘ ہر پابندی سے انکار کر دے‘ اور اسی ایک کا غلام‘ مطیع اور پابند حکم بن جا۔ یہ تمام اصلاحات کی جڑ اور بنیاد ہے۔ اسی بنیاد پر انفرادی سیرت اور اجتماعی نظام کی پوری عمارت ادھڑ کر از سرِنو ایک نئے نقشے پر بنتی ہے‘ اور سارے مسائل جو انسانی زندگی میں آدم علیہ السلام سے لے کر اب تک پیدا ہوئے‘ اور اب سے قیامت تک پیدا ہوں گے‘ اسی بنیاد پر ایک نئے طریقہ سے حل ہوتے ہیں۔

محمدؐ نے اس بنیادی اصلاح کی دعوت کو بغیر کسی سابق تیاری اور بغیر کسی تمہیدی کارروائی کے براہِ راست پیش کر دیا۔ انہوں نے اس دعوت کی منزل تک پہنچنے کے لیے کوئی ہیر پھیر کا راستہ اختیار نہ کیا ‘کہ پہلے کچھ سیاسی یا سوشل طرز کا کام کر کے لوگوں میں اثر پیدا کیا جائے‘ پھر اس اثر سے کام لے کر کچھ حاکمانہ اختیارات حاصل کیے جائیں پھر ان اختیارات سے کام لے کر رفتہ رفتہ لوگوں کو چلاتے ہوئے‘ اس مقام تک لے آئیں۔ یہ سب کچھ‘ کچھ نہیں۔ ہم دیکھتے ہیں‘ کہ وہاں ایک شخص اُٹھا‘ اور چھوٹتے ہی اس نے <<لاالٰہ الا اﷲ >> کا اعلان کر دیا۔اس سے کم کسی چیز پر ایک لمحہ کے لیے بھی اس کی نظر نہ ٹھیری۔ اس کی وجہ محض پیغمبر انہ جرأت اور جوش نہیں ہے۔ دراصل اسلامی تحریک کا طریق کار ہی یہی ہے۔ وہ اثر یا وہ نفوذ واقتدار‘ جو دوسرے ذرائع سے پیدا کیا جائے۔ اس اصلاح کے کام میں کچھ بھی مددگار نہیں۔ جو لوگ<<لاالٰہ الا اﷲ>>کے سوا کسی اور بنیاد پر آپ کا ساتھ دیتے رہے ہوںوہ اِس بنیاد پرتعمیرِ جدید کرنے میں آپ کے کسی کام نہیں آسکتے۔ اِس کام میں تو وہی لوگ مفید ہوسکتے ہیں جو آپ کی طرف <<لاالٰہ الا اﷲ>> کی آواز سُن کر ہی آئیں‘ اِسی چیز میں ان کے لیے کشش ہو‘ اِسی حقیقت کو وہ زندگی کی بنیاد بنائیں‘ اور اِسی اساس پر وہ کام کرنے کے لیے اُٹھیں۔ لہٰذا اِسلامی تحریک کو چلانے کے لیے جس خاص قسم کے تدبر اور حکمتِ عملی کی ضرورت ہے اس کا تقاضا ہی یہی ہے‘ کہ کسی تمہید کے بغیر کام کا آغاز اِسی دعوتِ توحید سے کیا جائے۔

توحید کا یہ تصوّر محض ایک مذہبی عقیدہ نہیں ہے‘ جیسا کہ میں ابھی عرض کر چکا ہوں اس سے اجتماعی زندگی کا وہ پورا نظام‘ جو انسان کی خود مختاری‘ یا غیر اﷲ کی حاکمیت والوہیت کی بنیاد پر بنا ہو‘ جڑ بنیاد سے اُکھڑ جاتا ہے‘ اور ایک دوسری اساس پر نئی عمارت تیار ہوتی ہے۔ آج دنیا آپ کے مؤذن کو<< اشھد ان الا الٰـہ الا اﷲ>> کی صدا بلند کرتے ہوئے اس لیے ٹھنڈے پیٹوں سن لیتی ہے‘ کہ نہ پکارنے والا جانتا ہے‘ کہ کیا پکار رہا ہوں‘ نہ سننے والوں کو اس میں کوئی معنی اور کوئی مقصد نظر آتا ہے‘ لیکن اگر یہ معلوم ہوجائے کہ اس اعلان کا مقصد یہ ہے‘ اور اعلان کرنے والا جان بوجھ کر‘ اس بات کا اعلان کر رہا ہے‘ کہ میرا کوئی بادشاہ یا فرمانروا نہیں ہے‘ کوئی حکومت میں تسلیم نہیں کرتا‘ کسی قانون کو میں نہیں مانتا‘ کسی عدالت کے حدودو اختیارات (jurisdiction)مجھ تک نہیں پہنچتے‘ کسی کا حکم میرے لیے حکم نہیں ہے‘ کوئی رواج اور کوئی رسم مجھے تسلیم نہیں‘ کسی کے امتیازی حقوق‘ کسی کی ریاست کسی کا تقدس‘ کسی کے اختیارات میں نہیں مانتا‘ ایک اﷲ کے سوا میں سب کا باغی اور سب سے منحرف ہوں‘ تو آپ سمجھ سکتے ہیں‘ کہ اس صدا کو کہیں بھی ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ آپ خواہ کسی سے لڑنے جائیں یا نہ جائیں‘ دنیا خود آپ سے لڑنے آجائے گی۔ یہ آواز بلند کرتے ہی آپ کو یوں محسوس ہوگا کہ یکایک زمین وآسمان آپ کے دشمن ہوگئے ہیں‘ اور ہر طرف آپ کے لیے سانپ‘ بچھّو اور درندے ہی درندے ہیں۔

یہی صورت اس وقت پیش آئی جب محمدؐ نے یہ آواز بلند کی۔ پکارنے والے نے جان کر پکارا تھا‘ اور سننے والے سمجھتے تھے‘ کہ کیا پکار رہا ہے‘ اس لیے جس جس پر جس پہلو سے بھی اس پکار کی ضرب پڑتی تھی‘ وہ اس کو دبانے کے لیے اُٹھ کھڑا ہوا۔ پُجاریوں کو اپنی برہمنیت وپاپائیت کا خطرہ اس میں نظرآیا۔ رئیسوں کو اپنی ریاست کا‘ ساہو کاروں کو اپنی ساہو کاری کا‘ نسل پرستوں کو اپنے نسلی تفوق (racial superriority) کا‘ قوم پرستوں کو اپنی قومیّت کا‘ اجداد پرستوں کو اپنے باپ دادا کے موروثی طریقہ کا‘ غرض ہر بت کے پرستار کو اپنے بت کے ٹوٹنے کا خطرہ اسی ایک آواز میں محسوس ہوا‘ اس لیے <<اَلْکُفْرُ مِلَّۃٌ وَاحِدَۃٌ>>‘ وہ سب جو آپس میں لڑا کرتے تھے۔ اس نئی تحریک سے لڑنے کے لیے ایک ہوگئے۔ اس حالت میں صرف وہی لوگ محمدؐ کی طرف آئے‘ جن کا ذہن صاف تھا۔ جو حقیقت کو سمجھنے اور تسلیم کرنے کی استعداد رکھتے تھے‘ جن کے اندر اتنی صداقت پسندی موجود تھی کہ جب ایک چیز کے متعلق جان لیں کہ حق یہ ہے‘ تو اس کی خاطر آگ میں کودنے اور موت سے کھیلنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ ایسے ہی لوگوں کی اس تحریک کے لیے ضرورت تھی۔ وہ ایک ایک دو دو چار چار کر کے آتے رہے‘ اور کش مکش بڑھتی رہی۔ کسی کا روز گار چھوٹا۔ کسی کو گھر والوں نے نکال دیا۔ کسی کے عزیز‘ دوست‘ آشنا‘ سب چھوٹ گئے۔ کسی پر مار پڑی۔ کسی کو قید میں ڈالا گیا‘ کسی کو تپتی ہوئی ریت پر گھسیٹا گیا‘ کسی کی سر بازار پتھروں اور گالیوں سے تواضع کی گئی‘ کسی کی آنکھ پھوڑ دی گئیں‘ کسی کا سر پھاڑ دیا گیا‘کسی کو عورت‘ مال‘ حکومت وریاست اور ہر ممکن چیز کا لالچ دے کر خریدنے کی کوشش کی گئی۔ یہ سب چیزیں آئیں‘ ان کاآنا ضروری تھا‘ ان کے بغیراسلامی تحریک نہ مستحکم ہوسکتی تھی‘ اور نہ بڑھ سکتی تھی۔

