مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

ختم نبوت

اشاعت: 1962ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "ختم نبوت" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ اہم تصنیف ہے جس میں انہوں نے بیسویں صدی کے آغاز میں اُبھرنے والے ایک خطرناک فتنے—یعنی محمد ﷺ کے بعد نبوت کے دعوے—کا علمی، عقیداتی اور عملی سطح پر مقابلہ کیا ہے۔ مولانا کا بنیادی مقصد صرف علمی بحث نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کو ایک ایسی گمراہی سے بچانا ہے جو گزشتہ ساٹھ سال سے مسلسل پھیلتی جا رہی تھی اور جس کی جڑیں مسلمانوں کی دینی جہالت میں تلاش کی جا سکتی ہیں۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ اگر مسلمان اپنے دین کے بنیادی عقائد، خصوصاً عقیدۂ ختم نبوت، کو صحیح طور پر سمجھتے، تو کوئی دعوائے نبوت ان کے درمیان جڑ نہ پکڑ سکتا۔ لہٰذا، اس رسالے کا مقصد یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک ختم نبوت کی حقیقت اور اس کی شرعی اہمیت پہنچائی جائے، شبہات کو معقول دلائل سے دور کیا جائے، اور قارئین کو نہ صرف سمجھنے بلکہ سمجھانے والے بننے کی دعوت دی جائے۔

رسالے کا پہلا باب "دیباچہ" ہے، جس میں مولانا نے اپنے مقصد کو واضح کیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہ رسالہ محض ایک علمی تحقیق نہیں بلکہ ایک عملی ضرورت کا تقاضا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ جو لوگ ابھی تک اس فتنے سے متاثر نہیں ہوئے، وہ اس سے محفوظ رہیں، اور جو متاثر ہو چکے ہیں مگر حق پسند ہیں، ان کے سامنے حق واضح ہو جائے۔ تاہم، وہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ جنہوں نے دل کے دروازے بند کر لیے ہیں، ان کا علاج اللہ کے سوا کسی کے پاس نہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

ان احادیث سے کیا ثابت ہوتا ہے؟

جو شخص بھی ان احادیث کو پڑھے گا وہ خود دیکھ لے گا کہ ان میں کسی ’’مسیح موعود‘‘ یا مثیل مسیح‘‘ یا ’’بروزِ مسیح‘‘ کا سرے سے کوئی ذکر ہی نہیں ہے۔ نہ ان میں اس اَمر کی کوئی گنجائش ہے کہ کوئی شخص اس زمانے میں کسی ماں کے پیٹ اور کسی باپ کے نطفے سے پیدا ہو کر یہ دعویٰ کردے کہ میں ہی وہ مسیح ہوں۔ جس کے آنے کی سیدنا محمدﷺ نے پیشن گوئی فرمائی تھی۔ یہ تمام حدیثیں صاف اور صریح الفاظ میں ان عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کی خبر دے رہی ہیں جو اب سے دو ہزار سال پہلے باپ کے بغیر حضرت مریمؑ کے بطن سے پیدا ہوئے تھے۔ اس مقام پر یہ بحث چھیڑنا بالکل لاحاصل ہے ہے کہ وہ وفات پاچکے ہیں یا زندہ ہیں موجود ہیں۔ بالفرض وہ وفات ہی پا چکے ہوں تو اللہ انہیں زندہ کرکے اٹھا لانے پر قادر ہے۔[جو لوگ اس بات کا انکار کرتے ہیں انہیں سورۂ بقرہ کی آیت ۲۵۹ ملاحظہ فرما لینی چاہئے جس میں اللہ تعالیٰ صاف الفاظ میں فرماتا ہے کہ اس نے اپنے ایک بندے کو ۱۰۰ برس تک مردہ رکھا اور پھر زندہ کر دیا فَاَمَاتَہُ اللّٰہُ مِاَئۃَ عَامٍ ثُمَّ بعثہٗ] وگرنہ یہ بات اللہ کی قدرت سے ہرگز بعید نہیں ہے کہ وہ اپنے کسی بندے کو اپنی کائنات میں کہیں ہزار ہا سال تک زندہ رکھے اور جب چاہے دنیا میں واپس لے آئے۔ بہرحال اگر کوئی شخص حدیث کو مانتا ہو تو اسے یہ ماننا پڑے گا کہ آنے والے وہی عیسیٰ ابن مریمؑ ہوں گے۔ اور اگر کوئی شخص حدیث کو نہ مانتا ہو تو وہ سرے سے کسی آنے والے کا قائل ہی نہیں ہوسکتا، کیونکہ آنے والے کی آمد کا عقیدہ احادیث کے سوا کسی اور چیز پر مبنی نہیں ہے۔ لیکن یہ ایک عجیب مذاق ہے کہ آنے والے کی آمد کا عقیدہ تو لے لیا جائے۔ احادیث سے اور پھر انہی احادیث کی اس تصریح کو نظر انداز کردیا جائے کہ وہ آنے والے عیسیٰ ابن مریمؑ ہوں گے نہ کہ کوئی مثیل مسیح۔

