مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

ختم نبوت

اشاعت: 1962ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "ختم نبوت" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ اہم تصنیف ہے جس میں انہوں نے بیسویں صدی کے آغاز میں اُبھرنے والے ایک خطرناک فتنے—یعنی محمد ﷺ کے بعد نبوت کے دعوے—کا علمی، عقیداتی اور عملی سطح پر مقابلہ کیا ہے۔ مولانا کا بنیادی مقصد صرف علمی بحث نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کو ایک ایسی گمراہی سے بچانا ہے جو گزشتہ ساٹھ سال سے مسلسل پھیلتی جا رہی تھی اور جس کی جڑیں مسلمانوں کی دینی جہالت میں تلاش کی جا سکتی ہیں۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ اگر مسلمان اپنے دین کے بنیادی عقائد، خصوصاً عقیدۂ ختم نبوت، کو صحیح طور پر سمجھتے، تو کوئی دعوائے نبوت ان کے درمیان جڑ نہ پکڑ سکتا۔ لہٰذا، اس رسالے کا مقصد یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک ختم نبوت کی حقیقت اور اس کی شرعی اہمیت پہنچائی جائے، شبہات کو معقول دلائل سے دور کیا جائے، اور قارئین کو نہ صرف سمجھنے بلکہ سمجھانے والے بننے کی دعوت دی جائے۔

رسالے کا پہلا باب "دیباچہ" ہے، جس میں مولانا نے اپنے مقصد کو واضح کیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہ رسالہ محض ایک علمی تحقیق نہیں بلکہ ایک عملی ضرورت کا تقاضا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ جو لوگ ابھی تک اس فتنے سے متاثر نہیں ہوئے، وہ اس سے محفوظ رہیں، اور جو متاثر ہو چکے ہیں مگر حق پسند ہیں، ان کے سامنے حق واضح ہو جائے۔ تاہم، وہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ جنہوں نے دل کے دروازے بند کر لیے ہیں، ان کا علاج اللہ کے سوا کسی کے پاس نہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

تمام عُلمائے اُمّت کا اجماع

اجماع صحابہ کے بعد چوتھے نمبر پر مسائل دین میں جس چیز کو حجت کی حیثیت حاصل ہے وہ دورِ صحابہ کے بعد کے علمائے امت کا اجماع ہے۔ اس لحاظ سے جب ہم دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ پہلی صدی سے لیکر آج تک ہر زمانے کے، اور پوری دنیائے اسلام میں ہر ملک کے علماء اس عقیدے پر متفق ہیں کہ محمدﷺ کے بعد کوئی شخص نبی نہیں ہوسکتا، اور یہ کہ جو بھی آپ کے بعد اس منصب کا دعویٰ کرے، یا اس کو مانے، وہ کافر خارج از ملت اسلام ہے۔ اس سلسلے کے بھی چند شواہد ملاحظہ ہوں:

(۱) امام ابوحنیفہؒ (۸۰ھ؁۔ ۱۵۰ھ؁) کے زمانے میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اور کہا ’’مجھے موقع دو کہ میں اپنی نبوت کی علامات پیش کروں۔‘‘ اس پر امام اعظمؒ نے فرمایا کہ ’’جو شخص اس سے نبوت کی کوئی علامت طلب کرے گا وہ بھی کافر ہو جائے گا کیونکہ رسول اللہﷺ فرما چکے ہیں کہ:لا نبی بعدی۔(مناقب الامام اعظم ابی حنیفہ۔ لابن احمد المکی۔ ج۱ص۱۶۱۔ مطبوعہ حیدر آباد ۱۳۲۱ھ؁)

(۲) علامہ ابن جریر طبری (۲۲۴ھ؁ ۔ ۳۱۰ھ؁) اپنی مشہور تفسیر قرآن میں آیت ولٰکن رسول اللہ و خاتم النبیین کا مطلب بیان کرتے ہیں:الذی ختم النبوۃ فطبع علیھا فلا تفتح لاحد بعدہ الٰی قیام الساعۃ۔(تفسیر ابن جریر، جلد ۲۲، صفحہ۱۲)جس نے نبوت کو ختم کر دیا اور اس پر مہر لگا دی، اب قیامت تک یہ دروازہ کسی کے لیے نہیں کھلے گا۔