ان کا پہلا فائدہ یہ تھا‘ کہ گھٹیا قسم کے‘ بودی سیرت اور ضعیف ارادہ رکھنے والے لوگ‘ اس طرف آہی نہ سکتے تھے۔ جو بھی آیا وہ نسلِ آدم کا بہترین جوہر تھا‘ جس کی دراصل ضرورت تھی۔ کوئی دوسری صورت کام کے آدمیوں کو ناکارہ آدمیوں سے چھانٹ کر الگ نکال لینے کی اس کے سوا نہ تھی کہ جو بھی آئے وہ اس بھٹی میں سے گزر کر آئے۔

پھر جو لوگ آئے ان کو اپنی کسی ذاتی غرض کے لیے یا کسی خاندانی یا قومی مقصد کے لیے نہیں‘ بلکہ محض حق وصداقت کے لیے‘ صرف خدا اور اس کی رضا کی خاطر مصائب وآلام کا مقابلہ کرنا پڑا۔ اسی کے لیے وہ پِٹے‘ اسی کے لیے بھُوکے مرے‘ اسی کے لیے دنیا بھر کی جفا کاریوں کا تختۂ مشق بنے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان میں وہ صحیح اسلامی ذہنیت پیدا ہوتی گئی جس کی ضرورت تھی۔ ان کے اندر خالص اسلامی سیرت پیدا ہوئی۔ ان کی خدا پرستی میں خلوص آتا اور بڑھتا چلا گیا۔ مصائب کی اس زبردست تربیت گاہ میں کیفیتِ اسلامی کا طاری ہونا ایک طبعی امر تھا۔ جب کوئی شخص کسی مقصد کے لیے اُٹھتا ہے‘ اور اس کی راہ میں کش مکش‘ جدوجہد‘ مصیبت‘ تکلیف‘ پریشانی‘ مار‘ قید‘ فاقہ‘ جلا وطنی وغیرہ کے مرحلوں سے گزرتا ہے‘ تو اس ذاتی تجربہ کی بدولت اس مقصد کی تمام کیفیات اس کے قلب وروح پر چھا جاتی ہیں‘ اور اس کی پوری شخصیت اس مقصد میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ اس مقصد کی تکمیل میں مدد دینے کے لیے نماز ان پر فرض کی گئی‘ تاکہ نظر کی پر اگندگی کا ہر امکان دور ہوجائے۔ اپنے نصب العین پر ان کی نگاہ جمی رہے‘ جس کووہ حاکم مان رہے ہیں۔ اس کی حاکمیت کا بار بار اقرار کر کے وہ اپنے عقیدے میں مضبوط ہوجائیں۔ جس کے حکم کے مطابق انہیں اب دنیا میں کام کرنا ہے اس کا عالم الغیب والشَّھادۃ ہونا‘ اس کا <<مالک یوم الدین >>ہونا‘ اس کا قاہر فوق عبادہٖ ہونا‘ پوری طرح ان کے ذہن نشین ہوجائے‘ اور کسی حال میں بھی اس کی اطاعت کے سوا دوسرے کی اطاعت کا خیال تک ان کے دل میں نہ آنے پائے۔

ایک طرف آنے والوں کی تربیت اس طرح ہورہی تھی‘ اور دوسری طرف اسی کش مکش کی وجہ سے اسلامی تحریک پھیل بھی رہی تھی۔جب لوگ دیکھتے تھے‘ کہ چند انسان پیٹے جا رہے ہیں‘ تو خواہ مخواہ ان کے اندر یہ معلوم کرنے کا شوق پیدا ہوتا تھا‘ کہ آخر یہ سارا ہنگامہ ہے کس لیے؟ اور جب انہیں یہ معلوم ہوتا تھا‘ کہ زن‘ زر‘ زمین کسی چیز کے لیے بھی نہیں ہے‘ کوئی ان کی ذاتی غرض نہیں ہے۔یہ اﷲ کے بندے صرف اس لیے پٹ رہے ہیں‘ کہ ایک چیز کی صداقت ان پر منکشف ہوئی ہے‘ تو ان کے دلوں میں آپ سے آپ یہ جذبہ پیدا ہوتا تھاکہ اس چیز کو معلوم کریں‘ آخر ایسی کیا چیز ہے‘ جس کے لیے یہ لوگ ایسے ایسے مصائب برداشت کر رہے ہیں؟پھر جب انہیں معلوم ہوتاکہ وہ چیز ہے<< لاالٰہ اِلاّ اﷲ‘>> اور اس سے انسانی زندگی میں اس نوعیت کا انقلاب رونما ہوتا ہے‘ اور اس دعوت کو لے کر ایسے لوگ اُٹھے ہیں‘ جو محض صداقت وحقیقت کی خاطر‘ دنیا کے سارے فائدوں کو ٹھکرا رہے ہیں‘ اور جان‘ مال‘ اولاد‘ ہر چیز کو قربان کر رہے ہیں‘ تو ان کی آنکھیں کھل جاتی تھیں۔ ان کے دلوں پر جتنے پردے پڑے ہوئے تھے وہ چاک ہونے لگتے تھے۔ اس پس منظر کے ساتھ یہ سچائی تیر کی طرح نشانے پر جا کر بیٹھتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ بحز ان لوگوں کے‘ جن کو ذاتی وجاہت کے تکبرّ یا اجداد پرستی کی جہالت‘ یا اغراض دنیوی کی محبت نے اندھا بنا رکھا تھا‘ اور سب لوگ اس تحریک کی طرف کھنچتے چلے گئے۔ کوئی جلدی کھنچا اور کوئی زیادہ دیر تک اس کش مکش کی مزاحمت کرتا رہا مگر دیر یا سویر ہر صداقت پسند‘ بے لوث آدمی کو اس طرف کھنچنا ہی پڑا۔

اس دوران میں تحریک کے لیڈر نے اپنی شخصی زندگی سے اپنی تحریک کے اصولوں کا اور ہر اس چیز کا جس کے لیے یہ تحریک اُٹھی تھی‘ پورا پورا مظاہرہ کیا۔ ان کی ہر بات‘ ہر فعل اور ہر حرکت سے‘ اسلام کی روح ٹپکتی تھی‘ اور آدمی کی سمجھ میں آتا تھا‘ کہ اسلام کسے کہتے ہیں یہ ایک بڑی تفصیل طلب بحث ہے‘ جس کی تشریح کا یہاں موقع نہیں۔ مگر مختصر اً چند نمایاں باتوں کا میں یہاں ذکر کروں گا۔

