مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

معاشیات اسلام

اشاعت: 1969ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "معاشیات اسلام" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ جامع تصنیف ہے جو اسلام کے معاشی نظام کو ایک مکمل، متوازن اور عملی ضابطۂ حیات کے طور پر پیش کرتی ہے۔ یہ کتاب دراصل ان تحریروں کا مرتب شدہ مجموعہ ہے جو گزشتہ تین دہائیوں میں مختلف مواقع پر لکھی گئیں اور جن کا مقصد عصرِ حاضر کے معاشی بحران کی جڑوں کو سمجھنا اور اس کا اسلامی حل پیش کرنا تھا۔ مولانا صاحب کا بنیادی موقف یہ ہے کہ موجودہ معاشی اضطراب کی وجہ محض پیداوار یا تقسیم کے مسائل نہیں بلکہ نقطۂ آغاز اور سمتِ سفر میں غلطی ہے؛ انسان نے معاشیات کو زندگی کے دیگر شعبوں — خصوصاً اخلاق، عقیدہ اور سیاست — سے الگ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں وہ ایک خشک، بے روح اور انسانیت سوز نظام بن چکی ہے۔

باب اوّل (دیباچہ، پیش لفظ اور مقدمہ) میں مصنف نے کتاب کی تدوین کا پس منظر بیان کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اسلام کا مقصد نہ تو پیداوار کے طریقوں کی تفصیل ہے اور نہ ہی دولت کی گردش کے میکانزمز کی وضاحت، بلکہ اس کا اصل ہدف یہ ہے کہ معاشی زندگی انصاف، راستی اور اخلاقی ذمہ داری کے اصولوں پر قائم رہے۔ اسی باب میں مصنف انسان کے معاشی مسئلے کی نوعیت کو نفسِ انسانی کے اخلاقی انحطاط سے جوڑتے ہوئے سرمایہ پرستی، اشتراکیت اور فاشزم کے تجویز کردہ حل کا جائزہ لیتے ہیں اور اسلام کے حل — حصولِ دولت، حقوقِ ملکیت اور اصولِ صرف کے بنیادی اصولوں — کی وضاحت کرتے ہیں۔

اس کے بعد کے ابواب کتاب کو گیارہ ابواب کی تفصیلی عمارت میں مکمل کرتے ہیں۔ باب دوم قرآن کی معاشی تعلیمات کو بائیس نکات کی صورت میں مرتب کرتا ہے—حلال و حرام کسبِ مال کی حدود، شخصی ملکیت کا اثبات، بخل و اکتناز کی ممانعت، زکوٰۃ کی شرح اور مصارف، میراث اور وصیت کے قوانین سے لے کر ٹیکس کے اصولی ضابطے تک؛ باب سوم اسی بنیاد پر سرمایہ داری اور اسلام کے فرق کو نمایاں کرتا ہے، اور باب چہارم و پنجم اسلامی نظمِ معیشت کے مقاصد—انسانی آزادی، منصفانہ تقسیم اور اعتدال—کو اصولی طور پر بیان کرتے ہیں۔

باب ششم زمین کی ملکیت، جاگیروں اور بٹائی کے مسائل کو تفصیل سے دیکھتا ہے، جبکہ باب ہفتم کتاب کا سب سے طویل حصہ ہے جو سود کے مفہوم، اس کی حرمت کی علت، اس کی نام نہاد معاشی ضرورت کے عقلی تجزیے، اور سود کے بغیر بینکاری و مالیات کے متبادل نظام پر مشتمل ہے۔ باب ہشتم زکوٰۃ کے جدید نوعیت کے مسائل (جیسے کمپنیوں کے حصص اور شرکت و مضاربت میں زکوٰۃ) کا احاطہ کرتا ہے، باب نہم سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں کو مسترد کرتے ہوئے عدلِ اجتماعی کا اسلامی تصور پیش کرتا ہے، اور آخری دو ابواب—مزدوروں، انشورنس اور قیمتوں پر کنٹرول کے مسائل، اور معاشی قوانین کی جدید تدوین کے اصول—کتاب کو عملی اطلاق کی سطح پر لے آتے ہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

