مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

معاشیات اسلام

اشاعت: 1969ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "معاشیات اسلام" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ جامع تصنیف ہے جو اسلام کے معاشی نظام کو ایک مکمل، متوازن اور عملی ضابطۂ حیات کے طور پر پیش کرتی ہے۔ یہ کتاب دراصل ان تحریروں کا مرتب شدہ مجموعہ ہے جو گزشتہ تین دہائیوں میں مختلف مواقع پر لکھی گئیں اور جن کا مقصد عصرِ حاضر کے معاشی بحران کی جڑوں کو سمجھنا اور اس کا اسلامی حل پیش کرنا تھا۔ مولانا صاحب کا بنیادی موقف یہ ہے کہ موجودہ معاشی اضطراب کی وجہ محض پیداوار یا تقسیم کے مسائل نہیں بلکہ نقطۂ آغاز اور سمتِ سفر میں غلطی ہے؛ انسان نے معاشیات کو زندگی کے دیگر شعبوں — خصوصاً اخلاق، عقیدہ اور سیاست — سے الگ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں وہ ایک خشک، بے روح اور انسانیت سوز نظام بن چکی ہے۔

باب اوّل (دیباچہ، پیش لفظ اور مقدمہ) میں مصنف نے کتاب کی تدوین کا پس منظر بیان کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اسلام کا مقصد نہ تو پیداوار کے طریقوں کی تفصیل ہے اور نہ ہی دولت کی گردش کے میکانزمز کی وضاحت، بلکہ اس کا اصل ہدف یہ ہے کہ معاشی زندگی انصاف، راستی اور اخلاقی ذمہ داری کے اصولوں پر قائم رہے۔ اسی باب میں مصنف انسان کے معاشی مسئلے کی نوعیت کو نفسِ انسانی کے اخلاقی انحطاط سے جوڑتے ہوئے سرمایہ پرستی، اشتراکیت اور فاشزم کے تجویز کردہ حل کا جائزہ لیتے ہیں اور اسلام کے حل — حصولِ دولت، حقوقِ ملکیت اور اصولِ صرف کے بنیادی اصولوں — کی وضاحت کرتے ہیں۔

اس کے بعد کے ابواب کتاب کو گیارہ ابواب کی تفصیلی عمارت میں مکمل کرتے ہیں۔ باب دوم قرآن کی معاشی تعلیمات کو بائیس نکات کی صورت میں مرتب کرتا ہے—حلال و حرام کسبِ مال کی حدود، شخصی ملکیت کا اثبات، بخل و اکتناز کی ممانعت، زکوٰۃ کی شرح اور مصارف، میراث اور وصیت کے قوانین سے لے کر ٹیکس کے اصولی ضابطے تک؛ باب سوم اسی بنیاد پر سرمایہ داری اور اسلام کے فرق کو نمایاں کرتا ہے، اور باب چہارم و پنجم اسلامی نظمِ معیشت کے مقاصد—انسانی آزادی، منصفانہ تقسیم اور اعتدال—کو اصولی طور پر بیان کرتے ہیں۔

باب ششم زمین کی ملکیت، جاگیروں اور بٹائی کے مسائل کو تفصیل سے دیکھتا ہے، جبکہ باب ہفتم کتاب کا سب سے طویل حصہ ہے جو سود کے مفہوم، اس کی حرمت کی علت، اس کی نام نہاد معاشی ضرورت کے عقلی تجزیے، اور سود کے بغیر بینکاری و مالیات کے متبادل نظام پر مشتمل ہے۔ باب ہشتم زکوٰۃ کے جدید نوعیت کے مسائل (جیسے کمپنیوں کے حصص اور شرکت و مضاربت میں زکوٰۃ) کا احاطہ کرتا ہے، باب نہم سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں کو مسترد کرتے ہوئے عدلِ اجتماعی کا اسلامی تصور پیش کرتا ہے، اور آخری دو ابواب—مزدوروں، انشورنس اور قیمتوں پر کنٹرول کے مسائل، اور معاشی قوانین کی جدید تدوین کے اصول—کتاب کو عملی اطلاق کی سطح پر لے آتے ہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