ان کی بیوی حضرت خدیجہ ؓ حجاز کی سب سے زیادہ مال دار عورت تھیں اور وہ ان کے مال سے تجارت کرتے تھے‘ جب اسلام کی دعوت شروع ہوئی‘ تو آنحضرتؐ کا سارا تجارتی کاروبار بیٹھ گیا‘ کیونکہ ہمہ تن اپنی دعوت میں مصروف ہوجانے اور تمام عرب کو اپنا دشمن بنا لینے کے بعد یہ کام نہ چل سکتا تھا۔ جو کچھ پچھلا اندوختہ تھا‘ اس کو میاں اور بیوی دونوں نے اس تحریک کے پھیلانے پر چند سال میں لٹا دیا۔ آخر کار نوبت یہاں تک آئی کہ جب آنحضرتؐ اپنی تبلیغ کے سلسلہ میں طائف تشریف لے گئے‘ تو وہ شخص جو کبھی حجاز کا ملک التجار تھا‘ اس کو سواری کے لیے ایک گدھا تک میسر نہ ہوا۔

قریش کے لوگوں نے آنحضرتؐ کے سامنے حجاز کا تخت پیش کیا۔ کہا کہ ہم آپ کو اپنا بادشاہ بنا لیں گے‘ عرب کی حسین ترین عورت آپ کے نکاح میں دے دیں گے‘ دولت کے ڈھیر آپ کے قدموں میں لگا دیں گے‘ بشرطیکہ آپ اس تحریک سے باز آجائیں۔ مگر وہ شخص جو انسان کی فلاح کے لیے اُٹھا تھا۔ اس نے ان سب پیش کشوں کو ٹھکرا دیا اور گالیاں اور پتھر کھانے پر راضی ہوگیا۔

قریش اور عرب کے سرداروں نے کہا کہ محمدؐ! ہم تمھارے پاس کیسے آکر بیٹھیں اور تمھاری باتیں کیسے سنیں‘ جب کہ تمہاری مجلس میں ہر وقت غلام‘ مفلس (معاذ اﷲ) کمین لوگ بیٹھے رہتے ہیں۔ ہمارے ہاں جو سب سے زیادہ نیچے طبقے کے لوگ ہیں‘ ان کو تم نے اپنے گردو پیش جمع کر رکھا ہے‘ انہیں ہٹائو تو ہم تم سے ملیں‘ مگر وہ شخص جو انسانوں کی اونچ نیچ برابر کرنے آیا تھا‘ اس نے رئیسوں کی خاطر غریبوں کو دُھتکارنے سے انکار کر دیا۔

اپنی تحریک کے سلسلہ میں آنحضرتؐ نے اپنے ملک‘ اپنی قوم‘ اپنے قبیلہ‘ اپنے خاندان‘ کسی کے مفاد کی کبھی پروا نہیں کی۔ اسی چیز نے دنیا کو یقین دلایا کہ آپؐ انسان بحیثیت انسان کی فلاح کے لیے اُٹھے ہیں‘ اور اسی چیز نے آپ کی دعوت کی طرف ہر قوم کے انسانوں کو کھینچا۔ اگر آپ اپنے خاندان کی فکر کرتے تو غیر ہاشمیوں کو اس فکر سے کیا دلچسپی ہوسکتی تھی؟ اگر آپؐ اس بات کے لیے کبھی بے چین ہوتے کہ قریش کے اقتدار کو تو کسی طرح بچالوں تو غیر قریشی عربوں کو کیا پڑی تھی کہ اس کام میں شریک ہوتے؟ اگر آپؐ عرب کی برتری کے لیے اُٹھتے تو حبش کے بلال ؓ، روم کے صہیب ؓ اور فارس کے سلمان ؓ کو کیا غرض تھی کہ اس کام میں آپؐ کا ساتھ دیتے؟ دراصل جس چیز نے سب کو کھینچا وہ خالص خدا پرستی تھی‘ ہر ذاتی‘ خاندانی‘ قومی‘ وطنی غرض سے مکمل بے لوثی تھی۔

مکہ سے جب آپؐ کو ہجرت کرنی پڑی‘ تو وہ تمام امانتیں جو دشمنوں نے آپ کے پاس رکھوائی تھیں۔ حضرت علی ؓ کے سپرد کر کے نکلے کہ میرے بعد ہر ایک کی امانت اس کو پہنچا دینا۔ دنیا پرست ایسے موقع پر جو کچھ ہاتھ لگتا ہے‘ لے کر چلتے ہیں۔ مگر خدا پرست نے اپنی جان کے دشمنوں‘ اپنے خون کے پیاسوں کا مال بھی انہیں واپس پہنچانے کی فکر کی اور اس وقت کی جب کہ وہ اس کے قتل کا فیصلہ کر چکے تھے۔ یہ وہ اخلاق تھا‘ جس کو دیکھ کر عرب کے لوگ دنگ رہ گئے ہوں گے‘ اور مجھے یقین ہے‘ کہ جب وہ دو سال کے بعد بدر کے میدان میں آنحضرتa کے خلاف لڑنے کھڑے ہوئے ہوں گے تو ان کے دل اندر سے کہہ رہے ہوں گے کہ یہ تم کس سے لڑ رہے ہو؟ اُس فرشتہ خصلت انسان سے‘ جو قتل گاہ سے رخصت ہوتے وقت بھی انسانوں کے حقوق اور امانت کی ذمّہ داری کو نہیں بھولتا؟اس وقت ان کے ہاتھ ضد کی بنا پر لڑتے ہوں گے‘ مگر ان کے دل اندر سے بھنچ رہے ہوں گے۔ عجب نہیں کہ بدر میں کفار کی شکست کے اخلاقی اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی ہو۔

۱۳ برس کی شدید جدوجہد کے بعد وہ وقت آیا جب مدینہ میں اسلام کا ایک چھوٹا سا اسٹیٹ قائم کرنے کی نوبت آئی۔ اس وقت ڈھائی تین سو کی تعداد میں ایسے آدمی فراہم ہوچکے تھے‘ جن میں سے ایک ایک اسلام کی پوری تربیت پا کر اس قابل ہوچکا تھا‘ کہ جس حیثیت میں بھی اسے کام کرنے کا موقع ملے‘ مسلمان کی حیثیت سے اس کو انجام دے سکے۔ اب یہ لوگ ایک اسلامی اسٹیٹ کو چلانے کے لیے تیار تھے۔ چنانچہ وہ قائم کر دیا گیا۔ دس برس تک رسولؐ اﷲ نے اس اسٹیٹ کی رہنمائی کی اور اس مختصر سی مدّت میں ہر شعبہ حکومت کو اس اسلامی طرز پر چلانے کی پوری مشق ان لوگوں کو کرا دی۔ یہ دور اسلامی آئیڈیالوجی کے ایک مجرّد تخیل (abstract idea)سے ترقی کر کے ایک مکمل نظامِ تمدّن بننے کا دور ہے‘ جس میں اسلام کی انتظامی‘ تعلیمی‘ عدالتی‘ معاشی‘ معاشرتی‘ مالی‘ جنگی‘ بین الاقوامی پالیسی کا ایک ایک پہلو واضح ہوا‘ ہر شعبۂ زندگی کے لیے اصول بنے‘ ان اصولوں کو عملی حالات پر منطبق کیا گیا‘ اس خاص طرز پر کام کرنے والے کارکن تعلیم اور تربیت اورعملی تجربہ سے تیار کیے گئے‘ اور ان لوگوں نے اسلام کی حکمرانی کا ایسا نمونہ پیش کیا کہ آٹھ سال کی مختصر مدّت میں مدینہ جیسے ایک چھوٹے سے قصبہ کا سٹیٹ پورے عرب کی سلطنت میں تبدیل ہوگا۔ جوں جوں لوگ اسلام کو اس کی عملی صورت میں اور اس کے نتائج کو محسوس شکل میں دیکھتے تھے‘ خود بخود اس بات کے قائل ہوجاتے تھے‘ کہ فی الواقع انسانیت اس کا نام ہے‘ اور انسانی فلاح اسی چیز میں ہے۔ بدترین دشمنوں کو بھی آخر قائل ہوکر اسی مسلک کو قبول کرنا پڑا جس کے خلاف وہ لڑ رہے تھے۔ خالدؓ بن ولید قائل ہوئے۔ ابوجہل کے بیٹے عکرمہؓ قائل ہوئے۔ ابوسفیانؓ قائل ہوئے۔ قاتلِ حمزہ ؓ وحشی قائل ہوئے۔ہند ِجگر خوار تک کو آخر اس شخص کی صداقت کے آگے سر تسلیم خم کر دینا پڑا‘ جس سے بڑھ کر اس کی نگاہ میں کوئی مبغوض نہ تھا۔

