مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

نکاحِ کتابیہ

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ایک مفصل فقہی مقالہ ہے جس میں مولانا مودودی اہلِ کتاب کی عورتوں سے نکاح کے مسئلے پر تفصیلی بحث کرتے ہیں۔ وہ سب سے پہلے صحابہ و تابعین کے اس مسئلے پر اختلافات کا جائزہ لیتے ہیں، خصوصاً حضرت ابن عمرؓ اور حضرت ابن عباسؓ کے محدود کن مسالک کا تنقیدی تجزیہ کرتے ہیں، اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ جمہور صحابہ و ائمہ کے نزدیک آیتِ زیرِ بحث کا حکم عام ہے۔

اس کے بعد وہ "محصنات" اور "اہلِ کتاب" کی اصطلاحات کی مختلف تعبیرات پر بحث کرتے ہوئے راجح مسلک متعین کرتے ہیں، اور آخر میں نکاح کے اسلامی تصور کی وضاحت کرتے ہیں کہ یہ محض ایک عمرانی معاہدہ نہیں بلکہ ایک روحانی و مذہبی تقدس کا حامل رشتہ بھی ہے، جس کے ساتھ ساتھ وہ مخلوط شادیوں کے تمدنی نقصانات اور نکاحِ کتابیہ کی شرعی اجازت و کراہت کے پہلوؤں پر بھی نظر ڈالتے ہیں۔

ابن عباسؓ کا مسلک

ابن عمرؓ کے بعد دوسرے صحابی جنھوں نے نکاح کتابیات کی اجازت کو محدود کرنے کی کوشش کی ہے، ابن عباسؓ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ حکم صرف ذمی عورتوں کے ساتھ مخصوص ہے۔ نصاریٰ اور یہود میں جو لوگ اسلامی سلطنت کی رعایا ہوں صرف اُنھی کی عورتوں سے نکاح کیا جاسکتا ہے، خواہ ان کے اعتقادات میں کیسا ہی فساد ہو۔ رہے اہل حرب (یعنی وہ لوگ جو حدود دارالاسلام سے باہر رہتے ہوں) تو ان کی عورتوں سے نکاح جائز نہیں۔ دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے اس گروہ سے جنگ کا حکم دیا ہے: <<قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ>> (التوبہ 29:9) نیز یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ خدا اور رسول کے دشمن ہوں، ان سے محبت رکھنا اہلِ ایمان کا کام نہیں ہے۔ <<لَا تَجِدُ قَوْمًا يُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ........ يُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ>> (المجادلہ 22:58) دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے ازدواجی تعلق کی بنیاد جس چیز پر رکھی ہے وہ مودّت اور رحمت کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ <<خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً>> (الروم 21:30) پس جب نکاح کا تعلق محبت و اخلاص کا مقتضی ہے، اور حربی مشرکین و اہلِ کتاب سے محبت رکھنا حرام، اور جنگ کرنا مامور بہ، تو لازم آیا کہ ان کی عورتوں سے نکاح کرنا جائز نہ ہو۔

یہ ہے ابن عباسؓ کا استدلال، مگر ابن عمرؓ کی طرح ان کی اس رائے کو بھی جمہور صحابہ و تابعین و ائمہ مجتہدین نے تسلیم نہیں کیا۔ اگرچہ دارالحرب اور دارالکفر کی رہنے والی کتابی عورت سے نکاح کو بالاتفاق سب مکروہ قرار دیتے ہیں، لیکن اس کی حرمت کا کوئی بھی قائل نہ ہوا۔ کیونکہ وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ کی اجازت حربی اور غیر حربی سب کو شامل ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ نے کوئی قید نہیں رکھی ہے۔ پس جہاں تک قانونی جواز کا تعلق ہے، اس کو ٹھیک اسی عموم پر باقی رکھنا چاہیے جو آیت قرآنی میں پایا جاتا ہے۔ رہا قومی مصالح یا شخصی حالات کے لحاظ سے نکاح کا مناسب نہ ہونا اور اس کا لائق پرہیز ہونا تو یہ بالکل ایک دوسری چیز ہے۔ ہم جائز کو ناجائز نہیں کر سکتے۔ البتہ یہ حق ہم کو حاصل ہے کہ جو فعل جائز کسی خاص حالت میں یا کسی خاص وجہ سے ہمارے لیے مناسب نہ ہو، اس سے ہم پرہیز کریں، کیونکہ جواز کے معنی امر اور لزوم کے نہیں ہیں۔