مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

ختم نبوت

اشاعت: 1962ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "ختم نبوت" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ اہم تصنیف ہے جس میں انہوں نے بیسویں صدی کے آغاز میں اُبھرنے والے ایک خطرناک فتنے—یعنی محمد ﷺ کے بعد نبوت کے دعوے—کا علمی، عقیداتی اور عملی سطح پر مقابلہ کیا ہے۔ مولانا کا بنیادی مقصد صرف علمی بحث نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کو ایک ایسی گمراہی سے بچانا ہے جو گزشتہ ساٹھ سال سے مسلسل پھیلتی جا رہی تھی اور جس کی جڑیں مسلمانوں کی دینی جہالت میں تلاش کی جا سکتی ہیں۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ اگر مسلمان اپنے دین کے بنیادی عقائد، خصوصاً عقیدۂ ختم نبوت، کو صحیح طور پر سمجھتے، تو کوئی دعوائے نبوت ان کے درمیان جڑ نہ پکڑ سکتا۔ لہٰذا، اس رسالے کا مقصد یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک ختم نبوت کی حقیقت اور اس کی شرعی اہمیت پہنچائی جائے، شبہات کو معقول دلائل سے دور کیا جائے، اور قارئین کو نہ صرف سمجھنے بلکہ سمجھانے والے بننے کی دعوت دی جائے۔

رسالے کا پہلا باب "دیباچہ" ہے، جس میں مولانا نے اپنے مقصد کو واضح کیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہ رسالہ محض ایک علمی تحقیق نہیں بلکہ ایک عملی ضرورت کا تقاضا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ جو لوگ ابھی تک اس فتنے سے متاثر نہیں ہوئے، وہ اس سے محفوظ رہیں، اور جو متاثر ہو چکے ہیں مگر حق پسند ہیں، ان کے سامنے حق واضح ہو جائے۔ تاہم، وہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ جنہوں نے دل کے دروازے بند کر لیے ہیں، ان کا علاج اللہ کے سوا کسی کے پاس نہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

احادیث درباب نزول عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام

(۱)۔ <<عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والذی نفسی بیدہ لَیُوشِکَنَّ ان ینزلَ فیکم ابنُ مریم حَکما عدلا فیکسر الصلیب و یقتل الخنزیرَ وَیَضَعَ الحربَ و یَفیضَ المالَ حتی لایقبلَہ احدٌ حتٰی تکون السجدۃ الواحدۃ خیراً من الدنیا و مافیھا۔>> (بخاری کتاب احادیث الانبیاء، باب نزول عیسیٰ ابن مریم۔ مسلم، باب بیان نزول عیسیٰ۔ ترمذی ابواب الفتن، باب فی نزول عیسیٰ۔ مسند احمد، مرویات ابی ہریرہؓ)