(۳) امام طحاوی (۲۳۹ھ؁۔ ۳۲۱ھ؁) اپنی کتاب ’’عقیدۂ سلفیہ‘‘ میں سلف صالحین اور خصوصاً امام ابوحنیفہ، امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہم اللہ کے عقائد بیان کرتے ہوئے نبوت کے بارے میں یہ عقیدہ تحریر فرماتے ہیں۔ اور یہ کہ محمدﷺ کے برگزیدہ بندے، چیدہ نبی اور پسندیدہ رسول ہیں اور وہ خاتم الانبیاء امام الاتقیا، سید المرسلین اور حبیب رب العالمین ہیں، اور ان کے بعد نبوت کا ہر دعویٰ گمراہی اور خواہش نفس کی بندگی ہے۔(شرح الطحاویہ فی العقیدۃ السلفیہ، دارالمعارف مصر، صفحات ۱۵،۸۷،۹۴،۹۷، ۱۰۰،۱۰۲)

(۴) علامہ ابن حزم اندلسی( ۳۸۴ھ؁۔ ۴۵۶ھ؁) لکھتے ہیں:یقیناً وحی کا سلسلہ نبیﷺ کی وفات کے بعد منقطع ہو چکا ہے۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ وحی نہیں ہوتی مگر ایک نبی کی طرف، اور اللہ عزوجل فرما چکا ہے کہ محمدؐ نہیں ہیں تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ مگر وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کے خاتم ہیں۔ (المحلی، ج۱، ص ۲۶)

(۵) امام غزالی (۴۵۰ھ؁۔ ۵۰۵ھ؁) فرماتے ہیں۔ [امام غزالیؒ کی اس رائے کو ہم ان کی اصل عربی عبارت کے ساتھ اس لیے نقل کر رہے ہیں کہ منکرین ختم نبوت نے اس حوالے کی صحت کو بڑے زور شور سے چیلنج کیا ہے]۔

<<لو فتح ھذاالباب رای باب انکار کون الاجماع حجۃ انجوالی امور شنیعۃ وھوان قائلا لوقال یجوز ان یبعث رسول بعد نبینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم فیبعد التوقف فی تکفیرہ، و مستبد استحالۃ ذالک عند البحث تستمد من الاجماع لامحالۃ، فان العقل لایحیلہ، وما نقل فیہ من قولہ لا نبی بعدی، ومن قولہ تعالیٰ خاتم النبیین، فلا یعجز ھٰذا لقائل عن تاویلہٗ فیقول خاتم النبیین ارادبہٖ اولوالعزم من الرسل، فان قالو النبیین عام، فلا یبعد تخصیص العام، وقولہ لا نبی بعدی لم یردبہ الرسل و النبی و فرق بین النبی و الرسول و النبی اعلیٰ مرتبۃ من الرسل الیٰ غیر ذالک من انواع الھذیان، فھٰذا و امثالہ لا یمکن ان ندعی استحالۃ من حیث مجرد اللفظ، فانافی تاویل ظواھر التشبیہ قضینا باحتمالات ابعد من ھٰذہٖ، ولم یکن ذالک مبطلاً للنصوص، ولٰکن الرد علی ھٰذا القائل ان الامۃ فہمت بالاجماع من ھٰذا اللفظ و من قرائن احوالہ انہ افھم۔ عدم نبی بعدہ ابدًا و عدم رسول اللہ ابدا و اَنّہٗ لیس فیہ تاویل ولا تخصیص فمنکر ھٰذا لایکون الامنکر الاجماع۔>>

(الاقتصاد فی الاعتقاد۔ المطبعۃ الادبیہ، مصر ص ۴۱۱)

