معاشیات اسلام
اشاعت: 1969ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "معاشیات اسلام" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ جامع تصنیف ہے جو اسلام کے معاشی نظام کو ایک مکمل، متوازن اور عملی ضابطۂ حیات کے طور پر پیش کرتی ہے۔ یہ کتاب دراصل ان تحریروں کا مرتب شدہ مجموعہ ہے جو گزشتہ تین دہائیوں میں مختلف مواقع پر لکھی گئیں اور جن کا مقصد عصرِ حاضر کے معاشی بحران کی جڑوں کو سمجھنا اور اس کا اسلامی حل پیش کرنا تھا۔ مولانا صاحب کا بنیادی موقف یہ ہے کہ موجودہ معاشی اضطراب کی وجہ محض پیداوار یا تقسیم کے مسائل نہیں بلکہ نقطۂ آغاز اور سمتِ سفر میں غلطی ہے؛ انسان نے معاشیات کو زندگی کے دیگر شعبوں — خصوصاً اخلاق، عقیدہ اور سیاست — سے الگ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں وہ ایک خشک، بے روح اور انسانیت سوز نظام بن چکی ہے۔
باب اوّل (دیباچہ، پیش لفظ اور مقدمہ) میں مصنف نے کتاب کی تدوین کا پس منظر بیان کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اسلام کا مقصد نہ تو پیداوار کے طریقوں کی تفصیل ہے اور نہ ہی دولت کی گردش کے میکانزمز کی وضاحت، بلکہ اس کا اصل ہدف یہ ہے کہ معاشی زندگی انصاف، راستی اور اخلاقی ذمہ داری کے اصولوں پر قائم رہے۔ اسی باب میں مصنف انسان کے معاشی مسئلے کی نوعیت کو نفسِ انسانی کے اخلاقی انحطاط سے جوڑتے ہوئے سرمایہ پرستی، اشتراکیت اور فاشزم کے تجویز کردہ حل کا جائزہ لیتے ہیں اور اسلام کے حل — حصولِ دولت، حقوقِ ملکیت اور اصولِ صرف کے بنیادی اصولوں — کی وضاحت کرتے ہیں۔
اس کے بعد کے ابواب کتاب کو گیارہ ابواب کی تفصیلی عمارت میں مکمل کرتے ہیں۔ باب دوم قرآن کی معاشی تعلیمات کو بائیس نکات کی صورت میں مرتب کرتا ہے—حلال و حرام کسبِ مال کی حدود، شخصی ملکیت کا اثبات، بخل و اکتناز کی ممانعت، زکوٰۃ کی شرح اور مصارف، میراث اور وصیت کے قوانین سے لے کر ٹیکس کے اصولی ضابطے تک؛ باب سوم اسی بنیاد پر سرمایہ داری اور اسلام کے فرق کو نمایاں کرتا ہے، اور باب چہارم و پنجم اسلامی نظمِ معیشت کے مقاصد—انسانی آزادی، منصفانہ تقسیم اور اعتدال—کو اصولی طور پر بیان کرتے ہیں۔
باب ششم زمین کی ملکیت، جاگیروں اور بٹائی کے مسائل کو تفصیل سے دیکھتا ہے، جبکہ باب ہفتم کتاب کا سب سے طویل حصہ ہے جو سود کے مفہوم، اس کی حرمت کی علت، اس کی نام نہاد معاشی ضرورت کے عقلی تجزیے، اور سود کے بغیر بینکاری و مالیات کے متبادل نظام پر مشتمل ہے۔ باب ہشتم زکوٰۃ کے جدید نوعیت کے مسائل (جیسے کمپنیوں کے حصص اور شرکت و مضاربت میں زکوٰۃ) کا احاطہ کرتا ہے، باب نہم سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں کو مسترد کرتے ہوئے عدلِ اجتماعی کا اسلامی تصور پیش کرتا ہے، اور آخری دو ابواب—مزدوروں، انشورنس اور قیمتوں پر کنٹرول کے مسائل، اور معاشی قوانین کی جدید تدوین کے اصول—کتاب کو عملی اطلاق کی سطح پر لے آتے ہیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