متعلقہ نظامات: دیگر

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"معاشیاتِ اسلام" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی معاشیات پر سب سے جامع تصنیف ہے — دائرہ کار میں "سود" سے کہیں وسیع، اگرچہ دونوں کافی حد تک ہم آہنگ ہیں۔ جہاں "سود" سود کے خلاف ایک مرکوز مقدمہ پیش کرتی ہے، یہ کتاب ایک مکمل متبادل معاشی نظام وضع کرنے کی کوشش کرتی ہے: ملکیت، تقسیم، ٹیکس، اور ریاست کا کردار۔

اس کے گیارہ ابواب تشخیص سے نظام تک آگے بڑھتے ہیں: ابتدائی ابواب "انسان کے معاشی مسئلے" کو بیان کرتے ہیں اور سرمایہ داری، اشتراکیت اور فاشزم کو رد کرتے ہیں؛ اگلے ابواب قرآن کی معاشی تعلیمات کا آیت بہ آیت جائزہ لیتے ہیں — نجی ملکیت کا جواز، بخل کی ممانعت، زکوٰۃ، قانونِ وراثت، اور ٹیکس؛ ایک حصہ زمین کی ملکیت پر بحث کرتا ہے؛ ایک پورا باب حرمتِ سود کو دہراتا ہے؛ مزید ابواب مزدوروں کے تنازعات، انشورنس اور قیمتوں کے کنٹرول کو تازہ اجتہاد کی ضرورت کے طور پر لیتے ہیں؛ اور کتاب ان شرائط پر ختم ہوتی ہے جن کے تحت اسلامی معاشی قانون کو جدید حالات کے لیے مدون کیا جا سکتا ہے۔

اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ "سود" کے ساتھ، یہ کتاب بھی میدانِ "اسلامی معاشیات" کی بنیادی متون میں سے ہے۔ مطالعاتی حلقے کو یہ جانچنا چاہیے کہ کتاب کی تنقید حقیقی معاشی لٹریچر سے مکالمہ کرتی ہے یا انتہائی شکلوں سے، اور کیا "حدود کے ساتھ نجی ملکیت" کی ترکیب نے ایک مربوط پالیسی پروگرام پیدا کیا ہے یا محض اخلاقی اصولوں کا مجموعہ رہ گئی ہے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. تیسرا راستہ: کیا مولانا کی تجویز کردہ ترکیب واقعی سرمایہ داری و اشتراکیت کے مسائل سے بچ نکلتی ہے؟
  2. حقیقی معاشیات سے مکالمہ: کیا کتاب کی تنقید سنجیدہ معاشی نظریے سے مکالمہ کرتی ہے، یا عوامی شکلوں سے؟
  3. مالی پالیسی کے طور پر زکوٰۃ: مولانا کے بیان کردہ شرح میں زکوٰۃ جدید ٹیکس نظاموں سے کیسے موازنہ رکھتی ہے؟
  4. زمین کی ملکیت: کتاب زمین کی ملکیت کے بارے میں کیا کہتی ہے، اور یہ جدید زمینی اصلاحات کی بحثوں پر کیسے لاگو ہوتی ہے؟
  5. سود پر دوبارہ نظر: اس کتاب کا سود پر باب "سود" کی مفصل بحث سے کیسے موازنہ رکھتا ہے؟
  6. انشورنس اور قیمتوں کا کنٹرول: کتاب انہیں تازہ اجتہاد کی ضرورت کے طور پر پیش کرتی ہے۔ یہ کیا ظاہر کرتا ہے؟
  7. اصول سے پالیسی تک: کیا "اسلامی معاشیات" نے کوئی قابلِ آزمائش پالیسی پروگرام پیدا کیا ہے؟
  8. تقابلی مطالعہ: اس کتاب کا تصور خود ساختہ اسلامی ریاستوں کی حقیقی معاشی پالیسی سے کیسے موازنہ رکھتا ہے؟

