مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

معاشیات اسلام

اشاعت: 1969ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "معاشیات اسلام" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ جامع تصنیف ہے جو اسلام کے معاشی نظام کو ایک مکمل، متوازن اور عملی ضابطۂ حیات کے طور پر پیش کرتی ہے۔ یہ کتاب دراصل ان تحریروں کا مرتب شدہ مجموعہ ہے جو گزشتہ تین دہائیوں میں مختلف مواقع پر لکھی گئیں اور جن کا مقصد عصرِ حاضر کے معاشی بحران کی جڑوں کو سمجھنا اور اس کا اسلامی حل پیش کرنا تھا۔ مولانا صاحب کا بنیادی موقف یہ ہے کہ موجودہ معاشی اضطراب کی وجہ محض پیداوار یا تقسیم کے مسائل نہیں بلکہ نقطۂ آغاز اور سمتِ سفر میں غلطی ہے؛ انسان نے معاشیات کو زندگی کے دیگر شعبوں — خصوصاً اخلاق، عقیدہ اور سیاست — سے الگ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں وہ ایک خشک، بے روح اور انسانیت سوز نظام بن چکی ہے۔

باب اوّل (دیباچہ، پیش لفظ اور مقدمہ) میں مصنف نے کتاب کی تدوین کا پس منظر بیان کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اسلام کا مقصد نہ تو پیداوار کے طریقوں کی تفصیل ہے اور نہ ہی دولت کی گردش کے میکانزمز کی وضاحت، بلکہ اس کا اصل ہدف یہ ہے کہ معاشی زندگی انصاف، راستی اور اخلاقی ذمہ داری کے اصولوں پر قائم رہے۔ اسی باب میں مصنف انسان کے معاشی مسئلے کی نوعیت کو نفسِ انسانی کے اخلاقی انحطاط سے جوڑتے ہوئے سرمایہ پرستی، اشتراکیت اور فاشزم کے تجویز کردہ حل کا جائزہ لیتے ہیں اور اسلام کے حل — حصولِ دولت، حقوقِ ملکیت اور اصولِ صرف کے بنیادی اصولوں — کی وضاحت کرتے ہیں۔

اس کے بعد کے ابواب کتاب کو گیارہ ابواب کی تفصیلی عمارت میں مکمل کرتے ہیں۔ باب دوم قرآن کی معاشی تعلیمات کو بائیس نکات کی صورت میں مرتب کرتا ہے—حلال و حرام کسبِ مال کی حدود، شخصی ملکیت کا اثبات، بخل و اکتناز کی ممانعت، زکوٰۃ کی شرح اور مصارف، میراث اور وصیت کے قوانین سے لے کر ٹیکس کے اصولی ضابطے تک؛ باب سوم اسی بنیاد پر سرمایہ داری اور اسلام کے فرق کو نمایاں کرتا ہے، اور باب چہارم و پنجم اسلامی نظمِ معیشت کے مقاصد—انسانی آزادی، منصفانہ تقسیم اور اعتدال—کو اصولی طور پر بیان کرتے ہیں۔

باب ششم زمین کی ملکیت، جاگیروں اور بٹائی کے مسائل کو تفصیل سے دیکھتا ہے، جبکہ باب ہفتم کتاب کا سب سے طویل حصہ ہے جو سود کے مفہوم، اس کی حرمت کی علت، اس کی نام نہاد معاشی ضرورت کے عقلی تجزیے، اور سود کے بغیر بینکاری و مالیات کے متبادل نظام پر مشتمل ہے۔ باب ہشتم زکوٰۃ کے جدید نوعیت کے مسائل (جیسے کمپنیوں کے حصص اور شرکت و مضاربت میں زکوٰۃ) کا احاطہ کرتا ہے، باب نہم سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں کو مسترد کرتے ہوئے عدلِ اجتماعی کا اسلامی تصور پیش کرتا ہے، اور آخری دو ابواب—مزدوروں، انشورنس اور قیمتوں پر کنٹرول کے مسائل، اور معاشی قوانین کی جدید تدوین کے اصول—کتاب کو عملی اطلاق کی سطح پر لے آتے ہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