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ضرور اتریں گے تمہارے درمیان ابن مریم حاکم عادل بن کر، پھر وہ صلیب کو توڑ ڈالیں گے، اور خنزیر کو ہلاک کر دیں گے [ صلیب کو توڑ ڈالنے اور خنزیر کو ہلاک کر دینے کا مطلب یہ ہے کہ عیسائیت ایک الگ دین کی حیثیت سے ختم ہو جائے گی۔ دین عیسویں کی پوری عمارت اس عقیدے پر قائم ہے کہ خدا نے اپنےاکلوتے بیٹے (یعنی حضرت عیسیٰ) کو صلیب پر ’’لعنت‘‘ کی موت دی جس سے وہ انسان کے گناہ کا کفارہ بن گیا۔ اور انبیاء کی امتوں کے درمیان عیسائیوں کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے صرف عقیدے کو لیکر خدا کی پوری شریعت رد کر دی حتیٰ کہ خنزیر تک کو حلال کر لیا جو تمام انبیاء کی شریعتوں میں حرام رہا ہے پس جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آکر خود اعلان کر دیں گے کہ نہ میں خدا کا بیٹا ہوں، نہ میں نے صلیب پر جان دی، نہ میں کسی کے گناہ کا کفارہ بنا تو عیسائی عقیدے کے لیے سرے سے کوئی بنیاد ہی باقی نہ رہے گی۔ اسی طرح جب وہ بتائیں گے کہ میں نے تو نہ اپنے پیرووں کے لیے سور حلال کیا تھا اور نہ ان کو شریعت کی پابندی سے آزاد ٹھیرایا تھا، تو عیسائیت کی دوسری امتیازی خصوصیت کا بھی خاتمہ ہو جائے گا]۔اور جنگ کا خاتمہ کر دیں گے (دوسری روایت میں حرب کے بجائے جزیہ کا لفظ ہے، یعنی جزیہ ختم کر دیں گے) [ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ اُس وقت ملتوں کے اختلافات ختم ہو کر سب لوگ ایک ہی ملت اسلام میں شامل ہو جائیں گے اور اس طرح نہ جنگ ہوگی اور نہ کسی پر جزیہ عائد کیا جائے گا۔ اسی بات پر آگے احادیث نمبر ۵ و ۱۵ دلالت کر رہی ہیں]۔ اور مال کی وہ کثرت ہوگی کہ اس کا قبول کرنے والا کوئی نہ رہے اور (حالت یہ ہو جائے گی کہ لوگوں کے نزدیک خدا کے حضور) ایک سجدہ کرلینا دنیا و مافیہا سے زیادہ بہتر ہوگا۔

(۲)۔ ایک اور روایت حضرت ابوہریرہؓ سے ان الفاظ میں ہے کہ <<لاتقوم الساعۃ حتی ینزل عیسی ابن مریم……>> قیامت قائم نہ ہوگی جب تک نازل نہ ہولیں عیسیٰ ابن مریمؑ…. اور اس کے بعد وہی مضمون ہے جو اوپر کی حدیث میں بیان ہوا ہے۔(بخاری، کتاب المظالم، باب کسر الصلیب۔ ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب فتنہ الدجال)

(۳) <<عن ابی ھریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال کیف انتم اذانزل ابن مریم فیکم و امامکم منکم۔>> (بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب نزول عیسیٰؑ، بیان نزول عیسیٰ ؑ۔ مسند احمد، مرویات ابی ہریرۃؓ)

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کیسے ہوگے تم جب کہ تمہارے درمیان ابن مریمؑ اتریں گے اور تمہارا امام اس وقت خود تم میں سے ہوگا۔ [یعنی نماز میں حضرت عیسیٰ ؑ امامت نہیں کرائیں گے بلکہ مسلمانوں کا جو امام پہلے سے ہوگا اسی کے پیچھے وہ نماز پڑھیں گے]۔

(۴) ۔ <<عن ابی ھریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال ینزل عیسیٰ ابن مریم فیقتل الخنزیر و یمحواالصلیب و تجمع لہ الصلوٰۃ و یعطی المال حتی لا یقبل و یضع الخراج و ینزل الروحاء فیحج منھا، اویعتمر، اویجمعھمٰا۔>> (مسند احمد، بسلسلہ مرویات ابی ہریرۃؓ۔ مسلم، کتاب الحج۔ باب جواز التمتع فی الحج و القران)

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا عیسیٰ ابن مریمؑ نازل ہوں گے پھر وہ خنزیر کو قتل کریں گے اور صلیب کو مٹا دیں گے اور ان کے لیے نماز جمع کی جائے گی اور وہ اتنا مال تقسیم کریں گے کہ اُسے قبول کرنے والا کوئی نہ ہوگا اور وہ خراج ساقط کردیں گے اور روحاء [مدینہ سے ۳۵ میل کے فاصلے پر ایک مقام]۔ کے مقام پر منزل کرکے وہاں سے حج یا عمرہ کریں گے یا دونوں کو جمع کریں گے، (راوی کو شک ہے کہ حضورؐ نے ان میں سے کونسی بات فرمائی تھی۔

