مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تحریک آزادی ہند اور مسلمان

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "تحریک آزادی ہند اور مسلمان" ایک ایسی علمی و فکری تحریر ہے جو ہندوستانی مسلمانوں کے سامنے پیش آنے والے سیاسی، تہذیبی اور وجودی بحران کا گہرائی سے تجزیہ پیش کرتی ہے۔ اس کتاب کا مرکزی خیال یہ ہے کہ اسلام محض عبادات تک محدود نہیں بلکہ زندگی کا ایک جامع نظام ہے جس کا مقصد اللہ کی حاکمیت کو تمام شعبوں—سیاست، معیشت، معاشرت، تعلیم—میں قائم کرنا ہے۔ غلامی اور اسلام باہم منافی چیزوں ہیں؛ لہٰذا مسلمانوں کی آزادی کی جدوجہد صرف سیاسی آزادی تک محدود نہیں رہ سکتی بلکہ اس کا مقصد دارالاسلام کی تشکیل ہونا چاہیے، جہاں اسلامی نظامِ حیات غالب ہو۔

کتاب کا آغاز مسلمانوں کی غلامی سے آزادی کی تاریخی جدوجہد سے ہوتا ہے، جس میں سید احمد شہیدؒ، فرائضی تحریک اور 1857ء کی جنگِ آزادی کو اسلامی استقلال کی عکاسی قرار دیا گیا ہے۔ مودودی صاحب واضح کرتے ہیں کہ برطانوی سامراج نے نہ صرف سیاسی بلکہ تہذیبی اور ذہنی غلامی کو فروغ دیا، جس کے نتیجے میں مسلمانوں کی قومی شناخت متزلزل ہو گئی۔ انیسویں صدی کے آخر میں مغربی تہذیب کے ساتھ سمجھوتہ کرنے والی روش نے مسلم معاشرے میں ایک گہری کشمکش پیدا کر دی، جہاں قدامت پسند اور جدیدیت پسند دونوں راستے ناکام ثابت ہوئے۔

باب دوم "ہم کہاں کھڑے ہیں؟" میں مصنف مسلمانوں کی موجودہ فکری اور سیاسی بے چینی کا جائزہ لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ خلافت تحریک کی ناکامی کے بعد قیادت کا فقدان ہوا اور ملت ایک انتشار کی حالت میں چلی گئی۔ کتاب کے وسطی مضامین جماعتِ اسلامی کے قیام (1941ء) کے بعد کے سیاسی مؤقف کو تاریخی ترتیب سے بیان کرتے ہیں: مسلم لیگ سے اختلاف کی نوعیت، غیر اسلامی قانون ساز مجلسوں کی رکنیت کا شرعی حکم، پرامن انقلاب کے راستے پر اصرار، اور 1946ء کے انتخابات اور صوبہ سرحد کے ریفرنڈم میں جماعتِ اسلامی کے مسلک کی وضاحت شامل ہے۔

کتاب کے آخری مضامین 1947-48ء کے دوران تقسیمِ ہند اور قیامِ پاکستان کے بعد پیدا ہونے والے سوالات پر مرکوز ہیں: تقسیم کے وقت مسلمانوں کی حالت کا جائزہ، کیا پاکستان کو ایک مذہبی ریاست ہونا چاہیے، اور پاکستان میں اسلامی قانون کے نفاذ میں حائل رکاوٹیں اور اسے نافذ کرنے کا طریقہ کار۔ یوں کتاب مجموعی طور پر مسلمانانِ ہند کی جدوجہدِ آزادی کے فکری سفر کو غلامی کے دور سے لے کر ایک نظریاتی ریاست کے قیام کے فوری بعد تک، بلاتعطل تاریخی ترتیب میں پیش کرتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

اسلام کی راہِ راست اور اس سے انحراف کی راہیں (محرم ۶۰ھ - جنوری ۱۹۴۱ء)

مسلمانوں میں سے جو لوگ پاکستان کے نصب العین پر اپنی نظر جمائے ہوئے ہیں‘ اور جو انگریزی حکومت سے ہندستان کی آزادی پر اپنی تمام اُمیدوں کا انحصار رکھتے ہیں۔ اور جو ان دونوں کے درمیان مختلف راہیں تلاش کر رہے ہیں‘ ان سب کے اندر ایک چیز مجھے مشترک نظر آتی ہے‘ اور وہ یہ ہے‘ کہ اسلام کے اصلی نصب العین کی طرف براہِ راست پیش قدمی کرنے سے یہ سب لوگ جھجکتے ہیں‘ مشکلات کا ایک بہت بڑا پہاڑ ان کو اس راستہ میں حامل نظر آتا ہے‘ اور اس کو دور سے دیکھ کر یہ دائیں یا بائیں جانب مڑ جاتے ہیں‘ تاکہ پھیر کے راستوں سے نکل جائیں۔ حالانکہ میں علیٰ وجہ البصیرت یہ سمجھتا ہوں کہ اسلامی نصب العین تک کسی پھیر کے راستے سے پہنچنا غیر ممکن ہے۔ اس کی طرف اگر پیش قدمی کی جا سکتی ہے‘ تو براہِ راست ہی کی جا سکتی ہے‘ اور جو مشکلات اس راستہ میں نظر آتی ہیں وہ ناقابلِ عبور نہیں ہیں‘ بشرطیکہ ان کو صحیح طور سے سمجھنے اور دور کرنے کی کوشش کی جائے۔

اوپر کے فقرے میں جو مجمل دعویٰ میں نے کیا ہے اب میں اسی کا تجزّیہ کر کے ایک ایک جُزو پر الگ الگ بحث کروں گا۔

۱- اصل اسلامی نصب العین کیا ہے؟

۲- اس کی طرف پیش قدمی کا سیدھا راستہ کون سا ہے؟

۳- اس راستہ میں جو مشکلات نظر آتی ہیں وہ کیا ہیں؟

۴- ان مشکلات کو دیکھ کر پھیر کے راستے کون کون سے اختیار کیے جا رہے ہیں؟

۵- ان مختلف راستوں میں غلطی کیا ہے‘ اور یہ اصل مقصود تک کیوں نہیں پہنچا سکتے؟

۶- مشکلات کی حقیقی نوعیت کیا ہے‘ اور وہ کس طرح دور ہوسکتی ہیں؟

یہ سوالات ہیں‘ جن پر مجھے اس مضمون میں مختصراً بحث کرنی ہے۔

۱۔اسلامی نصب العین

پہلے سوال کا جواب قرآن مجید میں جو کچھ دیا گیا ہے وہ یہ ہے:

<<ہُوَالَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰي وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْہِرَہٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّہٖ۝۰ۙ وَلَوْ كَرِہَ الْمُشْرِكُوْنَo>> ( التوبہ 33:9)

وہی ہے (یعنی اﷲ)جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا‘ تاکہ اس کو پوری جنسِ دین پر غالب کر دے خواہ یہ کام مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔

اس آیت میں <<اَلْھُدٰی >>(ہدایت) سے مراد دنیا میں زندگی بسر کرنے کا صحیح طریقہ ہے۔انفرادی برتاؤ‘ خاندانی نظام‘ سوسائٹی کی ترکیب‘ معاشی معاملات‘ ملکی انتظام‘ سیاسی حکمت عملی‘ بین الاقوامی تعلقات‘ غرض زندگی کے تمام پہلوؤں میں انسانی زندگی کے لیے صحیح روّیہ کیا ہونا چاہئے‘ یہ چیز اﷲ نے اپنے رسول کو بتا کر بھیجا ہے۔

دوسری چیز جو اﷲ کا رسول لے کر آیا ہے وہ دینِ حق ہے۔ دین کے معنی اطاعت کے ہیں۔ کیش اور مذہب کے لیے جو دین کا لفظ استعمال ہوتا ہے‘ یہ اس کا اصل مفہوم نہیں ہے‘ بلکہ اس کو دین اس وجہ سے کہتے ہیں‘ کہ اس میں بھی انسان خیال وعمل کے ایک خاص سسٹم کی اطاعت کرتا ہے۔ دراصل ’’دین‘‘ کا لفظ قریب قریب وہی معنی رکھتا ہے‘ جو زمانۂ حال میں ’’اسٹیٹ‘‘ کے معنی ہیں۔ لوگوں کا کسی بالا تر اقتدار کو تسلیم کر کے اس کی اطاعت کرنا‘ یہ ’’اسٹیٹ‘‘ ہے۔ یہی ’’دین‘‘ کا مفہوم بھی ہے۔ اور ’’دینِ حق‘‘ یہ ہے‘ کہ انسان دوسرے انسانوں کی خود اپنے نفس کی اور تمام مخلوقات کی بندگی واطاعت چھوڑ کر‘ صرف اﷲ کے اقتدار اعلیٰ کو تسلیم کرے‘ اور اسی کی بندگی واطاعت اختیار کرے۔ پس درحقیقت اﷲ کا رسولؐ اپنے بھیجنے والے کی طرف سے ایک ایسے ’’اسٹیٹ‘‘ کا نظام لے کر آیا ہے‘ جس میں نہ تو انسان کی خود اختیاری کے لیے کوئی جگہ ہے‘ نہ انسان پر انسان کی حاکمیت کے لیے کوئی مقام‘ بلکہ حاکمیت اور اقتدارِ اعلیٰ جو کچھ بھی ہے صرف اﷲ کے لیے ہے۔[اس آیت کی تفسیر میں جو کچھ میں نے لکھا ہے اس کے سمجھنے میں بہت سے لوگوں کو غلط فہمی ہوئی ہے‘ اور اس کی وجہ یہ ہے‘ کہ جب تک کسی شخص کی نظر جدید نظریہ ریاست (theory of state)پر نہ ہو‘ اس کے لیے اس مضمون کا سمجھنا مشکل ہے۔ موجودہ زمانہ میں اسٹیٹ‘ محض اس انتظامی مشینری کا نام نہیں ہے‘ جو اندرونی نظمِ مملکت کا تحفظ اور بیرونی حملوں کی مدافعت کرتی ہے‘ بلکہ آج کل کا اسٹیٹ درحقیقت پوری انسانی زندگی کا ٹھیک اسی طرح احاطہ کرتا ہے جس طرح مذہب کرتا ہے۔ اشتراکی اسٹیٹ ہویا فاشسٹی یا جمہوری‘ ہر ایک کی بنیاد میں ایک خاص مابعد الطبیّعی نظریہ ہے‘ ایک خاص تصوّر کائنات ہے ایک خاص تصوّر انسان ہے‘ ایک خاص فلسفہ اخلاق اور ایک خاص اجتماعی فلسفہ ہے۔ پھر ان میں سے ہر ایک اپنے مخصوص فلسفہ کے لحاظ سے ایک مقتدر اعلیٰ کا تعین کرتا ہے(مثلاً قوم یا باشندگانِ ملک یا کمیونٹی)جس کی نیابت وخلافت کسی ڈکٹیٹر‘ یا پارلیمنٹ یا پارٹی کے سپرد ہوتی ہے۔ پھر اسٹیٹ کے حدود میں رہنے والے تمام افراد سے اس مقتدر ِاعلیٰ کی حاکمیت تسلیم کرنے اور اس کی غیر محدود اطاعت کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔افراد کی زندگی اور بحیثیت مجموعی سوسائٹی کی زندگی کا کوئی شعبہ اسٹیٹ کی گرفت سے باہر نہیں ہوتا۔ اسٹیٹ ہی اپنے نظریات کے مطابق ان کی تعلیم اور تعمیر سیرت کا ذمّہ لیتا ہے‘ اسٹیٹ ہی اپنے فلسفّہ اخلاق کے مطابق ان کے اس لیے اخلاقی معیار مقرر کرتا ہے‘ اسٹیٹ ہی ان کی زندگی کے لیے قوانین وضع کرتا ہے‘ اور حلال وحرام کے حدود مقرر کرتا ہے‘ اور اسٹیٹ ہی یہ طے کرتا ہے‘ کہ وہ اپنی سعی وجہد کن راہوں میں صرف کریں‘ اور کن میں نہ کریں۔ اگرچہ اسٹیٹ کی یہی حقیقت ہر زمانہ میں تھی‘ اور اسی بنا پر کہا گیا تھا‘ کہ <<اَلنَّاسُ عَلٰی دِیْنِ مُلُوْکِھِمْ >> (لوگ اپنے بادشاہوں کےطریقے پر ہوتے ہیں)مگر پہلے اس حقیقت پر پردہ پڑا ہوا تھا‘ اور اب یہ بالکل کھل کر سامنے آگئی ہے‘ اور تمام دنیا میں یہی نظریہ ریاست مسلم ہوچکا ہے۔

اب غور کیجیے کہ دین اس کے سوا اور کس چیز کا نام ہے؟ایک مابعد الطبیعی عقیدہ‘ ایک مقتدرِ اعلیٰ کا تصوّر‘ جس سے بالا تر کوئی اقتدار(authority)نہ ہو‘ اس مقتدر اعلیٰ کی حاکمیت تسلیم کرنا‘ اور اپنے آپ کو اس کی اطاعت میں دے دینا‘ ایک فلسفہ اخلاق وفلسفہ اجتماع (social philosophy)جس پر زندگی کا پورا نظام قائم ہو‘ ایک ہمہ گیر قانون جو تمام معاملات زندگی کا احاطہ کرے‘ انہی چیزوں کے مجموعہ کا نام تو دین ہے۔اسی بنا پر خود آج کل کے مغربی فلاسفہ ومفکرین بھی یہ کہنے لگے ہیں‘ کہ موجودہ دور کے اسٹیٹ نے خدا اور مذہب کی جگہ لے لی ہے۔ فرق اگرکچھ ہے‘ تو صرف اس حیثیت سے ہے‘ کہ جو شخص ان ریاستوں میں سے کسی کی اطاعت کرتا ہے‘ اور اسی کی اطاعت کے برحق ہونے کا اعتقاد بھی رکھتا ہے وہ مومن بغیر اﷲ ومسلم لغیر اﷲ ہے‘ اور جو ان کے برحق ہونے کا منکر اور اﷲ کا معتقد ہے‘ مگر ان کی اطاعت پر راضی ہے وہ مومن باﷲ ومسلم لغیر اﷲ ہے۔ بخلاف اس کے ابنیاء علیہم السّلام جو دعوت لے کر آئے تھے وہ یہ تھی کہ لوگ مومن باﷲ اور مسلم ﷲ ہوجائیں‘ اﷲ ہی کو مقتدر اعلیٰ تسلیم کریں‘ اسی کی اطاعت قبول کریں‘ اور ان کی پوری زندگی پر وہی ہمہ گیر ضابطہ اخلاقی وقانونی محیط ہوجو اﷲ نے مقررکیا ہے۔

اس چیز کو میں جن الفاظ میں بیان کرتا ہوں‘ بلاشبہ وہ متقدّمین کے ہاں کہیں نہ ملیں گے‘ کیونکہ اس وقت یہ الفاظ ان معافی کے ساتھ مستعمل نہ ہوتے تھے۔ مگر انصاف کیساتھ دیکھئے جس حقیقت کو میں بیان کر رہا ہوں‘ کیا وہی قرآن میں بیان نہیں ہوتی ہے‘ اور کیا اسی کو تمام ائمہ ہداۃ بیان نہیں کرتے چلے آرہے ہیں؟ افسوس یہ ہے‘ کہ لوگ قرآن پڑھتے ہیں‘ مگرسمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ تمام ابنیا نے یہی کہا ہے‘ کہ اﷲ ہی کو الٰہ اور رب (یعنی ہر حیثیت سے مقتدر اعلیٰ)تسلیم کرو‘ اسی کی بندگی اختیار کرو اور جو ضابطہ اخلاق وقانون (نظامِ شریعت)ہم اس کی طرف سے لے کر آئے ہیں اسی کی پیروی کرو۔ اوپر میں نے اسٹیٹ کی جو تعریف بیان کی ہے اس کو سامنے رکھ کر دیکھئے۔ ابنیاء علیہم السّلام نے اﷲ کے اقتدار اعلیٰ کا عقیدہ‘ انسان کی طرف سے اس کی تسلیم واطاعت‘ اور انسانی زندگی پر شریعت الٰہی کے نفاذ کا مطالبہ جو پیش کیا تھا وہ ایک الٰہی اسٹیٹ یا حکومتِ الٰہیہ کے قیام کی دعوت کے سوا اور کیا تھا؟ اگر معترفین اس کے قائل نہیں ہیں‘ تو وہ مجھے بتائیں کہ انبیاء آخر یہ شریعتیں لے کر کیوں آئے تھے؟ یہ حرام وحلال کے حدود کس لیے تھے؟یہ دیوانی وفوج داری کے قوانین کیوں انہوں نے پیش کیے تھے؟یہ<< وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَo >>(المائدہ 45:5)اور<<فَمَنْ يَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَيُؤْمِنْۢ بِاللہِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰى۝۰ۤ >>(البقرہ 256:2)اور<< اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلہِ۝۰ۭ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاہُ۝۰ۭ>>(یوسف 40:12)کا اعلان کیوں کیا جاتا تھا؟اور ہر نبی یہ کیوں کہتا تھا‘ کہ<< فَاتَّقُوااﷲَ وَاَطِیْعُوْنَ>>’’اﷲ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘کیا یہ شریعتیں اس حیثیت سے آئی تھیں کہ یہ بھی برحق ہوں ‘اور انسانی ساخت کے قوانین بھی برحق ہوںاور انسان کے لیے یکساں جائز ہوکہ چاہے اِن کی پیروی کرے‘ اور چاہے ان کی؟(ترجمان القرآن۔ستمبر‘ اکتوبر‘ نومبر۱۹۴۱ء)]

