مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

نکاحِ کتابیہ

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ایک مفصل فقہی مقالہ ہے جس میں مولانا مودودی اہلِ کتاب کی عورتوں سے نکاح کے مسئلے پر تفصیلی بحث کرتے ہیں۔ وہ سب سے پہلے صحابہ و تابعین کے اس مسئلے پر اختلافات کا جائزہ لیتے ہیں، خصوصاً حضرت ابن عمرؓ اور حضرت ابن عباسؓ کے محدود کن مسالک کا تنقیدی تجزیہ کرتے ہیں، اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ جمہور صحابہ و ائمہ کے نزدیک آیتِ زیرِ بحث کا حکم عام ہے۔

اس کے بعد وہ "محصنات" اور "اہلِ کتاب" کی اصطلاحات کی مختلف تعبیرات پر بحث کرتے ہوئے راجح مسلک متعین کرتے ہیں، اور آخر میں نکاح کے اسلامی تصور کی وضاحت کرتے ہیں کہ یہ محض ایک عمرانی معاہدہ نہیں بلکہ ایک روحانی و مذہبی تقدس کا حامل رشتہ بھی ہے، جس کے ساتھ ساتھ وہ مخلوط شادیوں کے تمدنی نقصانات اور نکاحِ کتابیہ کی شرعی اجازت و کراہت کے پہلوؤں پر بھی نظر ڈالتے ہیں۔

اختلافاتِ سلف

اس آیت کی تفسیر میں سلف کے درمیان بہت کچھ اختلافات ہوئے ہیں، لیکن جمہور علما نے ہر زمانے میں اس کے حکم کو ظاہر الفاظ اور عموم اطلاق ہی پر باقی رکھا ہے، اس لیے کہ کسی حکمِ قرآنی کو ظاہر سے پھیرنے اور عام کو خاص کرنے کے لیے دلیل کی ضرورت ہے، اور یہاں سرے سے کوئی دلیل ہے ہی نہیں۔ قرآن بھیجنے والے سے بڑھ کر صاحبِ حکمت مُقَنِّن کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا۔ وہ خود اپنے حکم میں کسی استثنا یا تخصیص کی ضرورت سمجھتا ہو تو وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ (المائدہ 5:5) کے ساتھ کوئی قید ضرور بڑھاتا۔ اس کی شانِ تشریع سے یہ امر بہت بعید ہے کہ وہ قانونی احکام کے بیان میں اتنی چست زبان بھی استعمال نہ کر سکے جتنی دُنیا کے واضعینِ قانون استعمال کر لیتے ہیں۔ کس طرح ممکن ہے کہ اس کا مقصد تو اہل کتاب کے کسی خاص گروہ کو حلال کرنا ہو، اور وہ بیانِ حکم کے لیے الفاظ ایسے منتخب کرے جو تمام اہلِ کتاب کے لیے عام ہوں، اور جن میں استثنا اور تخصیص کے لیے قطعاً کوئی اشارہ تک نہ ہو، یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام اور تابعین اور ائمہ سلف نے عموماً اس آیت کو اہلِ کتاب کی عورتوں سے نکاح کی عام اجازت پر محمول کیا ہے، اور صرف محمول ہی نہیں کیا ہے، بلکہ اس کے مطابق عمل بھی کیا ہے۔ چنانچہ حضرت عثمانؓ بن عفان نے نائلہ بنت فرافصہ کلبیہ سے نکاح کیا، جو نصرانیہ تھی۔ حضرت طلحہ بن عبید اللہ نے ایک شامی یہودیہ سے نکاح کیا۔ حذیفہ بن الیمان اور کعب بن مالک اور مغیرہ بن شعبہ وغیرہم نے بھی کتابیات سے نکاح کیے یا ان کو نکاح کے پیغام دیے۔