دوسری بات جو اتنی ہی وضاحت کے ساتھ ان احادیث سے ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کا یہ دوبارہ نزول نبی مقرر ہو کر آنے والے شخص کی حیثیت سے نہیں ہوگا۔ نہ ان پر وحی نازل ہوگی، نہ وہ خدا کی طرف سے کوئی نیا پیغام یا نئے احکام لائیں گے، نہ وہ شریعت محمدی میں کوئی اضافہ یا کوئی کمی کریں گے، نہ ان کو تجدید دین کے لیے دنیا میں لایا جائے گا، نہ وہ آکر لوگوں کو اپنے اوپر ایمان لانے کی دعوت دیں گے، اور نہ وہ اپنے ماننے والوں کی ایک الگ اُمت بنائیں گے۔[علمائ اسلام نے اس مسئلے کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔ علامہ تفتازانی (۷۲۲؁۔ ۷۹۲؁) شرح عقائد نسفی میں لکھتے ہیں:

ثبت انہ اٰخر الانبیائ….. فان قیل قدروی فی الحدیث نزول عیسیٰ علیہ السلام بعدہ قلنا نعم لٰکنہ یتابع محمداً علیہ السلام لان شریعتہٗ قد نسخت فلا یکون الیہ وحی ولا نصب احکام بل یکون خلیفۃ رسول اللہ علیہ السلام۔ (طبع مصر، ص۱۳۵)

یہ ثابت ہے کہ محمدﷺ آخری نبی ہیں….. اگر کہا جائے کہ آپ کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا ذکر احادیث میں آیا ہے، تو ہم کہیں گے کہ ہاں، آیا ہے، مگر وہ محمدﷺ کے تابع ہوں گے، کیونکہ ان کی شریعت تو منسوخ ہوچکی ہے اس لیے نہ ان کی طرف وحی ہوگی اور نہ وہ احکام مقرر کریں گے، بلکہ وہ رسول اللہﷺ کے نائب کی حیثیت سے کام کریں گے۔اور یہی بات علامہ آلوسی تفسیر روح المعانی میں کہتے ہیں:

ثم انہ علیہ السلام حین ینزل باق علیہ نبوتہ السابقۃ لم یعزل عنہا بحال لٰکنہ لا یتعبد بھا انسخھافی حقہ و حق غیرہ و تکلیفہ باحکام ھٰذہ الشریعۃ اصلاً و فرعًا فلا یکون الیہ علیہ السلام وحی ولا نصب احکام بل یکون خلیفۃ الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و حاکما من حکام ملتہ بین امتہٖ۔ (جلد ۲۲۔ص۳۲)

پھر، عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو وہ اپنی سابق نبوت پر باقی ہوں گے، بہرحال اس سے معزول تو نہ ہو جائیں گے، مگر وہ اپنی پچھلی شریعت کے پیرونہ ہوں گے کیوں کہ وہ ان کے اور دوسرے سب لوگوں کے حق میں منسوخ ہو چکی ہے، اور اب وہ اصول و فروغ میں اس شریعت کی پیروی پر مکلف ہوں گے، لہٰذا ان پر نہ اب وحی آئے گی اور نہ انہیں احکام مقرر کرنے کا اختیار ہوگا، بلکہ وہ رسول اللہﷺ کے نائب اور آپ کی امت میں ملت محمدیہ کے حاکموں میں سے ایک حاکم کی حیثیت سے کام کریں گے۔امام رازی اس بات کو اور زیادہ وضاحت کے ساتھ اس طرح بیان کرتے ہیں:

انتہاء الانبیاء الی مبعث محمد صلی اللہ علیہ وسلم فعند مبعثہٖ انتہت تلک المدۃ فلایبعد ان یصیر (ای عیسیٰ ابن مریم) بعد نزولہ تبعًا لمحمد۔ (تفسیر کبیر۔ ج۳۔ص۳۴۳)