پھررسول کے بھیجنے کا مقصد یہ بتایا گیا ہے‘ کہ وہ اس نظامِ اطاعت (دین)اور قانونِ حیات (الہدی)کو پوری جنسِ دین پر غالب کر دے۔ پوری جنسِ دین سے کیا مراد ہے؟دنیا میں انسان انفرادی یا اجتماعی طور پر جن جن صورتوں سے کسی کی اطاعت کر رہا ہے‘ وہ سب’’جنسِ دین‘‘کی مختلف انواع ہیں۔ بیٹے کا والدین کی اطاعت کرنا‘ بیوی کا شوہر کی اطاعت کرنا‘ نوکر کا آقا کی اطاعت کرنا‘ ماتحت کا افسر کی اطاعت کرنا‘ رعیت کا حکومت کی اطاعت کرنا‘ پیروؤں کا پیشواؤں اور لیڈروں کی اطاعت کرنا‘ یہ اور ایسی ہی بے شمار اطاعتیں بحیثیت مجموعی ایک نظامِ اطاعت بناتی ہیں‘ اور اﷲ کی طرف سے رسول کے آنے کا مقصد یہ ہے‘ کہ یہ پورا نظامِ اطاعت اپنے تمام اجزا سمیت ایک بڑی اطاعت اور ایک بڑے قانون کے ماتحت ہوجائے‘ تمام اطاعتیں اﷲ کی اطاعت کے تابع ہوں‘ ان سب کو مُنْضَبِطْ(regulate)کرنے والا ایک اﷲ ہی کا قانون ہو‘ اور اس بڑی اطاعت اور اس ضابطہ قانون کی حدود سے باہر کوئی اطاعت باقی نہ رہے۔

یہ رسول کا مشن ہے‘ اور رسول اس مشن کو پورا کرنے پر مامور ہے خواہ شرک کرنے والے اس پر کتنی ہی ناک بھوں چڑھائیں۔ شرک کرنے والے کون ہیں؟ وہ سب لوگ جو اپنی انفرادی واجتماعی زندگی میں اﷲ کی اطاعت کے ساتھ دوسری مستقل بالذّات (یعنی خدا کی اطاعت سے آزاد) اطاعتیں شریک کرتے ہیں۔ جہاں تک اﷲ کے قانون طبیعی(law of nature)کا تعلق ہے‘ ہر انسان طوعاً وکرہاً اس کی اطاعت کر رہا ہے‘ کیونکہ اس کے بغیر تو اس کے لیے کوئی چارہ ہی نہیں ہے۔ مگر جہاں تک انسان کے دائرہ اختیار کا تعلق ہے اس دائرے میں بعض انسان تو بالکل ہی غیر اﷲ کے مطیع بن جاتے ہیں‘ اور بعض انسان اپنی زندگی کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے‘ کسی حصّہ میں خدا کے بھیجے ہوئے قانون اخلاقی (شریعت)کی اطاعت کرتے ہیں‘ اور کسی دوسرے حصے میں اپنے نفس یا دوسروں کی اطاعت بجا لاتے ہیں۔اسی چیز کا نام اﷲ کی اطاعت کے ساتھ دوسری اطاعتوں کو شریک کرنا ہے‘ اور جو لوگ شرک کی ان مختلف صورتوں میں مبتلا ہیں‘ ان کو یہ بات ناگوار ہوتی ہے‘ کہ اپنی فطری اطاعت کی طرح‘ اپنی اختیاری اطاعت وبندگی کو بھی بالکلیہ اﷲ کے لیے خالص کر دیں۔ خواہ نادانی کے سبب سے یا اخلاقی کمزوری کے سبب سے بہرحال وہ شرک پر اصرار کرتے ہیں۔ لیکن اﷲ کے رسول پر یہ فرض عائد کیا گیا ہے‘ کہ ایسے لوگوں کی مزاحمت کے باوجود اپنے مشن کو پورا کرے۔

۲- اس نصب العین تک پہنچنے کا سیدھا راستہ

یہ ہے اسلامی نصب العین اور اس نصب العین کی طرف پیش قدمی کرنے کے لیے راہِ راست وہی ہے‘ جو اﷲ کے رسولؐ نے اختیار کی‘ یعنی یہ کہ لوگوں کو ’’الہدیٰ‘‘اور ’’دینِ حق‘‘کی طرف دعوت دی جائے۔ پھر جو لوگ اس دعوت کو قبول کر کے اپنی بندگی واطاعت کو اﷲ کے لیے خالص کر دیں‘ دوسری اطاعتوں کو اﷲ کی اطاعت کے ساتھ شریک کرنا چھوڑ دیں۔ اور خدا کے قانون کو اپنی زندگی کا قانون بنا لیں‘ ان کا ایک مضبوط جتھا بنایا جائے۔ پھر یہ جتھا تمام ان اخلاقی‘ علمی اور مادی ذرائع سے جو اس کے امکان میں ہوں‘ دینِ حق کو قائم کرنے کے لیے جہاد کبیر کرے‘ یہاں تک کہ اﷲ کے سوا دوسری اطاعتیں‘ جن جن طاقتوں کے بل پر قائم ہیں‘ ان سب کا زور ٹوٹ جائے‘ اور پورے نظامِ اطاعت پر وہی ’’الہدیٰ‘‘ اور ’’دینِ حق‘‘غالب آجائے۔

اس راہِ راست کا ہر جُزو قابلِ غور ہے۔

پہلا جُزو یہ ہے‘ کہ انسانوں کو بالعموم اﷲ کی حاکمیت واقتدار اعلیٰ تسلیم کرنے اور اس کے بھیجے ہوئے قانون کو اپنی زندگی کا قانون بنانے کی دعوت دی جائے۔ یہ دعوتِ عام ہونی چاہئے‘ ہر وقت جاری رہنی چاہئے‘ اور اس کے ساتھ دوسری غیر متعلق باتوں کی آمیزش نہ ہونی چاہئے۔ قوموں اور نسلوں اور ملکوں کے باہمی جھگڑے‘ خود اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کی بحثیں‘ غیر الٰہی نظامات میں سے ایک کو دوسرے پر ترجیح دینا‘ یا کسی ایسے نظامِ فاسد کی خود غرضا نہ حمایت کرنا‘ یا کسی نظامِ فاسد میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرنا‘ یہ سب چیزیں نہ صرف یہ کہ ’’الہٰدی‘‘اور’’دینِ حق‘‘ کے ساتھ میل نہیں کھاتیں بلکہ صریح طور پر اس کے منافی اور اس کے لیے مضرت رساں ہیں۔ پس جب کسی شخص یا گروہ کو دعوتِ حق کی خدمت انجام دینی ہو‘ تو اسے ان تمام جھگڑوں اور بحثوں سے الگ ہوجانا چاہئے‘ اور اپنی دعوت کے ساتھ کسی دوسرے غیر متعلق اور بے جوڑ قضیے کو شامل نہ کرنا چاہئے۔

دوسرا جُزو یہ ہے‘ کہ جتّھا صرف ان لوگوں کا بنایا جائے‘ جو اس دعوت کو جان کر اور سمجھ کر قبول کریں‘ جو بندگی واطاعت کو فی الواقع اﷲ کے لیے خالص کر دیں‘ جو دوسری اطاعتوں کو اﷲ کی اطاعت کے ساتھ واقعی شریک کرنا چھوڑ دیں اور حقیقت میں اﷲ کے قانون کو اپنا قانونِ زندگی بنا لیں۔ رہے دوسرے لوگ جو اس طرز خیال یا اس طرز زندگی کے محض معترف ہوں‘ یا اس سے ہمدردی رکھتے ہوں‘ تو وہ مجاہدہ کرنے والے جتھے کے لیڈر کیا معنی‘ کارکن بھی نہیں بن سکتے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ جو جس درجہ میں بھی اس کا ہمدرد یا بیرونی معاون بن جائے بسا غنیمت ہے‘ مگر ارکان اور ہمدروں کے درمیان جو حقیقی فرق وامتیاز ہے اسے کسی حال میں بھی نظر انداز نہ کرنا چاہئے۔

تیسرا جُزویہ ہے‘ کہ براہِ راست غیر الٰہی نظامِ اطاعت پر حملہ کیا جائے‘ تمام کوششوں کا مقصود صرف اس ایک بات کو بنایا جائے کہ اﷲ کی حاکمیت قائم ہو‘ اور اس کے سوا کسی دوسری چیز کو مقصود بنا کر اس کے پیچھے قوّتیں ضائع نہ کی جائیں۔ [بعض لوگ سرے سے اس بات ہی کا انکار کرتے ہیں‘ کہ اسلامی حکومت قائم کرنا نبی کے مقاصدِ بعثت میں سے ہے۔ مگر اس کے ساتھ ہی وہ یہ عجیب وغریب بات بھی کہتے ہیں‘ کہ ’’جب نبی کوئی پیغام لے کر آتا ہے‘ اور اس کے مخاطبین اولین کا کوئی گروہ اس پیغام کو قبول کرتا ہے‘ تو ان کو اپنی حکومت قائم کرنی پڑتی ہے‘ اور وہ اپنی حکومت اسلامی طریقے پر قائم کرتے ہیں۔ مگر اس حکومت کا قیام ایک ضمنی بات ہے نبی کی بعثت کا اصل مقصد نہیں ہے۔‘‘سوال یہ ہے‘ کہ آخر نبی وہ کس قسم کا پیغام لاتا ہے‘ جس کے قبول کرنے والوں کو اپنی حکومت ضرور قائم کرنی پڑتی ہے؟اگر نبی کا پیغام صرف یہ ہے‘ کہ اﷲ کی پوجا کرو تو اس پیغام کے لیے اپنی حکومت قائم کرنے کی کیا ضرورت ہے؟پھر اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے‘ کہ وہ ’’حکومت اسلامی طریقہ پر قائم کرتے ہیں۔‘‘اگر نبی کوئی نظامِ حکومت قائم کرنے نہ آیا تھا انہ اس نے کوئی نظام پیش کیا‘ نہ وہ نظامِ حکومت اس کے پیغام کا کوئی جُزو تھا تو یہ ’’اسلامی طریقہ کی حکومت‘‘ کہاں سے آگئی؟اور اگر ایک نظامِ حکومت بھی اس نے پیش کیا تھا‘ اور وہ اس کے پیغام کا ایک جُزو تھا تو اس کا قیام مقصد بعثت سے خارج اور ایک ضمنی چیز کیسے ہوگیا؟کیا اﷲ تعالیٰ اپنے ابنیا کو جو پیغام دیتا ہے اس کا کوئی حصّہ اختیاری (optional)بھی ہوتا ہے؟یا اسے محض ضمیمہ کے طور پر ساتھ لگا دیا جاتا ہے‘ کہ جی چاہے تو اس کے لیے کوشش کرے‘ اور نہ چاہے تو نہ کرے؟پھر اگر نبی کوئی نظامِ حکومت پیش کرتا ہے‘ تو آیا اس کی حیثیت یہ ہوتی ہے‘ کہ یہی ایک برحق نظامِ حکومت ہے‘ اور اس کے خلاف جو نظام ہے وہ باطل ہے؟اگر آپ پہلی بات کے قائل ہیں تو گویا آپ یہ کہہ رہے ہیں‘ کہ اسلام کی حکومت اور کفر کی حکومت دونوں یکساں ہیں‘ اور اگر آپ دوسری بات کے قائل ہیں‘ تو براہِ کرم اچھی طرح غور کر کے بتائیے کہ حکومتِ اسلام اور حکومتِ کفر کے درمیان بنیادی فرق کیا ہے‘ اور ایک کے برحق اور دوسرے کے باطل ہونے کی توجیہہ آپ کس طرح کریں گے؟کاش ان باتوں پر غور کیا گیا ہوتا‘ تو سمجھ میں خود یہ بات آجاتی کہ حکومت اسلامی کا بنیادی نظریہ اسلام کے عقیدہ توحید ورسالت سے گہرا تعلق رکھتا ہے‘ اور یہ چیز ضمنی نہیں ہے‘ بلکہ اساسی اہمیت رکھتی ہے۔ لاالہٰ کی نفی میں حاکمیت غیر اﷲ کا انکار اور الا اﷲ کے اثبات ہی میں حاکمیت ِاﷲ کا اقرار شامل ہے‘ اور یہ بنیاد ہے اسلامی حکومت کی۔

(ترجمان القرآن۔ ستمبر‘ اکتوبر‘ نومبر۱۹۴۱ء)]

۳-مشکلات

اس وقت ہندستان میں مسلمانوں کی جتنی مستقل سیاسی جماعتیں ہیں قریب قریب ان سب کا دعویٰ یہی ہے‘ کہ ہمارا نصب العین اسلامی نصب العین ہی ہے‘ مگر ان سب نے اس راہِ راست کو چھوڑ دیا ہے‘ جس کی تشریح ابھی میں نے بیان کی ہے وہ نہ تو ’’الہدی‘‘ اور ’’دینِ حق‘‘کی خالص‘ بے آمیز دعوتِ عام دیتی ہیں‘ نہ اس پارٹی کی تشکیل کرتی ہیں‘ جس کی قیادت ورکنیت صرف ان لوگوں تک محدود ہوجو واقعی اپنی بندگی واطاعت کو اﷲ کے لیے خالص کرتے ہوں ‘اور نہ وہ غیر متعلق مقاصد کو چھوڑ کر صرف اس ایک مقصد کو اپنی کوششوں کا ہدف بناتی ہیں‘ جس کا ذکر قرآن میں کیا گیا ہے۔ راہِ راست کے ان تینوں اجزاء سے یہ سب جماعتیں منحرف ہیں۔

اس انحراف نے مختلف جماعتوں کے مسلک میں کیا کیا صورتیں اختیار کی ہیں؟اس کی تفصیل تو میں بعد میں بیان کروں گا۔پہلے میں اس احراف کا سبب بتا دینا چاہتا ہوں۔اس کا سبب یہ ہے‘ کہ ان لوگوں کو اصل اسلامی نصب العین کی طرف براہِ راست پیش قدمی کرنے میں تین تین بڑی مشکلات نظر آتی ہیں‘ جن کا کوئی حل ان کی سمجھ میں نہیں آتا۔

(۱) سب سے پہلی مشکل جوان کے سامنے آتی ہے وہ یہ ہے‘ کہ ’’الہدیٰ‘‘ اور’’دینِ حق‘‘ کی طرف دعوتِ عام کا نتیجہ خیز اور کامیاب ہونا موجودہ حالات میں ان کو محال نظر آتا ہے۔ وہ کہتے ہیں‘ کہ دوسری تحریکیں تو محض سیاسی‘ تمدّنی اور معاشی مسائل کا حل پیش کرتی ہیں‘ اور جن لوگوں کو ان کا تجویز کردہ حل اپیل کرتا ہے‘ وہ اپنا مذہب اور اپنی قومیّت تبدیل کئے بغیر ان تحریکوں میں شامل ہوجاتے ہیں۔ مگر اسلام محض دنیوی مسائل کا حل پیش نہیں کرتا‘ بلکہ عقائد کا ایک نظام اور عبادات اور قوانینِ شرعیہ کا ایک ضابطہ بھی پیش کرتا ہے۔اور اس تحریک میں شامل ہونے کے لیے ناگزیر ہے‘ کہ لوگ اپنا مذہب اور اپنی قومیّت تبدیل کر دیں۔ پھریہ کیسے اُمید کی جا سکتی ہے‘ کہ اسلام کی دعوتِ عام اس طرح پھیل سکے گی‘ جس طرح دوسری تحریکیں پھیلتی ہیں؟