غلطی سے تاریخ نگاروں نے غزوات کو اتنا نمایاں کر دیا ہے‘ کہ لوگ سمجھتے ہیں عرب کا یہ انقلاب لڑائیوں سے ہوا۔ حالانکہ آٹھ سال کی تمام لڑائیوں میں جن سے عرب جیسی جنگجو قوم مسخر ہوئی‘ طرفین کے جانی نقصان کی تعدا ہزار بارہ سو سے زیادہ نہیں ہے۔ انقلابات کی تاریخ اگر آپ کے پیشِ نظر ہے‘ تو آپ کو تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ انقلاب غیر خونی انقلاب (bloodless revolution)کہے جانے کا مستحق ہے۔ پھر اس انقلاب میں فقط ملک کا طریقِ انتظام ہی تبدیل نہیں ہوا‘ بلکہ ذہنتیں بدل گئیں۔ نگاہ کا زاویہ بدل گیا‘ سوچنے کا طریقہ بدل گیا‘ زندگی کاطرز بدل گیا‘ اخلاق کی دنیا بدل گئی‘ عادات اور خصائل بدل گئے‘ غرض ایک پوری قوم کی کا یا پلٹ کر رہ گئی۔ جوزانی تھے وہ عورتوں کی عصمت کے محافظ بن گئے۔ جو شرابی تھے‘ وہ منعِ شراب کی تحریک کے علمبر دار بن گئے۔ جو چور اور اُچکے تھے ان کا احساس دیانت اتنا نازک ہوگیا‘ کہ دوستوں کے گھر کھانا کھانے میں بھی ان کو اس بنا پر تائل تھا‘ کہ کہیں ناجائز طریقہ پر دوسروں کے مال کھانے کا اطلاق اس فعل پر بھی نہ ہوتا ہو‘ حتیٰ کہ قرآن میں خود اﷲ تعالیٰ کو انہیں اطمینان دلانا پڑا کہ اس طرح کے کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔[ملا حظہ ہوسورہ نور61:24] جو ڈاکو اور لٹیرے تھے وہ اتنے متدین بن گئے کہ ان کے ایک معمولی سپاہی کو پایہ تخت ایران کی فتح کے موقع پر کروڑوں کی قیمت کا شاہی تاج ہاتھ لگا‘ اور وہ رات کی تاریکی میں اپنے پیوند لگے ہوئے کمبل میں اسے چھپا کر سپہ سالار کے حوالے کرنے کے لیے پہنچا‘تاکہ اس غیر معمولی واقعہ سے اس کی دیانت کی شہرت نہ ہوجائے‘ اور اس کے خلوص پر ریا کاری کا میل نہ آجائے۔وہ جن کی نگاہ میں انسانی جان کی کوئی قیمت نہ تھی‘ جو اپنی بیٹیوں کو آپ اپنے ہاتھ سے زندہ دفن کرتے تھے‘ ان کے اندر جان کا اتنا احترام پیدا ہوگیا‘ کہ کسی مرغ کو بھی بے رحمی سے قتل ہوتے نہ دیکھ سکتے تھے۔ وہ جن کو راست بازی اور انصاف کی ہوا تک نہ لگی تھی‘ ان کے عدل اور راستی کا یہ حال ہوگیا‘ کہ خیبر کی صلح کے بعد جب ان کا تحصیل دار یہودیوں سے سرکاری معاملہ وصول کرنے گیا‘ تو یہودیوں نے اس کو ایک بیش قرار رقم اس غرض کے لیے پیش کی کہ وہ سرکاری مطالبہ میں کچھ کمی کر دے‘ مگر اس نے رشوت لینے سے انکار کر دیا اور حکومت اور یہودیوں کے درمیان پیداوار کا آدھا آدھا حصّہ اس طرح تقسیم کیا کہ دو برابر کے ڈھیر آمنے سامنے لگا دئیے اور یہودیوں کو اختیار دیا کہ دونوں میں سے جس ڈھیر کو چاہیں اُٹھا لیں۔ اس نرالی قسم کے تحصیلدار کا یہ طرزِعمل دیکھ کر یہودی انگشت بدنداں رہ گئے‘ اور بے اختیار ان کی زبانوں سے نکلا کہ اسی عدل پر زمین وآسمان قائم ہیں۔ ان کے اندر وہ گورنر پیدا ہوئے‘ جو گورنمنٹ ہائوسوں میں نہیں‘ بلکہ رعایا کے درمیان انہی جیسے گھروں میں رہتے تھے۔ بازاروں میں پیدل پھرتے تھے دروازوں پر دربان نہ رکھتے تھے‘ رات دن میں ہر وقت جو چاہتا تھا ان سے انٹرویو کر سکتا تھا۔ ان کے اندر وہ قاضی پیدا ہوئے‘ جن میں سے ایک نے ایک یہودی کے خلاف خود خلیفہ وقت کا دعویٰ اس بنا پر خارج کر دیا کہ خلیفہ اپنے غلام اور اپنے بیٹے کے سوا کوئی گواہ پیش نہ کر سکتا۔[ یہ حضرت علی ؓ کے دور خلافت کا واقعہ ہے۔] ان کے اندر وہ سپہ سالار پیدا ہوئے‘ جن میں سے ایک نے دوران جنگ میں ایک شہر خالی کرتے وقت پورا جزیہ یہ کہہ کر اہلِ شہر کو واپس دے دیا کہ ہم اب تمہاری حفاظت سے قاصر ہیں۔ لہٰذا جو ٹیکس ہم نے حفاظت کے معاوضہ میں وصول کیا تھا اسے رکھنے کا ہمیں کوئی حق نہیں۔ ان میں وہ سفیر پیدا ہوئے‘ جن میں سے ایک نے سپہ سالارِ ایران کے بھرے دربار میں‘ اسلام کے اصولِ مساوات انسانی کا ایسا مظاہرہ کیا اور ایران کے طبقاتی امتیازات پر ایسی بر محل تنقید کی کہ خدا جانے کتنے ایرانی سپاہیوں کے دلوں میں اس مذہب ِانسانیت کی عزت ووقعت کا بیچ اسی وقت پڑ گیا ہوگا۔ان میں وہ شہری پیدا ہوئے‘ جن کے اندر اخلاقی ذمّہ داری کا احساس اتنا زبردست تھا‘ کہ جن جرائم کی سزا ہاتھ کاٹنے اور پتھر مار مار کر ہلاک کر دینے کی صورت میں دی جاتی تھی ان کا اقبال خود آکر کرتے تھے‘ اور تقاضا کرتے تھے‘ کہ سزا دے کر انہیں گناہ سے پاک کر دیا جائے‘ تاکہ وہ چور یا زانی کی حیثیت سے خدا کی عدالت میں نہ پیش ہوں۔ ان میں وہ سپاہی پیدا ہوئے‘ جو تنخواہ لے کر نہیں لڑتے تھے‘ بلکہ اس مسلک کی خاطر جس پر وہ ایمان لائے تھے‘ اپنے خرچ پر میدان جنگ میں جاتے اور پھر جو مال غنیمت ہاتھ لگتا وہ سارا کا سارا لاکر سپہ سالار کے سامنے رکھ دیتے۔ کیا اجتماعی اخلاق اور اجتماعی ذہنیت کا اتنا زبردست تغیّر محض لڑائیوں کے زور سے ہوسکتا تھا؟ تاریخ آپ کے سامنے موجود ہے۔ کہیں آپ کو کوئی ایسی مثال ملتی ہے‘ کہ تلوار نے انسانوں کو اس طرح مکمل طور پر بدل ڈالا ہو؟