(۳)سُود کے مفسدات

<<فَمَنْ جَاۗءَہٗ مَوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ فَانْــتَہٰى فَلَہٗ مَا سَلَـفَ۝۰ۭ وَاَمْرُہٗٓ اِلَى اللہِ۝۰ۭ وَمَنْ عَادَ فَاُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ۝۰ۚ ھُمْ فِيْہَا خٰلِدُوْنَo يَمْحَقُ اللہُ الرِّبٰوا وَيُرْبِي الصَّدَقٰتِ۝۰ۭ وَاللہُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِيْمٍo>> البقرہ 275,276:2

لہٰذا جس شخص کو اس کے رب کی طرف سے یہ نصیحت پہنچے اور آئندہ کے لیے وہ سود خوری سے باز آجائے تو وہ جو کچھ پہلے کھا چکا سو کھا چکا، اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے، اور جو اس کے حکم کے بعد پھر اس حرکت کا اعادہ کرے وہ جہنمی ہے، جہاں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اللہ سود کا مَٹھ مار دیتا ہے اور صدقات کو نشوونما دیتا ہے، اور اللہ کسی ناشکرے بدعمل انسان کو پسند نہیں کرتا۔

اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ جو کچھ سود خور نے پہلے کھالیا اسے اللہ معاف کر دے گا بلکہ ارشاد یہ فرمایا کہ اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ اس فقرے سے معلوم ہوتا ہے کہ ’’جو کھا چکا سو کھا چکا‘‘ کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو کھا چکا اسے معاف کر دیا گیا، بلکہ اس سے مخصوص قانونی رعایت مراد ہے۔ جو سود پہلے کھایا جا چکا ہے اس کو واپس دینے کا قانوناً مطالبہ نہیں کیا جائے گا، کیوں کہ اگر اس کا مطالبہ کیا جائے تو مقدمات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو جائے جو کہیں جا کر ختم نہ ہو۔ مگر اخلاقی حیثیت سے اس مال کی نجاست بدستور باقی رہے گی جو کسی شخص نے سودی کاروبار سے سمیٹا ہو۔ اگر وہ حقیقت میں خدا سے ڈرنے والا ہوگا اور اس کا معاشی و اخلاقی نقطۂ نظر واقعی اسلام قبول کرنے سے تبدیل ہو چکا ہوگا تو وہ خود اپنی اس دولت کو جو حرام ذرائع سے آئی تھی اپنی ذات پر خرچ کرنے سے پرہیز کرے گا اور کوشش کرے گا کہ جہاں تک ان حقداروں کا پتہ چلایا جاسکتا ہے جن کا مال اس کے پاس ہے اس حد تک ان کا مال انھیں واپس کر دے اور جس حصۂ مال کے مستحقین کی تحقیق نہ ہوسکے اسے اجتماعی فلاح و بہبود پر صرف کرے۔ یہی عمل اسے خدا کی سزا سے بچا سکے گا۔ رہا وہ شخص جو پہلے کمائے ہوئے مال سے بدستور لطف اٹھاتا رہے تو بعید نہیں کہ وہ اپنی اس حرام خوری کی سزا پا کر رہے۔

اس آیت میں ایک ایسی صداقت بیان کی گئی ہے جو اخلاقی اور روحانی حیثیت سے بھی سراسر حق ہے اور معاشی اور تمدنی حیثیت سے بھی۔ اگرچہ بظاہر سود سے دولت بڑھتی نظر آتی ہے اور صدقات سے گھٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہے لیکن درحقیقت معاملہ اس کے برعکس ہے۔ خدا کا قانونِ فطرت یہی ہے کہ سود اخلاقی و روحانی اور معاشی و تمدنی ترقی میں نہ صرف مانع ہوتا ہے بلکہ تنزل کا ذریعہ بنتا ہے اور اس کے برعکس صدقات سے (جن میں قرضِ حسن بھی شامل ہے) اخلاق و روحانیت اور تمدن و معیشت ہر چیز کو نشوونما نصیب ہوتا ہے۔