(۲) دوسری مشکل جو انہیں اس راستہ میں نظر آتی ہے وہ یہ ہے‘ کہ اسلام کے خلاف لوگوں میں شدید تعصّبات پھیلے ہوئے ہیں۔ان کا خیال یہ ہے‘ کہ دوسری تحریکوں کا پھیلنا آسان ہے‘ کیونکہ ان کے خلاف تعصّبات موجود نہیں ہیں‘ مگر اسلام کا پھیلنا مشکل ہے‘ کیونکہ اس کا نام سنتے ہی ماضی اور حال کے تعصّبات کا ایک طوفان اُٹھ کھڑا ہوتا ہے۔

(۳) تیسری مشکل ان کی نگاہ میں یہ ہے‘ کہ کروڑوں مسلمانوں کی ایک قوم یہاں موجود ہے‘ جو ’’قومیّت‘‘ کے اعتبار سے تو ’’مسلمان‘‘ہے‘ مگر اس کا اخلاقی مرتّبہ اتنا بلند نہیں ہے‘ کہ وہ اسلامی نصب العین کے لیے جدوجہد کر سکے۔ اس قوم کو لے کر اس راستہ پر چلنا چاہیں‘ تو چل نہیں سکتے۔ اس کو چھوڑ کر چلنے کو جی نہیں چاہتا۔ اور پھر یہ سوال بھی دماغ کو پریشان کرتا ہے‘ کہ اگر تمام مقاصد کو نظر انداز کر کے صرف ایک حکومت الٰہی کے مقصد پر توجہات مرکوز کر دی جائیں‘ تو آخر موجودہ سیاسی حالات اور آئندہ کے دستوری تغیّرات میں’’مسلمانوں‘‘ کے قومی مفاد کا کیا حشر ہوگا۔

۴-انحراف کی راہیں

یہی تین مشکلات ہیں‘ جن کو اس راہ میں حائل دیکھ کر لوگ دائیں اور بائیں رخ پر راستہ کَترا کر نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جزئیات کے اعتبار سے مختلف لوگوں کے نظریات اور عملی طریقوں میں جو اختلافات ہیں ان کو نظر انداز کر کے بڑی اور اصولی تقسیم اگر کی جائے‘ تو یہ صرف تین گروہوں میں منقسم ہوجاتے ہیں:۔

ایک وہ گروہ جو کہتا ہے‘ کہ پہلے ہمیں ہندستان کی غیر مسلم آبادی کے ساتھ موافقت کر کے اس ملک کو انگریزی اقتدار سے آزاد کر ا لینا چاہئے‘ تاکہ یہاں ایک مشترک جمہوری اسٹیٹ قائم ہوجائے۔ یہ مرحلہ طے ہوجانے کے بعد ہم بتدریج اس اسٹیٹ کو اسلامی اسٹیٹ میں تبدیل کر نے کے لیے کوشش کریں گے۔

دوسرا وہ گروہ جس کا خیال ہے‘ کہ پہلے انگریزی اقتدار کی موجودگی سے فائدہ اُٹھا کر ہمیں مستقل ہندو اکثریت کے تسلّط کا سدّ باب کرنا چاہئے‘ اور ایسی تدبیر کرنی چاہئے کہ اس ملک میں ایک جمہوری اسٹیٹ کے بجائے دو اسٹیٹ قائم ہوں۔‘ ایک وہ اسٹیٹ جس میں مسلم اکثریت کی وجہ سے اقتدار مسلمانوں کے ہاتھ میں آئے اور دوسرا وہ اسٹیٹ جس میں ہندو اکثریت کی وجہ سے اقتدار ہندوؤں کے ہاتھ میں جائے مگر زیادہ سے زیادہ جو آئینی تحفظات ممکن ہیں ان کے ذریعہ سے مسلمانوں کی پوزیشن محفوظ ہوجائے۔ یہ مرحلہ طے ہوجانے کے بعد ہم مسلم اکثریت والے اسٹیٹ کو بتدریج اسلامی اسٹیٹ میں تبدیل کر لیں گے‘ اور پھر ہندو اکثریت والے اسٹیٹ میں تغیّرو اصلاح کی کوشش کریں گے۔

تیسرا گروہ جو موجودہ حالات میں دعوتِ عام اور ایک انقلابی پارٹی کی تشکیل کو آسان بنانے کے لیے اسلام کو ایک دوسرے سانچے میں ڈھالنا چاہتا ہے‘ تاکہ وہ ان لوگوں کے لیے قابلِ قبول ہوجائے‘ جو اسلامی عقائد اور عبادات اور نظامِ شریعت کی بندشوں سے گھبراتے ہیں۔ اس گروہ نے اگرچہ کوئی مستقل جماعتی صورت اختیار نہیں کی ہے‘ مگر مجھے معلوم ہے‘ کہ اس طرز خیال کے لوگ ایک اچھی خاصی تعداد میں پیدا ہوگئے ہیں‘ اور ان کی تجویزیں اس وقت حالت جَنِینی سے گزر رہی ہیں۔

۵- منحرف راستوں کی غلطی

اب میں ان میں سے ایک ایک گروہ کے طریقہ پر الگ الگ تنقید کر کے بتاؤں گا کہ ان طریقوں میں غلطی کیا ہے‘ ان میں سے ہر ایک نے اسلام کی راہِ راست سے انحراف کس طرح کیا ہے‘ اور ان پھیر کے راستوں سے اصلی اسلامی نصب العین تک پہنچنا ابداً غیر ممکن الوقوع کیوں ہے۔

’’آزادیِ ہند‘‘ کو مقدم رکھنے والے

پہلا گروہ زیادہ تر علما اور مذہبی خیالات کے لوگوں پر مشتمل ہے‘ اور بالعموم اس گروہ کے لوگ دوسرے گروہ کی نسبت زیادہ مذہبی ہیں۔ اسی وجہ سے ان کے انحراف پر مجھ کو سب سے زیادہ افسوس ہے۔ ان حضرات نے مذکورہ بالا مشکلات سے خوف زدہ ہوکر یہ خیال قائم کر لیا کہ موجودہ حالات میں اصل اسلامی نصب العین کی طرف براہِ راست پیش قدمی نہیں کی جا سکتی۔ اس لیے انہوں نے اپنی کوششوں کا مقصود یہ ٹھیرایا کہ ’’ہندستان انگریزی اقتدار سے آزاد ہوجائے۔‘‘مقصود بدل جانے سے لامحالہ راستہ بھی بدل گیا۔ اسلام کی راہِ راست کے تین اجزا جو میں نے بیان کیے ہیں‘ ان کا راستہ ہر جُزو میں اس سے مختلف ہے:۔

(۱)دعوت کے باب میں اسلام کا طریقہ یہ ہے‘ کہ لوگوں کو اﷲ کی حاکمیت واقتدار اعلیٰ تسلیم کرنے کی طرف بلایا جائے۔ مگر یہ ہندستان کے باشندوں کو اس طرف بلاتے ہیں‘ کہ تم خود مالک الملک بنو۔ یہ غیر الٰہی اقتدار اعلیٰ کی نفی نہیں کرتے بلکہ صرف انگریزی اقتدار اعلیٰ کی نفی کرتے ہیں۔ اور یہ الٰہی اقتدار اعلیٰ کا اثبات بھی نہیں کرتے بلکہ اس کی جگہ باشندگان ملک کی خود اختیاری اور جمہوری اقتدار اعلیٰ کا اثبات اعلیٰ کا اثبات کرتے ہیں۔ ظاہر ہے‘ کہ شرک ہونے کی حیثیت سے انگریزی اقتدار اعلیٰ اور جمہوری اقتدار اعلیٰ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ لہٰذا ان لوگوں کی دعوت سراسر غیراسلامی بلکہ مخالف اسلام دعوت ہے۔

ان کے نزدیک انگریز ی اقتدار کے مقابلہ میں جمہور اہلِ ہند کا اختیار‘ اور انگریزی شریعت کے مقابلہ میں ہندستانیوں کی قانون سازی قابلِ ترجیح ہے‘ حالانکہ اسلامی نقطۂ نظر سے دونوں یکساں بغاوت‘ یکساں کُفر اور یکساں طغیان ومعصیت ہیں۔

پھر یہ انگریز اور ہندستانی کے درمیان‘ قومی ووطنی عداوت وتعصّب کی آگ بھڑکانے میں حصّہ لیتے ہیں‘ حالانکہ اسلام کی دعوتِ عام کے راستہ میں یہ رکاوٹ ہے۔ اسلام کی نگاہ میں انگریز اور ہندستانی دونوں انسان ہیں۔ وہ دونوں کو یکساں اپنی دعوت کا مخاطب بناتا ہے۔اس کا جھگڑا انگریز سے اس بات پر نہیں ہے‘ کہ وہ ایک ملک کا باشندہ ہوکر دوسرے ملک پر حکومت کیوں کرتا ہے؟بلکہ اس بات پر ہے‘ کہ وہ خدا کی حاکمیت اور اس کے قانون کی اطاعت کیوں نہیں تسلیم کرتا؟بعینہٖ اسی بات پر اس کا جھگڑا ہندوستانی سے بھی ہے۔ وہ دونوں کو ایک ہی بات کی طرف بلاتا ہے۔ ایک کا حامی بن کر دوسرے سے لڑنا اس کی حیثیت کے منافی ہے۔[ اس کا یہ مطلب نہیں ہے‘ کہ اگر ایک قوم دوسری قوم پر ظلم کرے یا اس کے حقوق تلف کرے تو اسلام مظلوم قوم کی حمایت نہ کرے گا۔ بلکہ درحقیقت اس کا مطلب یہ ہے‘ کہ قومیّت اور وطنیت کی بنیاد پر دونوں قوموں میں جو نزاع ہوگی‘ اسلام اس میں کوئی حصّہ نہ لے گا۔ وہ ظالم کو ملامت کرے گا‘ نہ اس لیے کہ وہ فلاں قوم کا آدمی ہے‘ بلکہ اس لیے کہ وہ ظالم ہے‘ اور اسی طرح وہ مظلوم کی حمایت بھی اس حیثیت سے نہ کرے گا کہ وہ فلاح قوم سے تعلق رکھتا ہے‘ بلکہ صرف اس لیے کہ وہ مظلوم ہے۔(قدیم)] کیونکہ اگر وہ ہندستانی اور انگریز کے وطنی وقومی جھگڑے میں ایک کا طرفدار اور دوسرے کا مخالف بن جائے‘ تو انگریز کے دل کا دروازہ اس کی دعوت کے لیے بند ہوجائے گا۔ اب یہ ظاہر ہے‘ کہ جو لوگ ایک طرف اسلام کے داعی بنتے ہیں‘ اور دوسری طرف اس وطنی اور قومی جھگڑے میں فریق بھی بنتے ہیں وہ دراصل اسلام کے مفاد کو ہندوستانیت کے مفاد پر قربان کرتے ہیں۔

ان تمام بنیادی غلطیوں کے ساتھ یہ حضرات کبھی کبھی اسلام کی تبلیغ بھی فرمایا کرتے ہیں۔

مگر ایسی تبلیغ کبھی موثر نہیں ہوسکتی۔ ایک ساز سے دو بالکل مختلف آوازیں سن کر اور ایک زبان سے دو قطعی متضاد باتیں سماعت کر کے آخر کون متاثر ہوسکتا ہے؟

(۲)تشکیل جماعت کے باب میں‘ یہ حضرات اس سے بھی زیادہ مُخْتَلِطْ ہیں۔ اوّل تو دعوت کی نوعیت بدل جانے کی وجہ سے خود ہی جماعت کی ترکیب اور اجزائے ترکیبی کے متعلق ان کا نقطۂ نظر بدل گیا ہے۔ پھر ’’مسلمان قوم‘‘کے تحیل نے پریشان خیالی کے لیے ایک اور وجہ بھی پیدا کر دی ہے۔ ان اسباب سے یہ ہر قسم کے رطب ویا بس آدمی اکٹھے کر لیتے ہیں‘ اور ان آدمیوں کے اقوال وافعال میں بیک وقت بیسیوں قسم کی متضاد باتوں کا ظہور ہوتا ہے۔ایک متحد المزاج نظریہ کی حمایت کے لیے آپ اُٹھیں تو لامحالہ آپ اپنی پارٹی کے لیے انہی آدمیوں کا انتخاب کریں گے‘ جو یکسوئی کے ساتھ اس خاص نظریہ کے متبّع ہوں۔ بخلاف اس کے ایک مخلوط اور غیر معیّن مزاج رکھنے والے نظریہ کو لے کر جب آپ اُٹھیں گے تو آپ کا معیارِ انتخاب اکثر ان قیود سے آزاد ہوجائے گا‘ جو متحد المزاج نظریہ کے لیے ناگزیر ہیں۔ کچھ مدّت ہوئی مجھے ایک مجلس میں شریک ہونے کا موقع ملا تھا جہاں ہندوستان کی ایک بہت بڑی ذمّہ دار جمعیت کی مقامی شاخ کو منظم کرنے پر گفتگو ہورہی تھی۔ کچھ دیر کی بحث وتمیص کے بعد جوبات قرار پائی وہ یہ تھی کہ رکنیت کے فارم طبع کرا لیے جائیں‘ اور پندرہ دن کے اندر زیادہ سے زیادہ ممبر بھرتی کر کے ارکان کا ایک جلسہ عام کر لیا جائے‘ جس میں عہدہ داروں کا انتخاب ہوجائے۔ لیجیے‘ بس جمعیت کی شاخ منظم ہوگئی۔ اس طرح بھانت بھانت کے آدمی محض رکنیت کے فارموں پر دستخط کر کے اور چار آنہ سالانہ فیس ادا کر کے ان جماعتوں میں داخل ہوجاتے ہیں‘ پھر انہی آدمیوں کے ووٹوں سے منتخب ہوکر وہ لوگ بر سر کار آتے ہیں‘ جن کا کام رہنمائی وسربراہ کاری ہوتا ہے‘ اور ایسے ہی لوگوں کی متفقہ خواہشات سے پالیسیاں بنتی اور بگڑتی ہیں کیا کوئی شخص توقع کر سکتا ہے‘ کہ جماعتی تشکیل کے اس طریقہ سے کبھی اسلامی نصب العین کی طرف بھی کوئی پیش قدمی کی جا سکتی ہے؟