متعلقہ نظامات: دیگر

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"معاشیاتِ اسلام" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی معاشیات پر سب سے جامع تصنیف ہے — دائرہ کار میں "سود" سے کہیں وسیع، اگرچہ دونوں کافی حد تک ہم آہنگ ہیں۔ جہاں "سود" سود کے خلاف ایک مرکوز مقدمہ پیش کرتی ہے، یہ کتاب ایک مکمل متبادل معاشی نظام وضع کرنے کی کوشش کرتی ہے: ملکیت، تقسیم، ٹیکس، اور ریاست کا کردار۔

اس کے گیارہ ابواب تشخیص سے نظام تک آگے بڑھتے ہیں: ابتدائی ابواب "انسان کے معاشی مسئلے" کو بیان کرتے ہیں اور سرمایہ داری، اشتراکیت اور فاشزم کو رد کرتے ہیں؛ اگلے ابواب قرآن کی معاشی تعلیمات کا آیت بہ آیت جائزہ لیتے ہیں — نجی ملکیت کا جواز، بخل کی ممانعت، زکوٰۃ، قانونِ وراثت، اور ٹیکس؛ ایک حصہ زمین کی ملکیت پر بحث کرتا ہے؛ ایک پورا باب حرمتِ سود کو دہراتا ہے؛ مزید ابواب مزدوروں کے تنازعات، انشورنس اور قیمتوں کے کنٹرول کو تازہ اجتہاد کی ضرورت کے طور پر لیتے ہیں؛ اور کتاب ان شرائط پر ختم ہوتی ہے جن کے تحت اسلامی معاشی قانون کو جدید حالات کے لیے مدون کیا جا سکتا ہے۔

اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ "سود" کے ساتھ، یہ کتاب بھی میدانِ "اسلامی معاشیات" کی بنیادی متون میں سے ہے۔ مطالعاتی حلقے کو یہ جانچنا چاہیے کہ کتاب کی تنقید حقیقی معاشی لٹریچر سے مکالمہ کرتی ہے یا انتہائی شکلوں سے، اور کیا "حدود کے ساتھ نجی ملکیت" کی ترکیب نے ایک مربوط پالیسی پروگرام پیدا کیا ہے یا محض اخلاقی اصولوں کا مجموعہ رہ گئی ہے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. تیسرا راستہ: کیا مولانا کی تجویز کردہ ترکیب واقعی سرمایہ داری و اشتراکیت کے مسائل سے بچ نکلتی ہے؟
  2. حقیقی معاشیات سے مکالمہ: کیا کتاب کی تنقید سنجیدہ معاشی نظریے سے مکالمہ کرتی ہے، یا عوامی شکلوں سے؟
  3. مالی پالیسی کے طور پر زکوٰۃ: مولانا کے بیان کردہ شرح میں زکوٰۃ جدید ٹیکس نظاموں سے کیسے موازنہ رکھتی ہے؟
  4. زمین کی ملکیت: کتاب زمین کی ملکیت کے بارے میں کیا کہتی ہے، اور یہ جدید زمینی اصلاحات کی بحثوں پر کیسے لاگو ہوتی ہے؟
  5. سود پر دوبارہ نظر: اس کتاب کا سود پر باب "سود" کی مفصل بحث سے کیسے موازنہ رکھتا ہے؟
  6. انشورنس اور قیمتوں کا کنٹرول: کتاب انہیں تازہ اجتہاد کی ضرورت کے طور پر پیش کرتی ہے۔ یہ کیا ظاہر کرتا ہے؟
  7. اصول سے پالیسی تک: کیا "اسلامی معاشیات" نے کوئی قابلِ آزمائش پالیسی پروگرام پیدا کیا ہے؟
  8. تقابلی مطالعہ: اس کتاب کا تصور خود ساختہ اسلامی ریاستوں کی حقیقی معاشی پالیسی سے کیسے موازنہ رکھتا ہے؟