در حقیقت یہ ایک عجیب بات معلوم ہوتی ہے‘ کہ ۱۳ برس کی مدّت میں توکل ڈھائی تین سو مسلمان پیدا ہوئے‘ مگر بعد کے دس سال میں سارا کا سارا ملک مسلمان ہوگیا۔ اس معمے کو لوگ حل نہیں کر سکتے‘ اس لیے عجیب عجیب تو جیہیں کرتے ہیں۔ حالانکہ بات بالکل صاف ہے جب تک اس نئی آئیڈیالوجی پر زندگی کا نقشہ نہیں بنا تھا‘ لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا تھا‘ کہ یہ نرالی قسم کا لیڈر آخر کیا بنانا چاہتا ہے۔ طرح طرح کے شبہات دلوں میں پیدا ہوتے تھے۔ کوئی کہتا یہ نری شاعرا نہ باتیں ہیں۔ کوئی اسے محض زبان کی ساحری قرار دیتا۔ کوئی کہتاکہ یہ شخص مجنون ہوگیا ہے‘ اور کوئی اسے محض ایک خیالی آدمی (visionary) قرار دے کر گویا اپنے نزدیک رائے زنی کا حق ادا کردیتا۔ اس وقت صرف غیر معمولی سمجھ اور ذہانت رکھنے والے لوگ ہی ایمان لائے‘ جن کی نگاہ حقیقت بیں اس نئے مسلک میں انسانی فلاح کی صورت صاف دیکھ سکتی تھی۔ مگر جب اس نظامِ فکر پر‘ ایک مکمل نظامِ حیات بن گیا‘ اور لوگوں نے اپنی آنکھوں سے اس کام کو ہوتے ہوئے دیکھ لیا اور اس کے نتائج ان کے سامنے عیاناً آگئے تب ان کی سمجھ میں آیا کہ یہ چیز تھی‘ جس کو بنانے کے لیے وہ اﷲ کا نیک بندہ دنیا بھر کے ظلم سہہ رہا تھا۔ اس کے بعد ضد اور ہٹ دھرمی کے لیے پاؤں جمانے کا کوئی موقع باقی نہ رہا‘ جس کی پیشانی پر بھی دو آنکھیں تھیں اور ان آنکھوں میں نور تھا اس کے لیے آنکھوں دیکھی حقیقت سے انکار کرنا غیر ممکن ہوگیا۔

یہ ہے اس اجتماعی انقلاب کے لانے کا طریقہ جس کو اسلام برپا کرنا چاہتا ہے۔ یہی اس کا راستہ ہے‘ اسی ڈھنگ پر وہ شروع ہوتا ہے‘ اور اسی تدریج سے وہ آگے بڑھتا ہے۔ لوگ اس کو معجزہ کی قسم کا واقعہ سمجھ کر کہہ دیتے ہیں‘ کہ اب یہ کہاں ہوسکتا ہے‘ نبی ہی آئے‘ تو یہ کام ہو۔ مگر تاریخ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے‘ کہ یہ بالکل ایک طبعی قسم کا واقعہ تھا۔ اس میں علّت ومعلول کا پورا منطقی اور سائنٹی فِک ربط ہمیں نظر آتا ہے۔ آج بھی ہم اس ڈھنگ پر کام کریں‘ تو وہی نتائج بر آمد ہوسکتے ہیں۔ البتہ یہ صحیح ہے‘ کہ اس کام کے لیے ایمان‘ شعور‘ اسلامی‘ ذہن کی یکسوئی‘ مضبوط قوّتِ فیصلہ اور شخصی جذبات اور ذاتی امنگوں کی سخت قربانی درکار ہے۔ اس کے لیے ان جواں ہمت لوگوں کی ضرورت ہے‘ جو حق پر ایمان لانے کے بعد ‘اس پر پوری طرح نظر جما دیں‘ کسی دوسری چیز کی طرف توجہ نہ کریں۔ دنیا میں خواہ کچھ ہوا کرے‘ وہ اپنے نصب العین کے راستے سے ایک انچ نہ ہٹیں۔ دنیوی زندگی میں اپنی ذاتی ترقی کے سارے امکانات کو قربان کر دیں‘ اپنی اُمیدوں کا اور اپنے والدین کی تمناؤں کا خون کرتے ہوئے نہ جھجکیں‘ عزیزوں اور دوستوں کے چھٹ جانے کا غم نہ کریں‘ سوسائٹی‘ حکومت‘ قانون‘ قوم‘ وطن جو چیز بھی ان کے نصب العین کی راہ میں حائل ہواس سے لڑ جائیں۔ ایسے ہی لوگوں نے پہلے بھی اﷲ کا کلمہ بلند کیا تھا‘ ایسے ہی لوگ آج بھی کریں گے‘ اور یہ کام ایسے ہی لوگوں کے کیے سے ہوسکتا ہے۔

(ترجمان القرآن۔ ستمبر ۱۹۴۰ء)

استدراک

[یہ حصّہ اس اصل مقالہ میں شامل نہ تھا‘ جو مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ میں پڑھا گیا تھا۔ بعد میں اشاعت کے موقع پر اس کا اضافہ کیا گیا۔(جدید)]

اوپر کے مضمون میں اسلامی انقلاب کے طریق کار کی جو توضیح کی گئی ہے‘ اگر چہ وہ بجائے خود کافی ہے‘ لیکن مناسب معلوم ہوتا ہے‘ کہ یہاں مسیح علیہ السّلام کے چند اقوال ایک خاص ترتیب کے ساتھ نقل کر دئیے جائیں جن سے اس تحریک کے ابتدائی مرحلہ پر اچھی روشنی پڑتی ہے۔ چونکہ ہمارے موجودہ زمانے کے حالات ان حالات سے بہت ملتے جلتے ہیں‘ جن میں سیدنا مسیح علیہ السّلام نے اہلِ فلسطین کو حکومتِ الٰہیہ کی دعوت دی تھی‘ اس لیے ان کے طریق عمل میں ہم کو مفید ہدایات مل سکتی ہیں:۔

