نکاحِ کتابیہ
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ایک مفصل فقہی مقالہ ہے جس میں مولانا مودودی اہلِ کتاب کی عورتوں سے نکاح کے مسئلے پر تفصیلی بحث کرتے ہیں۔ وہ سب سے پہلے صحابہ و تابعین کے اس مسئلے پر اختلافات کا جائزہ لیتے ہیں، خصوصاً حضرت ابن عمرؓ اور حضرت ابن عباسؓ کے محدود کن مسالک کا تنقیدی تجزیہ کرتے ہیں، اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ جمہور صحابہ و ائمہ کے نزدیک آیتِ زیرِ بحث کا حکم عام ہے۔
اس کے بعد وہ "محصنات" اور "اہلِ کتاب" کی اصطلاحات کی مختلف تعبیرات پر بحث کرتے ہوئے راجح مسلک متعین کرتے ہیں، اور آخر میں نکاح کے اسلامی تصور کی وضاحت کرتے ہیں کہ یہ محض ایک عمرانی معاہدہ نہیں بلکہ ایک روحانی و مذہبی تقدس کا حامل رشتہ بھی ہے، جس کے ساتھ ساتھ وہ مخلوط شادیوں کے تمدنی نقصانات اور نکاحِ کتابیہ کی شرعی اجازت و کراہت کے پہلوؤں پر بھی نظر ڈالتے ہیں۔
مسلمہ اور غیر مسلم کے نکاح کی حرمت
سب سے پہلے تو یہ بات طے کر دی گئی کہ غیر مسلموں کے ساتھ شادی کرنے کی رخصت صرف مردوں کو دی جاسکتی ہے، عورتوں کے لیے یہ دروازہ قطعاً مسدود ہے۔
<<لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّوْنَ لَهُنَّ>> الممتحنہ 10:60
نہ مسلمان عورتیں کافر مردوں کے لیے حلال ہیں اور نہ کافر مرد مسلمان عورتوں کے لیے حلال۔
یہ اس لیے کہ عورت کی فطرت ایک انفعالی فطرت ہے۔ اس میں ڈھال لینے سے زیادہ ڈھل جانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ وہ مرد کے اثرات اور اپنے ماحول کے اثرات کو زیادہ شدت کے ساتھ قبول کرتی ہے اور خانگی زندگی میں وہ عموماً شوہر سے مغلوب ہی ہو کر رہتی ہے۔ ایک غیر مسلم مرد سے اس کی شادی ہونے میں کم از کم ۹۰ فی صد خطرہ اس بات کا ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے اسلام اور اس کی تہذیب سے کٹ جائے گی، اور یہ خطرہ تو سو فی صدی ہے کہ اس کے پیٹ سے جو اولاد پیدا ہوگی، وہ ملتِ کفر پر رہے گی۔ پس تمام مصالح و حکم اس بات کے مقتضی تھے کہ مسلمان عورتوں کے لیے غیر مسلموں کی زوجیت قطعی طور پر حرام کر دی جائے ، اور رخصت کا دروازہ اگر کھولا بھی جائے تو وہ صرف مردوں کے لیے ہو۔