متعلقہ نظامات: دیگر
مطالعاتی رہنما / Study Guide
محقق کا خلاصہ
"معاشیاتِ اسلام" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی معاشیات پر سب سے جامع تصنیف ہے — دائرہ کار میں "سود" سے کہیں وسیع، اگرچہ دونوں کافی حد تک ہم آہنگ ہیں۔ جہاں "سود" سود کے خلاف ایک مرکوز مقدمہ پیش کرتی ہے، یہ کتاب ایک مکمل متبادل معاشی نظام وضع کرنے کی کوشش کرتی ہے: ملکیت، تقسیم، ٹیکس، اور ریاست کا کردار۔
اس کے گیارہ ابواب تشخیص سے نظام تک آگے بڑھتے ہیں: ابتدائی ابواب "انسان کے معاشی مسئلے" کو بیان کرتے ہیں اور سرمایہ داری، اشتراکیت اور فاشزم کو رد کرتے ہیں؛ اگلے ابواب قرآن کی معاشی تعلیمات کا آیت بہ آیت جائزہ لیتے ہیں — نجی ملکیت کا جواز، بخل کی ممانعت، زکوٰۃ، قانونِ وراثت، اور ٹیکس؛ ایک حصہ زمین کی ملکیت پر بحث کرتا ہے؛ ایک پورا باب حرمتِ سود کو دہراتا ہے؛ مزید ابواب مزدوروں کے تنازعات، انشورنس اور قیمتوں کے کنٹرول کو تازہ اجتہاد کی ضرورت کے طور پر لیتے ہیں؛ اور کتاب ان شرائط پر ختم ہوتی ہے جن کے تحت اسلامی معاشی قانون کو جدید حالات کے لیے مدون کیا جا سکتا ہے۔
اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ "سود" کے ساتھ، یہ کتاب بھی میدانِ "اسلامی معاشیات" کی بنیادی متون میں سے ہے۔ مطالعاتی حلقے کو یہ جانچنا چاہیے کہ کتاب کی تنقید حقیقی معاشی لٹریچر سے مکالمہ کرتی ہے یا انتہائی شکلوں سے، اور کیا "حدود کے ساتھ نجی ملکیت" کی ترکیب نے ایک مربوط پالیسی پروگرام پیدا کیا ہے یا محض اخلاقی اصولوں کا مجموعہ رہ گئی ہے۔
مطالعاتی حلقہ کے سوالات
- تیسرا راستہ: کیا مولانا کی تجویز کردہ ترکیب واقعی سرمایہ داری و اشتراکیت کے مسائل سے بچ نکلتی ہے؟
- حقیقی معاشیات سے مکالمہ: کیا کتاب کی تنقید سنجیدہ معاشی نظریے سے مکالمہ کرتی ہے، یا عوامی شکلوں سے؟
- مالی پالیسی کے طور پر زکوٰۃ: مولانا کے بیان کردہ شرح میں زکوٰۃ جدید ٹیکس نظاموں سے کیسے موازنہ رکھتی ہے؟
- زمین کی ملکیت: کتاب زمین کی ملکیت کے بارے میں کیا کہتی ہے، اور یہ جدید زمینی اصلاحات کی بحثوں پر کیسے لاگو ہوتی ہے؟
- سود پر دوبارہ نظر: اس کتاب کا سود پر باب "سود" کی مفصل بحث سے کیسے موازنہ رکھتا ہے؟
- انشورنس اور قیمتوں کا کنٹرول: کتاب انہیں تازہ اجتہاد کی ضرورت کے طور پر پیش کرتی ہے۔ یہ کیا ظاہر کرتا ہے؟
- اصول سے پالیسی تک: کیا "اسلامی معاشیات" نے کوئی قابلِ آزمائش پالیسی پروگرام پیدا کیا ہے؟
- تقابلی مطالعہ: اس کتاب کا تصور خود ساختہ اسلامی ریاستوں کی حقیقی معاشی پالیسی سے کیسے موازنہ رکھتا ہے؟
پیش لفظ
