مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

ختم نبوت

اشاعت: 1962ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "ختم نبوت" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ اہم تصنیف ہے جس میں انہوں نے بیسویں صدی کے آغاز میں اُبھرنے والے ایک خطرناک فتنے—یعنی محمد ﷺ کے بعد نبوت کے دعوے—کا علمی، عقیداتی اور عملی سطح پر مقابلہ کیا ہے۔ مولانا کا بنیادی مقصد صرف علمی بحث نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کو ایک ایسی گمراہی سے بچانا ہے جو گزشتہ ساٹھ سال سے مسلسل پھیلتی جا رہی تھی اور جس کی جڑیں مسلمانوں کی دینی جہالت میں تلاش کی جا سکتی ہیں۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ اگر مسلمان اپنے دین کے بنیادی عقائد، خصوصاً عقیدۂ ختم نبوت، کو صحیح طور پر سمجھتے، تو کوئی دعوائے نبوت ان کے درمیان جڑ نہ پکڑ سکتا۔ لہٰذا، اس رسالے کا مقصد یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک ختم نبوت کی حقیقت اور اس کی شرعی اہمیت پہنچائی جائے، شبہات کو معقول دلائل سے دور کیا جائے، اور قارئین کو نہ صرف سمجھنے بلکہ سمجھانے والے بننے کی دعوت دی جائے۔

رسالے کا پہلا باب "دیباچہ" ہے، جس میں مولانا نے اپنے مقصد کو واضح کیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہ رسالہ محض ایک علمی تحقیق نہیں بلکہ ایک عملی ضرورت کا تقاضا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ جو لوگ ابھی تک اس فتنے سے متاثر نہیں ہوئے، وہ اس سے محفوظ رہیں، اور جو متاثر ہو چکے ہیں مگر حق پسند ہیں، ان کے سامنے حق واضح ہو جائے۔ تاہم، وہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ جنہوں نے دل کے دروازے بند کر لیے ہیں، ان کا علاج اللہ کے سوا کسی کے پاس نہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

قرآن کے سیاق و سباق کا فیصلہ

ایک گروہ جس نے اس دَور میں نئی نبوت کا فتنہ عظیم کھڑا کیا ہے، لفظ خاتم النبیین کے معنی ’’نبیوں کی مُہر‘‘ کرتا ہےاور اس کا مطلب یہ لیتا ہے کہ نبیﷺ کے بعد جو انبیاء بھی آئیں گے وہ آپ کی مہر لگنے سے نبی بنیں گے، یا بالفاظ دیگر جب تک کسی کی نبوت پر آپ کی مہر نہ لگے وہ وہ نبی نہ ہوسکے گا۔

لیکن جس سلسلۂ بیان میں یہ آیت وارد ہوئی ہے اس کے اندر رکھ کر اُسے دیکھا جائے تو اس لفظ کا یہ مفہوم لینے کی قطعاً کوئی گنجائش نظر نہیں آتی ، بلکہ اگر یہی اس کے معنی ہوں تو یہاں یہ لفظ بے محل ہی نہیں، مقصود کلام کے بھی خلاف ہو جاتا ہے۔ آخر اس بات کا کیا تُک ہے کہ اُوپر سے تو نکاح زینب پر معترضین کے اعتراضات اور ان کے پیدا کیے ہوئے شکوک وشبہات کا جواب دیا جارہا ہو اور یکایک یہ بات کہہ ڈالی جائے کہ محمدؐ نبیوں کی مہر ہیں، آئندہ جو نبی بھی بنے گا، ان کی مُہر لگ کر بنے گا۔ اس سیاق و سباق میں یہ بات نہ صرف یہ کہ بالکل بے تکی ہے، بلکہ اس سے وہ استدلال الٹا کمزور ہو جاتا ہے جو اُوپر سے معترضین کے جواب میں چلا آرہا ہے۔ اس صورت میں تو معترضین کے لئے یہ کہنے کا اچھا موقع تھا کہ آپ یہ کام اس وقت نہ کرتے تو کوئی خطرہ نہ تھا اس رسم کو مٹانے کی ایسی ہی کچھ شدید ضرورت ہے تو آپ کے بعد آپ کی مہر لگ لگ کر جو انبیاءؑ آتے رہیں گے اُن میں سے کوئی اسے مٹادے گا۔

ایک دوسری تاویل اس گروہ نے یہ بھی کی ہے کہ ’’خاتم النبیین‘‘ کے معنی افضل النبیین کے ہیں، یعنی نبوت کا دروازہ تو کھلا ہوا ہے، البتہ کمالات نبوت حضورؐ پر ختم ہوگئے ہیں۔ لیکن یہ مفہوم لینے میں بھی وہی قباحت ہے جو اوپر ہم نے بیان کی ہے۔ سیاق و سباق سے یہ مفہوم بھی کوئی مناسبت نہیں رکھتا، بلکہ اُلٹا اس کے خلاف پڑتا ہے۔ کفار و منافقین کہہ سکتے تھے کہ حضرت کم تر درجے کے ہی سہی، بہرحال آپ کے بعد بھی نبی آتے رہیں گے۔ پھر کیا ضرور تھا کہ اس رسم کو بھی آپ ہی مٹا کر تشریف لے جاتے۔