اخلاقی و روحانی حیثیت سے دیکھیے تو یہ بات بالکل واضح ہے کہ سود دراصل خود غرضی، بخل، تنگ دلی اور سنگ دلی جیسی صفات کا نتیجہ ہے اور وہ انھی صفات کو انسان میں نشوونما بھی دیتا ہے۔ اس کے برعکس صدقات نتیجہ ہیں فیاضی، ہمدردی، فراخ دلی اور عالی ظرفی جیسی صفات کا، اور صدقات پر عمل کرتے رہنے سے یہی صفات انسان کے اندر پرورش پاتی ہیں۔ کون ہے جو اخلاقی صفات کے ان دونوں مجموعوں میں سے پہلے مجموعے کو بدترین اور دوسرے کو بہترین نہ مانتا ہو؟

تمدنی حیثیت سے دیکھیے تو بادنیٰ تامل یہ بات ہر شخص کی سمجھ میں آجائے گی کہ جس سوسائٹی میں افراد ایک دوسرے کے ساتھ خود غرضی کا معاملہ کریں، کوئی شخص اپنی ذاتی غرض اور ذاتی فائدے کے بغیر کسی کے کام نہ آئے، ایک آدمی کی حاجتمندی کو دوسرا آدمی اپنے لیے نفع اندوزی کا موقع سمجھے اور اس کا پورا فائدہ اٹھائے، اور مالدار طبقوں کا مفاد عامۃ الناس کے مفاد کی ضد ہو جائے، ایسی سوسائٹی کبھی مستحکم نہیں ہوسکتی۔ اس کے افراد میں آپس کی محبت کے بجائے باہمی بغض و حسد اور بے دردی و بے تعلقی نشوونما پائے گی۔ اس کے اجزاء ہمیشہ انتشار و پراگندگی کی طرف مائل رہیں گے۔ اور اگر دوسرے اسباب بھی اس صورت حال کے لیے مددگار ہو جائیں تو ایسی سوسائٹی کے اجزاء کا باہم متصادم ہو جانا بھی کچھ مشکل نہیں ہے۔ اس کے برعکس جس سوسائٹی کا اجتماعی نظام آپس کی ہمدردی پر مبنی ہو، جس کے افراد ایک دوسرے کے ساتھ فیاضی کا معاملہ کریں، جس میں ہر شخص دوسرے کی حاجت کے موقع پر فراخ دلی کے ساتھ مدد کا ہاتھ بڑھائے، اور جس میں باوسیلہ لوگ بے وسیلہ لوگوں سے ہمدردانہ اعانت یا کم از کم منصفانہ تعاون کا طریقہ برتیں، ایسی سوسائٹی میں آپس کی محبت، خیر خواہی اور دلچسپی نشوونما پائے گی، اس کے اجزاء ایک دوسرے کے ساتھ پیوستہ اور ایک دوسرے کے پشتیبان ہوں گے، اس میں اندرونی نزاع و تصادم کو راہ پانے کا موقع نہ مل سکے گا، اس میں باہمی تعاون اور خیر خواہی کی وجہ سے ترقی کی رفتار پہلی سوسائٹی کی بہ نسبت بہت زیادہ تیز ہوگی۔