(۵) <<عن ابی ھریرۃ (بعد ذکر خروج الدجال)فبینما ھم یعدون للقتال یسوون الصفوف اذا اقیمت الصلوۃ فینزل عیسیٰ ابن مریم فامّھم فاذارأہُ عدو اللہ یذوب کما یذوب الملح فی الماء فلوترکہ لانذاب حتی یھلک و لٰکن یقتلہٗ اللہ بیدہ فیریھم دمہ فی حربۃ۔>>(مشکوٰۃ، کتاب الفتن، باب الملاحم، بحوالہ مسلم)

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے (دجال کے خروج کا ذکر کرنے کے بعد حضورؐ نے فرمایا، اس اثناء میں کہ مسلمان اس سے لڑنے کی تیاری کررہے ہوں گے، صفیں باندھ رہے ہوں گے اور نماز کے لیے تکبیر اقامت کہی جاچکی ہوگی کہ عیسیٰ ابن مریمؑ نازل ہو جائیں گے اور نماز میں مسلمانوں کی امامت کریں گے۔ اور اللہ کا دشمن (یعنی دجال) ان کو دیکھتے ہی اس طرح گھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں گھلتا ہے۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام اس کو اُس کے حال ہی پر چھوڑ دیں تو وہ آپ ہی گُھل کر مر جائے۔ مگر اللہ اس کو ان کے ہاتھ سے قتل کرائے گا اور وہ اپنے نیزے میں اس کا خون مسلمانوں کو دکھائیں گے۔

(۶) ۔ <<عن ابی ھریرۃ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لیس بینی و بینہٗ نبی (یعنی عیسیٰ) و انہ نازل فاذارأیتموہ فاعرفوہ رجل مربوع الی الحمرۃ والبیاض بین ممصر تین کان رأسہ یقطروان لم یصبہ بلل فیقاتل الناس علی الاسلام فیدق الصلیب و یقتل الخنزیر و یضع الجزیۃ و یھلک اللہ فی زمانہ الملل کلھا الاالاسلام و یھلک المسیح الدجال فیمکث فی الارض اربعین سنۃ ثم یتوفی فیصلی علیہ المسلمون۔>> (ابوداؤد، کتاب الملاحم، باب خروج الدجال۔ مسند احمد، مرویات ابوہریرہؓ)

ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا میرے اور ان کے (یعنی عیسیٰ علیہ السلام) کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔ اور یہ کہ وہ اترنے والے ہیں، پس جب تم ان کو دیکھو تو پہچان لینا، وہ ایک میانہ قد آدمی ہیں، رنگ مائل بسرخی و سپیدی ہے، دو زرد رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے ہوں گے۔ان کے سر کے بال ایسے ہوں گے گویا اب ان سے پانی ٹپکنے والا ہے حالانکہ وہ بھیگے ہوئے نہ ہوں گے۔ وہ اسلام پر لوگوں سے جنگ کریں گے، صلیب کو پاش پاش کر دیں گے، خنزیر کو قتل کر دیں گے، جزیہ ختم کر دیں گے، اور اللہ ان کے زمانے میں اسلام کے سوا تمام ملتوں کو مٹا دے گا، اور وہ مسیح دجال کو ہلاک کر دیں گے، اور زمین میں وہ چالیس سال ٹھہریں گے پھر ان کا انتقال ہو جائے گا اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔

(۷) ۔ <<عن جابر بن عبداللہ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فینزل عیسیٰ ابن مریم صلی اللہ علیہ وسلم فیقول امیرھم تعالیٰ فصل فیقول لا اِن بعضکم علی بعض امراء تکرمۃ اللہ ھذہ الامۃ۔>>(مسلم، بیان نزول عیسیٰ ابن مریم۔ مسند احمد بسلسلہ مرویات جابر بن عبداللہ)

حضرت جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا کہ ….. پھرعیسیٰ ابن مریمؑ نازل ہوں گے۔ مسلمانوں کا امیر اُن سے کہے گا کہ آئیے، آپ نماز پڑھائیے، مگر وہ کہیں گے کہ نہیں، تم لوگ خود ہی ایک دوسرے کے امیر ہو [یعنی تمہارا امیر خود تمہی میں سے ہونا چاہیے]۔ یہ وہ اس عزت کالحاظ کرتے ہوئے کہیں گے جو اللہ نے اُس اُمت کو دی ہے۔ [واضح رہے کہ اس زمانے میں جن صاحب کو مثیل مسیح قرار دیا گیا ہے انہوں نے اپنی زندگی میں نہ حج کیا نہ عمرہ]