۳۔ خرچ کرنے کا حکم

جمع کرنے کے بجائے اسلام خرچ کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ مگر خرچ کرنے سے اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ آپ عیش و آرام اور گلچھرے اڑانے میں دولت لٹائیں۔ بلکہ وہ خرچ کرنے کا حکم فی سبیل اللہ کی قید کے ساتھ دیتا ہے، یعنی آپ کے پاس اپنی ضروریات سے جو کچھ بچ جائے اس کو جماعت کی بھلائی کے کاموں میں خرچ کر دیں کہ یہی سبیل اللہ ہے:

<<وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ مَاذَا يُنْفِقُوْنَ۝۰ۥۭ قُلِ الْعَفْوَ۝۰ۭ>> البقرہ 219:2

اور وہ تم سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں؟ کہو کہ جو ضرورت سے زائد ہو۔

<<وَّبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا وَّبِذِي الْقُرْبٰى وَالْيَتٰمٰي وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبٰى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَـنْۢبِ وَابْنِ السَّبِيْلِ۝۰ۙ وَمَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ۝۰ۭ>> النساء36:3

اور نیک سلوک کرو اپنے ماں باپ کے ساتھ اور اپنے رشتہ داروں اور نادار مسکینوں اور قرابت دار پڑوسیوں اور اجنبی ہمسایوں اور پاس بیٹھنے والے ساتھیوں اور مسافروں اور اپنے لونڈی غلاموں کے ساتھ۔

<<وَفِيْٓ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ لِّلسَّاۗىِٕلِ وَالْمَحْرُوْمِo>> الذّٰریٰت19:51

اور ان کے مالوں میں سائل اور نادار کا حق ہے۔

یہاںپہنچ کر اسلام کا نقطۂ نظر سرمایہ داری کے نقطۂ نظر سے بالکل مختلف ہو جاتا ہے۔

سرمایہ دار سمجھتا ہے کہ خرچ کرنے سے مفلس ہو جاؤں گا اور جمع کرنے سے مال دار بنوں گا۔ اسلام کہتا ہے خرچ کرنے سے برکت ہوگی، تیری دولت گھٹے گی نہیں بلکہ اور بڑھے گی:

<<اَلشَّيْطٰنُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَاۗءِ۝۰ۚ وَاللہُ يَعِدُكُمْ مَّغْفِرَۃً مِّنْہُ وَفَضْلًا۝۰ۭ>> البقرہ 269:2

شیطان تم کو ناداری کا خوف دلاتا ہے اور (بخل جیسی) شرم ناک بات کا حکم دیتاہے، مگر اللہ تم سے بخشش اور مزید عطا کا وعدہ کرتا ہے۔

سرمایہ دار سمجھتا ہے کہ جو کچھ خرچ کردیا وہ کھویا گیا۔ اسلام کہتا ہے کہ نہیں، وہ کھویا نہیں گیا بلکہ اس کا بہتر فائدہ تمھاری طرف پھر پلٹ کر آئے گا:

<<وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْرٍ يُّوَفَّ اِلَيْكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَo>> البقرہ272:2

اور تم نیک کاموں میں جو کچھ خرچ کرو گے وہ تم کو پورا پورا واپس ملے گا اور تم پر ہر گز ظلم نہ ہوگا۔

<< وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰہُمْ سِرًّا وَّعَلَانِيَۃً يَّرْجُوْنَ تِجَارَۃً لَّنْ تَـبُوْرَo لِيُوَفِّيَہُمْ اُجُوْرَہُمْ وَيَزِيْدَہُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ۝۰ۭ>> فاطر29-30:35

اور جن لوگوں نے ہمارے بخشے ہوئے رزق میں سے کھلے اور چھپے طریقے سے خرچ کیا، وہ ایک ایسی تجارت کی امید رکھتے ہیں جس میں گھاٹا ہر گز نہیں ہے۔ اللہ ان کے بدلے ان کو پورے پورے اجر دے گا بلکہ اپنے فضل سے کچھ زیادہ ہی عنایت کرے گا۔

سرمایہ دار سمجھتا ہے کہ دولت کو جمع کر کے اس کو سود پر چلانے سے دولت بڑھتی ہے۔ اسلام کہتا ہے کہ نہیں، سود سے تو دولت گھٹ جاتی ہے ۔ دولت بڑھانے کا ذریعہ نیک کاموں میں اسے خرچ کرنا ہے:

<<يَمْحَقُ اللہُ الرِّبٰوا وَيُرْبِي الصَّدَقٰتِ۝۰ۭ>> البقرہ 276:2

اللہ سود کا مَٹھ مار دیتا ہے اور صدقات کو نشوونما دیتا ہے۔

<<وَمَآ اٰتَيْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّيَرْبُوَا۟ فِيْٓ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُوْا عِنْدَ اللہِ۝۰ۚ وَمَآ اٰتَيْتُمْ مِّنْ زَكٰوۃٍ تُرِيْدُوْنَ وَجْہَ اللہِ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْمُضْعِفُوْنَo>> الروم39:30

اور یہ جو تم سود دیتے ہو تا کہ لوگوں کے اموال میں اضافہ ہو تو اللہ کے نزدیک وہ ہرگز نہیں بڑھتا۔ بڑھوتری تو ان اموال کو نصیب ہوتی ہے جو تم اللہ کے لیے زکوٰۃ میں دیتے ہو۔

یہ ایک نیا نظریہ ہے جو سرمایہ داری کے نظریے کی بالکل ضد ہے۔ خرچ کرنے سے دولت کا بڑھنا اور خرچ کیے ہوئے مال کا ضائع نہ ہونا بلکہ اس کا پورا پورا بدل کچھ زائد فائدے کے ساتھ واپس آنا، سود سے دولت میں اضافہ ہونے کے بجائے الٹا گھاٹا آنا، زکوٰۃ و صدقات سے دولت میں کمی واقع ہونے کے بجائے اضافہ ہونا، یہ ایسے نظریات ہیں جو بظاہر عجیب معلوم ہوتے ہیں۔ سننے والا سمجھتا ہے کہ شاید ان سب باتوں کا تعلق محض ثوابِ آخرت سے ہوگا۔ اس میں شک نہیں کہ ان باتوں کا تعلق ثوابِ آخرت سے بھی ہے، اور اسلام کی نگاہ میں اصلی اہمیت اسی کی ہے، لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس دنیا میں بھی معاشی حیثیت سے یہ نظریات ایک نہایت مضبوط بنیاد پر قائم ہیں۔ دولت کو جمع کرنے اور اس کو سود پر چلانے کا آخری نتیجہ یہ ہے کہ دولت سمٹ سمٹ کر چند افراد کے پاس اکٹھی ہو جائے۔ جمہور کی قوت خرید (purchasing power) روز بروز گھٹتی چلی جائے۔ صنعت اور تجارت اور زراعت میں کساد بازاری رونما ہو۔ قوم کی معاشی زندگی تباہی کے سرے پر جا پہنچے۔ اور آخرکار خود سرمایہ دار افراد کے لیے بھی اپنی جمع شدہ دولت کو افزائش دولت کے کاموں میں لگانے کا کوئی موقع باقی نہ رہے [اسی بات کی طرف اشارہ ہے اس حدیث میں جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اِنَّ الرِّبٰوا وَاِنْ کَثْرَفَاِنَّ عَاقَبِتَہٗ تَصِیْرَ اِلٰی قَلٍّ (ابن ماجہ۔ بیہقی۔ احمد) یعنی ’’سود اگرچہ کتنا ہی زیادہ ہو مگر انجام کار وہ کمی کی طرف پلٹتا ہے‘‘] بخلاف اس کے خرچ کرنے اور زکوٰۃ و صدقات دینے کا مآل یہ ہے کہ قوم کے تمام افراد تک دولت پھیل جائے، ہر ہر شخص کو کافی قوتِ خرید حاصل ہو۔ صنعتیں پرورش پائیں، کھیتیاں سرسبز ہوں، تجارت کو خوب فروغ ہو، اور چاہے کوئی لکھ پتی اور کروڑ پتی نہ ہو، مگر سب خوش حال و فارغ البال ہوں۔ اس مآل اندیشانہ معاشی نظریے کی صداقت اگر دیکھنی ہو تو امریکہ کے موجودہ معاشی حالات کو دیکھئے [اشارہ ہے اس خوفناک کساد بازاری کی طرف جو اس کتاب کی تصنیف کے زمانے میں رونما تھی] جہاں سود ہی کی وجہ سے تقسیم ثروت کاتوازن بگڑ گیا ہے اور صنعت و تجارت کی کساد بازاری نے قوم کی معاشی زندگی کو تباہی کے سرے پر پہنچا دیا ہے۔ اس کے مقابلے میں ابتدائے عہدِ اسلامی کی حالت کو دیکھئے کہ جب اس معاشی نظریہ کو پوری شان کے ساتھ عملی جامہ پہنایا گیا تو چند سال کے اندر قوم کی خوش حالی اس مرتبے کو پہنچ گئی کہ لوگ زکوٰۃ کے مستحقین کو ڈھونڈتے پھرتے تھے اور مشکل ہی سے کوئی ایسا شخص ملتا تھا جو خود صاحبِ نصاب نہ ہو۔ ان دونوں حالتوں کا موازنہ کرنے سے معلوم ہو جائے گا کہ اللہ کس طرح سود کا مَٹھ مارتا ہے اور صدقات کو نشوونما دیتا ہے۔