فقیہوں میں سے ایک نے …اُس سے پوچھا کہ سب حکموں میں اوّل کونسا ہے۔ یسوع نے جواب دیا کہ اوّل یہ ہے اے اسرائیل سن‘ خداوند ہمارا خدا ایک ہی خداوند ہے [’خدا وند‘‘اور ’’الٰہ‘‘ دونوں ہم معنی الفاظ ہیں۔(قدیم)] اور تو خدا وند اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور ساری عقل اور اپنی ساری طاقت سے محبت رکھ …فقیہہ نے اس سے کہا اسے استاد‘ کیا خوب ! تو نے سچ کہا کہ وہ ایک ہی ہے‘ اور اس کے سوا اور کوئی نہیں۔ (مرقس۔۱۲:۲۸-۳۲)

تو خدا وند اپنے خدا کو سجدہ کر اور صرف اسی کی عبادت کر۔ (لوقا۔ ۴:۸)

پس تم اِس طرح دُعا مانگا کرو کہ اے ہمارے باپ![بنی اسرائیل کے ہاں خدا کے لیے باپ کا لفظ بطور استعارہ استعمال ہوتا تھا۔ اسے ساری خلق کا باپ کہا جاتا تھا‘ اور اس کے معنی یہ نہیں تھے‘ کہ خلق اس کی اولاد ہے۔(جدید)] تو جو آسمان پر ہے‘ تیرا نام پاک مانا جائے‘ تیری بادشاہت آئے‘ تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو۔

(متی ۶:۹۔۱۰)

آخری آیت میں حضرت مسیح علیہ السّلام نے اپنے نصب العین کو واضح کر دیا ہے۔ یہ عام غلط فہمی پھیلی ہوئی ہے‘ کہ خدا کی بادشاہت سے ان کی مراد محض روحانی بادشاہت تھی‘ یہ آیت اس کی تردید کرتی ہے۔ ان کا صاف مقصد یہ تھا‘ کہ زمین پر خدا کا قانون اور اس کا حکم شرعی اسی طرح جاری ہو‘ جس طرح تمام کائنات میں اس کا قانون طبیعی نافذ ہے۔ اسی انقلاب کے لیے وہ لوگوں کو تیار کر رہے تھے۔

یہ نہ سمجھو کہ میں زمین پر صلح کرانے آیا ہوں۔ صلح کرانے نہیں‘ بلکہ تلوار چلوانے آیا ہوں۔ میں اس لیے آیا ہوں کہ آدمی کو اس کے باپ سے اور بیٹی کو اس کی ماں سے اور بہو کو اس کی ساس سے جدا کر دوں۔ اور آدمی کے دشمن اس کے گھر ہی کے لوگ ہوں گے۔ جو کوئی باپ ماں کو مجھ سے زیادہ عزیز رکھتا ہے وہ میرے لائق نہیں۔ اور جو کوئی اپنی صلیب[اپنی صلیب آپ اُٹھانے سے مراد سزائے موت کے لیے تیار رہنا ہے۔ جس طرح اردو میں محاورہ ہے سر ہتھیلی پر لے کر نکلنا۔‘‘(قدیم)] نہ اُٹھائے اور میرے پیچھے نہ چلے وہ میرے لائق نہیں۔ جو کوئی اپنی جان بچاتا ہے اسے کھوئے گا ‘اور جو کوئی میرے سبب اپنی جان کھوتا ہے اسے بچائے گا۔

(متی ۱۰:۳۴-۳۹)

جو کوئی میرے پیچھے آنا چاہے‘ وہ اپنی خود ی [اس سے مراد ہے خود پرستی اور اغراضِ ذاتی سے دست بردار ہو جانا۔ (قدیم)] سے انکار کرے‘ اور اپنی صلیب اُٹھائے اور میرے پیچھے ہولے۔ (متی:۱۶-۲۴)

بھائی کو بھائی قتل کے لیے حوالے کرے گا‘ اور بیٹے کو باپ۔ اور بیٹے اپنے ماں باپ کے خلاف کھڑے ہوکر انہیں مروا ڈالیں گے۔ اور میرے نام کے باعث سب لوگ تم سے عداوت کریں گے۔ مگر جو آخر تک برداشت کرے گا وہی نجات پائے گا۔

(متی۱۰:۲۱-۲۲)

دیکھو میں تمہیں بھیجتا ہوں گویا بھیڑیوں کے بیچ میں …… آدمیوں سے خبر دار ہو۔ کیونکہ وہ تمہیں عدالتوں کے حوالے کر دیں گے‘ اور اپنے عبادت خانوں میں تمہارے کوڑے ماریں گے‘ اور تم میرے سبب حاکموں اور بادشاہوں کے سامنے حاضر کیے جاؤ گے۔ (۱۰:۱۶-۱۸)

اگر کوئی میرے پاس آئے اور اپنے باپ اور ماں اور بیوی اور بچوں اور بہنوں بلکہ اپنی جان سے بھی دشمنی نہ کرے [دشمنی کرنے سے مراد ان کی محبت اور ان کے مفاد کو اسلامی تحریک پر قربان کر دینا ہے۔(قدیم)] تو میرا شاگرد نہیں ہوسکتا۔ جو کوئی اپنی صلیب نہ اُٹھائے اور میرے پیچھے نہ آئے‘ وہ میرا شاگرد نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ تم میں ایسا کون ہے‘ کہ جب وہ ایک برج بنانا چاہے تو پہلے بیٹھ کر لاگت کا حساب نہ کرلے کہ آیا میرے پاس اس کے تیار کرنے کا سامان ہے‘ یا نہیں۔ ایسا نہ ہوکہ جب نیو ڈال کر تیار نہ کر سکے‘ تو سب دیکھنے والے یہ کہہ کر اس پر ہنسنا شروع کردیں کہ اس شخص نے عمارت شروع تو کی مگر تیار نہ کر سکا……تم میں سے جو کوئی اپنا سب کچھ ترک نہ کر دے وہ میرا شاگرد نہیں ہوسکتا۔

(لوقا ۱۴:۲۶-۳۳)

یہ تمام آیات صاف دلالت کرتی ہیں‘ کہ مسیح علیہ السّلام محض ایک دھرم کا پرچار کرنے نہیں اُٹھے تھے‘ بلکہ پورے نظامِ تمدّن وسیاست کو بدل دینا ان کے پیشِ نظر تھا‘ جس میں رومی سلطنت‘ یہودی ریاست‘ فقیہوں ‘اور فریسیوں کے اقتدار اور فی الجملہ تمام بندگا نِ نفس وہوائے نفس سے جنگ کا خطرہ تھا۔ اسی لیے وہ لوگوں کو کھلے الفاظ میں بتا دیتے تھے‘ کہ جو کام میں کرنے جا رہا ہوں وہ نہایت خطر ناک ہے‘ اور میرے ساتھ اسی کو آنا چاہئے‘ جو ان تمام خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہو۔

شریر کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جو کوئی تیرے داہنے گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دے۔ اور اگر کوئی تجھ پر نالش کر کے تیرا کرتا لینا چاہے تو چوغہ بھی اسے لے لینے دے اور جو کوئی تجھ کو ایک کوس بیگار میں لے جائے اس کے ساتھ دو کوس چلا جا۔

(متی ۱۵:۳۹-۴۱)

جو بدن کو قتل کرتے ہیں اورروح کو قتل نہیں کر سکتے ان سے نہ ڈرو بلکہ اس سے ڈرو جو روح اور بدن دونوں کو جہنم میں ہلاک کر سکتا ہے۔ (متی۱۰:۲۸)