(۸) ۔ <<عن جابر بن عبداللہ (فی قصۃ ابن صیاد) فقال عمر بن الخطاب ائذن لی فاقتلہٗ یارسول اللہ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان یکن ھوفلست صاحبہ، انما صاحبہ عیسیٰ ابن مریم علیہ الصلوۃ و السلام، و ان لا یکن فلیس لک ان تقتل رجلا من اھل العہد۔>> (مشکوٰۃ، کتاب الفتن، باب قصہ ابن صیاد، بحوالہ شرح السنہ بغوی)

جابر بن عبداللہ(قصہ ابن صیاد کے سلسلہ میں) روایت کرتے ہیں کہ پھر عمر بن خطاب نے عرض کیا، یارسول اللہ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اسے قتل کر دوں۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اگر یہ وہی شخص (یعنی دجال) ہے تو اس کے قتل کرنےوالے تم نہیں ہو بلکہ اسے تو عیسیٰ ابن مریمؑ ہی قتل کریں گے۔ اور اگر یہ وہ شخص نہیں ہے تو تمہیں اہل عہد (یعنی ذمیوں) میں سے ایک آدمی کو قتل کر دینے کا کوئی حق نہیں ہے۔

(۹) ۔ <<عن جابر بن عبداللہ (فی قصۃ الدجال) فاذاھم بعیسیٰ ابن مریم علیہ السلام فتقام الصلوۃ فیقال لہ تَقَدَّمْ یا روح اللہ فیقول لیتقدم امامکم فلیصل بکم فاذاصلی صلوٰۃ الصبح خرجوا الیہ۔ قال فحین یری الکذاب ینماث کماینماث الملح فی المائ فیمشی الیہ فیقتلہٗ ان الشجرو الحجر ینادی یا روح اللہ ھٰذا الیھودی، فلایترک ممن کان یتبعہ احد الاقتلہ۔>> (مسند احمد،بسلسلۂ روایات جابر بن عبداللہ)

جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ (دجال کا قصہ بیان کرتے ہوئے نبیﷺ نے فرمایا: اس وقت یکایک عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام مسلمانوں کے درمیان آئیں گے۔ پھر نماز کھڑی ہوگی اور ان سے کہا جائے گا اے روح اللہ آگے بڑھیے، مگر وہ کہیں گے کہ نہیں، تمہارے امام ہی کو آگے بڑھنا چاہئے، وہی نماز پڑھائے۔ پھر صبح کی نماز سے فارغ ہو کر مسلمان دجال کے مقابلے پر نکلیں گے۔ فرمایا، جب وہ کذاب حضرت عیسیٰ ؑ کو دیکھے گا تو گھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں گھلتا ہے۔ پھر وہ اس کی طرف بڑھیں گے اور اسے قتل کر دیں گے اور حالت یہ ہوگی کہ درخت اور پتھر پکار اٹھیں گے کہ اے روح اللہ یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے۔ دجال کے پیرووں میں سے کوئی نہ بچے گا جو قتل نہ کر دیا جائے۔

(۱۰)۔ <<عن النواس بن سمعان (فی قصۃ الدجال فبینما ھوکذالک اذ بعث اللہ المسیح ابن مریم فینزل عند المنارۃ البیضاء شرقی دمشق بین مھروذتین واضعًا کفیہ علی اجنحۃ ملکین اذا طأطأرأسہ قطر و اذارفعہ تحدر منہ جمان کا للوء لوء فلایحل لکا فریجدریح نفسہ الامات و نفسہ ینتھی الی حیث ینتھی طرفہ فیطلبہ حتی یدرکہٗ بباب لد فیقتلہ۔>> (مسلم، ذکر الدجال۔ ابوداؤد، کتاب الملاحم، باب خروج الدجال۔ ترمذی، ابواب الفتن، باب فی فتنۃ الدجال۔ ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب فتنۃ الدجال)

