نکاحِ کتابیہ
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ایک مفصل فقہی مقالہ ہے جس میں مولانا مودودی اہلِ کتاب کی عورتوں سے نکاح کے مسئلے پر تفصیلی بحث کرتے ہیں۔ وہ سب سے پہلے صحابہ و تابعین کے اس مسئلے پر اختلافات کا جائزہ لیتے ہیں، خصوصاً حضرت ابن عمرؓ اور حضرت ابن عباسؓ کے محدود کن مسالک کا تنقیدی تجزیہ کرتے ہیں، اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ جمہور صحابہ و ائمہ کے نزدیک آیتِ زیرِ بحث کا حکم عام ہے۔
اس کے بعد وہ "محصنات" اور "اہلِ کتاب" کی اصطلاحات کی مختلف تعبیرات پر بحث کرتے ہوئے راجح مسلک متعین کرتے ہیں، اور آخر میں نکاح کے اسلامی تصور کی وضاحت کرتے ہیں کہ یہ محض ایک عمرانی معاہدہ نہیں بلکہ ایک روحانی و مذہبی تقدس کا حامل رشتہ بھی ہے، جس کے ساتھ ساتھ وہ مخلوط شادیوں کے تمدنی نقصانات اور نکاحِ کتابیہ کی شرعی اجازت و کراہت کے پہلوؤں پر بھی نظر ڈالتے ہیں۔
نکاح کے متعلق اسلامی نقطۂ نظر
شریعتِ اسلامیہ میں نکاح کی حیثیت محض ایک عمرانی معاہدہ (social contract) ہی کی نہیں ہے، جیسا کہ بعض لوگ آج کل تعبیر کر رہے ہیں، بلکہ اس میں ایک مذہبی تقدس کی شان بھی ہے۔ یہ تقدس ہندوؤں اور عیسائیوں کے نکاح کی طرح (sacrament) کی حد تک تو نہیں پہنچتا، مگر عبادت کی حد تک ضرور پہنچ جاتا ہے۔ شارع اس سے نہ صرف تمدنی و عمرانی فوائد حاصل کرنا چاہتا ہے بلکہ دینی و رُوحانی فوائد بھی چاہتا ہے۔ اس سے اخلاق کی اصلاح مقصود ہے۔ سوسائٹی کی پاکیزگی مقصود ہے۔ ایک خالص اسلامی نظامِ معاشرت کا بقا و دوام اور نشو و ارتقا مقصود ہے۔ دنیا میں خدا کا نام لینے والی اور کلمۃ اللہ کو بلند کرنے والی نسلیں پیدا کرنا مقصود ہے۔ ان مقاصد میں مددگار ہونے ہی کی وجہ سے نکاح کو عبادات کے قریب جگہ دی گئی ہے۔ بعض فقہائے اسلام نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ بعض حیثیات سے نکاح کو جہاد پر بھی فضیلت ہے، کیونکہ نکاح اور جہاد دونوں وجودِ مسلم اور وجودِ اسلام کے اسباب ہیں، مگر جو کچھ افراد مسلمین کی مناکحت سے حاصل ہوتا ہے، وہ اس سے بدرجہا زیادہ ہے، جو جہاد سے حاصل ہوتا ہے۔ جہاد میں تو زیادہ تر امکان اس کا ہے کہ کفار قتل ہوں گے یا ذمّی بن کر حالتِ کفر ہی میں رہیں گے۔ بخلاف اس کے اہلِ اسلام کی شادیوں کا خالص نتیجہ یہ ہے کہ اس سے مسلمانوں کی ایک نسل کے اخلاق محفوظ ہوں گے اور دوسری نسل متبعینِ اسلام کی وجود میں آئے گی۔