اب معاشی حیثیت سے دیکھیے۔ معاشیات کے نقطۂ نظر سے سودی قرض کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ قرض جو اپنی ذاتی ضروریات پر خرچ کرنے کے لیے مجبور اور حاجت مند لوگ لیتے ہیں ۔ دوسرا وہ قرض جو تجارت و صنعت و حرفت اور زراعت وغیرہ کے لیے کاموں پر لگانے کے لیے پیشہ ور لوگ لیتے ہیں ۔ ان میں سے پہلی قسم کے قرض کو تو ایک دنیا جانتی ہے کہ اس پر سود وصول کرنے کا طریقہ نہایت تباہ کن ہے۔ دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں ہے جس میں مہاجن افراد اور مہاجنی ادارے اس ذریعے سے غریب مزدوروں، کاشتکاروں اور قلیل المعاش عوام کا خون نہ چوس رہے ہوں۔ سود کی وجہ سے اس قسم کا قرض ادا کرنا ان لوگوں کے لیے سخت مشکل بلکہ بسا اوقات ناممکن ہو جاتا ہے۔ پھر ایک قرض کو ادا کرنے کے لیے دوسرا اور تیسرا قرض لیتے چلے جاتے ہیں۔ اصل رقم سے کئی گنا سود دے چکنے پر بھی اصل رقم جوں کی توں موجود رہتی ہے۔ محنت پیشہ آدمی کی محنت کا بیشتر حصہ مہاجن لے جاتا ہے اور اس غریب کی اپنی کمائی میں سے اس کے پاس اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے بھی کافی روپیہ نہیں بچتا۔ یہ چیزیں رفتہ رفتہ اپنے کام سے کارکنوں کی دلچسپی ختم کر دیتی ہے، کیوں کہ جب ان کی محنت کا پھل دوسرا لے اڑے تو وہ کبھی دل لگا کر کام نہیں کرسکتے۔ پھر سودی قرض کے جال میں پھنسے ہوئے لوگوں کو ہر وقت کی فکر اور پریشانی اس قدر گھلا دیتی ہے اور تنگدستی کی وجہ سے ان کے لیے صحیح غذا اور علاج اس قدر مشکل ہو جاتا ہے کہ ان کی صحتیں کبھی درست نہیں رہ سکتیں۔ اسی سودی قرض کا حاصل یہ بھی ہوتا ہے کہ چند افراد تو لاکھوں آدمیوں کا خون چوس چوس کر موٹے ہوتے رہتے ہیں مگر بحیثیت مجموعی پوری قوم کی پیدائش دولت اپنے امکانی معیار کی نسبت بہت گھٹ جاتی ہے اور مآلِ کار میں خود وہ خون چوسنے والے افراد بھی اس کے نقصانات سے نہیں بچ سکتے۔ کیوں کہ ان کی اس خود غرضی سے غریب عوام کو جو تکلیفیں پہنچتی ہیں ان کی بدولت مال دار لوگوں کے خلاف غصے اور نفرت کا ایک طوفان دلوں میں اٹھتا اور گھٹتا رہتا ہے اور کسی انقلابی ہیجان کے موقع پر جب یہ آتش فشاں پھٹتا ہے تو ان ظالم مالداروں کو اپنے مال کے ساتھ اپنی جان اور آبرو تک سے ہاتھ دھونے پڑ جاتے ہیں۔

رہا دوسری قسم کا قرض جو کاروبار میں لگانے کے لیے لیا جاتا ہے تو اس پر ایک مقررہ شرح سود کے عائد ہونے سے بے شمار نقصانات پہنچتے ہیں۔ ان میں سے چند نمایاں ترین یہ ہیں:

۱۔ جو کام رائج الوقت شرح سود کے برابر نفع نہ لاسکتے ہوں، چاہے وہ ملک اور قوم کے لیے کتنے ہی ضروری اور مفید ہوں، ان پر لگانے کے لیے روپیہ نہیں ملتا، اور ملک کے تمام مالی وسائل کا بہائو ایسے کاموں کی طرف ہو جاتا ہے جو بازار کی شرح سود کے برابر یا اس سے زیادہ نفع لاسکتے ہوں، چاہے اجتماعی حیثیت سے ان کی ضرورت اور ان کا فائدہ بہت کم ہو یا کچھ بھی نہ ہو۔

۲۔ جن کاموں کے لیے سود پر سرمایہ ملتا ہے خواہ وہ تجارتی کام ہوں یا صنعتی یا زراعتی، ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جس میں اس امر کی ضمانت موجود ہو کہ ہمیشہ تمام حالات میں اس کا منافع ایک مقررہ معیار، مثلاً پانچ چھ یا دس فیصدی تک یا اس سے اوپر اوپر ہی رہے گا اور کبھی اس سے نیچے نہیں گرے گا۔ اس کی ضمانت ہونا تو درکنار کسی کاروبار میں سرے سے اسی بات کی کوئی ضمانت موجود نہیں ہے کہ اس میں ضرور منافع ہی ہوگا، نقصان کبھی نہیں ہوگا۔ لہٰذا کسی کاروبار میں ایسے سرمائے کا لگنا جس میں سرمایہ دار کو ایک مقرر شرح کے مطابق منافع دینے کی ضمانت دی گئی ہو نقصان اور خطرے کے پہلوئوں سے کبھی خالی نہیں ہوسکتا۔