حضرت نواس بن سمعان کلابی (قصہ دجال بیان کرتے ہوئے) روایت کرتے ہیں۔ اس اثنا میں کہ دجال یہ کچھ کر رہا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریمؑ کو بھیج دے گا اور وہ دمشق کے مشرقی حصے، میں سفید مینار کے پاس زرد رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے، دو فرشتوں کے بازوؤں پر اپنے ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے۔ جب وہ سر جھکائیں گے تو ایسا محسوس ہوگا کہ قطرے ٹپک رہے ہیں، اور جب سر اٹھائیں گے تو موتی کی طرح قطرے ڈھلکتے ہوئے نظر آئیں گے۔ ان کے سانس کی ہوا جس کافر تک پہنچے گی۔ اور وہ ان کی حد نظر تک جائے گی۔ وہ زندہ نہ بچے گا۔ پھر ابن مریمؑ دجال کا پیچھا کریں گے اور لُد [ واضح رہے کہ لُدّ (Lydda) فلسطین میں ریاست اسرائیل کے دارالسلطنت تل ابیب سے چند میل کے فاصلے پر واقع ہے اور یہودیوں نے وہاں بہت بڑا ہوائی اڈا بنا رکھا ہے] کے دروازے پر اسے جا پکڑیں گے اور قتل کر دیں گے۔

(۱۱)۔ << عن عبداللہ بن عمرو۔ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یخرج الدجال فی امتی فیمکث اربعین (لاادری اربعین یومًا اواربعین شھراً اواربعین عامًا) فیبعث اللہ عیسیٰ ابن مریم کانہٗ عروۃ ابن مسعود فیطلبلہ فیھلکہ ثم یمکث الناس سبع سنین لیس بین اثنین عداوۃ۔>> (مسلم، ذکر الدجال)

عبداللہ بن عمرو بن عاص کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: دجال میری اُمت میں نکلے گا اور چالیس (میں نہیں جانتا چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال ) [یہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص کا اپنا قول ہے] رہے گا۔پھر اللہ عیسیٰ ابن مریمؑ کو بھیجے گا۔ ان کا حلیہ عروہ بن مسعود (ایک صحابی) سے مشابہ ہوگا۔ وہ اس کا پیچھا کریں گے اور اُسے ہلاک کر دیں گے، پھر سات سال تک لوگ اُس حال میں رہیں گے کہ دو آدمیوں کے درمیان بھی عداوت نہ ہوگی۔

(۱۲)۔ << عن حذیفۃ بن اسید الغفاری قال اطلع النبی صلی اللہ علیہ وسلم علینا و نحن نتذاکر فقال ماتذکرون قالوا نذکر الساعۃ قال انھالن تقوم حتی ترون قبلہا عشراٰیات فذکر الدخان و الدجال و الدابہ و طلوع الشمس من مغربھا و نزول عیسیٰ ابن مریم و یاجوج و ما جوج و ثلثۃ خسوف، خسف بالمشرق، و خسف بالمغرب، وخسف بجزیرۃ العرب و اٰخرذالک نارتخرج من الیمن تطرد الناس الیٰ محشرھم۔>> (مسلم: کتاب الفتن و اشراط الساعہ۔ ابوداؤد، کتاب الملاحم، باب امارات الساعہ)

حذیفہ بن اسید الغفاری کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبیﷺ ہماری مجلس میں تشریف لائے اور ہم آپس میں بات چیت کر رہے تھے۔ آپؐ نے پوچھا کیا بات ہو رہی ہے۔ لوگوں نے عرض کیا ہم قیامت کا ذکر کر رہے تھے۔ فرمایا وہ ہرگز قائم نہ ہوگی جب تک اس سے پہلے دس نشانیاں ظاہر نہ ہو جائیں۔ پھر آپؐ نے وہ دس نشانیاں یہ بتائیں (۱) دھواں،(۲) دجال، (۳)دابۃ الارض (۴) سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، (۵) عیسیٰ ابن مریمؑ کا نزول، (۶) یاجوج و ماجوج، (۷)تین بڑے خسف، [زمین دَھس جانا (Landslide] ایک مشرق میں (۸) دوسرا مغرب میں (۹) تیسرا جزیرۃ العرب میں (۱۰) سب سے آخر میں ایک زبردست آگ جو یمن سے اٹھے گی اور لوگوں کو ہانکتی ہوئی محشر کی طرف لے جائے گی۔