انبیاء کا دور محمدﷺ کی بعثت تک تھا۔ جب آپ مبعوث ہوگئے تو انبیاء کی آمد کا زمانہ ختم ہوگیا۔ اب یہ بات بعید از قیاس نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ نازل ہونے کے بعد محمدﷺ کے تابع ہوں گے۔] وہ صرف ایک کار خاص کے لیے بھیجے جائیں گے، اور وہ یہ ہوگا کہ دجال کے فتنے کا استیصال کر دیں۔ اس غرض کے لیے حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ایسے طریقے سے نازل ہوں گے کہ جن مسلمانوں کےدرمیان ان کانزول ہوگا انہیں اس امر میں کوئی شک نہ رہے گا کہ یہ عیسیٰ ابن مریمؑ ہی ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی پیشین گوئیوں کے مطابق ٹھیک وقت پر تشریف لائے ہیں۔ وہ آکر مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہو جائیں گے، جو بھی مسلمانوں کا امام اس وقت ہوگا اُسی کے پیچھے نماز پڑھیں گے، اور جو بھی اس وقت مسلمانوں کا امیر ہوگا اُسی کو آگے رکھیں گے، تاکہ اس شبہ کی کوئی ادنیٰ سی گنجائش بھی نہ رہے کہ وہ اپنی سابق پیغمبرانہ حیثیت کی طرح اب پھر پیغمبری کے فرائض انجام دینے کے لیے واپس آئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ کسی جماعت میں اگر خدا کا پیغمبر موجود ہو تو نہ اس کا کوئی امام [ اگر چہ دو روایتوں ( نمبر ۵ و ۲۱) میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونے کے بعد پہلی نماز خود پڑھائیں گے لیکن بیشتر اور قوی تر روایات (نمبر ۳-۷-۹-۱۵-۱۶) یہی کہتی ہیں کہ وہ نماز میں امامت کرانے سے انکار کریں گے اور جو اس وقت مسلمانوں کا امام ہوگا اس کو آگے بڑھائیں گے_ اسی بات کو محد ثین اور مفسرین نے بالا تفاق تسلیم کیا ہے] دوسرا شخص ہوسکتا ہے اور نہ امیر۔ پس جب وہ مسلمانوں کی جماعت میں آکر محض ایک فرد کی حیثیت سے شامل ہوں گے تو یہ گویا خود بخود اس امر کا اعلان ہوگا کہ وہ پیغمبر کی حیثیت سے تشریف نہیں لائے ہیں، اور اس بنا پر ان کی آمد سے مہر نبوت کے ٹوٹنے کا قطعاً کوئی سوال پیدا نہ ہوگا۔

ان کا آنا بلاتشبیہ اسی نوعیت کا ہوگا جیسے ایک صدر ریاست کے دَور میں کوئی سابق صدر آئے اور وقت کے صدر کی ماتحتی میں مملکت کی کوئی خدمت انجام دے۔ ایک معمولی سمجھ بوجھ کا آدمی بھی یہ بات بخوبی سمجھ سکتا ہے۔ کہ ایک صدر کے دور میں کسی سابق صدر کے محض آجانے سے آئین نہیں ٹوٹتا البتہ دو صورتوں میں آئین کی خلاف ورزی لازم آتی ہے۔ ایک یہ کہ سابق صدر اگر پھر سے فرائض صدارت سنبھالنے کی کوشش کرے۔ دوسرے یہ کہ کوئی شخص اس کی سابق صدارت کا بھی انکار کر دے، کیونکہ یہ اُن تمام کاموں کے جواز کو چیلنج کرنے کا ہم معنی ہوگا جو اس کے دَور صدارت میں انجام پائے تھے۔ ان دونوں صورتوں میں سے کوئی صورت بھی نہ ہو تو بجائے خود سابق صدر کی آمد آئینی پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں کرسکتی۔ یہی معاملہ حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کا بھی ہے کہ ان کے محض آجانے سے ختم نبوت نہیں ٹوٹتی۔ البتہ اگر وہ آکر پھر نبوت کا منصب سنبھال لیں اور فرائض نبوت انجام دینے شروع کردیں، یا کوئی شخص ان کی سابق نبوت کا بھی انکار کر دے تو اس سے اللہ تعالیٰ کے آئین نبوت کی خلاف ورزی لازم آئے گی۔ احادیث نے پوری وضاحت کے ساتھ ان دونوں صورتوں کا سدباب کر دیا ہے۔ ایک طرف وہ تصریح کرتی ہیں کہ محمدﷺ کے بعد کوئی نبوت نہیں ہے۔ اور دوسری طرف وہ خبر دیتی ہیں کہ عیسیٰ ابن مریمؑ دوبارہ نازل ہوں گے۔ اس سے صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ ان کی یہ آمد ثانی منصب نبوت کے فرائض انجام دینے کے لیے نہ ہوگی۔