۳۔ چونکہ سرمایہ دینے والا نفع و نقصان میں شامل نہیں ہوتا، بلکہ صرف منافع اور وہ بھی ایک مقرر شرح منافع کی ضمانت پر روپیہ دیتا ہے، اس وجہ سے کاروبار کی بھلائی اور برائی سے اس کو کسی قسم کی دلچسپی نہیں ہوتی۔ وہ انتہائی خود غرضی کے ساتھ صرف اپنے منافع پر نگاہ رکھتا ہے، اور جب کبھی اسے ذرا اندیشہ لاحق ہو جاتا ہے کہ منڈی پر کساد بازاری کا حملہ ہونے والا ہے، تو وہ سب سے پہلے اپنا روپیہ کھینچنے کی فکر کرتا ہے۔ اس طرح کبھی تو محض اس کے خود غرضانہ اندیشوں کی بدولت دنیا پر کساد بازاری کا واقعی حملہ ہو جاتا ہے اور کبھی اگر دوسرے اسباب سے کساد بازاری آگئی ہو تو سرمایہ دار کی خود غرضی اس کو بڑھا کر انتہائی تباہ کن حد تک پہنچا دیتی ہے۔

سود کے یہ تین نقصانات تو ایسے صریح ہیں کہ کوئی شخص جو علمِ معیشت سے تھوڑا سا مس بھی رکھتا ہو ان کا انکار نہیں کرسکتا۔اس کے بعد یہ مانے بغیر کیا چارہ ہے کہ فی الواقع اللہ تعالیٰ کے قانونِ فطرت کی رُو سے سود معاشی دولت کو بڑھاتا نہیں گھٹاتا ہے۔

اب ایک نظر صدقات کے معاشی اثرات و نتائج کو بھی دیکھ لیجئے۔ اگر سوسائٹی کے خوش حال افراد کا طریق کار یہ ہو کہ اپنی حیثیت کے مطابق پوری فراخ دلی کے ساتھ اپنی اور اپنے اہل و عیال کی ضروریات خریدیں، پھر جو روپیہ ان کے پاس ان کی ضرورت سے زیادہ بچے اسے غریبوں میں بانٹ دیں تا کہ وہ بھی اپنی ضروریات خرید سکیں، پھر اس پر بھی جو روپیہ بچ جائے اسے یا تو کاروباری لوگوں کو بلاسود قرض دیں، یا شرکت کے اصول پر ان کے ساتھ نفع و نقصان میں حصے دار بن جائیں، یا حکومت کے پاس جمع کرا دیں کہ اجتماعی خدمات کے لیے ان کو استعمال کرے، تو ہر شخص تھوڑ ے سے غور و فکر ہی سے اندازہ کرسکتا ہے کہ ایسی سوسائٹی میں تجارت اور صنعت اور زراعت ہر چیز کو بے انتہا فروغ حاصل ہوگا ۔ اس کے علاوہ افراد کی خوش حالی کا معیار بلند ہوتا چلا جائے گا اور اس میں بحیثیت مجموعی دولت کی پیداوار اس سوسائٹی کی بہ نسبت بدرجہا زیادہ ہوگی جس کے اندر سود کا رواج ہو۔

پھر ایک پہلو اور بھی سامنے رہے۔ ظاہر ہے سود پر روپیہ وہی شخص چلا سکتا ہے جس کو دولت کی تقسیم میں اس کی حقیقی ضرورت سے زیادہ حصہ ملا ہو۔ یہ ضرورت سے زیادہ حصہ جو ایک شخص کو ملتا ہے قرآن کے نقطۂ نظر سے دراصل اللہ کا فضل ہے اور اللہ کے فضل کا صحیح شکریہ ہے کہ جس طرح اللہ نے اپنے بندے پر فضل فرمایا ہے اسی طرح بندہ بھی اللہ کے دوسرے بندوں پر فضل کرے [تفہیم القرآن، جلد اول، ص 213-216]۔