(۱۳)۔ << عن ثوبان مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من النبی صلی اللہ علیہ وسلم عصابتان من امتی احرزھما اللہ تعالیٰ من النار۔ عصابۃ تغزوا الھند، و عصابۃ تکون مع عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام>> (نسائی، کتاب الجہاد۔ مسند احمد، بسلسلہ روایات ثوبان)

نبیﷺ کے آزاد کردہ غلام ثوبان روایت کرتے ہیں کہ حضورؐ نے فرمایا میری امت کے دو لشکر ایسے ہیں جن کو اللہ نے دوزخ کی آگ سے بچا لیا۔ ایک وہ لشکر جو ہندوستان پر حملہ کرے گا۔ دوسرا وہ جو عیسیٰ ابن مریمؑ کے ساتھ ہوگا۔

(۱۴)۔ << عن مجمع بن جاریہ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقتل ابن مریم الدجال بباب لُدّ۔>> (مسند احمد۔ ترمذی، ابواب الفتن)

مجمع بن جاریہ انصاری کہتے ہیں، میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے کہ ابن مریمؑ دجال کو لُدّ کے دروازے پر قتل کریں گے۔

(۱۵)۔ << عن ابی امامۃ الباھلی (فی حدیث طویل فی ذکر الدجال) فبینما امامھم قد تقدم یصلی بھم الصبح اذنزل علیہم عیسیٰ ابن مریم فرجع ذالک الامام ینکص یمشی قھقریٰ لیقدم عیسیٰ فیضع عیسیٰ یدہٗ بین کتفیہ ثم یقول لہ تقدم فصل فانھالک اقیمت فیصلی بھم امامہم فاذاانصرف قال عیسیٰ علیہ السلام افتحواالباب فیفتح وراء ہٗ الدجال و معہ سبعون الف یہودی کلّھم ذوسیف محلی و سباج فاذانظرالیہ الدجال ذاب کما یذوب الملح فی الماء و ینطلق ھارباً و یقول عیسیٰ ان لی فیک ضربۃ لن تسبقنی بھا فیدرکہ عندباب اللُّدِ الشرقی فیھزم اللہ الیھود….. وتملأالارض من المسلم کما یملأ الاناء من الماء و تکون الکلمۃ واحدۃ فلایعبد الا اللہ تعالیٰ۔>> ( ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب فتنہ الدجال)

ابو اُمامہ باہلی (ایک طویل حدیث میں دجال کا ذکرکرتے ہوئے) روایت کرتے ہیں کہ عین اس وقت جب مسلمانوں کا امام صبح کی نماز پڑھانے کے لئے آگے بڑھ چکا ہوگا عیسیٰ ابن مریمؑ ان پر اتریں گے۔ امام پیچھے پلٹے گا تاکہ عیسیٰ ؑ آگے بڑھیں، مگر عیسیٰ ؑ اس کے شانوں کے درمیان ہاتھ رکھ کر کہیں گے کہ نہیں تم ہی نماز پڑھاؤ کیونکہ یہ تمہارے لیے ہی کھڑی ہوئی ہے چنانچہ وہی نماز پڑھائے گا۔ سلام پھیرنے کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے کہ دروازہ کھولو، چنانچہ وہ کھولا جائے گا۔ باہر دجال۷۰ ہزار مسلح یہودیوں کے ساتھ موجود ہوگا۔ جونہی کہ عیسیٰ علیہ السلام پر اس کی نظر پڑے گی وہ اس طرح گھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں گھلتا ہے اور وہ بھاگ نکلے گا۔ عیسیٰ ؑ کہیں گے میرے پاس تیرے لیے ایک ایسی ضرب ہے جس سے تو بچ کر نہ جاسکے گا۔ پھر وہ اسے لُدّ کے مشرقی دروازے پر جالیں گے اور اللہ یہودیوں کو ہرا دے گا….. اور زمین مسلمانوں سے اس طرح بھر جائے گی جیسے برتن پانی سے بھر جائے۔ سب دنیا کا کلمہ ایک ہوجائے گا اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ ہوگی۔