اسی طرح ان کی آمد سے مسلمانوں کے اندر کفر و ایمان کا بھی کوئی نیا سوال پیدا نہ ہوگا۔ ان کی سابقہ نبوت پر تو آج بھی اگر کوئی ایمان نہ لائے تو کافر ہو جائے۔ محمدﷺ خود ان کی اُس نبوت پر ایمان رکھتے تھے اور آپ کی ساری امت ابتدا سے ان کی مومن ہے۔ یہی حیثیت اس وقت بھی ہوگی۔ مسلمان کسی تازہ نبوت پر ایمان نہ لائیں گے بلکہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کی سابقہ نبوت ہی پر ایمان رکھیں گے جس طرح آج رکھتے ہیں۔ یہ چیز نہ آج ختم نبوت کے خلاف ہے نہ اس وقت ہوگی۔

آخری بات جو ان احادیث سے اور بکثرت دوسری احادیث سے بھی معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ دجال، جس کے فتنہ عظیم کا استیصال کرنے کے لیے حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو بھیجا جائے گا،یہودیوں میں سے ہوگا اور اپنے آپ کو ’’مسیح‘‘ کی حیثیت سے پیش کرے گا۔ اس معاملہ کی حقیقت کوئی شخص نہیں سمجھ سکتا جب تک وہ یہودیوں کی تاریخ اور ان کے مذہبی تصورات سے واقف نہ ہو۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد جب بنی اسرائیل پے درپے تنزل کی حالت میں مبتلا ہوتے چلے گئے، یہاں تک کہ آخر کار بابل اور اسیریا کی سلطنتوں نے ان کوغلام بنا کر زمین میں تتر بتر کر دیا تو انبیائے بنی اسرائیل نے ان کو خوشخبری دینی شروع کی کہ خدا کی طرف سے ایک ’’مسیح‘‘ آنے والا ہے جو ان کو اس ذلت سے نجال دلائے گا۔ ان پیشن گوئیوں کی بناء پر یہودی ایک ایسے مسیح کی آمد کے متوقع تھے جو بادشاہ ہو۔ لڑ کر ملک فتح کرے، بنی اسرائیل کو ملک ملک سے لاکر فلسطین میں جمع کر دے، اور ان کی ایک زبردست سلطنت قائم کردے۔ لیکن ان کی ان توقعات کے خلاف جب حضرت عیسیٰ ابن مریم ؑ خدا کی طرف سے مسیح ہو کر آئے اور کوئی لشکر ساتھ نہ لائے تو یہودیوں نے ان کی مسیحیت تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور انہیں ہلا کرنے کے درپے ہوگئے۔ اس وقت سے آج تک دنیا بھر کے یہودی اس مسیح موعود (Promised Messiah) کے منتظر ہیں جس کے آنے کی خوشخبریاں ان کو دی گئی تھیں۔ ان کا لٹریچر اس آنے والے دَور کے سہانے خوابوں سے بھرا پڑا ہے۔ تلمود اور ربیوں کے ادبیات میں اس کا جو نقشہ کھینچا گیا ہے اس کی خیالی لذت کے سہارے صدیوں سے یہودی جی رہے ہیں اور یہ امید لیے بیٹھے ہیں کہ یہ مسیح موعود ایک زبردست جنگی و سیاسی لیڈر ہوگا جو دریائے نیل سے دریائے فرات تک کا علاقہ (جسے یہودی اپنی میراث کا ملک سمجھتے ہیں) انہیں واپس دلائے گا۔ اور دنیا کے گوشے گوشے سے یہودیوں کو لاکر اس ملک میں پھر سے جمع کر دے گا۔