پھر اسلام جو ذہنیت پیدا کرتا ہے وہ بھی سرمایہ دارانہ ذہنیت سے بالکل مختلف ہے۔ سرمایہ دار کے ذہن میں کسی طرح یہ تصور سما ہی نہیں سکتا کہ ایک شخص اپنا روپیہ دوسرے کو سود کے بغیر کیسے دے سکتا ہے۔ وہ قرض پر نہ صرف سود لیتا ہے بلکہ اپنے راس المال اور سود کی بازیافت کے لیے قرض دار کے کپڑے اور گھر کے برتن تک قرق کرالیتا ہے۔ مگر اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ حاجت مند کو صرف قرض ہی نہ دو بلکہ اگر وہ تنگ دست ہو تو اس پر تقاضے میں سختی بھی نہ کرو، حتیٰ کہ اگر اس میں دینے کی استطاعت نہ ہو تو معاف کر دو:

<<وَاِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ اِلٰى مَيْسَرَۃٍ۝۰ۭ وَاَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَo>> البقرہ 280:2

اگر قرض دار تنگ دست ہو تو اس کی حالت درست ہونے تک اسے مہلت دے دو، اور اگر معاف کر دو تو یہ تمھارے لیے زیادہ بہتر ہے۔ اس کا فائدہ تم سمجھ سکتے ہو اگر کچھ علم رکھتے ہو۔

سرمایہ داری میں امدادِ باہمی کے معنی یہ ہیں کہ آپ انجمن امدادِ باہمی کو پہلے روپیہ دے کر اس کے رکن بنیـے، پھر اگر کوئی ضرورت آپ کو پیش آئے گی تو انجمن آپ کو عام بازاری شرح سود سے کچھ کم پر قرض دے دے گی۔ اگر آپ کے پاس روپیہ نہیں ہے تو ’’امداد باہمی‘‘ سے آپ کچھ بھی امداد حاصل نہیں کرسکتے۔ برعکس اس کے اسلام کے ذہن میں امدادِ باہمی کا تصور یہ ہے کہ جو لوگ ذی استطاعت ہوں وہ ضرورت کے وقت اپنے کم استطاعت بھائیوں کو نہ صرف قرض دیں بلکہ قرض ادا کرنے میں بھی حسبتہً للہ ان کی مدد کریں۔ چنانچہ زکوٰۃ کے مصارف میں سے ایک مصرف وَالْغَارِمِیْن بھی ہے، یعنی قرض داروں کے قرض ادا کرنا۔