(۱۶)۔ << عن عثمان بن ابی العاص قال سمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول….. وینزل عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام عندصلوٰۃ الفجر فیقول لہ امیرھم یاروح اللہ تقدم، صَلِّ، فیقول ھذالامۃ الامراء بعضھم علیٰ بعض فیقدم امیرھم فیصلی فاذا قضیٰ صلوٰتہ اخذ عیسیٰ حربتہ فیذھب نحوالدجال فاذایراہ الدجال ذاب کما یذوب الرصاص فیضع حربتہٗ بین شندوبتہ فیقتلہٗ و ینھزم اصحابہ لیس یومئذ شئی یواری منھم احدًا حتی ان الشجرۃ لتقول یامومن ھٰذا کافر و یقول الحجر یا مومن ھٰذا کافر۔>> (مسند احمد۔ طبرانی۔ حاکم)

عثمان بن ابی العاص کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔۔ اور عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام فجر کی نماز کے وقت اُتر آئیں گے۔ مسلمانوں کا امیر اُن سے کہے گا کہ اے روح اللہ آپ نماز پڑھائیے۔ وہ جواب دیں گے کہ اس اُمت کے لوگ خود ہی ایک دوسرے پر امیر ہیں۔ تب مسلمانوں کا امیر آگے بڑھ کر نماز پڑھائے گا۔ پھر نماز سے فارغ ہو کر عیسیٰ ؑ اپنا حربہ لے کر دجال کی طرف چلیں گے۔ وہ جب ان کو دیکھے گا تو اس طرح پگھلے گا جیسے سیسہ پگھلتا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام اپنے حربے سے اس کو ہلاک کر دیں گے اور اس کے ساتھی شکست کھا کر بھاگیں گے مگر کہیں انہیں چھپنے کو جگہ نہ ملے گی، حتیٰ کہ درخت پکاریں گے کہ اے مومن یہ کافر یہاں موجود ہے۔ اور پتھر پکاریں گے کہ اے مومن یہ کافر یہاں موجود ہے۔

(۱۷) ۔ <<عن سمرۃ بن جندب عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم (فی حدیث طویل) فیصبح فیہم عیسیٰ ابن مریم فیھزمہ اللہ و جنودہ حتی ان اجذم الحائط واصل الشجر لینادی یامومن ھٰذا کافر یستتربی فتعال اقتلہ۔>> (مسند احمد۔ حاکم)

سمرہ بن جندب (ایک طویل حدیث میں) نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ پھر صبح کے وقت مسلمانوں کے درمیان عیسیٰ ابن مریمؑ آجائیں گے اور اللہ دجال اور اس کے لشکروں کو شکست دے گا یہاں تک کہ دیواریں اور درختوں کی جڑیں پکار اٹھیں گی کہ اے مومن یہ کافر میرے پیچھے چھپا ہوا ہے، آ اور اسے قتل کر۔

(۱۸)۔ <<عن عمران بن حصین ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال لاتزال طائفۃ من امتی علی الحق ظاھرین علی من ناوأھم حتی یاتی امر اللہ تبارک و تعالیٰ و ینزل عیسیٰ بن مریم علیہ السلام>> (مسند احمد)

عمران بن حصین سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: میری اُمت میں ہمیشہ ایک گروہ ایسا موجود رہے گا جو حق پر قائم اور مخالفین پر بھاری ہوگا یہاں تک کہ اللہ تبارکو تعالیٰ کا فیصلہ آجائے گا اور عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نازل ہوجائیں۔

(۱۹)۔ <<عن عائشہ (فی قصۃ الدجال) فینزل عیسیٰ علیہ السلام فیقتلہٗ ثم یمکث عیسیٰ علیہ الاسلام فی الارض اربعین سنۃ اماما عادلاً و حکما مقسطا۔>> (مسند احمد)