(۳)اسی طرح تیسرے جُزو میں بھی ان کا طریقہ اسلام کی راہِ راست سے ہٹا ہوا ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے عرص کیا اسلام براہِ راست غیراسلامی نظامِ اطاعت پر حملہ کرتا ہے‘ اور اس کا تقاضا یہ ہے‘ کہ تمام مساعی کو حاکمیت رب العالمین کے قیام واثبات پر مرکوز کر دیا جائے لیکن اس کے برعکس یہ لوگ اپنی سعی وجہد کا رخ برطانوی نظامِ اطاعت کی تخریب اور حاکمیت عوام کے قیام کی طرف پھیر دیتے ہیں۔ یہ صریح انحراف ہے صراط مستقیم سے‘ اس احراف پر جب اعتراض کیا جاتا ہے‘ تو یہ لوگ کہتے ہیں‘ کہ برطانوی نظامِ اطاعت اسلامی نصب العین کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے ہم تنہا اس رکاوٹ کو دور نہیں کر سکتے‘ اس لیے پہلے دوسروں کی مدد سے اس کو دور کر لیں پھر اصل منزل مقصود کی طرف بڑھنے کے لیے راستہ آسان ہوجائے گا۔ مگر میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ راستہ آسان کیسے ہوجائے گا؟ظاہر بات ہے‘ کہ ایک نظامِ اطاعت یادین کو ہٹا کر اس کی جگہ دوسرا نظامِ اطاعت یا دین کبھی قائم نہیں کیا جا سکتا‘ جب تک کہ نفوس انسانی میں پہلے نظام کی تخریب اور دوسرے نظام کی تعمیر کا خیال اور ارادہ کمال درجہ قوّت کے ساتھ مستحکم نہ کر دیا جائے۔اگر ہندوستان کے موجودہ انگریزی نظامِ اطاعت کی جگہ آپ جمہوری نظامِ اطاعت قائم کرنا چاہیں‘ تو یہ انقلاب صرف اسی طرح ممکن ہے‘ کہ آپ باشندگانِ ہند کے دلوں میں حاکمیت انگریز کے بجائے خود اپنی حاکمیت کے برحق ہونے کا تخیل اورعملاً مالک الملک بن جانے کا عزم پوری شدت کے ساتھ پیدا کر دیں۔ برعکس اس کے اگر آپ ہندوستان میں الٰہی نظامِ اطاعت قائم کرنا چاہیں‘ تو یہ انقلاب بغیر اس کے ممکن نہیں ہے‘ کہ عوام النّاس کو خود اپنی حاکمیت سے دست بردار ہونے اور غیر اﷲ کی حاکمیت کا انکار کرنے پر آمادہ کریں‘ اور اﷲ کے مالک الملک ہونے کا عقیدہ ان کے دلوں میں اتنی قوّت کے ساتھ بٹھائیں کہ وہ اس کی حاکمیت کے آگے برضا ورغبت سر جھکا دیں۔اب سوال یہ ہے‘ کہ جن لوگوں کا آخری مقصد الٰہی نظامِ اطاعت کا قیام ہے وہ کس طرح بحالتِ ہوش وحواس اپنے مقصد تک پہنچنے کے لیے ذریعہ کے طور پر یہ تدبیر اختیار کر سکتے ہیں‘ کہ عوام النّاس کے دل میں خود اپنی حاکمیت کا عقیدہ اور ارادہ اتنی قوّت کے ساتھ بٹھا دیں کہ اس کے زور سے‘ دین انگریز کی مضبوط جمی ہوئی جڑیں اکھڑ جائیں‘ اور دینِ جمہور کی جڑیں زمین میں جگہ پکڑ لیں؟ جہاں عامہ خلائق کے دلوں میں اپنی حاکمیت کا عقیدہ اور عزم اتنی قوّت کے ساتھ جم گیا ہوکیا وہاں لوگوں کو خدا وندِعالم کے آگے اپنی حاکمیت سے دست بردار ہوجانے پر آمادہ کرنا موجودہ انگریزی حاکمیت کی جڑیں اُکھاڑنے سے کچھ کم مشکل ہے؟کیا امریکہ‘ جاپان‘ جرمنی اور انگلستان جیسے اصطلاحاً ’’آزاد‘‘ممالک میں حکومت الٰہی کا قیام اس سے کچھ کم دشوار ہے جتنا ہندستان جیسے اصطلاحاً ’’غلام‘‘ ملک میں دشوار نظر آتا ہے؟اگر اس کا جواب نفی میں ہے‘ اور یقینا نفی ہی میں دیا جا سکتا ہے‘ تو میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ برطانوی اقتدار کی جگہ ہندستانی اقتدار کا قیام آخر کس معنی میں حکومت الٰہی کے قیام کی طرف ایک گونہ پیش قدمی ہے؟

تا ہم اگر تھوڑی دیر کے لیے یہ مان بھی لیا جائے کہ یہ تدبیر عملاً کارگر ہوسکتی ہے تب بھی میں اس کے صحیح ہونے سے انکار کرتا ہوں لازم نہیں کہ ہر تدبیرجو کارگر ہووہ صحیح بھی ہو‘ دراصل یہ سخت ناپاک تدبیر ہے‘ جسے اختیار کرنے کا خیال بھی ایک مسلمان دل میں نہیں لاسکتا۔ جو شخص درحققت پوری سچائی کے ساتھ اﷲ کے مالک الملک ہونے پر ایمان رکھتا ہو‘ وہ آخر کس دل سے یہ گوارا کر سکتا ہے‘ کہ اپنے ایمان کے خلاف عوام النّاس میں اس عقیدے کی تبلیغ کرے کہ تم خود مالک الملک ہو؟جس شخص کا اعتقاد یہ ہوکہ انسان کی انفرادی واجتماعی زندگی صرف حدود اﷲ کی پابندی ہونی چاہئے‘ اور حکومت وہ ہونی چاہئے‘ جو اﷲ کے سامنے جوابدہ ہو‘ وہ کیونکر اپنی کوششوں کا مقصود یہ قرار دے سکتا ہے‘ کہ انفرادی واجتماعی زندگی پر جمہورکا تسلّط قائم ہو‘ اور حکومت جمہور کے سامنے جواب دہ ہو؟کس طرح ایک سچے آدمی کی زبان ایسے عقیدے کی اشاعت یا حمایت میں کُھل سکتی ہے جس کو وہ فی الواقع باطل سمجھتا ہے؟اور کس طرح وہ اس چیز کے قیام کی راہ میں جان ومال سے جہاد کر سکتا ہے‘ جو اس کے اعتقاد میں حق نہیں‘ بلکہ طاغوت ہے؟

یہ جو کچھ میں نے عرض کیا‘یہ تو محض اس امر کا ثبوت ہے‘ کہ ان لوگوں کا راستہ اسلام کی راہِ راست سے منحرف ہے۔ رہی یہ بات کہ اس پھیر کے راستے سے یہ لوگ کبھی اسلام کے نصب العین تک نہیں پہنچ سکتے‘ تو اس دعوے پر میرے پاس یہ دلیل ہے‘ کہ جن مشکلات سے خوفزدہ ہوکر انہوں نے یہ پھیر کی راہ اختیار کی ہے‘ وہ ہندستان کے انگریزی اقتدار سے آزاد ہونے کے بعد بھی جوں کی توں قائم رہیں گی۔ اوپر میں نے مشکلات کی جو تشریح کی ہے ان پر ایک مرتّبہ پھر نظر ڈال کر دیکھ لیجیے۔ کیا ان میں سے کوئی مشکل بھی آزاد ہندستان کے دور میں دُور ہوجائے گی؟اگر نہیں‘ تو جو لوگ آج ان مشکلات کا مقابلہ کرنے کی حکمت اور ہمت نہ رکھنے کی وجہ سے راستہ کَترا کر نکل رہے ہیں‘ وہ کل بھی اسی وجہ سے اصل مقصد اسلامی کی طرف براہِ راست پیش قدمی کرنے سے جی چرائیں گے۔ خوب جان لیجیے کہ اس مقصد کی طرف جب بھی آپ اقدام کرنا چاہیں گے بہرحال آپ کو ان مشکلات سے سابقہ پیش آئے گا۔ جو لوگ ان کا مقابلہ کرنے کی تدبیر اور عزم نہیں رکھتے‘ وہ موجودہ حالات ہی میں نہیں‘ بلکہ کسی حال میں بھی اس طرف اقدام نہیں کر سکتے۔ اور جن کے پاس تدبیر اور عزم دونوں موجود ہیں‘ ان کے لیے کسی پھیر کے راستے پر چلنا تضیع وقت اور حماقت ہے۔ وہ تو اس پہاڑ کو کاٹ کر براہِ راست ہی اپنے مقصد کی طرف قدم بڑھائیں گے۔

پاکستانی خیال کے لوگ

دوسرا گروہ زیادہ تر اس طبقہ پر مشتمل ہے‘ جس نے تمام تر مغربی طرز پر ذہنی تربیت پائی ہے۔[ جس زمانے میں یہ مضمون لکھا گیا تھا اس وقت تک علما کا کوئی قابلِ ذکر گروہ اس طبقے کے ساتھ شامل نہیں ہوا تھا۔ بعد میں ایک اچھی خاصی تعداد اس میں شامل ہوئی‘ مگر اس کی پالیسی اور طرزِعمل پر وہ کبھی اثر انداز نہ ہوسکی۔(جدید)] یہ لوگ سیاسی فکر تو مغربی مآخذ سے لیتے ہیں‘ مگر چونکہ موروثی طور پر اسلام کے حق میں ایک تعصّب ان کے اندر موجود ہے‘ اور ’’مسلمان قوم‘‘ہونے کا شعور ان کے اندر بیدار ہوگیا ہے‘ اس لیے جو کچھ یہ کرنا چاہتے ہیں ’’مسلمان قوم‘‘کے لیے اسلام کے نام ہی سے کرنا چاہتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے‘ کہ ان کے اقوال اور اعمال میں اسلامی اصطلاحات اور مغربی طرز فکرو عمل عجیب طریقہ سے خلط ملط ہوکر رہ گئے ہیں۔ اس مضمون میں یہ موقع نہیں ہے‘ کہ میں اس خلط ِمبحث کا تجزّیہ کر کے تفصیل کے ساتھ اس مخلوطہ کے ایک ایک جُزو کی اصل نوعیت کی نشان دہی کر سکوں۔ اپنے موضوع کے لحاظ سے میں صرف یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ پہلے گروہ کی طرح اس گروہ کا راستہ بھی راہِ راست کے تینوں اجزا سے منحرف ہے۔

(۱)پہلے دعوت کو لیجیے‘ ان کے ذمّہ دار لیڈروں کی تقریریں‘ ان کی نمائندہ مجالس کی قرار دادیں‘ ان کے کارکنوں کی باتیں‘ ان کے اہلِ قلم کی تحریریں‘ سب کی سب اس امر کی شہادت دیتی ہیں‘ کہ ان کی دعوت اصل میں ایک قوم پر ستانہ دعوت ہے‘ یعنی ان کی پکار اسلام کے نصب العین کی طرف نہیں ہے‘ بلکہ اس طرف ہے‘ کہ ان کی قوم متفق ومتحد ہوکر ہندو قوم کے مقابلہ میں اپنے دنیوی مفاد کی حفاظت کرے۔ گویا جس طرح آزادی پسند لوگوں نے انگریزوں کو اپنا قومی حریف بنایا ہے‘ اسی طرح انہوں نے ہندوئوں کو اپنا قومی حریف بنا لیا ہے۔اس لحاظ سے یہ اور ’’آزادی پسند‘‘حضرات ایک سطح پر کھڑے ہیں‘ لیکن جس چیز نے ان کی بہ نسبت ان کی روش کو اسلام کے لیے اور زیادہ مُضر بنا دیا ہے وہ یہ ہے‘ کہ وہ تو وطن اور وطنی مفاد کے نام پر لڑتے ہیں‘ مگر یہ اپنی قومی اور دنیوی لڑائی میں بار بار اسلام اور مُسلم کا نام لیتے ہیں‘ جس کی وجہ سے اسلام خواہ مخواہ ایک فریقِ جنگ بن کر رہ گیا ہے‘ اور غیر مسلم قومیں اس کو اپنا سیاسی اور معاشی حریف سمجھنے لگی ہیں۔ اس طرح انہوں نے نہ صرف اپنے آپ کو اسلام کی طرف دعوت دینے کے قابل نہیں رکھا ہے‘ بلکہ اسلام کی اشاعت کے راستے میں اتنی بڑی رکاوٹ پیدا کر دی ہے‘ کہ اگر دوسرے مسلمان بھی یہ کام کرنا چاہیں‘ تو غیر مسلموں کے دلوں کو اسلام کے لیے مقفل پائیں گے۔

اس میں شک نہیں کہ اس قوم پر ستانہ دعوت کے ساتھ یہ لوگ کبھی کبھی اسلام کی خوبیاں اور اس کے اصولوں کی فضیلت بھی بیان کیا کرتے ہیں۔ مگر اوّل تو قوم پرستی کے پس منظر میں یہ چیز ایک اصولی دعوت کے بجائے محض ایک قومی تفاخر بن کر رہ جاتی ہے۔ اور مزید برآں دعوتِ اسلام کے ساتھ جن دوسری باتوں کی یہ آمیزش کرتے ہیں وہ بالکل اس دعوت کی ضد ہیں۔ ایک طرف اسلامی نظامِ حکومت کی تبلیغ اور دوسری طرف ان ’’مسلمان‘‘ ریاستوں اور حکومتوں کی حمایت جن کا نظام بالکل غیراسلامی ہے‘ ایک طرف اسلامی نظام معاشی کی تشریح اور دوسری طرف خود اپنی قوم کے قارونوں کی تائیدو مدافعت‘ ایک طرف انسانی قانون سازی کا اصولی ابطال اور دوسری طرف خود قانون ساز مجالس میں اپنے حصّہ کا مطالبہ‘ ایک طرف حاکمیتِ ربّ العالمین کا اقرار واثبات اور دوسری طرف حاکمیتِ جمہور کے اصول پر خود اپنی قومی حکومت کے قیام کی فکر‘ ایک طرف انسانیت کی نسلی‘ قومی اور وطنی تقسیم کا ابطال اور دوسری طرف ہر وقت قوم قوم کا شور اور خود قومیّت ہی کے اصولوں پر دوسری قوموں سے جدال وکشمکش‘ ایک طرف بے غرضا نہ حق پرستی کا دعویٰ اور دوسری طرف شب وروزاپنے دنیوی مفاد کا نوحہ وماتم‘ ایک طرف اسلامی تہذیب وتمدّن پر فخر وناز اور اس کی حفاظت کے لیے پر شور لام بندی اور دوسری طرف اسی تہذیب وتمدّن کے باغیوں اور قاتلوں کی سرداری وپیشوائی‘ یہ دونوں چیزیں آخر کس طرح ایک ساتھ نبھ سکتی ہیں؟’’منکرِمے بودن وہمرنگِ مستاں زیستن‘‘۔ایسی متضاد باتوں سے دنیا نے کب اثر قبول کیا ہے‘ کہ آج ان سے اسلام کا جھنڈا زمین میں گڑ جانے کی اُمید کی جاتی ہے؟

(۲)اب دیکھیے کہ یہ اپنی جماعتی تشکیل کس ڈھنگ پر کرتے ہیں۔ ان کا قاعدہ یہ ہے‘ کہ یہ ان سب لوگوں کو جوا زروئے پیدائش مسلمان قوم سے تعلق رکھتے ہیں‘ اپنی جماعت کی رکنیت کا بلا وا دیتے ہیں‘ اور جو اس کو قبول کر لے‘ اسے ابتدائی رکن بنا لیتے ہیں۔ پھر انہی ابتدائی ارکان کے ووٹوں سے‘ ذمّہ دار کارکن‘ اور عہدہ دار منتخب ہوتے ہیں‘ اور انہی کی کثرت رائے سے تمام معاملات انجام دئیے جاتے ہیں۔ ظاہر ہے‘ کہ یہ طریقہ صرف قومی تنظیم ہی کے لیے موزوں ہوسکتا اور اس طریقہ سے جو نظام بنے وہ اس کے سوا کچھ نہیں کر سکتاکہ ایک قوم کی خواہشات جیسی کچھ بھی ہوں‘ ان کے حصول کی کوشش کرے۔ رہی ایک اصولی تحریک‘ تو اس کو چلانے کے لیے یہ طریق جماعت سازی نہ صرف بے کار بلکہ مضر ہے‘ ایک قوم کے تمام افراد کو محض اس وجہ سے کہ وہ نسلاً مسلمان ہیں‘ حقیقی معنی میں مسلمان فرض کر لینا اور یہ اُمید رکھنا کہ ان کے اجتماع سے جو کام بھی ہوگا اسلامی اصول ہی پر ہوگا‘ پہلی اور بنیادی غلطی ہے‘ یہ انبوہِ عظیم جس کو مسلمان قوم کہا جاتا ہے اس کا حال یہ ہے‘ کہ اس کے ۹۹۹ فی ہزار افراد نہ اسلام کا علم رکھتے ہیں‘ نہ حق اور باطل کی تمیز سے آشنا ہیں‘ نہ ان کا اخلاقی نقطۂ نظر اور ذہنی رویّہ اسلام کے مطابق تبدیل ہوا ہے۔ باپ سے بیٹے اور بیٹے سے پوتے کو بس مسلمان کا نام ملتا چلا آرہا ہے‘ اس لیے یہ مسلمان ہیں۔ نہ انہوں نے حق کو حق جان کر اسے قبول کیا ہے‘ نہ باطل کو باطل جان کر اسے ترک کیا ہے۔ ان کی کثرت رائے کے ہاتھ میں باگیں دے کر اگر کوئی شخص یہ اُمید رکھتا ہے‘ کہ گاڑی اسلام کے راستے پر چلے گی‘ تو اس کی خوش فہمی قابلِ داد ہے۔