اب اگر کوئی شخص مشرق وسطیٰ کے حالات پر ایک نگاہ ڈالے اور نبیﷺ کی پیشین گوئیوں کے پس منظر میں ان کو دیکھے تو وہ فوراً یہ محسوس کرے گا کہ اُس دجال اکبر کے ظہور کے لیے اسٹیج بالکل تیار ہو چکا ہے جو حضورؐ کی دی ہوئی خبروں کے مطابق یہودیوں کا ’’مسیح موعود‘‘ بن کر اٹھے گا۔ فلسطین کے بڑے حصے سے مسلمان بے دخل کیے جاچکے ہیں اور وہاں اسرائیل کے نام سے ایک یہودی ریاست قائم کر دی گئی ہے۔ اس ریاست میں دنیا بھر کے یہودی کھچ کھچ کرچلے آرہے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے اس کو ایک زبردست جنگی طاقت بنا دیا ہے۔ یہودی سرمایے کی بے پایاں امداد سے یہودی سائنس داں اور ماہرین فنون اس کو روز افزوں ترقی دیتے چلے جارہے ہیں۔ اور اس کی یہ طاقت گرد و پیش کی مسلمان قوموں کے لیے ایک خطرہ عظیم بن گئی ہے۔ اس ریاست کے لیڈروں نے اپنی اس تمنا کو کچھ چھپا کر نہیں رکھا ہے کہ وہ اپنی ’’میراث کا ملک‘‘ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ مستقبل کی یہودی سلطنت کا جو نقشہ وہ ایک مدت سے کھلم کھلا شائع کر رہے ہیں اسے اگلے صفحے پر ملاحظہ فرمائیے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پورا شام پورا لبنان، پورا اُردن اور تقریباً سارا عراق لینے کے علاوہ ٹرکی سے اسکندرون، مصر سے سینا اور ڈیلٹا کا علاقہ اور سعودی عرب سے بالائی حجاز و نجد کا علاقہ لینا چاہتے ہیں جس میں مدینہ منورہ بھی شامل ہے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے صاف محسوس ہوتا ہے کہ آئندہ کسی عالمگیر جنگ کی ہڑبونگ سے فائدہ اٹھا کر وہ ان علاقوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کریں گے اور ٹھیک اس موقع پر وہ دجال اکبر ان کا مسیح موعود بن کر اٹھے گا جس کے ظہور کی خبر دینے ہی پر نبیﷺ نے اکتفا نہیں فرمایا ہے بلکہ یہ بھی بتا دیا ہے کہ اس زمانے میں مسلمانوں پر مصائب کے ایسے پہاڑ ٹوٹیں گے کہ ایک دن ایک سال کے برابر محسوس ہوگا۔ اسی بنا پر آپ فتنہ مسیح دجال سے خود بھی خدا کی پناہ مانگتے تھے اور اپنی امت کو بھی پناہ مانگنے کی تلقین فرماتے تھے۔

اس مسیح دجال کا مقابلہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کسی مثیل مسیح کو نہیں بلکہ اُس اصلی مسیح کو نازل فرمائے گا جسے دو ہزار برس پہلے یہودیوں نے ماننے سے انکار کر دیا تھا اور جسے وہ اپنی دانست میں صلیب پر چڑھا کر ٹھکانے لگا چکے تھے۔ اس حقیقی مسیح کے نزول کی جگہ ہندوستان یا افریقہ یا امریکہ میں نہیں بلکہ دمشق میں ہوگی کیونکہ یہی مقام اس وقت عین محاذ جنگ پر ہوگا۔ براہ کرم صفحہ ۶۸ پر نقشہ ملاحظہ فرمائیے اس میں آپ دیکھیں گے کہ اسرائیل کی سرحد سے دمشق بمشکل ۵۰،۶۰ میل کے فاصلے پر ہے۔ پہلے جو احادیث ہم نقل کر آئے ہیں ان کا مضمون اگر آپ کو یاد ہے تو آپ کو یہ سمجھنے میں کوئی زحمت نہ ہوگی کہ مسیح دجال ۷۰ ہزار یہودیوں کا لشکر لے کر شام میں گھسے گا اور دمشق میں جا پہنچے گا۔ ٹھیک اس نازک موقعہ پر دمشق کے مشرقی حصے میں ایک سفید مینار کے قریب حضرت عیسیٰ ابن مریمؑ صبح دم نازل ہوں گے۔ اور نماز فجر کے بعد مسلمانوں کو اس کے مقابلے پر لے کر نکلیں گے۔ ان کے حملے سے دجال پسپا ہو کر اَفیق کی گھاٹی سے (ملاحظہ ہو حدیث نمبر ۲۱) اسرائیل کی طرف پلٹے گا اور وہ اس کا تعاقب کریں گے۔ آخر کار لُد کے ہوائی اڈے پر پہنچ کر وہ ان کے ہاتھ سے مارا جائے گا (حدیث نمبر ۱۰۔ ۱۴۔۱۵) اس کے بعد یہودی چن چن کر قتل کیے جائیں گے اورملت یہود کا خاتمہ ہو جائے گا (حدیث نمبر ۹۔۱۵۔۲۱) عیسائیت بھی حضرت عیسیٰ کی طرف سے اظہار حقیقت ہو جانے کے بعد ختم ہو جائے گی (حدیث نمبر ۱۔۲۔۴۔۶) اور تمام ملتیں ایک ہی ملت مسلمہ میں ضم ہو جائیں گی۔ ( حدیث نمبر ۶۔۱۵)