متعلقہ نظامات: دیگر

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"معاشیاتِ اسلام" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی معاشیات پر سب سے جامع تصنیف ہے — دائرہ کار میں "سود" سے کہیں وسیع، اگرچہ دونوں کافی حد تک ہم آہنگ ہیں۔ جہاں "سود" سود کے خلاف ایک مرکوز مقدمہ پیش کرتی ہے، یہ کتاب ایک مکمل متبادل معاشی نظام وضع کرنے کی کوشش کرتی ہے: ملکیت، تقسیم، ٹیکس، اور ریاست کا کردار۔

اس کے گیارہ ابواب تشخیص سے نظام تک آگے بڑھتے ہیں: ابتدائی ابواب "انسان کے معاشی مسئلے" کو بیان کرتے ہیں اور سرمایہ داری، اشتراکیت اور فاشزم کو رد کرتے ہیں؛ اگلے ابواب قرآن کی معاشی تعلیمات کا آیت بہ آیت جائزہ لیتے ہیں — نجی ملکیت کا جواز، بخل کی ممانعت، زکوٰۃ، قانونِ وراثت، اور ٹیکس؛ ایک حصہ زمین کی ملکیت پر بحث کرتا ہے؛ ایک پورا باب حرمتِ سود کو دہراتا ہے؛ مزید ابواب مزدوروں کے تنازعات، انشورنس اور قیمتوں کے کنٹرول کو تازہ اجتہاد کی ضرورت کے طور پر لیتے ہیں؛ اور کتاب ان شرائط پر ختم ہوتی ہے جن کے تحت اسلامی معاشی قانون کو جدید حالات کے لیے مدون کیا جا سکتا ہے۔

اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ "سود" کے ساتھ، یہ کتاب بھی میدانِ "اسلامی معاشیات" کی بنیادی متون میں سے ہے۔ مطالعاتی حلقے کو یہ جانچنا چاہیے کہ کتاب کی تنقید حقیقی معاشی لٹریچر سے مکالمہ کرتی ہے یا انتہائی شکلوں سے، اور کیا "حدود کے ساتھ نجی ملکیت" کی ترکیب نے ایک مربوط پالیسی پروگرام پیدا کیا ہے یا محض اخلاقی اصولوں کا مجموعہ رہ گئی ہے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. تیسرا راستہ: کیا مولانا کی تجویز کردہ ترکیب واقعی سرمایہ داری و اشتراکیت کے مسائل سے بچ نکلتی ہے؟
  2. حقیقی معاشیات سے مکالمہ: کیا کتاب کی تنقید سنجیدہ معاشی نظریے سے مکالمہ کرتی ہے، یا عوامی شکلوں سے؟
  3. مالی پالیسی کے طور پر زکوٰۃ: مولانا کے بیان کردہ شرح میں زکوٰۃ جدید ٹیکس نظاموں سے کیسے موازنہ رکھتی ہے؟
  4. زمین کی ملکیت: کتاب زمین کی ملکیت کے بارے میں کیا کہتی ہے، اور یہ جدید زمینی اصلاحات کی بحثوں پر کیسے لاگو ہوتی ہے؟
  5. سود پر دوبارہ نظر: اس کتاب کا سود پر باب "سود" کی مفصل بحث سے کیسے موازنہ رکھتا ہے؟
  6. انشورنس اور قیمتوں کا کنٹرول: کتاب انہیں تازہ اجتہاد کی ضرورت کے طور پر پیش کرتی ہے۔ یہ کیا ظاہر کرتا ہے؟
  7. اصول سے پالیسی تک: کیا "اسلامی معاشیات" نے کوئی قابلِ آزمائش پالیسی پروگرام پیدا کیا ہے؟
  8. تقابلی مطالعہ: اس کتاب کا تصور خود ساختہ اسلامی ریاستوں کی حقیقی معاشی پالیسی سے کیسے موازنہ رکھتا ہے؟

۱۷۔ مصارفِ زکوٰۃ

ان دونوں مدات سے جو مال حاصل ہو وہ قرآن کی رو سے خزانہ عامہ (public exchequer) کا کوئی حصہ نہیں ہے جس کا مقصد زکوٰۃ دینے والوں سمیت تمام لوگوں کے لیے آسائشیں اور ضروری خدمات بہم پہنچانا ہوتا ہے، بلکہ قرآن نے اسے حسبِ ذیل مصارف کے لیے مخصوص کیا ہے:

<<اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاۗءِ وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْہَا وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُہُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِيْنَ وَفِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَابْنِ السَّبِيْلِ۝۰ۭ فَرِيْضَۃً مِّنَ اللہِ۝۰ۭ>> التوبہ 60:9

’’صدقات تو مخصوص ہیں فقراء [فقر کے اصل معنی حاجت کے ہیں اور فقیر ہر وہ شخص ہے جو اپنی ضرورت سے کم معاش پانے کے باعث مدد کا محتاج ہو۔ (لسان العرب، ج ۵، ص ۶۰۔۶۱، بیروت، ۱۹۵۶ء)] کے لیے اور مساکین [حضرت عمرؓ کا قول ہے کہ مسکین وہ شخص ہے جو کما نہ سکتا ہو یا کمانے کا موقع نہ پاتا ہو۔ (الجصاص، ج ۳، ص ۱۵۱)۔ اس تعریف کی رو سے تمام وہ غریب بچے جو ابھی کمانے کے قابل نہ ہوئے ہوں، اور اپاہج اور بوڑھے جو کمانے کے قابل نہ رہے ہوں، اور بیروزگار یا بیمار جو عارضی طور پر کمانے کے موقع سے محروم ہوگئے ہوں، مسکین ہیں] کے لیے اور ان لوگوں کے لیے جو صدقات کی تحصیل و تقسیم کا کام کریں، اور ان کے لیے جن کی تالیف قلب مطلوب [نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تین قسم کے لوگوں کو تالیفِ قلب کے لیے روپیہ دیا جاتا تھا۔ (۱) جو مخالفینِ اسلام کمزور مسلمانوں کو تکلیفیں دیتے یا اسلام کی عداوت میں سخت تھے انھیں روپیہ دے کر نرم رویہ اختیار کرنے پر آمادہ کیا جاتا تھا۔ (۲) جو لوگ اپنی قوم یا قبیلے کے لوگوں کو اسلام قبول کرنے سے زبردستی روکتے تھے انھیں روپیہ دے کر اس روش سے باز آجانے پر آمادہ کیا جاتا تھا۔ (۳) جو لوگ نئے نئے اسلام میں داخل ہوتے تھے ان کی مالی مدد کی جاتی تھی تا کہ ان کا اضطراب رفع ہو اور وہ مطمئن ہو کر مسلمانوں کے گروہ میں رہیں۔ (الجصاص، ج ۳، ص ۱۵۲)] ہو،نیز وہ صرف ہونے چاہییں غلاموں کی گردنیں چھڑانے میں [اس سے مراد وہ مسلمان بھی ہیں جو لڑائیوں میں دشمنوں کے ہاتھ گرفتار ہو کر غلام بنا لیے جاتے تھے اور وہ غیر مسلم بھی جو مسلمانوں کے ہاں جنگ میں گرفتار ہو کر آتے اور فدیہ ادا کر کے رہائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ نیز وہ غلام بھی مراد ہیں جو پہلے سے غلام چلے آ رہے تھے]، قرض داروں کی مدد میں، اللہ کی راہ میں [اللہ کی راہ سے مراد جہاد اور حج ہے۔ جہاں میں جانے والا رضاکار اگر اپنی ضروریات کی حد تک مال دار بھی ہو، تب بھی وہ زکوٰۃ لے سکتا ہے، کیونکہ جہاد کے لیے تیاری کرنے اور سفر وغیرہ کے مصارف بہم پہنچانے کے لیے آدمی کا ذاتی مال کافی نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح حج کے سفر میں اگر آدمی کا زادِ راہ ختم ہو جائے تو وہ بھی زکوٰۃ کا مستحق ہے۔ (الجصاص، ج ۳، ص ۵۷۔۱۵۶۔ نَیل الاَوطار، ج ۴، ص ۴۶۔۱۴۴)] اور اور مسافروں کی خبر گیری میں [ مسافر اپنے گھر پر چاہے مال دار بھی ہو، لیکن حالتِ سفر میں اگر وہ مدد کا محتاج ہو جائے تو اسے زکوٰۃ لینے کا حق پہنچتا ہے۔ (الجصاص، ج ۳، ص ۱۵۷)]،اللہ کی طرف سے ایک فریضے کے طور پر‘‘۔