(۳)اس کے بعد اس طریقہ کا جائزہ لیجیے جس سے یہ بزعم خود اسلامی نصب العین تک پہنچنے کی اُمید رکھتے ہیں۔ ان کی تجویز یہ ہے‘ کہ پہل اسی جمہوری دستور کے مطابق جو انگریزی حکومت یہاں نافذ کرنا چاہتی ہے‘ مسلم اکثریت کے صوبوں میں مسلمانوں کی اپنی حکومت قائم ہوجائے‘ پھر کوشش کی جائے گی کہ یہ قومی حکومت اسلامی نظامِ حکومت میں بتدریج تبدیل ہوجائے۔[اس موقع پر یہ بات قابلِ ذکر ہے‘ کہ مسلم لیگ کے کسی ریزو لیوشن اور لیگ کے ذمّہ دار لیڈروں میں سے کسی کی تقریر میں آج تک یہ بات واضح نہیں کی گئی کہ ان کا آخری مطمح نظر پاکستان میں اسلامی نظامِ حکومت قائم کرنا ہے۔ برعکس اس کے ان کی طرف سے بصراحت اور بتکرار جس چیز کا اظہار کیا گیا ہے وہ یہ ہے‘ کہ ان کے پیشِ نظر ایک ایسی جمہوری حکومت ہے‘ جس میں دوسری غیر مسلم قومیں بھی حصّہ دار ہوں‘ مگر اکثریت کے حق کی بنا پر مسلمانوں کا حصّہ غالب ہو۔ بالفاظ دیگر ان کو مطمئن کرنے کے لیے صرف اتنی بات کا فی ہے‘ کہ ہندو اکثریت کے تسلّط سے وہ صوبے آزاد ہوجائیں جہاں مسلمانوں کی کثرت ہے۔ باقی رہا نظامِ حکومت تو وہ ’’پاکستان‘‘میں بھی ویسا ہی گا جیسا ’’ہندستان‘‘میں ہوگا۔ ان کے اس نصب العین پر جب یہ اعتراض کیا گیا کہ مسلمانوں کی کا فرانہ حکومت‘ اسلامی نقطۂ نظر سے غیر مسلموں کی کافرانہ حکومت کے مقابلہ میں کچھ بھی قابلِ ترجیح نہیں ہے‘ بلکہ اس سے بھی زیادہ قابلِ لعنت ہے‘ تو ذمّہ دار لیڈروں میں سے تو کسی نے اس کا جواب نہ دیا۔ البتہ جو لوگ پاکستانی حلقوں کی صف ِآخر میں شمار ہوتے ہیں‘ اور جن کی کوئی ذمّہ دارانہ حیثیت نہیں ہے انہوں نے کہنا شروع کیا کہ مسلم اکثریت کو جب خود اختیاری حاصل ہوجائے گی تب ہم نظامِ حکومت بدلنے کی کوشش کریں گے۔ واضح رہے‘ کہ یہ اس وقت تک کی پوزیشن تھی‘ جب یہ مضمون لکھا گیا تھا۔(جدید)] لیکن یہ ویسی ہی غلطی ہے جیسی’’آزادیِ ہند‘‘ کو مقدّم رکھنے والے حضرات کر رہے ہیں۔ ان کی تجویز پر مجھے جو اعتراضات ہیں بعینہٖ وہی اعتراضات ان کی تجویز پر بھی ہیں۔ ان کا یہ خیال بالکل غلط ہے‘ کہ مسلم اکثریت کے صوبوں میں حاکمیت ِجمہور کے اصول پر خود مختار حکومت کا قیام آخر کار حاکمیت رب العالمین کے قیام میں مدد گار ہوسکتا ہے۔ جیسی مسلم اکثریت اس مجوّزہ پاکستان میں ہے‘ ویسی ہی‘ بلکہ عددی حیثیت سے بہت زیادہ زبردست اکثریت افغانستان‘ ایران‘ عراق‘ ٹرکی اور مصر میں موجود ہے‘ اور وہاں اس کو ’’پاکستان‘‘حاصل ہے‘ جس کا یہاں مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ پھر کیا وہاں مسلمانوں کی خود مختار حکومت کسی درجہ میں بھی حکومتِ الٰہیہ کے قیام میں مدد گار ہے‘ یا ہوتی نظر آتی ہے؟مدد گار ہونا تو درکنار‘ میں پوچھتا ہوں‘ کیا آپ وہاں حکومتِ الٰہی کی تبلیغ کر کے پھانسی یا جلا وطنی سے کم کوئی سزا پانے کی اُمید کر سکتے ہیں؟اگر آپ وہاں کے حالات سے کچھ بھی واقف ہیں‘ تو آپ اس سوال کا جواب اثبات میں دینے کی جرات نہ کر سکیں گے‘ اور جب صورت حال یہ ہے‘ تو آپ کو غور کرنا چاہئے کہ آخر اسلامی انقلاب کے راستہ میں مسلمان قوموں کی ان آزاد حکومتوں کے سد راہ ہونے کا سبب کیا ہے۔ اس معاملہ کی جتنی تحقیق آپ کریں گے‘ جواب اس کے سوا کچھ نہ پائیں گے کہ دراصل اصطلا حاً ونسلاً مسلمان ہونا اور چیز ہے‘ اور نظریۂ حیات ومقصد زندگی کا اسلامی ہونا بالکل ایک دوسری چیز۔جو لوگ روح واخلاق کے اعتبار سے مُسلم نہ ہوں‘ بلکہ محض اصطلاحی ونسلی حیثیت سے مسلمان ہوں‘ ان کو اگر بیرونی اثرو اقتدار سے کامل آزادی نصیب بھی ہوجائے‘ اور اگر ان کے جمہور کو خود اپنی پسند کے مطابق نظامِ حکومت قائم کرنے کا پورا اختیار بھی حاصل ہو‘ تب بھی حکومت الٰہی وجود میں نہیں آسکتی۔ وہ اپنے دنیوی مفاد کے پرستار ہوتے ہیں۔ نہ صرف یہ کہ ان میں حق اور صداقت کے لیے اپنے مفاد کو قربان کرنے کی طاقت نہیں ہوتی بلکہ اس کے برعکس جب کبھی ان کی اغراضِ دنیوی سے حق اور صداقت کا تصادم ہوتا ہے‘ وہ حق کو چھوڑ کر ہمیشہ اس طرف جاتے ہیں‘ جس طرف ان کی اغراض پوری ہوتی ہیں۔ جہاں ایسے لوگوں کی اکثریت ہووہاں کبھی یہ اُمید نہیں کی جا سکتی کہ عام انتخاب میں ان کے ووٹوں سے وہ صالحین منتخب ہوں گے‘ جو منہاج نبوّت پر حکومت کرنے والے ہوں۔ جمہوری انتخاب کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے دودھ کو بِلو کر مکھّن نکالا جاتا ہے۔اگر دودھ زہر ملا ہو‘ تو اس سے جو مکھن نکلے گا قدرتی بات ہے‘ کہ وہ دودھ سے زیادہ زہریلا ہوگا۔اسی طرح سوسائٹی اگر بگڑی ہوئی ہو‘ تو اس کے ووٹوں سے وہی لوگ منتخب ہوکر برسر اقتدار آئیں گے‘ جو اس سوسائٹی کی خواہشاتِ نفس سے سند ِقبولیت حاصل کر سکیں گے‘ پس جو لوگ یہ گُمان کرتے ہیں‘ کہ اگر مسلم اکثریت کے علاقے ہندو اکثریت کے تسلّط سے آزاد ہوجائیں‘ اور یہاں جمہوی نظام قائم ہوجائے‘ تو اس طرح حکومت الٰہی قائم ہوجائے گی ان کا گُمان غلط ہے۔ دراصل اس کے نتیجہ میں جو کچھ حاصل ہوگا وہ صرف مسلمانوں کی کافرانہ حکومت ہوگی۔ اس کا نام حکومت الٰہی رکھنا اس پاک نام کو ذلیل کرنا ہے۔

اس میں شک نہیں کہ عوام کی اخلاقی وذہنی تربیت کر کے‘ ان کے نقطۂ نظرکو تبدیل کر کے اور ان کے نفسیات میں انقلاب برپا کر کے‘ ایک جمہوری نظام کو الٰہی حکومت میں تبدیل کیا جا سکتاہے۔ لیکن سوال یہ ہے‘ کہ اس اخلاقی ونفسیاتی انقلاب کے برپا کرنے میں کیا مسلمانوں کی کفرانہ حکومت کچھ بھی مدد گار ہوگی؟کیا وہ لوگ جو موجودہ بگڑی ہوئی سوسا ئٹی کے مادی مفاد سے اپیل کر کے اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے ان سے آپ یہ اُمید کر سکتے ہیں‘ کہ وہ حکومت کا روپیہ‘ اس کے وسائل اور اس کے اختیارات کسی ایسی تحریک کی اعانت میں صرف کریں گے‘ جس کا مقصد عوام کی ذہنیت تبدیل کرنا اور انہیں حکومت الٰہی کے لیے تیار کرنا ہو؟اس کا جواب عقل اور تجربہ دونوں کی روشنی میں نفی کے سوا کچھ نہیں دیا جا سکتا۔ بلکہ سچ یہ ہے‘ کہ لوگ اس انقلاب میں مدد دینے کے بجائے اُلٹی اس کی مزاحمت کریں گے‘ کیونکہ وہ خوب جانتے ہیں‘ کہ اگر عوام کے نفسیات میں تغیّر واقع ہوگیا‘ تو اس بدلی ہوئی سوسائٹی میں ان کا چراغ نہ جل سکے گا۔ یہی نہیں اس سے زیادہ خوفناک حقیقت یہ ہے‘ کہ نام کے مسلمان ہونے کی وجہ سے یہ لوگ کفار کی بہ نسبت بہت زیادہ جسارت وبے باکی کے ساتھ ایسی ہر کوشش کو کچلیں گے‘ اور ان کے نام ان کے ظلم کی پردہ پوشی کے لیے کافی ہوں گے۔ جب صورت معاملہ یہ ہے‘ تو کیا وہ شخص نادان نہیں ہے‘ جو اسلامی انقلاب کا نصب العین سامنے رکھ کر ایسی جمہوری حکومت کے قیام کی کوشش کرے جو ہر کافرانہ حکومت سے بڑھ چڑھ کر اس کے مقصد کی راہ میں حائل ہوگی؟

تحریف دین کے مجوّزین

اب تیسرے گروہ کو لیجیے۔ یہ لوگ مختلف قسم کی تجویزیں سوچ رہے ہیں۔ کوئی فکرِاسلامی کے ساتھ غیراسلامی افکار کا جوڑ لگا کر ایک نئی ’’خوش گوار‘‘معجون بنانا چاہتا ہے۔ کوئی اس خیال میں ہے‘ کہ ’’ہندستانی اسلام‘‘کا ایک نیا اڈیشن نکالے۔ کوئی یہ چاہتا ہے‘ کہ اسلام کے مجموعی نظام میں سے محض اس کے سیاسی ومعاشی اصولوں کو لے لیا جائے‘ اور ان کی بنیاد پر ایک ایسی سیاسی جماعت بنائی جائے‘ جس میں شامل ہونے کے لیے عقائد عبادات اور احکام شرعیہ کی پابندی لازم نہ ہو۔ یہ سب لوگ اپنے نزدیک نیک نیتی کے ساتھ یہ سمجھ رہے ہیں‘ کہ ان طریقوں سے رفتہ رفتہ وہ تنفر دور ہوجائے گا‘ جو اسلام کے خلاف طبیعتوں میں پیدا ہوگیا‘ اور جب وہ بعضِ اسلام سے کسی حد تک مانوس ہوجائیں گے‘ تو پورے اسلام سے مانوس ہونے میں زیادہ دیر نہ لگے گی۔

لیکن یہ سب خیالاتِ خام ہیں۔ نہ اصولی حیثیت سے ان کو صحیح کہا جا سکتا ہے‘ اور نہ عملی حیثیت سے ہی‘ ان کی کوئی قدرو قیمت ہے۔ میرے نزدیک ایسی تمام تجویزیں ضعفِ دل اور ضعفِ دماغ کا نتیجہ ہیں۔

اصولی حیثیت سے درحقیقت ہم اسلام میں کسی ردّو بدل‘ کسی کمی وبیشی‘ اور کسی ترمیم وتشکیلِ جدید کے مجاز ہی نہیں ہیں۔ ہم اسلام کے مالک نہیں ہیں‘ اس کے صانع نہیں ہیں۔اس کے شارع نہیں ہیں۔ اسلام ہمارا مال نہیں ہے‘ کہ مارکیٹ میں جیسی طلب ہواس کے مطابق اپنے اس مال کو بنا کر بازار میں لائیں۔ ہماری حیثیت صرف پیرو اور مبلغ کی ہے مالک نے عقائد‘ عبادات اور احکام کا یہ پورا مجموعہ ہمیں دیا ہے‘ تاکہ ہم خود اس کی پیروی کریں‘ اور دوسروں تک اسے پہنچائیں۔ اس مجموعہ میں کوئی ترمیم کرنے کا‘ یا اس کی اصلی صورت کو بدل کر اس کی کوئی اور صورت بنانے کا‘ ہم کو ہر گز کوئی حق نہیں پہنچتا۔ جس کو لینا ہے اسے پورے مجموعہ کو لینا پڑے گا ‘اور اسی صورت میں لینا ہوگا‘ جس میں مالک نے اسے دیا ہے۔ اور جو اس کو اس ہیئت مجموعی اور اس مقررہ صورت کے ساتھ نہ لینا چاہے‘ اس کی خوشامد کرنے اور اسے کم وبیش پر راضی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اسلام میں ایک حکم ہے خالق کی طرف سے مخلوق کی طرف۔ خالق کاکام مخلوق کی خوشامد کرنا اور اس کو راضی کرنا نہیں ہے۔ مخلوق کو یا تو اس کا حکم‘ جیسا کہ وہ ہے جُوں کا تُوں ماننا پڑے گا۔ ورنہ وہ خود اپنا ہی کچھ بگاڑے گی‘ خالق کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے گی۔ اسی لیے اﷲ کی طرف سے اس کے جو رسول دنیا میں آئے‘ انہوں نے پورے حکم کو لوگوں کے سامنے بعینہٖ پیش کر دیا‘ اور صاف کہہ دیا کہ چاہو اس کو لو اور چاہو ردّ کر دو‘ بہرحال تمہاری خواہشات کے مطابق اس میں کوئی تغیّر وتبدل نہیں کیا جا ئے گا۔ ٹھیک یہی پوزیشن رسول کے نائب ہونے کی حیثیت سے ہماری بھی ہے۔

پھر یہ کتنی غیر معقول تجویز ہے‘ کہ اسلام کے مجموعی نظام میں سے محض اس کے معاشی وسیاسی اصولوں کو لے لیا جائے‘ اور انہی کی بنیاد پر ایک پارٹی ایسی بنائی جائے‘ جس میں شامل ہونے کے لیے‘ توحید‘ آخرت‘ قرآن‘ رسالت‘ کسی چیز پر بھی ایمان لانے کی ضرورت نہ ہو‘ اور نہ عبادات کی بجا آوری اور احکام شرعیہ کی پابندی ضروری ہو۔ کیا کوئی صاحب ِنظر آدمی ایک لمحہ کے لیے بھی یہ خیال کر سکتا ہے‘ کہ کسی اجتماعی نظریہ اور لائحہ عمل کو اس کے بنیادی فلسفے‘ اس کے نظامِ اخلاق اور اس کے تعمیر سیرت کرنے والے ارکان سے الگ کر کے چلایاجا سکتا ہے؟اﷲ کی حاکمیت کا تصوّر نکال دینے کے بعد اسلام کا سیاسی نظام آخر ہے کس چیز کا نام؟اور اگر قرآن کو ماخذ قانون اور محمد رسولؐ اﷲ کو رعیت (انسان)اور بادشاہ (اﷲ)کے درمیان نزولِ احکام کا واحد مستند ذریعہ نہ مانا جائے‘ تو کیا اسلامی طرز کے اسٹیٹ کی تعمیر ہواپر کی جائے گی؟نیز وہ کون سا نظامِ تمدّن وسیاست ہے‘ جو کسی نظامِ اخلاق کا سہارا لیے بغیر قائم ہوسکتا ہو؟اور کیا اﷲ کے سامنے انسان کی ذمّہ داری وجواب وہی کا تخیل نکال دینے کے بعد‘ اس نظامِ تمدّن وسیاست کے لیے کوئی اخلاقی سہارا باقی رہ جاتا ہے‘ جس کا نقشہ اسلام نے پیش کیا ہے؟کیا اس نظام کو آپ مادّہ پرستانہ اخلاقیات کے بل پر ایک دن کے لیے بھی قائم کر سکتے ہیں؟مزید برآں وہ خاص قسم کی انفرادی سیرت اور جماعتی زندگی ‘جو اس نظامِ تمدّن وسیاست کے لیے درکار ہے‘ نماز‘ روزہ‘ حج‘ زکوٰۃ کے سوا اور کس ذریعہ سے پیدا ہوسکتی ہے؟اور وہ نہ ہو‘ تو یہ نظام چل کہاں سکتا ہے؟پس یہ غایت درجہ کا افلاسِ فکر ہے‘ کہ کوئی شخص محض شاخوں کا حُسن دیکھ کر کہنے لگے کہ آئو جڑ کے بغیر ان شاخوں ہی سے درخت قائم کریں۔