اپنے واسطے زمین پر مال جمع نہ کرو جہاں کیڑا اور زنگ خراب کرتا ہے‘ اور جہاں چور نقب لگاتے اور چراتے ہیں‘ بلکہ اپنے لیے آسمان پر مال جمع کرو۔ (متی ۶:۱۹-۲۰)

کوئی آدمی دو مالکوں کی خدمت نہیں کر سکتا… تم خدا اور دولت دونوں کی خدمت نہیں کر سکتے۔ اپنی جان کی فکر نہ کرو کہ ہم کیا کھائیں گے۔ یا کیا پئیں گے‘ اور نہ بدن کی کہ کیا پہنیں گے۔ ہوا کے پرندوں کو دیکھو کہ نہ بوتے ہیں نہ کاٹتے ہیں نہ کوٹھیوں میں جمع کرتے ہیں‘ پھر بھی تمہارا آسمانی باپ ان کو کھلاتا ہے۔کیا تم ان سے زیادہ قدر نہیں رکھتے؟تم میں ایسا کون ہے‘ جو فکر کر کے اپنی عمر میں ایک گھڑی بھی بڑھا سکے؟اور پوشاک کے لیے کیوں فکر کرتے ہو؟جنگلی سوسن کے درختوں کو دیکھو کہ وہ کس طرح بڑھتے ہیں۔ وہ نہ محنت کرتے ہیں نہ کاتتے ہیں۔ پھر بھی میں تم سے کہتا ہوں کہ سلیمان علیہ السلام بھی باوجود اپنی شان وشوکت کے ان میں سے کسی کے مانند پوشاک پہنے ہوئے نہ تھا۔ پس جب خدا میدان کی گھاس کو‘ جو آج ہے‘ اور کل تنور میں جھونکی جائے گی‘ ایسی پوشاک پہناتا ہے‘ تو اے کم اعتقادو! تم کو کیوں نہ پہنائے گا؟ …تم پہلے اس کی بادشاہت اور اس کی راستبازی کی تلاش کرو تو یہ سب چیزیں بھی تمہیں مل جائیں گی۔

(متی ۶:۲۴-۳۳)

مانگو تو تمہیں دیا جائے گا۔ ڈھونڈو تو تم پاؤ گے۔ دروازہ کھٹکھٹائو تو تمہارے واسطے کھولا جائے گا۔ (متی ۷:۷)

عام غلط فہمی ہے‘ کہ سیدنا مسیح علیہ السلام نے رہبانیت اور ترک وتجرید کی تعلیم دی تھی حالانکہ اس انقلابی تحریک کے آغاز میں لوگوں کو صبر‘ تحمّلِ شد ائد اور توکل علی اﷲ کی تعلیم وتربیت دئیے بغیر کوئی چارہ ہی نہیں۔ جہاں ایک نظامِ تمدّن سیاست پوری طاقت کے ساتھ زمین پر چھایا ہوا ہو‘ اور تمام وسائل وذرائع زندگی اس کے قبضہ واختیار میں ہوں‘ ایسی جگہ کوئی جماعت انقلاب کے لیے اُٹھ نہیں سکتی‘ جب تک وہ جان ومال کی محبت دل سے نکال نہ دے‘ سختیاں اُٹھانے کو تیار نہ ہوجائے‘ اپنے بہت سے فوائد کو قربان کرنے اور بہت سے نقصانات گوارا کرنے کے لیے آمادہ نہ ہو۔ حاضر الوقت نظام سے لڑنا دراصل تمام آفات ومصائب کو اپنے اوپر دعوت دینا ہے۔ یہ کام جنہیں کرنا ہوا نہیں ایک تھپڑ کھا کر دوسرے تھپڑ کے لیے تیار رہنا چاہئے۔ کُرتا ہاتھ سے جاتا ہو‘ تو چوغہ بھی چھوڑنے کے لیے آمادہ ہونا چاہئے‘ اور روٹی کپڑے کی فکر سے آزاد ہوجانا چاہئے۔ خزائن رزق فی الوقت جن کے ہاتھ میں ہیں۔ ظاہر ہے‘ کہ ان سے لڑکر رزق پانے کی اُمید نہیں کی جا سکتی۔ لہٰذا جو اسباب سے قطع نظر کر کے صرف خدا کے بھروسہ پر اس راہ میں چھلانگ لگا سکتا ہووہی ان سے لڑ سکتا ہے۔

اے محنت اُٹھانے والو!بوجھ سے دبے ہوئے لوگو! سب میرے پاس آؤ‘ میں تمہیں آرام دوں گا۔ کیونکہ میرا جُو املائم ہے‘ اور میرا بوجھ ہلکا۔ (متی ۱۱:۲۸-۳۰)

شاید حکومت ِ الٰہیہ کا مینی فسٹو اس سے زیادہ مختصر اور پر اثر الفاظ میں مرتّب نہیں کیا جا سکتا۔ انسان پر انسانی حکومت کا جوا بڑا ہی سخت اور بڑا ہی بوجھل ہے۔ اس بوجھ تلے دبے ہوئے لوگوں کو الٰہی حکومت کا نقیب جو پیغام دے سکتا ہے وہ یہی ہے‘ کہ جس حکومت کا جوا میں تمہارے اوپر رکھنا چاہتا ہوں وہ نرم بھی ہے‘ اور خفیف بھی۔

غیر قوموں کے بادشاہ ان پر حکومت چلاتے ہیں۔ اور جو ان پر اختیار رکھتے ہیں وہ خدا وند ِنعمت کہلاتے ہیں۔ مگر تم ایسے نہ ہونا بلکہ جو تم میں بڑا ہے وہ چھوٹے کے مانند اور جو سردار ہے وہ خدمت کرنے والے کے مانند ہے۔ (لوقا ۲۲:۲۵-۲۶)

مسیح علیہ السّلام یہ ہدایت اپنے حواریوں (یعنی صحابیوں) کو فرماتے تھے۔ اس مضمون کے متعدد اقوال انجیلوں میں موجود ہیں۔ان کا مطلب یہ تھا‘ کہ کہیں فرعونوں اور نمرودوں کو ہٹا کر تم خود فرعون ونمرود نہ بن جانا۔

’’فقیہ اور فریسی [فریسی سے مراد حاملان شریعت ہیں۔(قدیم)] موسیٰ کی گدّی پر بیٹھے ہیں۔ پس جو کچھ وہ تمھیں بتائیں وہ سب کرو اور مانو لیکن ان کے سے کام نہ کرو۔ کیونکہ وہ کہتے ہیں‘ اور کرتے نہیں۔ وہ ایسے بھاری بوجھ جن کا اُٹھانا مشکل ہے‘ باندھ کر لوگوں کے کندھوں پر رکھتے ہیں‘ مگر آپ انہیں اپنی انگلی سے بھی ہلانا نہیں چاہتے۔ وہ اپنے سب کام لوگوں کے دکھانے کو کرتے ہیں۔

اپنے تعویذ بڑے بناتے اور اپنی پوشاک کے کنارے چوڑے رکھتے اور ضیافتوں میں صدر نشینی اور عبادت خانوں میں اعلیٰ درجہ کی کرسیاں اور بازاروں میں سلام اور آدمیوں سے رَبِّی کہلانا پسند کرتے ہیں۔‘‘

اے ریا کار فقیہو اور فریسیو! تم پر افسوس ہے‘ کہ آسمان کی بادشاہت لوگوں پر بند کرتے ہو‘ نہ آپ داخل ہوتے ہو‘ اور نہ داخل ہونے والوں کو داخل ہونے دیتے ہو۔