یہ ہے وہ حقیقت جو کسی اشتباہ کے بغیر احادیث میں صاف نظر آتی ہے۔ اس کے بعد اس امر میں کیا شک باقی رہ جاتا ہے کہ ’’مسیح موعود‘‘ کے نام سے جو کاروبار ہمارے ملک میں پھیلایا گیا ہے وہ ایک جعل سازی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔

اس جعل سازی کا سب سے زیادہ مضحکہ انگیز پہلو یہ ہے کہ جو صاحب اپنے آپ کو ان پیشین گوئیوں کا مصداق قرار دیتے ہیں انہوں نے خود عیسیٰ ابن مریم بننے کے لیے یہ دلچسپ تاویل فرمائی ہے۔

اس نے (یعنی اللہ تعالیٰ نے) براہین احمدی کے تیسرے حصے میں میرا نام مریم رکھا۔ پھر جیسا کہ براہین احمدیہ سے ظاہر ہے، دو برس تک صفت مریمیت میں میں نے پرورش پائی….. پھر….. مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارے کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا، اور آخر کئی مہینے کے بعد، جو دس مہینے سے زیادہ نہیں، بذریعہ اُس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم میں درج ہے، مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔(کشتی نوح ص ۸۷۔۸۸۔۸۹)

یعنی پہلے مریم بنے، پھر خود ہی حاملہ ہوئے، پھر اپنے پیٹ سے آپ عیسیٰ ابن مریمؑ بن کر تولد ہوگئے۔ اس کے بعد یہ مشکل پیش آئی کہ عیسیٰ ابن مریم کا نزول تو احادیث کی رُو سے دمشق میں ہونا تھا جو کئی ہزار برس سے شام کا ایک مشہور و معروف مقام ہے اور آج بھی دنیا کے نقشے پر اسی نام سے موجود ہے۔ یہ مشکل ایک دوسری پر لطف تاویل سے یوں رفع کی گئی۔

واضح ہو کہ دمشق کے لفظ کی تعبیر میں میرے پر منجانب اللہ یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس جگہ ایسے قصبے کا نام دمشق رکھا گیا ہے جس میں ایسے لوگ رہتے ہیں جو یزیدی الطبع اور یزید پلید کی عادات اور خیالات کے پیرو ہیں۔ یہ قصبہ قادیان بہ وجہ اس کے کہ اکثر یزیدی الطبع لوگ اس میں سکونت رکھتے ہیں دمشق سے ایک مشابہت اور مناسبت رکھتا ہے۔ (حاشیہ ازالہ اوہام ص ۶۳ تا ۷۳)

پھر ایک اور الجھن یہ باقی رہ گئی کہ احادیث کی رو سے ابن مریم کو ایک سفید منارہ کے پاس اترنا تھا۔ چنانچہ اس کا حل یہ نکالا گیا کہ مسیح صاحب نے آکر اپنا منارہ خود بنوا لیا۔ اب اسے کون دیکھتا ہے کہ احادیث کی رو سے منارہ وہاں ابن مریم کے نزول سے پہلے موجود ہونا چاہئے تھا، اور یہاں وہ مسیح موعود کی تشریف آوری کے بعد تعمیر کیا گیا۔

ان تاویلات کو جو شخص بھی کھلی آنکھوں سے دیکھے گا اسے معلوم ہو جائے گا کہ یہ جھوٹے بہروپ (false impersonation)کا صریح ارتکاب ہے جو علی الاعلان کیا گیا ہے۔

٭…٭…٭…٭…٭