عملی حیثیت سے بھی اس قسم کی تمام تجویزیں سراسر غلط ہیں۔ ان سے اصل مقصد تک پہنچنے کے بجائے خطرہ یہ ہے‘ کہ کہیں ہم خود ہی راستہ میں گم نہ ہوجائیں۔ ترمیم شدہ صورت میں‘ جس نام نہاد اسلام کی تبلیغ کی جائے گی۔ اس روز وہی اصل معیار بن جائے گا ‘اور جو لوگ اس پر ایمان لاکر جماعت میں شریک ہوں گے۔ نہ صرف وہ خود اصل اسلام کی طرف رجوع کرنے سے انکار کریں گے‘ بلکہ وہ مصلحت پرست مسلمان بھی جنہوں نے ان سے کم وبیش پر سودا کیا تھا۔ ان کے ساتھ ان کی گمراہی میں شریک ہوجائیں گے۔ مُدارات (ompromises) پر جو کام مبنی ہوتے ہیں ان میں ہمیشہ یہی خرابی ہوتی ہے۔

۶-مشکلات کا جائزہ

اب ہمیں ایک نظر ان مشکلات پر ڈالنی چاہئے‘ جن سے خوف زدہ ہوکر یہ انحراف کی راہیں اختیار کی جا رہی ہیں۔کیا حقیقت میں وہ ایسی ہی مشکلات ہیں‘ کہ ان کو حل نہیں کیا جا سکتا؟

تکرار بیان سے بچنے کے لیے میں ناظرین کو پھر ایک مرتّبہ تکلیف دوں گا کہ پیچھے پلٹ کر مضمون کے اس حصّہ پر نگاہ ڈال لیں‘ جہاں میں نے ان مشکلات کی تشریح کی ہے۔

پہلی مشکل

پہلی مشکل کا خلاصہ یہ کہ اسلام صرف تمدّنی‘ سیاسی اور معاشی مسائل کا حل ہی پیش نہیں کرتا‘ بلکہ عقائد‘ عبادات اور ضوابط ِشرعیہ کا ایک مجموعہ بھی اس کے ساتھ دیتا ہے‘ اور اس کو قبول کرنے کے معنی انسان کی پوری زندگی تبدیل ہوجانے کے ہیں۔ کہا جاتا ہے‘ کہ یہ چیز اسلام کو اس طرح پھیلنے نہیں دیتی جس طرح دوسری تحریکیں پھیلتی ہیں۔ لیکن یہ مشکل بظاہر جتنی زبردست نظر آتی ہے باطن میں اتنی ہی کمزور اور بے حقیقت ہے۔

واقعہ یہ ہے‘ کہ دنیا میں کوئی اجتماعی نظریہ اور مسلک بھی ایسا نہیں ہے‘ جو انسانی زندگی کے عملی مسائل کا مجرّد حل پیش کرتا ہو‘ اور اس کے ساتھ اپنے کچھ اعتقادات اور اپنا ایک مخصوص فلسفہ نہ رکھتا ہو۔ چند امور ما بعد الطبیعت(metaphysical problems) ایسے ہیں‘ جن کے متعلق سُلبی یا ایجابی حیثیت سے ایک نہ ایک رائے قائم کرنا بہرحال ہر اس مسلک کے لیے ناگزیر ہے‘ جو انسان کے لیے ایک لائحہ زندگی بنانے کا عزم کرے۔یہ سوالات کہ کائنات کا یہ نظام کس نوعیت کا ہے؟اور اس نظام میں انسان کی کیا حیثیت ہے؟اور انسان کی زندگی کا مآل کیا ہے؟ اور یہ کہ دنیا میں سب کچھ تو انسان کے لیے ہے‘ مگر انسان خود کس کے لیے ہے؟یہ دراصل انسانی زندگی کے بنیادی سوالات ہیں‘ جن کا ایک قابلِ عمل حل (workable solution)پیش کیے بغیر کوئی ذہنی‘ اخلاقی‘ تعلیمی اور تمدّنی نظام بنایا ہی نہیں جا سکتا اور کسی نظام کے بھی محض عملی پہلوئوں کو لے کر آدمی کام نہیں کر سکتا‘ جب تک کہ ساتھ ساتھ اس کے بنیادی فلسفے‘ یا بالفاظ دیگر اس کے اعتقادات کو بھی قبول نہ کر لے۔ پس ایک اعتقادی نظام ہونا تنہا اسلام ہی کی کوئی انوکھی خصوصیت نہیں ہے۔ اس جہت سے اگر اسلام کی راہ میں کوئی مشکل حائل ہے‘ تو ایسی مشکل ہر اجتماعی مسلک کی راہ میں حائل ہے۔ ہر اجتماعی مسلک فی الواقع ایک مذہب ہی ہے‘ اور جو بھی اس کی پیروی اختیار کرتا ہے وہ حقیقت میں ایک مذہب کو چھوڑ کر دوسرا مذہب اختیار کرتا ہے‘ خواہ اپنی سادہ لوحی کی بنا پر وہ یہ کہتا اور سمجھتا رہے‘ کہ میں بدستور اپنے پہلے مذہب پر ہوں۔

میں ایک سیدھی سی مثال سے اس نکتہ کی مزید توضیح کروں گا۔ یہ کمیونزم آپ کے سامنے ہے۔ اسی کو مثال میں لے لیجیے۔ اگر اسلام اس ما بعد الطبیعی نظریہ سے اپنے مسلک کی ابتدا ء کرتا ہے‘ کہ خدا ہے‘ تو کمیونزم اس نظریہ سے چلتا ہے‘ کہ خدا نہیں ہے‘ یا کم از کم اس کا وجود ہمارے لیے خارج از بحث ہے۔ اگر اسلام یہ نقطۂ نظر اختیار کرتا ہے‘ کہ یہ دنیا خدا کی سلطنت ہے‘ اور انسان یہاں اس کا تابع امر ہے‘ تو کمیونزم یہ نقطۂ نظر اختیار کرتا ہے‘ کہ یہ دنیا ایک اتفاقی بِساط ہے‘ اور انسان یہاں مطلقاً خود مختار (independent) ہے۔ اگر اسلام یہ پہلو لیتا ہے‘ کہ انسان کو یہاں کام کرنے کے لیے خدا کی ہدایت درکار ہے‘ اور وہ وحی کے ذریعہ سے آتی ہے‘ تو کمیونزم یہ پہلو لیتا ہے‘ کہ کوئی ہدایت درکار نہیں اور کوئی وحی نہیں آتی۔ اگر اسلام اس مقام سے سلوک کا آغاز کرتا ہے‘ کہ اس زندگی کے بعد ایک اور زندگی ہے‘ جس میں انسانوں کو موجودہ زندگی کے پورے کارنامے کا حساب دینا ہے‘ تو کمیونزم اس مقام سے چلتا ہے‘ کہ جو کچھ ہے یہی زندگی ہے‘ اور بعد میں نہ کوئی زندگی ہے نہ حساب نہ کتاب۔ دیکھئے یہ دونوں یکساں ما بعد الطبیعی نظر ئیے ہیں‘ اور دونوں میں سے کسی کو بھی تجربہ یا مشاہدہ سے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ اب اگر کسی سائنٹیفک ثبوت کے بغیر محض استدلال اورقلبی شہادت کی بنا پر بہت سے وہ لوگ جو کل تک کمیونسٹ نہ تھے‘ آج کمیونزم کے نقطۂ نظر کو قبول کر سکتے ہیں‘ تو سوال یہ ہے‘ کہ آخر انہی دو بنیادوں پر بہت سے وہ لوگ جو آج مسلم نہیں ہیں۔ کل اسلام کا نقطۂ نظر کیوں قبول نہیں کر سکتے؟

اسی طرح ایک ہادی پر ایمان لانے کا معاملہ بھی دونوں میں مشترک ہے۔ اگر مسلم ہونے کے لیے محمد رسولؐ اﷲ پر ایمان لانا پڑتا ہے‘ تو کمیونسٹ بھی آخر مارکس پر ایمان لاتا ہی ہے۔ پھر اگر ایک شخص جو کل تک مار کسی نہ تھا‘ آج مارکس کی تعلیمات کو دیکھ کر اس کو اپنا رہنما تسلیم کر سکتا ہے‘ تو آخر کون سی چیز مانع ہے‘ کہ ایک وہ شخص جو کل تک مسلم نہ تھا‘ آج محمد رسولؐ اﷲکی زندگی‘ ان کی تعلیمات اور ان کے کارنامے کو دیکھ کر ان کو اپنا ہادی ورہبر تسلیم نہ کر لے؟

ایسا ہی معاملہ جماعتی ضوابط (party discipline)کا بھی ہے۔ اگر اسلام ان لوگوں کو جو اس کی جماعت میں شامل ہوں‘ اپنے کچھ ضوابط کا پابندبناتا ہے‘ تو کیا کمیونسٹ پارٹی ان لوگوں کو جو اس کی جماعت میں شامل ہیں‘ کسی ضابطہ اور کسی قاعدے میں نہیں جکڑتی؟پھر جب بہت سے انسان کمیونزم کے اصولوں پر ایمان لانے کے بعد کمیونسٹ پارٹی کے ضوابط کی پابندی قبول کر لیتے ہیں‘ تو آخر اسلام ہی کے جماعتی ضوابط میں کونسا ہَوّا چھپا ہوا ہے‘ کہ جو لوگ اسلام کے اصولوں کوجانچ کر ان پر ایمان لانے کے لیے تیار ہوں گے ان کو یہ ہَوّا اپنی صورت دکھا کر بھگا دے گا؟

اس مثال سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے‘ کہ اسلام میں خدا کی ہستی اور اس کی توحید کا اعتقاد‘ یا آخرت کا اعتقاد‘ یاپیغمبر کی ناقابلِ منازعت پیشوائی (indisputable leadership)‘ اور قرآن کے آخری منبع قانون ہونے کا اعتقاد شرط لازم ہونا اور نماز‘ روزہ‘ زکوٰۃ اور حج کے ضوابط کی پابندی فرض ہونا‘ ہر گز کوئی ایسا چیز نہیں ہے‘ جو اس کے پھیلنے اور غیر مسلموں کے اس کی طرف کھنچ کر آنے میں سدِّراہ ہو۔ ما بعد الطبیعی اعتقادات اور جماعتی ضوابط دوسرے مسلکوں میں بھی موجود ہیں۔ اور جو انسان ان مسلکوں میں اپنی زندگی کے مسائل کا حل اپنی سمجھ کے مطابق صحیح پاتے ہیں‘ وہ ان کے عقائد اور ضوابط دونوں کو قبول کرتے ہی ہیں۔ پھر کوئی وجہ نہیں کہ اگر اسلام ان کے سامنے تمام مسائل زندگی کا بہتر حل پیش کرے‘ اوران کی اپنی فلاح وسعادت کا راستہ کھول کر ان کے سامنے رکھ دے تو عقائد اور ضوابط کی شرط صرف اسلام ہی کے معاملہ میں ان کے لیے غیر معمولی رکاوٹ ثابت ہو۔ رکاوٹ اگر ہے‘ تو فی الواقع صرف اسی حد تک ہے‘ کہ لوگوں کے لیے بالعموم اپنے پرانے مسلک کو چھوڑ کر کوئی دوسرا مسلک اختیار کرنا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن جو تحریک بھی دنیا میں پھیلتی ہے اسے بہرحال اس رکاوٹ سے سابقہ پیش آتا ہی ہے‘ اور جو لوگ کسی تحریک پر ایمان لاتے ہیں‘ وہ بہرحال اس رکاوٹ کو عبور کر کے ہی آگے قدم بڑھاتے ہیں۔ اس کو سامنے کھڑا دیکھ کر راستہ کترانے کی کوشش صرف وہی شخص کرے گا‘ جو یا تو اپنے ایمان ہی میں صادق نہیں ہے‘ یا پست ہمت اور ناکارواں ہے۔

البتہ اسلام کے حق میں اس رکاوٹ کو جس چیز نے شدید تر رکاوٹ بنا دیا ہے وہ ہماری یہ جامد اور بے روح مذہبیت ہے‘ جسے آج کل اسلام سمجھا جا رہا ہے۔

اس بے روح مذہبیت کا پہلا بنیادی نقص یہ ہے‘ کہ اس میں اسلام کے عقائد محض ایک دھرم(religion)کے مزعومات (dogmas)بنا کر رکھ دئیے گئے ہیں‘ حالانکہ وہ ایک مکمل فلسفہ اجتماع اور نظامِ تمدّن کی منطقی بنیاد ہیں۔ اور اسی طرح اس کی عبادات محض پوجا اور تپسیّا بنا کر رکھ دی گئی ہیں‘ حالانکہ وہ ان ذہنی اور اخلاقی بنیادوں کو مضبوط ومستحکم کرنے کے وسائل ہیں‘ جن پر اسلام نے اپنا نظامِ اجتماعی تعمیر کیا ہے۔ اس عمل تحریف کا نتیجہ یہ ہے‘ کہ لوگوں کی سمجھ میں کسی طرح یہ بات نہیں آتی کہ آخر ایک سیاسی‘ معاشی اور تمدّنی لائحہ عمل کو چلانے کے لیے‘ ان عقائد اور ان عبادات کی ضرورت ہی کیا ہے۔

دوسرا بنیادی نقص‘ اس مسخ شدہ مذہبیت میں یہ ہے‘ کہ اس میں اسلامی شریعت کو ایک منجمد شاستر بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ اس میں صدیوں سے اجتہاد کا دروازہ بند ہے‘ جس کی وجہ سے اسلام ایک زندہ تحریک کے بجائے محض عہد گزشتہ کی ایک تاریخی یادگار بن کر رہ گیا ہے‘ اور اسلام کی تعلیم دینے والی درس گاہیں آثار قدیمہ کے محافظ خانوں میں تبدیل ہوگئی ہیں۔ ظاہر ہے‘ کہ اجنبی لوگ اس چیز کو دیکھ کر زیادہ سے زیادہ تاریخی ذوق کی بناء پر‘ اظہار قدر شناسی تو کر سکتے ہیں‘ مگر یہ توقع ان سے نہیں کی جا سکتی کہ وہ حال کی تدبیر اور مستقبل کی تعمیر کے لیے‘ اس سے ہدایت ورہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت محسوس کریں گے۔

تیسرا اہم نقص اس میں یہ ہے‘ کہ جزئیات کی ناپ تول‘ مقداروں کے غیر منصوص تعین اور روح سے بڑھ کر مظاہر پر مدار دین داری رکھنے کی بیماری اس میں حد سے بڑھ گئی ہے‘ اور وہ غیروں کی تالیف تو کیا کرے گی‘ اُلٹی اپنوں کی تنفیر کا باعث بن رہی ہے۔ اس غلط مذہبیت کے علم برداروں کی زندگی دیکھ کر اور ان کی باتیں سن کر آدمی اس سوچ میں پڑ جاتا ہے‘ کہ انسان کی ابدی فلاح وخسران کا مدار کیا انہی چھوٹی چھوٹی چیزوں پر ہے‘ جن پر یہ لوگ اتنا زور دیتے ہیں؟