سرمایہ دار اگر نیک کاموں میں خرچ کرتا ہے تو محض نمائش کے لیے، کیوں کہ اس کم نظر کے نزدیک اس خرچ کا کم سے کم یہ معاوضہ تو اس کو حاصل ہونا ہی چاہیے کہ اس کا نام ہو جائے۔ اس کو مقبولیت عام حاصل ہو، اس کی دھاک اور ساکھ بیٹھ جائے۔ مگر اسلام کہتا ہے کہ خرچ کرنے میں نمائش ہر گز نہ ہونی چاہیے۔ خفیہ یا علانیہ جو کچھ بھی خرچ کرو، اس میں یہ مقصد پیش نظر ہی نہ رکھو کہ فوراً اس کا بدل تم کو کسی نہ کسی شکل میں مل جائے۔ بلکہ مآلِ کار پر نگاہ رکھو۔ اس دنیا سے لے کر آخرت تک جتنی دور تمھاری نظر جائے گی تم کو یہ خرچ پھلتا پھولتا اور منافع پر منافع پیدا کرتا ہی دکھائی دے گا۔ ’’جو شخص اپنے مال کو نمائش کے لیے خرچ کرتا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چٹان پر مٹی پڑی ہوئی تھی، اس مٹی پر بیج بویا گیا، مگر پانی کا ایک ریلہ آیا اور مٹی کو بہا لے گیا۔ اور جو شخص اپنی نیت کو درست رکھ کر اللہ کی خوشنودی کے لیے خرچ کرتا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک عمدہ زمین میںباغ لگایا گیا، اگر بارش ہو گئی تو دو گنا پھل لایا اور اگر بارش نہ ہوئی تو محض ہلکی سی پھوار اس کے لیے کافی ہے۔‘‘ (البقرہ 264,265:2)

<<اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا ہِىَ۝۰ۚ وَاِنْ تُخْفُوْھَا وَتُؤْتُوْھَا الْفُقَرَاۗءَ فَھُوَخَيْرٌ لَّكُمْ۝۰ۭ>> البقرہ 271:2

اگر صدقات علانیہ دو تو یہ بھی اچھا ہے ۔ لیکن اگر چھپا کر دو اور غریب لوگوں تک پہنچائو تو یہ زیادہ بہتر ہے۔

سرمایہ دار اگر نیک کام میں کچھ صرف بھی کرتا ہے تو بادلِ ناخواستہ، بدتر سے بدتر مال دیتا ہے اور پھر جس کو دیتا ہے اس کی آدھی جان اپنی زبان کے نشتروں سے نکال لیتا ہے۔ اسلام اس کے بالکل برعکس یہ سکھاتا ہے کہ اچھا مال خرچ کرو، اور خرچ کر کے احسان نہ جتائو، بلکہ اس کی خواہش بھی نہ رکھو کہ کوئی تمھارے سامنے احسان مندی کا اظہار کرے:

<<اَنْفِقُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّآ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ۝۰۠ وَلَا تَـيَمَّمُوا الْخَبِيْثَ مِنْہُ تُنْفِقُوْنَ>> البقرہ 267:2

تم نے جو کچھ کمایا ہے اور جو کچھ ہم نے تمھارے لیے زمین سے نکالا ہے اس میں سے عمدہ اموال کو راہِ خدا میں صرف کرو، نہ یہ کہ بدتر مال چھانٹ کر اس میں سے دینے لگو۔

<<لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَذٰى۝۰ۙ>> البقرہ264:2

اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور اذیت پہنچا کر ملیامیٹ نہ کرلو۔

<<وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّہٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًاo اِنَّمَا نُـطْعِمُكُمْ لِوَجْہِ اللہِ لَا نُرِيْدُ مِنْكُمْ جَزَاۗءً وَّلَا شُكُوْرًاo>> الدھر 8,9:76

اور وہ اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو اللہ کے لیے تم کو کھلاتے ہیں۔ ہم تم سے کسی جزاء اور شکریہ کے خواہشمند نہیں ہیں۔

چھوڑیئے اس سوال کو کہ اخلاقی نقطۂ نظر سے ان دونوں ذہنیتوں میں کتنا عظیم تفاوت ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ خالص معاشی نقطۂ نظر ہی سے دیکھ لیجئے کہ فائدے اور نقصان کے ان دونوں نظریوں میں سے کون سا نظریہ زیادہ محکم، اور دور رس نتائج کے اعتبار سے زیادہ صحیح ہے۔ پھر جب کہ منفعت و مضرت کے باب میں اسلام کا نظریہ وہ ہے جو آپ دیکھ چکے ہیں تو کیوں کر ممکن ہے کہ اسلام کسی شکل میں بھی سودی کاروبار کو جائز رکھے؟