اس باب میں اسلام کے نقطۂ نظر کو پوری طرح سمجھنے کے لیے اُن احادیث پر ایک نگاہ ڈالنی چاہیے جو نبیؐ سے نکاح کے متعلق مروی ہیں۔ ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے کہ نبیؐ نے ایک مرتبہ عکاف بن وداعۃ الہلالی سے پوچھا: کیا تمھاری شادی ہوچکی ہے؟ انھوں نے کہا: نہیں! آپؐ نے پوچھا: لونڈی بھی نہیں؟ انھوں نے کہا: نہیں! آپؐ نے دریافت کیا: کیا تم تندرست اور خوش حال ہو؟ انھوں نے عرض کیا: ہاں! آپؐ نے فرمایا: تب تو تم شیطان کے بھائیوں میں سے ہو یا عیسائیوں میں سے۔ اگر تم ہماری جماعت میں شامل ہونا چاہتے ہو، تو وہی کرو جو ہم کرتے ہیں۔ اور ہمارے طریقوں میں سے ایک نکاح بھی ہے۔ تم میں بدترین لوگ وہ ہیں جو مجرّد رہتے ہیں اور تمھارے مرنے والوں میں بدترین وہ ہیں جو مجرّد مرتے ہیں۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ <<تناکحوا تناسلوا تکثروا فانی مکاثر بکم الامم یوم القیمۃ>>۔ ’’نکاح کرو، نسلیں بڑھاؤ، اپنی تعداد میں اضافہ کرو، کیونکہ میں قیامت کے روز تمام اُمتوں کے مقابلے میں تمھاری تعداد زیادہ دیکھنا چاہتا ہوں‘‘۔
ایک موقع پر فرمایا: <<اربع من اعطیہن فقد اعطی خیر الدنیا والآخرۃ قلبا شاکرا ولسانا ذاکرا وَبَدَنًا علی البلاء صابرا وزوجۃ لا تبغیہ خونا فی نفسہا ومالہ>>۔ (رواہ الطبرانی فی الکبیر والاوسط) چار چیزیں ہیں کہ جس کو وہ دی گئیں اسے دنیا اور آخرت کی ساری بھلائی دے دی گئی۔ ایک وہ دل کہ خدا جو کچھ دے اس پر وہ شکر ادا کرے! دوسرے وہ زبان جو خدا کا ذکر کرنے والی ہو، تیسرے وہ بدن جو مصیبتوں کے مقابلے میں ٹھیرنے کی قوت رکھتا ہو۔ چوتھے وہ بیوی جو شوہر کے مال اور اپنی عصمت میں کسی خیانت کی طرف مائل نہ ہو۔
ایک اور موقع پر ارشاد ہوا: << من اراد ان يلقی الله طاهرا مطهرا فليتزوج الحرائر >> (ابن ماجہ) جو کوئی اللہ سے پاک صاف ملنا چاہتا ہو اسے شریف عورتوں سے شادی کرنی چاہیے۔
ایک دوسری حدیث میں ہے: << لا تزوجوا النساء لحسنهن فعسى حسنهن ان يرديهن ولا تزوجوهن لاموالهن فعسى اموالهن ان تطغيهن ولكن تزوجوهن على الدين فلامة خرقاء سوداء ذات دين افضل. >> (ابن ماجہ) عورتوں سے اُن کے حسن کی خاطر شادیاں نہ کرو۔ ممکن ہے کہ ان کا حسن ان کو بگاڑ دے۔ اور تم ان کے مال و دولت کی خاطر بھی شادیاں نہ کرو۔ ہو سکتا ہے کہ ان کے اموال ان کو سرکش بنا دیں۔ تم کو اُن میں جو چیز دیکھنی چاہیے وہ دین ہے۔ ایک کالی کلوٹی کم عقل لونڈی بھی اگر دین دار ہو تو وہ دوسری عورتوں سے افضل ہے۔
اسی قسم کی بہت سی احادیث ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں نکاح کی اہمیت صرف ایک تمدنی ضرورت کو پورا کرنے ہی کے لیے نہیں ہے، بلکہ سب سے بڑا مقصد تحصینِ نفس، اور طہارتِ اخلاق، اور تہذیبِ اسلامی کا فروغ، اور خالص مسلمان نسلیں پیدا کرنا ہے۔ اور ان اغراض کے لیے صرف یہی کافی نہیں ہے کہ مسلمان نکاح کریں، بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ ان کے نکاح ایسی عورتوں سے ہوں جو مسلمان ہوں، دین دار ہوں، شریف اور باعصمت ہوں۔ کیونکہ ایک صالح اسلامی سوسائٹی ایسے ہی مردوں اور عورتوں کے ازدواج سے وجود میں آ سکتی ہے، اور ایک صالح مسلمان نسل ایسی ہی ماؤں کے پیٹ سے پیدا ہو سکتی ہے۔