اسلام کے راستے میں یہ بہت بڑی رکاوٹ ہے‘ مگر یہ اسلام کا قصور نہیں ہمارا اپنا قصور ہے‘ اور ہمارا فرض ہے‘ کہ اپنے اس نظامِ تعلیم کو بدلیں جس نے دین کے تصوّر کو اتنا غلط اور شریعت کے علم کو اس قدر جامد بنادیا ہے۔ ظاہر ہے‘ کہ ایک زندہ تحریک تحکمی عقائد کے بل پر تو نہیں اُٹھ سکتی۔ ہمیں اس کے عقائد کو معقول دلائل کے ساتھ پیش کرنا ہوگا۔ پھر عقائد کے ساتھ عبادات کا اور عبادات کے ساتھ زندگی کے قوانین کا منطقی ربط واضح کرنا پڑے گا۔ پھر ان قوانین کو زندگی کے تمام عملی مسائل پر منطبق کر کے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ جتنی انسانی ضروریات ہیں‘ ان سب کا حل ان قوانین میں موجود ہے۔ تب کہیں لوگ اس نظام کو ایک معقول نظام کی حیثیت سے سمجھ سکیں گے‘ اور جب وہ اسے سمجھیں گے تو قبول بھی کرنے پر آمادہ ہوں گے‘ یہ تعمیر ی کام چونکہ سخت محنت طلب ہے‘ اس لیے اس محنت سے جی چرا کر لوگ بنے بنائے آسان طریقوں کی طرف دوڑ جاتے ہیں‘ مگر یہ نہیں سوچتے کہ اپنے مقصد تک پہنچنے کے لیے‘ راستہ بنانے کی زحمت بہرحال ہمیں اُٹھانی ہی پڑے گی۔جس نے بھی کوئی مقصد ِعظیم پیشِ نظر رکھا ہے‘ اسے یہ زحمت اُٹھانی پڑی ہے‘ اور اگر واقعی ہم اپنے مقصد میں صادق ہیں‘ تو ہمیں اس کام کے لیے تیار ہونا چاہیے۔

دوسری مشکل

اب دوسری مشکل کو لیجیے۔ جن تعصّبات کو اسلام کی راہ میں حائل بتایا جاتا ہے ان کا تجزّیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے‘ کہ:

ایک قسم کا تعصّب تو وہ ہے‘ جو طبعاً شخص کے اندر اس چیز کے خلاف ہوتا ہے جو اس کے لیے ہو‘ جس پر اس نے اپنے باپ دادا کو نہ پایا ہو‘ اور جس سے وہ مانوس نہ ہو‘ یہ تعصّب صرف آج ہی اسلام کی راہ میں حائل نہیں ہے پہلے بھی حائل تھا‘ اور جیسا کہ میں اوپر اشارہ کر چکا ہوں یہ صرف اسلام ہی کی راہ میں حائل نہیں ہے ہر تحریک کی راہ میں حائل ہوتا ہے‘ تا ہم یہ ایسی رکاوٹ نہیں ہے جس کو دُور نہ کیا جا سکتا ہو۔ پہلے بھی اس رکاوٹ کے باوجود اسلام پھیلا ہے‘ اور اب بھی پھیل سکتا ہے۔

دوسری قسم کا تعصّب وہ ہے‘ جو دراصل اسلام کے خلاف نہیں‘ بلکہ مسلمانوں کے خلاف پیدا ہوا ہے‘ اور مسلمانوں کے واسطہ سے اسلام کی راہ میں حائل ہوگیا ہے۔ مسلمانوں نے پچھلی کئی صدیوں میں جو غیراسلامی طریقے اپنی خواہشاتِ نفس کی پیروی میں اختیار کیے اور اب بھی اپنے انفرادی کردار اور اجتماعی رویے میں غیراسلامی سیرت کا وہ اظہار کر رہے ہیں یہ سارے تعصّبات فی الحقیقت اسی کے بھڑکائے ہوئے ہیں۔

اس واقعہ سے کون انکار کر سکتا ہے‘ کہ ہندستان کو اصلی اسلامی حکومت‘ خالص اسلامی اخلاق اور حقیقی اسلامی تمدّن سے لذت آشنا ہونے کا کبھی موقع ملا ہی نہیں۔ گزشتہ زمانہ میں‘ مسلمان بادشاہوں نے‘ مسلمان امراء نے‘ مسلمان حکام اور اہلِ کاروں اور سپاہیوں نے‘ مسلمان زمین داروں اور رئیسوں نے‘ اور مسلمان عوام نے‘ اپنے برتائو سے اسلام کا جو نمونہ پیش کیا‘ وہ ہر گز ایسا نہ تھا‘ کہ اس ملک کے عام باشندوں کو اسلام کا گرویدہ بنا سکتا۔ بلکہ اس کے برعکس نفسانی اغراض کے لیے جو کشمکش ان کے اور غیر مسلم عناصر کے درمیان مد تہائے دراز تک برپا ہوتی رہی‘ اس نے اسلام کے خلاف مستقل تاریخی تعصّبات پیدا کر دئیے۔

اس تاریخی پس منظر کے ساتھ اسلام کا جو نمونہ آج اس زمانہ میں مسلمان اپنی انفرادی زندگی اور اجتماعی طریق کار سے پیش کر رہے ہیں وہ بھی کچھ ایسا خوب صورت نہیں ہے‘ کہ اس قسم کے نمونے کو دیکھ کر لوگ اس تحریک کے عاشق ہوجائیں‘ جس کی نمائندگی اس شان سے کی جا رہی ہو‘ انفرادی زندگی میں ایک عام مسلمان ایک عام غیر مسلم سے‘ آخر کس چیز میں برتر نظر آتا ہے‘ کہ لوگ اس برتری کے منبع کی جستجو کریں؟اس کے برتائو میں‘ اس کے اخلاق میں‘ اس کے معاملات میں‘ کہاں کوئی خفیف سی چمک بھی ایسی نمو دار ہوتی ہے‘ جس سے یہ ظاہر ہوکہ یہ شخص فائق تر اور پاکیزہ تر اصولوں کی پیروی کرتا ہے؟کیا ایک مسلمان زمین دار یا ’’شریف‘‘ اصطلاحی ’’کمینوں‘‘کے مقابلہ میں اپنے طبقہ کے کسی غیر مسلم ’’شریف‘‘ یا رئیس سے کچھ کم نخوت برتتا ہے؟کیا ایک مسلمان تاجر یا پیشہ ور آدمی اپنے ہم پیشہ غیر مسلم سے کچھ زیادہ متدّین ہوتا ہے؟کیا ایک مسلمان حاکم یا عہدہ دار اپنے اختیارات کے استعمال میں کسی غیر مسلم ہمسر سے کچھ بہتر اخلاقی اصولوں کی پیروی کرتا ہے؟کیا دفتروں کے مسلمان ملازم رات دن انہی تمام ذلیل طریقوں کی پیروی نہیں کر رہے ہیں‘ جن کی پیروی ان کے غیر مسلم ساتھی کرتے ہیں؟کیا وہی جائز ونا جائز طریقوں سے اپنی قوم کا تعصّب‘ وہی کمینہ چالوں سے غیر قوم والوں کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کرنا اور انہی چھوٹی چھوٹی دنیوی اغراض کے پیچھے لڑے مرنا جس کی شکایت یہ غیر مسلموں سے کرتے ہیں‘ خود ان کا بھی رات دن کا مشغلہ نہیں ہے؟پھر جب ایک غیر مسلم اسلام کے ان نمائندوں کی زندگی میں کہیں بھی کوئی فوقیت کا نشان نہیں پاتا‘ جب وہ انہیں بھی وہی سب کچھ کرتے دیکھتا ہے‘ جو وہ خود کرتا ہے‘ اور جب وہ انہیں بھی انہی مقاصد کے لیے لڑتے جھگڑتے اور کش مکش کرتے دیکھتا ہے‘ جن کے لیے وہ خود لڑتا جھگڑتا اور کشمکش کرتا ہے‘ تو آخر کون سی چیز اس کو اس مسلک کی طرف مائل کرسکتی ہے‘ جس کی نمائندگی یہ لوگ کر رہے ہیں؟بلکہ جب ایک ہی نفسانیت اور دنیاپرستی کے میدان میں وہ اور یہ برابر کے حریف ہیں‘ تو اپنے حریفوں کے مسلک پر وہ کُھلے دل سے غور کرنے کی ضرورت ہی کیوں محسوس کرنے لگا؟ایک طرف پچھلے تاریخی تعصّبات‘اور پھر آج کی نفسانی کش مکش‘ کیا دونوں چیزیں اس کے دل کے دروازوں پر قفل چڑھانے کے لیے کافی نہیں ہیں؟

انفرادی زندگی سے وسیع تر‘ قومی دائرے میں مسلمان اس وقت تک جس پالیسی پر مُصر ہیں‘ بلکہ جسے اپنی حیاتِ اجتماعی کا ضامن سمجھ رہے ہیں وہ کیا ہے؟ اصولِ اسلام اور مقاصدِ اسلام کا کہیں نام تک نہیں آتا۔ کسی خطبے‘ کسی تقریر‘ کسی ریزولیوشن میں آپ ایک فقرہ تک ایسا نہیں پا سکتے‘ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہوکہ یہ لوگ اپنی اغراض اور اپنے دنیوی مقاصد کے لیے نہیں‘ بلکہ انسانوں کی فلاح کے لیے عالم گیر کلّ اصول لے کر اُٹھے ہیں‘ اور ان کی لڑائی محض اصولِ حق کی خاطر ہے‘ اس کے برعکس آپ دیکھیں گے کہ ان کے اور دوسری قوموں کے درمیان بالکل برابر کی قوم پرستانہ جنگ برپا ہے‘ دونوں ایک سطح پر اتر آئے ہیں ایک ہی مرتّبے کی دنیوی اغراض کے لیے کشمکش کر رہے ہیں‘ ایک ہی قسم کی چالیں (tactics)زبان‘ اصطلاحات اور اصول نزاع اختیار کر رہے ہیں‘ اور سارا رونا دھونا اور لڑائی جھگڑا انہی چیزوں کے لیے ہے‘ جن کے لیے ان کے حریفوں کا رونا دھونا اور لڑائی جھگڑا ہے۔ پھر کس طرح یہ بات عقل میں آسکتی ہے‘ کہ جن لوگوں سے آپ دُنیوی اغراض کے لیے مساوی مرتّبے پر لڑ رہے ہوں‘ جن سے آپ رقابت اور حریفی کا پرانا اور تازہ رشتہ رکھتے ہوں‘ جن کے ساتھ آپ کی سیاسی اور معاشی مفاد کے لیے کشمکش برپا ہو‘ وہ آپ کی طرف سے کسی اصولی تحریک کی دعوت پر اسی طرح کھلے دل سے غور کرنے کے لیے تیار ہوں گے‘ جس طرح وہ اشتراکیت یا ڈیمو کریسی یا کسی اور مسلک کی دعوت کے لیے تیار ہوتے ہیں؟

یہ تعصّبات اسلام کے راستے میں دوسری عظیم الشان رکاوٹ ہیں‘ مگر ان کا علاج ہے‘ کہ ہم ان تعصّبات کی پیدائش کے سبب کو باقی رکھیں اور پھر ان کی موجودگی کو بہانہ بنا کر اپنے مقصد کی طرف براہِ راست پیش قدمی کرنے سے منہ موڑیں‘ بلکہ ان کا اصلی علاج یہ ہے‘ کہ ہم اپنے انفرادی اور اجتماعی طرزِعمل کو بدلیں‘ اور اس طرح تمام تعصّبات کی جڑ کاٹ کر اپنے مقصد کی طرف بڑھنے کے لیے سیدھا راستہ تیار کریں۔ جو لوگ محض سرسری نگاہ میں یہ دیکھ کر کہ اسلام کے خلاف ہندو‘ سکھ‘ عیسائی‘ پارسی‘ تمام قوموں میں سخت تعصّبات پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ فیصلہ صادر کر دیتے ہیں‘ کہ اس حالت میں اسلام ایک خالص اصولی تحریک کی حیثیت سے نہیں پھیل سکتا‘ وہ دراصل واقعات کو غلط رنگ میں دیکھتے اور غلط نتائج نکالتے ہیں۔ جیسا کہ میں نے اوپر ثابت کیا ہے یہ تعصّبات اسلام اور اسلامی سیرت کے بھڑکائے ہوئے نہیں ہیں (جس سے ان قوموں کو ہندستان میں کم ہی سابقہ پیش آیا ہے) بلکہ اسلام کے ان غلط نمائندوں کی روش سے پیدا ہوئے ہیں‘ جو مسلمان ہونے کے باوجود غیراسلامی طریقوں پر چلتے رہے‘ اور خالصتہً ﷲ کام کرنے کے بجائے اپنی دنیوی اغراض اور نفسانی خواہشات کے لیے کام کرتے رہے۔ لہٰذا ان تعصّبات کے تدارک کی صحیح صورت یہ ہے‘ کہ اب اپنی سیرت‘ اپنے اعمال‘ اوراپنی اجتماعی جدوجہد سے اسلام کی صحیح نمائندگی کیجیے‘ نہ یہ کہ تعصّبات کی موجودگی کو اسی غلط روش پر چلنے کے لیے حُجتّ بنائیے‘ جس کی وجہ سے تعصّبات پیدا ہوئے ہیں بالفرض اگر یہ مان لیا جائے‘ تاکہ قومی تعصّبات کی موجودگی میں اسلام کا ایک خالص اصولی تحریک کی حیثیت سے چلنا محال ہے توسوال یہ ہے‘ کہ اسلامی مقاصد کے بجائے ‘مسلمانوں کے دنیوی مفاد کے لیے جو کشمکش آپ کے اور دوسری قوموں کے درمیان برپا ہے‘ اور ان کے قوم پرستانہ طریقوں کے جواب میں ویسے ہی قوم پرستانہ طریقے جس طرح آپ اختیار کررہے ہیں کیا اس سے یہ تعصّبات کبھی قیامت تک بھی دور ہوسکتے ہیں؟اگر نہیں‘ تو پھر یہ نہ کہیے کہ اس وقت کچھ خاص حالات ایسے ہیں‘ جن کی وجہ سے اسلام ایک خالص اصولی تحریک کی حیثیت سے نہیں چل سکتا۔ بلکہ یوں فرمائیے کہ آئندہ بھی ہمیشہ ایسے ہی حالات موجود رہیں گے‘ اور اگر اسلام آپ ہی کا ورثہ آبائی بنا رہا تو وہ ہمیشہ بنی اسرائیل کی طرح محض آپ کا قومی مذہب بن کر رہے گا‘ کبھی ایک عالمگیر دعوت نہ بن سکے گا۔

یہ انسانی فطرت کا اقتضا ہے‘ کہ خود غرضی کے جواب میں خود غرضی اور قوم پرستی کے جواب میں قوم پرستی پیدا ہوتی ہے۔ بخلاف اس کے بے غرضا نہ حق پرستی کے مقابلہ میں تمام تعصّبات اور تمام مخالفانہ جذبات آخر کار ہتھیار ڈال دیتے ہیں‘ اور ایک سچے بے لوث حق پرست کے آگے انسان عقیدت ومحبت کے سوا اور کوئی چیز پیش کرنے پر قادر ہی نہیں رہتا۔ اگر مسلمان اپنی وہی حیثیت قائم رکھتے جو دراصل ان کی تھی تو یہ ممکن نہ تھا‘ کہ ہندستان میں ان کے خلاف وہ تعصّبات پائے جاتے‘ جن کی آج شکایت کی جاتی ہے‘ لیکن انہوں نے خود اپنی وہ حیثیت کھو دی۔ دنیوی فائدوں کے لیے دوسری قوموں سے لڑنے جھگڑنے لگے‘ اور اصولِ حق کے بجائے اپنی اغراض ذاتی وقومی کو انہوں نے اپنی جدوجہد کا محور بنا لیا۔ اس کے جواب میں اگر دوسروں کے اندر تعصّب نہ پیدا ہوتا‘ تو تعجب کی بات تھی۔ جن اصولوں کا آپ نام لیتے ہیں‘ اُن کی آپ خود پیروی نہیں کرتے بلکہ رات دن اپنی شخصی اور اجتماعی زندگی میں ان کے خلاف عمل کرتے رہتے ہیں۔ جس مقصد عالی کا آپ اظہار کرتے ہیں‘ آپ کی عملی جدوجہد اس مقصد کے لیے نہیں ہے‘ بلکہ آپ کے افراد انفرادی طور پر اور آپ کی پوری جماعت بحیثیت مجموعی اس کو پسِ پشت ڈال کر دوسرے مقاصد کے پیچھے چلی جا رہی ہے۔ اس صورت میں اگر اپنے خیالی نصب العین اور اپنے محض زبانی اصولوں کے لیے آپ کی اپیل دوسروں پر کارگر نہ ہو‘ اگر وہ اس اپیل میں آپ کو جھوٹا سمجھیں‘ اور آپ کی تبلیغ کو محض خود غرضا نہ چال سمجھ کر‘ حقارت سے ردّ کر دیں‘ تو آخر اس میں حیرت کی بات ہی کون سی ہے؟