حضرت عائشہؓ (دَجال کے قصے میں روایت کرتی ہیں: پھر عیسیٰ علیہ السلام اُتریں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔ اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام چالیس سال تک زمین میں ایک امام عادل اور حاکم منصف کی حیثیت سے رہیں گے۔

(۲۰)۔ <<عن سفینۃ مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (فی قصۃ الدجال) فینزل عیسیٰ علیہ السلام فیقتلہ اللہ تعالیٰ عند عقبۃ افیق۔ >> (مسند احمد)

رسول اللہﷺ کے آزاد کردہ غلام سفینہ (دجال کے قصے میں) روایت کرتے ہیں: پھر عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور اللہ تعالیٰ دجال کو افیق کی گھاٹی [افیق، جسے آج کل فِیق کہتے ہیں، شام اور اسرائیل کی سرحد پر موجودہ ریاست شام کا آخری شہر ہے۔ اس کے آگے مغرب کی جانب چند میل کے فاصلہ پر طبریہ نامی جھیل ہے جس میں سے دریائے اُردن نکلتا ہے، اور اس کے جنوب مغرب کی طرف پہاڑوں کے درمیان ایک نشیبی راستہ ہے جو تقریباً ڈیڑھ دو ہزار فیٹ تک گہرائی میں اُتر کر اس مقام پر پہنچتا ہے جہاں سے دریائے اُروُن طبریہ میں سے نکلتا ہے۔ اسی پہاڑی راستے کو عقبہ افیق (افیق کی گھاٹی) کہتے ہیں] کے قریب ہلاک کردے گا۔

(۲۱)۔ <<عن حذیفۃ (فی ذکر الدجال) فلما قاموایصلون نزل عیسیٰ بن مریم امامھم فصلی بھم فلما انصرف قال ھٰکذا فرجوا بینی و بین عدو اللہ…. و یسلط اللہ علیھم المسلمین فیقتلو نھم حتی ان الشجر و الحجر لینادی یا عبداللہ یا عبدالرحمن یا مسلم ھٰذا لیھودی اقتلہ فیفینھم اللہ تعالیٰ و یظھر المسلمون فیکسرون الصلیب و یقتلون الخنزیر و یضعون الجزیۃ۔>> (مستدرک حاکم۔ مسلم میں بھی یہ روایت اختصار کے ساتھ آئی ہے۔ اور حافظ ابن حجر نے فتح الباری جلد ۶ص۴۵۰ میں اسے صحیح قرار دیا ہے)

حضرت حذیفہ بن یمان (دجال کا ذکر کرتے ہوئے) بیان کرتے ہیں: پھر جب مسلمان نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوں گے تو ان کی آنکھوں کے سامنے عیسیٰ ابن مریمؑ اتر آئیں گے اور وہ مسلمانوں کو نماز پڑھائیں گے پھر سلام پھیرنے کے بعد لوگوں سے کہیں گے کہ میرے اور اس دشمن خدا کے درمیان سے ہٹ جاؤ۔۔ اور اللہ دجال کے ساتھیوں پر مسلمانوں کو مسلط کردے گا اور مسلمان انہیں خوب ماریں گے یہاں تک کہ درخت اور پتھر پکاراٹھیں گے کہ اے عبداللہ، اے عبدالرحمان، اے مسلمان، یہ رہا ایک یہودی، مار اسے۔ اس طرح اللہ ان کو فنا کر دے گا اور مسلمان غالب ہوں گے اور صلیب توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کردیں گے اور جزیہ ساقط کر دیں گے۔

یہ جملہ ۲۱ روایات میں جو ۱۴ صحابیوں سے صحیح سندوں کے ساتھ حدیث کی معتبر ترین کتابوں میں وارد ہوئی ہیں۔ اگرچہ ان کے علاوہ دوسری بہت سی احادیث میں بھی یہ ذکر آیا ہے، لیکن طول کلام سے بچنے کے لیے ہم نے ان سب کو نقل نہیں کیا ہے بلکہ صرف وہ روایتیں لے لی ہیں جو سند کے لحاظ سے قوی تر ہیں۔