اے ریا کار فقیہو اور فریسیو! تم پر افسوس ہے‘ کہ ایک مرید کرنے کے لیے تری اور خشکی کا دورہ کرتے ہو‘ اور جب وہ مرید ہوچکتا ہے‘ تو اسے اپنے سے دو گنا جہنم کا فرزند بنا دیتے۔

اے اندھے راہ بتانے والو! تم مچھر کو تو چھانتے ہو‘ اور اونٹ کو نگل جاتے ہو۔

اے ریا کار فقیہو اور فریسیو! تم پر افسوس ہے تم سفیدی پھری ہوئی قبروں کے مانند ہو‘ جو اوپر سے تو خوبصورت دکھائی دیتی ہیں‘ مگر اندر مُردوں کی ہڈیوں اور ہر طرح کی نجاست سے بھری ہیں۔ اسی طرح تم بھی ظاہر میں تو لوگوں کو راست باز دکھائی دیتے ہو‘ مگر باطن میں ریا کاری اور بے دینی سے بھرے ہوئے ہو۔ (متی ۲۳:۲-۲۸)

یہ اس وقت کے علما اور حاملانِ شریعت کا حال تھا۔ وہ علم رکھنے کے باوجود محض بندگی نفس کی وجہ سے آپ بھی گمراہ تھے‘ اور عام لوگوں کو بھی گمراہ کر رہے تھے‘ اور اس انقلاب کے راستہ میں رومی قیاصرہ سے بڑھ کر وہی حائل تھے۔

اس وقت فریسیوں نے جا کر مشورہ کیا کہ اسے کیونکر باتوں میں پھنسائیں۔ پس انہوں نے اپنے شاگردوں کو ہیروویوں[مسیح علیہ السّلام کے زمانے میں فلسطین کے ایک حصّہ میں ہندستان کی دیسی ریاستوں کی طرح‘ ایک یہودی ریاست قائم تھی جو سلطنت ِروم کی تابع فرمان تھی۔ اس کے بانی ہیروو کے نام پر اس کو عموماً ہیرووی ریاست کہتے تھے۔ ہیروویوں سے مراد اس ریاست کی پولیس یا سی آئی ڈی کے آدمی ہیں۔(قدیم)] کے ساتھ اس کے پاس بھیجا اور انہوں نے (یعنی شاگردوں نے) کہا کہ اے استاد ہم جانتے ہیں‘ کہ تو سچا ہے‘ اور سچائی سے خدا کی راہ کی تعلیم دیتا ہے‘ اور کسی کی پروا نہیں کرتا… ہمیں بتا تو کیا سمجھتا ہے قیصر کو جزیہ دینا روا ہے‘ یا نہیں؟ یسوع نے ان کی شرارت جان کر کہا: اے ریا کارو! مجھے کیوں آزماتے ہو؟ جزیہ کا سکّہ مجھے دکھائو۔ وہ دینار اس کے پاس لے آئے۔ اس نے ان سے کہا یہ صورت اور نام کس کا ہے؟ انہوں نے کہا قیصر کا۔ اِس پر اُس نے کہا جو قیصر کا ہے وہ قیصر کو اور جو خدا کا ہے خدا کو ادا کرو۔ (متی ۲۲:۱۵-۲۱)

اس قصہ سے معلوم ہوتا ہے‘ کہ دراصل یہ ایک چال تھی۔ فریسی اس تحریک کو ختم کرنے کے لیے چاہتے تھے‘ کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا قبل از وقت حکومت سے تصادم کرا دیا جائے‘ اور تحریک کے جڑ پکڑنے سے پہلے حکومت کے زور سے اُسے کچلو اڈالا جائے۔ اسی لیے ہیرووی ریاست کی سی آئی ڈی کے سامنے یہ سوال اُٹھایا گیا کہ قیصر کو ٹیکس دیا جائے‘ یا نہیں۔ جواب میں حضرت مسیح علیہ السّلام نے جو ذُومعنی بات کہی اس کو دو ہزار برس سے مسیحی اور غیر مسیحی سب اس معنی میں لے رہے ہیں‘ کہ عبادت خدا کی کرو اور اطاعت ہر اس حکومت کی کرتے رہو‘ جو تمہارے زمانہ میں موجود ہو۔ لیکن دراصل مسیح علیہ السّلام نے نہ تو یہ فرمایا کہ قیصر کو ٹیکس دینا روا ہے‘ کیونکہ ایسا کہنا ان کی دعوت کے خلاف تھا‘ اور نہ یہ فرمایا کہ اسے ٹیکس نہ دیا جائے کیونکہ اس وقت تک ان کی تحریک اس مرحلہ تک نہیں پہنچی تھی کہ ٹیکس روکنے کا حکم دیا جاتا۔ اس لیے انہوں نے یہ لطیف بات کہہ دی کہ قیصر کا نام اور اس کی صورت تو قیصر ہی کو واپس کر دو اور سونا جو خدا نے پیدا کیا ہے وہ خدا کی راہ میں صرف کر دو۔

اس سازش میں ناکام ہونے کے بعد فریسیوں نے خود مسیح علیہ السّلام کے حواریوں میں سے ایک کو رشوت دے کر اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ کسی ایسے موقع پر مسیح علیہ السّلام کو گرفتار کرائے جب کہ عام بلوے کا خطرہ نہ ہو۔ چنانچہ یہ تدبیر کار گر ہوئی اور یہوداہ سکریوتی نے مسیح علیہ السّلام کو پکڑوا دیا۔

پھر ان کی ساری جماعت اُٹھ کر اسے پِیلا طُس (رومی حاکم) کے پاس لے گئی اور انہوں نے الزام لگانا شروع کیا کہ اسے ہم نے اپنی قوم کو بہکاتے اور قیصر کو خراج دینے سے منع کرتے اور اپنے آپ کو مسیح بادشاہ کہتے پایا۔ پیلا طُس نے سردار کا ہنوں اور عام لوگوں سے کہا کہ میں اس شخص میں کوئی قصور نہیں پاتا۔ مگر وہ اور بھی زور دے کر کہنے لگے کہ یہ تمام یہود یہ میں‘ بلکہ گلیل سے لے کر یہاں تک لوگوں کو سکھا سکھا کر ابھارتا ہے۔ وہ چِلّا چِلّا کر سر ہوتے رہے‘ کہ اِسے صلیب دی جائے‘ اور ان کا چِلّانا کار گر ہوا۔ (لوقا ۲۳:۱-۲۳)

اس طرح دنیا میں حضرت مسیح علیہ السّلام کا مشن ان لوگوں کی بدولت ختم ہوا جو اپنے آپ کو حضرت موسیٰ علیہ السّلام کا وارث کہتے تھے۔ تاریخی شواہد کی رُو سے حضرت مسیح علیہ السّلام کی نبوت کا کل زمانہ ڈیڑھ سال اور تین سال کے درمیان رہا ہے۔ اس مختصر مدّت میں انہوں نے اتنا ہی کام کیا جتنا حضرت محمدؐ نے اپنی مکی زندگی کے ابتدائی دو تین سال میں کیا تھا۔ اگر کوئی شخص انجیل کی مذکورہ بالا آیات کا مقابلہ قرآن مجید کی مکی سورتوں اور زمانہ قیامِ مکہ کی احادیث سے کرے گا‘ تو دونوں میں بڑی مماثلت پائے گا۔