ظاہر ہے‘ کہ کوئی غیر مسلم مسٹر جناح کے ۱۴ یا ۱۲ [یہ مرحوم کے ان ۱۴ نکات کی طرف اشارہ ہے‘ جو مسلمانوں کے سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے‘ انہوں نے مارچ ۱۹۲۹ء میں پیش کیے تھے۔ ان نکات کی اصل عبارت مسٹر جی الانہ کی کتاب: Pakistan Movement Historic Documentsصفحہ ۷۰-۷۲ میں دیکھی جا سکتی ہے۔ ان نکات کو بغور پڑھا جائے‘ تو صاف معلوم ہوجاتا ہے‘ کہ یہ اسی وقت تک مسلمانوں کو تحفظ دے سکتے تھے‘ جب تک انگریزی حکومت ملک میں رہتی۔ ہندستان کے ایک آزاد مملکت بن جانے کی صورت میں یہ تحفظّات کسی کام نہ آسکتے تھے۔ اس لیے دعوتِ اسلام تو درکنار خود مسلمانوں کے آئینی تحفّظ کے لیے بھی ان کی کوئی قدرو قیمت نہ تھی۔(جدید)] نکات پر تو ایمان نہیں لاسکتا۔ نہ مسلم لیگ یا مجلس احرار یا جمعیت العلماء کے ریزو لیوشنوں میں کوئی ایسی چیز ہے‘ جس پر کوئی ایمان لائے۔ایمان اگر کوئی لاسکتا ہے‘ تو <<لاالہ الا اﷲ >> پر لاسکتا ہے‘ بشر طیکہ ایک جماعت اسی کلمہ کے لیے جینے اور اسی پر مرنے والی اس کے سامنے موجود ہو۔ مگر وہ ہے‘ کہاں؟کون سی جماعت آپ کے اندر ایسی موجود ہے‘ جس نے خالص اطاعت ِحق کو اپنا مسلک اور خالص دین کے قیام کو اپنی کوششوں کا مرکز محور بنا لیا ہو؟لوگ اسلام کی دعوت اور اس کے اصولِ حق کو کتابوں میں دیکھتے ہیں‘ اور ان کے معترف ہوجاتے ہیں۔مگر اس پر عمل کرنے والی‘ اور اس کے نصب العین کے لیے کام کرنے والی سوسائٹی میں شامل ہوں‘ جو رات دن دنیا ہی کے پیچھے مری جاتی ہے‘ اور انہی راستوں پر چلی جا رہی ہے‘ جن پر غیر مسلم چلتے ہیں؟آپ کی ایک جماعت لڑتی ہے‘ اس لیے کہ ارض ہند پر انگریز کے بجائے ہندوستانی کا اقتدار قائم ہو۔ بعینہٖ یہی چیز ایک شخص کو غیر مسلم جماعتوں میں بھی مل جاتی ہے۔ پھر وہ آپ کے پاس کیوں آئے؟آپ کی دوسری جماعت لڑتی ہے‘ اس لیے کہ ہندو کے مقابلہ میں نسلی مسلمانوں کے دنیوی مفاد کا تحفظ کیا جائے۔ یہ چیز اس کو خود اپنی قوم پرستی کی مد مقابل نظر آتی ہے۔ پھر وہ اپنی قوم پرستی کو چھوڑ کر آپ کی قوم پرستی پر کیوں ایمان لائے؟انسان کو غیر اﷲ کے تسلّط سے آزاد کرانے والی جماعت‘ آپ میں ہے‘ کہاں‘ کہ کوئی اس کے اصول ومقاصد پر ایمان لائے اور اس میں شامل ہونے کے لیے آگے بڑھے؟

تیسری مشکل

سب سے بڑی گُتھی جو ہمارے سوچنے والے دماغوں کے لیے ناقابلِ حل بن گئی ہے وہ یہ ہے‘ کہ یہاں کروڑوں کی تعداد میں ایک ایسی قوم بستی ہے‘ جو نہ پوری مسلمان ہے نہ پوری غیر مسلم۔ اس قوم کے اس حال میں یہاں موجود ہونے سے متعدّد پیچیدہ مسائل پیدا ہوگئے ہیں‘ جن کا کوئی حل لوگوں کو نہیں ملتا اور اسی وجہ سے رہنما اور کارکن سب پراگندہ عمل ہورہے ہیں۔ مثال کے طور پر میں ان چند بڑی بڑی اُلجھنوں کی طرف اشارہ کروں گا‘ جو اس صورت حال نے پیدا کر دی ہیں:۔

بعض لوگ لفظ مسلمان سے دھوکا کھا کر اس غلط فہمی میں پڑ گئے ہیں‘ کہ اصل سوال اسلام کے احیاء (revival)کا نہیں‘ بلکہ مسلمانوں کے احیاء کا ہے۔ یعنی یہ قوم جو مسلمان کے نام سے پائی جاتی ہے‘ اس کو ایک زندہ اور طاقت ورقوم بنانا اور برسر عروج لانا اصل مقصود ہے‘ اور اسی کا نام اسلام کا احیاء ہے۔ یہ غلط فہمی ان کو ’’مسلم قوم پرستی‘‘ کی حد تک کھینچ لے گئی ہے جس طرح مونجے اور ساور کر[یہ اس زمانے کے مشہور متعصّب ہندو لیڈر تھے۔(جدید)]کے لیے سوال ہندو قوم کے عروج کا ہے جس طرح مسولینی کے لیے اطالوی قوم‘ اور ہٹلر کے لیے جرمن قوم کے عروج کا سوال ہے۔ اسی طرح ان ’’مسلم قوم پرستوں‘‘ کے لیے اصل سوال اس مسلمان قوم کے عروج کا ہے‘ جس میں یہ پیدا ہوئے ہیں‘ اور جس کے ساتھ ان کی قسمتیں وابستہ ہیں۔یہ اسلام کی خدمت اس کو سمجھتے ہیں‘ کہ مسلمانوں کی تعلیم (قطع نظر اس سے کہ وہ تعلیم کیسی ہی ہو)ان کی معاشی خوش حالی (خواہ وہ کسی قسم کے ذرائع سے حاصل ہو) اور ان کی سیاسی وعسکری تنظیم (مجرد قومی تنظیم) پر اپنا زور صرف کیا جائے‘ اور ان کو ایک زبردست قوم بنا دیا جائے۔ پھر جب یہ ان کا مقصد قرار پایا‘ تو انہوں نے معاملات کو اس نظر سے دیکھنا شروع کیا‘ کہ کون سی تدابیر اس مقصد تک پہنچنے میں مدد گار ہوسکتی ہیں۔ اور جو تدبیریں بھی ان کو دنیا میں قومی عروج کے لیے مفید وکارگر نظر آئیں‘ اس کو بے تکلّف انہوں نے استعمال کرنا شروع کر دیا‘ خواہ وہ اسلام سے ان کو کتنی ہی دور لے جانے والی ہوں۔یہ ذہنیت سر سید احمد خاں کے وقت سے آج تک مسلمانوں کے اکثر وبیشتر رہنماؤں‘ کارکنوں اور اداروں پر مسلّط ہے۔ اسلام کے نام سے جو کچھ سوچا جا رہا ہے‘ مسلمانوں کے لیے سوچا جا رہا ہے‘ اور اسلام کی قید سے آزاد ہوکر سوچا جا رہا ہے۔

کچھ دوسرے لوگ اسلام اور مسلمان کو اس حیثیت سے تو خَلْط مَلْط نہیں کرتے‘ لیکن ایک دوسری حیثیت سے وہ اسلام کے مستقبل کو موجودہ نسلی مسلمانوں کے دامن سے باندھ دیتے ہیں۔ وہ چاہتے تو اسلام ہی کا احیا ہیں‘ مگر ان کا خیال یہ ہے‘ کہ اسلام کا احیا موقوف ہے ان سب مسلمانوں کے مکمل مسلمان بن جانے پر‘ جو اس وقت قومی ونسلی حیثیت سے مسلمان ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں‘ کہ جب تک یہ سارے کے سارے مسلمان ذہنی‘ اخلاقی اور عملی حیثیت سے تبدیل نہ ہوجائیں قدم آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔ اور یہ چیز چونکہ سخت دشوار بلکہ محال نظر آتی ہے‘ اس لیے یہ لوگ اصل مقصد کی طرف پیش قدمی کرنے کے بجائے‘ اِدھر اُدھر کے فضول کاموں میں مختلف ضمنی مقاصد کے پیچھے اپنی قوّتیں ضائع کر رہے ہیں۔

کچھ اور لوگ ہیں‘ جن کے سامنے اسلامی نصب العین قریب قریب بالکل واضح ہوچکا ہے‘ اور وہ اس کی طرف بڑھنا بھی چاہتے ہیں۔مگر یہ سوال ان کو بار بار پریشان کرتا ہے‘ کہ اگر ہمارے کار فرما دماغ اور کارکن ہاتھ‘ سب کے سب اسلامی نصب العین کے لیے جدوجہد کرنے میں لگ جائیں‘ تو آخر موجودہ کافرانہ نظامِ تمدّن وسیاست اور اس کے آئندہ تغیّرات میں‘ ہماری قوم کے سیاسی ومعاشی مفاد کا کیا حشر ہوگا۔ اس سوال کی اہمیت ان کی نگاہ میں اتنی زیادہ ہے‘ کہ وہ اپنے عزم سفر کو ملتوی کر کے کہتے ہیں‘ کہ پہلے اس سوال کو حل کیا جائے‘ اور اصل مقصد کی طرف قدم اس وقت بڑھایا جائے‘ جب اپنی قوم کا کوئی مسئلہ ہمارے لیے حل طلب باقی نہ رہے۔

لیکن یہ تمام اُلجھنیں غیراسلامی طرز فکر اور غیراسلامی ذہنیّت کی پیداوار ہیں۔ اگر خالص مسلمان ہونے کی حیثیت سے دیکھا جائے‘ تو ان میں سے کوئی اُلجھن بھی ہمارے لیے اُلجھن نہیں رہتی۔ ہمارے سامنے اصل سوال کسی قوم کے احیاء کا نہیں‘ بلکہ مسلک اسلام کے احیاء کا ہے۔ قوم کے احیاء کا خیال دماغ سے نکالتے ہی وہ تمام مسائل کا فور کی طرح اڑ جاتے‘ جو قومیّت کی اصطلاحوں میں سوچنے والے لوگوں کو پریشان کیا کرتے ہیں۔ جب ہم مسلک ِاسلام کے پیرو ہیں‘ اور اس کو فروغ دینا ہمارا مقصد ہے‘ تو ہمیں کسی ایسے مفاد سے کوئی دلچسپی یا ہمدردی نہیں ہوسکتی‘ جو کسی غیراسلامی نظام سے وابستہ ہویا اصولِ اسلام سے متصادم ہو۔ ہم اپنے دماغ کو اس کے لیے سوچنے کی کچھ بھی زحمت نہ دیں گے۔ قومی احیا کی ان تمام تدبیروں سے بھی ہمارا کوئی تعلق نہ ہوگا‘ جو غیراسلامی اصول پر مبنی ہوں۔ ایک قوم اور دوسری قوم کی باہمی کش مکش اور ایک قوم پر دوسری قوم کے تفوّق کی کوششوں سے بھی ہم پوری تبری کریں گے‘ ہم کو جو کچھ بھی دل چسپی ہوگی‘ اسلامی نظام فکرو عمل سے اس کی تبلیغ واشاعت سے‘ اور اس کو حکمراں بنانے کی سعی وجہد سے ہوگی۔ مسلمانوں سے ہمارا تعلق صرف اسی حد تک ہوگا‘ جس حد تک ان کا تعلق اسلام سے ہے۔ جو اپنی خواہشِ نفس اور ہر غیر اﷲ کی بندگی چھوڑ کر‘ صرف اﷲ کی بندگی میں آجائے‘ وہ ہمارا بھائی اور رفیق ہے خواہ وہ نسلی مسلمانوں میں سے آئے‘ یا غیر مسلموں میں سے ہم پیدائشی مسلمانوں کو بھی اسی مسلک کی طرف دعوت دیں گے‘ اور غیر مسلموں کو بھی ہمارے نزدیک اسلام کا دامن نسلی مسلمانوں کے دامن سے بندھا ہوا نہ ہوگا کہ یہ اُٹھیں تو وہ بھی اُٹھے‘ اور یہ نہ اُٹھیں تو وہ بھی نہ اُٹھے۔اسلام ان کے باپ دادا کی جائیداد نہیں ہے‘ یہ اس کے لیے جینے اور اسی کے لیے مرنے پر تیار ہوں‘ تو ہم خوش اور ہمارا خدا خوش۔ ورنہ جس جہنم میں ان کا جی چاہے جا کر گر جائیں۔ ہم اﷲ کا کلمہ دوسرے انسانوں کے پاس لے جائیں گے۔

یہ جو کچھ کہہ رہا ہوں بعینہٖ یہی طرزِعمل ابنیاء ورسلعلیھم السلام کا تھا‘ اور اسی کو نبی اکرمؐ نے اختیار کیا۔ قرآن میں جن کو اہلِ کتاب کہا گیا ہے وہ آخر ’’نسلی مسلمان‘‘ ہی تو تھے۔ خدا اور ملائکہ اور نبی اور کتاب اور آخرت سب کو مانتے تھے‘ اور عبادات اور احکام کی رسمی پیروی بھی کرتے تھے۔ البتہ اسلام کی اصلی روح‘ یعنی بندگی واطاعت کو اﷲ کے لیے خالص کر دینا اور دین میں شرک نہ کرنا‘ یہ چیز ان میں سے نکل گئی تھی۔ اب دیکھئے‘ کیا آنحضرتؐ نے اس ’’نسلی مسلمان قوم‘‘ کے احیا پر اپنی کوششوں کو مرکوز فرمایا تھا؟ نہیں کیا آپ نے یہ عہد کر لیا تھا‘ کہ جب تک یہ سارے کے سارے ’’نسلی مسلمان‘‘ اصلی مسلمان نہ بن جائیں گے قدم آگے نہ بڑھایا جائے گا؟یہ بھی نہیں۔ کیا آپ نے ان ’’نسلی مسلمانوں‘‘ کے دنیوی مسائل کو حل کرنے تک اقامت دین کی کوششوں کو ملتوی رکھا تھا؟ یہ بھی نہیں‘ پھر آپ نے کیا کیا؟سب جانتے ہیں‘ کہ آپ نے تمام معاملات اور تمام مسائل سے قطع نظر کر کے ’’نسلی مسلمانوں‘‘ اور غیر مسلموں سب کو خالص اﷲ کی بندگی کی طرف دعوت دی‘ جس نے اسے قبول کیا اور غیر اﷲ کی بندگی واطاعت ترک کر دی‘ اسے اپنے جتھے میں شامل کر لیا اور پھر ان لوگوں کو لے کر الٰہی نظامِ اطاعتِ یعنی دینِ حق کو قائم کرنے کے لیے براہِ راست جدوجہد شروع کر دی‘ یہاں تک کہ اس کو قائم کر کے چھوڑا۔

ٹھیک یہی طریقہ ہے‘ جس کی پیروی کو میں حق سمجھتا ہوں‘ اسی کی پیروی خود کرنا چاہتا ہوں‘ اور اسی کا مشورہ ان سب لوگوں کو دیتا ہوں‘ جن کا نصب العین اسلامی ہے۔

(ترجمان القرآن۔ جنوری ۱۹۴۱ء)