اس وقت پوری دنیا میں اضطراب اور بے چینی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔اس اضطراب کی تہ میں جو قوتیں کارفرما ہیں اور جن کی وجہ سے بے چینی میں برابر اضافہ ہو رہا ہے ان میں معاشی اسباب کو بڑا دخل ہے۔ اس لیے نہیں کہ انسانی زندگی میں فیصلہ کن حیثیت معاشی عوامل کو حاصل ہے ، بلکہ اس لیے کہ ان کو وہ مقام دیا گیا ہے جو فطرت کے در و بست میں انہیں حاصل نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بگاڑ کے اسباب کی تلاش اور اس کے مداوا کی کوششیں صورت حال کو اور خراب اور پیچیدہ کرتی جا رہی ہیں۔ پہلے انسان کا خیال تھا کہ اصلی مسئلہ وسائل معاش کی قلت کا ہے اور اگر پیداوار کو بڑھا دیا جائے تو تمام خرابیاں دور ہو جائیں گی۔ لیکن جب پیداوار سو بلکہ کچھ چیزوں میں ہزار گنی تک زیادہ ہو گئی تب بھی بگاڑ کی کیفیت وہی رہی۔ ’’پیدا آوری معاشیات‘‘ (economics of production) سے توجہ معاشیاتِ تقسیم (economics of distribution) کی طرف مبذول ہوئی۔ لیکن سو سال تک دولت کی تقسیمِ نو (redistribution of wealth) کے تجربہ کے بعد بھی ہم وہیں ہیں جہاں سے سفر کا آغاز کیا تھا۔ مسائل قلت (scarctiy) نے معاشیاتِ خورد (micro economics) کو جنم دیا تھا۔ لیکن تجارتی چکر (trade cycle) اور کساد بازاری کی تباہ کاریوں نے اس نظامِ فکر کی چولیں ہلا دیں۔ ان نئے حالات نے معاشیاتِ کلاں (macro economics) کے لیے راہ ہموار کی۔ لیکن اب جو نئی افراطِ دولت (affluence) رونما ہوئی ہے اور وہ اپنے جلو میں جو نئے مسائل لائی ہے اس کی بناء پر یہ خوش حالی خود دردِ سر بنتی جا رہی ہے اور معاشیات کا طالب علم ایک بار پھر ایک نئی معاشیات کی تلاش میں ہے۔ ایک گھن چکر (vicious circle) ہے جس میں انسان گردش کر رہا ہے
اور ہر دور اور ہر سطح پر اس کا حال یہ ہے کہ
ڈور کو سلجھا رہا ہے، اور سرا ملتا نہیں!
ہم آج کے انسان کو اس امر پر غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے بنیادی نقطۂ نظر کا از سر نو جائزہ لے۔ اصل خرابی سفر کے دوران میں پیش آنے والی دشواریوں کی بناء پر نہیں، سفر کے نقطۂ آغاز اور پھر سمتِ سفر میں ہے، یہ علمی جستجو اور عملی کاوش جس مقام سے شروع ہوتی ہے اسی جگہ غلطی واقع ہو رہی ہے اور وہی نظرثانی کی محتاج ہے۔ انسان نے اپنی حقیقت اور اپنے اصل مقام کو نظر انداز کر کے اپنے سارے افکار کے در ودیوار اٹھائے ہیں، اور چونکہ یہ بنیاد ہی غلط ہے اس لیے:
تاثریّا می رود دیوار کج
زیر نظر کتاب دراصل علم المعیشت (economic science) کی کتاب نہیں ہے بلکہ فلسفۂ معیشت (economic philosophy) کی ایک راہ کشا کتاب ہے۔ اس میں ان اولین امور سے بحث کی گئی ہے جنہیں ماہرینِ معاشیات بالعموم چھوڑ دیتے ہیں اور جن کے بارے میں غلط تصورات کے کارفرما ہونے کی وجہ سے وہ آگے کی شاہراہوں پر ہر قدم پر ٹھوکریں کھاتے چلے جاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ الاقدم فالاقدم کا چرچا کرنے والے اس پر عمل بھی کریں اور ہر میدان علم میں کریں۔ تا کہ آگے کی منزلیں آسان ہوسکیں۔ معاشی فکر میں جن انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ان کا نقطۂ آغاز ایسی ہی کوششیں ہوسکتی ہیں اور اسی بنا پر ہم اسے ایک راہ کشا کتاب قرار دیتے ہیں۔
مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی اس دور کے سب سے نمایاں مسلمان مفکر ہیں۔ انہوں نے گزشتہ چالیس سال میں اسلامی نظامِ فکر و عمل کے کم و بیش ہر پہلو پر کلام کیا ہے اور بڑی بالغ نظری کے ساتھ دورِ حاضر کے مسائل اور اس کی الجھنوں کو سامنے رکھتے ہوئے اسلام کی حقیقی تعلیمات کو بلاکم و کاست بیان کیا ہے ۔ اس بارے میں اصل فیصلہ تو مستقبل ہی کرے گا، لیکن ہم جیسے طالب علموں کو نظر آتا ہے کہ مولانائے محترم کا سب سے اہم کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے اسلام کو ایک مکمل نظامِ فکر و عمل اور دین و دنیا کی فلاح کی ایک عالمگیر اصلاحی دعوت و تحریک کی حیثیت سے پیش کیا اور چالیس سال کی ہمہ وقت جدوجہد کے بعد اپنے مخالفین تک سے اس امر کا اعتراف کرالیا کہ زندگی کے ہر شعبے کے لیے اسلام اپنے مخصوص نقطۂ نظر سے بنیادی اور جامع ہدایات دیتا ہے اور ایک مسلمان… فرد کی حیثیت سے ہو یا قوم کی حیثیت سے… اسلام کے تقاضوں کو اسی وقت پورا کرسکتا ہے جب وہ ان ہدایات کی پابندی اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں کرے۔
فطری بات ہے کہ جس شخص نے یہ کام انجام دیا ہو وہ معاشی مسائل سے تعرض کئے بغیر کیسے رہ سکتا ہے؟ اس دور کا سب سے بڑا فتنہ تو یہی فتنۂ معاش ہے! اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ ترجمان القرآن کی اشاعت کے پہلے ہی سال (1933ء) مولانائے محترم ’’سود‘‘ اور ’’ضبطِ ولادت‘ ‘ کے مسائل سے نبرد آزما نظر آتے ہیں اور آج تک مختلف معاشی امور پر بحث و گفتگو کا سلسلہ جاری ہے۔ معاشی امور کے بارے میں مولانا کی چار کتابیں شائع بھی ہو چکی ہیں، یعنی … ’’سود‘‘ ، ’’اسلام اور جدید معاشی نظریات‘‘، ’’مسئلہ ملکیتِ زمین‘‘، ’’اسلام اور ضبطِ ولادت‘‘۔ ان کے علاوہ متعدد پمفلٹ، کتابچے، مضامین اور تقاریر ہیں جو مختلف اوقات میں شائع ہوتی رہی ہیں۔ ان مستقل کتابوں کی تو اپنی اہمیت ہے اور وہ ان شاء اللہ اپنا کام ہمیشہ انجام دیتی رہیں گی۔ لیکن میں ایک مدت سے اس امر کی ضرورت محسوس کر رہا تھا کہ مولانا محترم کی تمام تحریرات کو سامنے رکھ کر ایک جامع کتاب ایسی مرتب کی جائے جس میں تمام بنیادی معاشی امور کے بارے میں ان کا نقطۂ نظر بیک نظر معلوم کیا جاسکے اور معاشیات کے طلبہ اسلام کے نظمِ معیشت کے مختلف پہلوئوں کو ایک ہی نگاہ میں دیکھ سکیں۔ پھول کتنے ہی حسین ہوں اور چاروں طرف ہی کیوں نہ خنداں ہوں لیکن ان سے گلدستہ اسی وقت بنتا ہے جب گلچیں سارے باغ کا انتخاب ایک مختصر مجموعہ میں پیش کر دے! ضرورت کا یہ احساس تو ایک عرصہ سے تھا، لیکن مختلف وجوہ سے کام کا نقشہ بنانے کے باوجود میں اس کام کو زیادہ آگے نہ بڑھا سکا۔ اس زمانے میں جامعہ کراچی نے ایم ۔ اے۔ معاشیات کے طلبہ کے لیے ’’اسلامی معاشیات‘‘ کا ایک پرچہ داخلِ نصاب کر دیا ہے، اور اسی اثناء میں دانش گاہِ پنجاب نے بھی ایم۔ اے میں اسلامی معاشیات کی تدریس شروع کر دی ہے۔ یہ اقدام خواہ کتنی ہی تاخیر سے کیے گئے ہوں، لیکن نہایت خوش آئند اور حوصلہ افزاء ہیں ۔ اگر ارباب تعلیم نے اس نوعیت کا اقدام پاکستان کے قیام کے بعد ہی کر دیا ہوتا تو شاید آج ’’اسلامی معاشیات‘‘ پر فنی اعتبار سے بڑا قیمتی لٹریچر تیار ہو چکا ہوتا ۔ بہرحال ہم اس اقدام کی دل سے قدر کرتے ہیں اور اس چیز نے مجھے مجبور کیا کہ بلاتاخیر اپنی اس تجویز پر عمل کروں اور ایک ایسا مجموعہ مرتب کر دوں جس میں اسلامی معاشیات کے مختلف پہلوئوں پر مولانا محترم کی تمام ضروری تحریروں کا نچوڑ آجائے اور ایک ہی نظر میں اسلام کے نظمِ معیشت کی پوری تصویر دیکھی جاسکے۔
کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔پہلے حصے میں اسلام کے فلسفۂ معیشت سے بحث کی گئی ہے۔ ان مضامین میں دنیا کے مروجہ معاشی نظاموں پر تنقیدی نگاہ ڈالی گئی ہے اور معیشت کے میدان میں اسلام کے مخصوص نقطۂ نظر کی پوری وضاحت کی گئی ہے۔ نیز ان اصولوں کو بھی ضروری تشریح کے ساتھ پیش کیا گیا ہے جو قرآن و سنت میں مرقوم ہیں۔ یہ حصہ ہمارے مستقبل کے کام کرنے والوں کے لیے نشانِ راہ کا کام دے گا۔ اب ضرورت اس کی ہے کہ معاشیات میں فنی مہارت رکھنے والے حضرات آگے بڑھیں اور ان اصولوں اور ان اقدار کی روشنی میں فنی زبان میں معاشیات کے مباحث کو پیش کریں ۔ ان مباحث کی حیثیت روشنی کے مینار کی ہے۔ لیکن یہ روشنی خود راہ نورد نہیں بن سکتی ۔ اس کی رہنمائی میں معاشیات کے مسلمان طالب علموں کو ان راہوں کو دریافت کرنا ہوگا جن کی طرف یہ اشارہ کر رہی ہے۔ اس چراغ سے ہزار نئے چراغ جلانے ہوں گے اور دوسروںکے لیے اپنے نقشِ پا راہبرانِ راہ کی حیثیت سے چھوڑنے ہوں گے۔ مولانائے محترم نے راستے کی نشان دہی کر دی ہے۔ اب یہ مسلمان معاشیّین کا کام ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور اسے جادئہ وقت بنا دیں۔
دوسرے حصے میں ہم نے مصنف محترم کی ان تحریروں کو پیش کیا ہے جن کا تعلق ایک حیثیت سے اسلام کے فلسفۂ معیشت کے انطباق (application) سے ہے۔ اس سلسلے میں یہاں اسلام کے معاشی نظام کے صرف چند پہلوئوں سے بحث کی گئی ہے۔ لیکن ان چند مباحث ہی سے ہمارے سامنے متعین معاشی امور پر غور و فکر کی راہ کھلتی ہے ۔ ان مضامین میں ایک طرف تو وقت کے چند بنیادی معاشی مسائل… ملکیتِ زمین، سود، زکوٰۃ، عدلِ اجتماعی… پر اسلامی تعلیمات نہایت واضح اور دو ٹوک انداز میں ہمارے سامنے آتی ہیں۔اور دوسری طرف معاشیات کے طالب علموں کو یہ رہنمائی ملتی ہے کہ اسلام کے بنیادی تصور اور اس کے اساسی معاشی اصولوں کی روشنی میں متعین اور مخصوص مسائل کا مطالعہ کس طرح کیا جانا چاہیے، اور نام نہاد متجدّدین کے مقابلے میں، جو دراصل بدترین نقالی اور غیروں کی اندھی تقلید کے مرتکب ہو رہے ہیں، حقیقی تخلیقی اور اجتہادی رویہ کیا ہے۔ فکری آزادی کا یہ بڑا مسخ شدہ تصور ہے کہ آزادی اور اجتہاد نام ہے اپنے دین کی تعلیمات کو بدلنے اور مغرب کے ہر تصور کی کورانہ تقلید کرنے کا۔ یہ ’’فکری آزادی‘‘ نہیں، ذہنی غلامی ہے۔ اصل فکری آزادی یہ ہے کہ ہم دورِ جدید کے تمام نظریات کا مطالعہ کھلے ذہن اور تنقیدی نگاہ سے کریں اور خذما صفا و دع ما کدِر (جو صحیح ہے اسے اختیار کرلو اور جو غلط ہے اسے رد کر دو) کے اصول پر عمل کریں۔ نہ ہمیں اپنے ذہن کے دروازے بند کرلینے چاہئیں کہ کسی مفید علم سے فائدہ نہ اٹھائیں، اور نہ دل و دماغ پر غیروں کا ایسا تسلط ہونا چاہیے کہ ہم دیکھیں تو ان کی نظر سے، سوچیں تو ان کے ذہن سے اور بولیں تو ان کی زبان سے۔ کتاب کا دوسرا حصہ دراصل اسی تعمیری اور تخلیقی نقطۂ نظر کا ترجمان ہے اور معاشیات کے طالب علم اس کے مطالعہ سے یہ جان سکتے ہیں کہ متعین امور اور مسائل کے بارے میں کس طرح غور و فکر کیا جائے… اس حصے کی حیثیت بھی دراصل ایک روشن مثال کی سی ہے۔ ابھی آئندہ کام کرنے والوں کو بے شمار امور کے بارے میں نیا کام کرنا ہے اور ہمیں امید ہے کہ ان کی ان مساعی کے لیے یہ مجموعہ نشانِ راہ کا کام دے گا ۔ مولانا مودودی فنی اصطلاح میں ایک ماہرِ معاشیات (economist) نہیں ہیں۔ لیکن ان کا مقام اس سے بہت اونچا ہے کہ مخصوص علوم کے پیمانوں سے ان کے بارے میں گفتگو ہو۔ وہ ایک ایسے مفکر ہیں جنہوں نے خاص الٰہیات (theology) سے لے کر تقریباً تمام ہی عمرانی علوم (social sciences) کے میدانوں میں نہ صرف بالغ نظری کے ساتھ کلام کیا ہے بلکہ ان کی اساسی فکر (central core) کی، اسلامی تعلیمات کی روشنی میں، تشکیلِ نو کے خطوط بھی واضح کیے ہیں۔ معاشیات کے میدان میں بھی ان کا یہ مجموعہ یہی خدمت انجام دے رہا ہے۔ آگے اس پر کام کرنا ان لوگوں کے ذمے ہے جو اسلام پر پختہ یقین رکھتے ہیں ، علومِ عمرانی کے بارے میں صحیح نقطۂ نظر کے حامل ہیں، اور علم معاشیات میں فنی مہارت (technical competence) کے حامل ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ کتاب عام قارئین کے لیے بھی اپنے اندر بہت کچھ مواد رکھتی ہے اور معاشیات کے طالب علموں اور کل کے اسلامی معاشیین کے لیے بھی ایک سنگِ میل ہے۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ ہماری جامعات میں اسلامی معاشیات کی تدریس میں یہ کتاب مفید خدمت انجام دے گی۔
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ایک بات اس کتاب کے مآخذ کے بارے میں بھی عرض کر دی جائے۔ اس میں مولانا محترم کے مضامین اور تقاریر کے علاوہ تفہیم القرآن (۴جلد میں) سے وہ مباحث بھی شامل کرلئے گئے ہیں جو معاشی امور سے متعلق تھے۔ اسی طرح رسائل و مسائل (۴ جلد میں) سے بھی ان جوابات کو لے لیا گیا ہے جو ہماری بحثوں سے متعلق تھے اور ان پہلوئوں پر روشنی ڈالتے تھے جن کی مستقل اہمیت ہے ۔ ان کے علاوہ ہم نے مسئلہ ملکیت زمین اور سود پر متعلقہ کتابوں سے چند ضروری مباحث کے اخذ و تلخیص کا راستہ بھی اختیار کیا ہے۔ لیکن اس موجودہ شکل میں ان کی ترتیب ہماری قائم کردہ ہے۔ یہ اقتباسات اصل کتابوں کا بدل (substitute) نہیں ہوسکتے۔ البتہ یہ اس کتاب میں ہماری ضرورت کو ایک حد تک پورا کر دیتے ہیں۔ تفصیلی مطالعہ کے لیے ہم قارئین کو اصل کتابوں کی طرف رجوع کا مشورہ دیتے ہیں۔
یہ مواد مختلف مقامات سے لیا گیا ہے، مختلف اوقات میں یہ چیزیں لکھی گئی ہیں، اور ان کو لکھتے وقت مختلف قسم کے مخاطبین مصنف محترم کے سامنے رہے ہیں۔ ان تمام چیزوں کو یکجا کرنا اور پھر ان میں تسلسل کو باقی رکھنا ایک مشکل کام تھا۔ ہم نے اپنی حد تک کوشش کی ہے کہ سلسلۂ کلام منقطع نہ ہونے پائے۔ لیکن ہم قارئین سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ مرتب کی ان دقتوں (limitations) کو سامنے رکھیں جو اس نوعیت کے کام میں ناگزیر ہیں۔ اسی طرح اس نوعیت کے مجموعے میں ایک حد تک تکرار کا پایا جانا بھی ناگزیر ہے۔ لیکن ہمیں توقع ہے کہ یہ تکرار بارِ خاطر نہیں ہوگی بلکہ تفہیم کا ذریعہ بنے گی اور بنیادی امور کو ذہن نشین کرنے کی باعث ہو گی۔ یہ چیز پہلے حصے ہی میں کچھ زیادہ ہے، اور اسی میںا س کی زیادہ ضرورت بھی ہے ۔ اس لیے ہم توقع رکھتے ہیں کہ یہ چیز ان شاء اللہ مفید ہی ہوگی۔
آخر میں ایک ذاتی معذرت بھی مجھے پیش کرنی ہے۔ میں نے اس کام کا بڑا حصہ اگست 1968ء تک مکمل کرلیاتھا اور صرف چند ہفتوں کی محنت باقی تھی کہ مجھے اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان آنا پڑا۔ ہوائی سفر کی مشکلات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انسان تمام ضروری چیزیں بھی اپنے ساتھ نہیں لاسکتا۔ میرا خیال تھا کہ میرے کاغذات مجھے جلد مل جائیں گے اور میں یہ کام فوراً مکمل کر کے بھیج دوں گا۔ لیکن بدقسمتی سے مسودات مجھے دسمبر میں ملے۔ نیز یہاں کے قیام کے اولین تین چار ماہ میں کچھ دوسری ذمہ داریوں کی وجہ سے بھی میں بے حد مصروف رہا اور یہ کام مؤخر ہوگیا۔ جنوری کا مہینہ میں نے کم و بیش اس کتاب پر صرف کیا اور الحمد للہ اب اسے پیش کرنے کی پوزیشن میں ہوں۔ خدا کرے کہ یہ بروقت زیورِ طباعت سے آراستہ ہو کر آجائے اور ہماری جامعات کے طلبہ اس سے اس سال فائدہ اٹھاسکیں۔
ادارئہ معارف اسلامی کراچی مولانا محترم کی تمام تحریروں کو از سرِ نو مرتب کرنے کے کام میں مصروف ہے۔ اس سے پہلے ’’مسلمان اور تحریک آزادیِ ہند‘‘ اور ’’اسلامی ریاست‘‘ کے موضوعات پر جامع تالیفات پیش کی جا چکی ہیں۔ اب ہمیں خوشی ہے کہ ہم اسلام کے نظامِ معیشت پر ایک مجموعہ پیش کر رہے ہیں۔ اس سلسلے کی مزید کتابوں پر کام ہو رہا ہے اور ان شاء اللہ ایسے مجموعے برابر آتے رہیں گے۔
وَمَا تَوْفِیْقِیْ اِلَّا بِاللّٰہِ ۔
خورشید احمد
لیسٹر، انگلستان
14 ؍ذی القعدہ1388ھ
2 ؍ فروری 1969ء