اگر یہ دروازہ (یعنی اجماع کو حجت ماننے سے انکار کا دروازہ) کھول دیا جائے تو بڑی قبیح باتوں تک نوبت پہنچ جاتی ہے مثلاً اگر کہنے والا کہے کہ ہمارے نبیﷺ کے بعد کسی رسول کی بعثت ممکن ہے تو اس کی تکفیر میں تأمل نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن بحث کے موقع پر جو شخص اس کی تکفیر میں تامل کو ناجائز ثابت کرنا چاہتا ہے اُسے لامحالہ اجماع سے مدد لینی پڑے گی۔ کیونکہ عقل اس کے عدم جواز کا فیصلہ نہیں کرتی۔ اور جہاں تک نقل کا تعلق ہے اس عقیدے کا قائل لانبی بعدی اور خاتم النبیین کی تاویل کرنے سے عاجز نہ ہوگا۔ وہ کہے گا کہ خاتم النبیین سے مراد اولوالعزم رسولوں کا خاتم ہونا ہے۔ اور اگر کہا جائے کہ نبیین کا لفظ عام ہے تو عام کو خاص قرار دے دینا اس کے لیے کچھ مشکل نہ ہوگا۔ اور لانبی بعدی کے متعلق وہ کہہ دے گا کہ لارسول بعدی تو نہیں کہا گیا ہے، رسول اللہ نبی میں فرق ہے، اور نبی کا مرتبہ رسول سے بلند تر ہے۔ غرض اس طرح کی بکواس بہت کچھ کی جاسکتی ہے۔ اور محض لفظ کے اعتبار سے ایسی تاویلات کو ہم محال نہیں سمجھتے، بلکہ ظواہر تشبیہ کی تاویل میں ہم اس سے بھی زیادہ بعید احتمالات کی گنجائش مانتے ہیں۔ اور اس طرح کی تاویلیں کرنے والے کے متعلق ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ نصوص کا انکار کر رہا ہے۔ لیکن اس قول کے قائل کی تردید میں ہم یہ کہیں گے کہ اُمت نے بالاتفاق اس لفظ (یعنی لا نبی بعدی) سے اور نبیﷺ کے قرائن احوال سے یہ سمجھا ہے کہ حضور کا مطلب یہ تھا کہ آپ کے بعد کبھی نہ کوئی نبی آئے گا نہ رسول۔ نیز امت کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ اس میں کسی تاویل اور تخصیص کی گنجائش نہیں ہے۔لہٰذا ایسے شخص کو منکر اجماع کے سوا اور کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

(۶) محی السنہ بغوی (متوفی ۵۱۰ھ؁)اپنی تفسیر معالم التنزیل میں لکھتے ہیں:اللہ نے آپؐ کے ذریعے سے نبوت کو ختم کیا، پس آپ انبیاء کے خاتم ہیں …… اور ابن عباس کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس (آیت میں) یہ فیصلہ فرما دیا ہے کہ نبیﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ (جلد۳،ص۱۵۸)

(۷) علامہ زمخشری (۴۶۷ھ؁۔۵۳۸ھ؁)تفسیر کشاف میں لکھتے ہیں: اگر تم کہو کہ نبیﷺ آخری نبی کیسے ہوئے جب کہ حضرت عیسیٰ آخر زمانے میں نازل ہوں گے؟ تو میں کہوں گا کہ آپ کا آخری نبی ہونا اس معنی میں ہے کہ آپ کے بعد کوئی شخص نبی نہ بنایا جائے گا، اور عیسیٰ علیہ السلام ان لوگوں میں سے ہیں جو آپ سے پہلے نبی بنائے جاچکے تھے، اور جب وہ نازل ہوں گے تو شریعت محمدیہ کے پیرو اور آپ کے قبلے کی طرف نماز پڑھنے والے کی حیثیت سے نازل ہوں گے، گویا کہ وہ آپ ہی کی اُمت کے ایک فرد ہیں۔(جلد۲۔ص۲۱۵)

(۸)قاضی عیاض (متوفی ۵۴۴ھ؁)لکھتے ہیں: جو شخص خود اپنے حق میں نبوت کا دعویٰ کرے، یا اس بات کو جائز رکھے کہ آدمی نبوت کا اکتساب کرسکتا ہے اور صفائی قلب کے ذریعہ سے مرتبہ نبوت کو پہنچ سکتا ہے، جیسا کہ بعض فلسفی اور غالی صوفی کہتے ہیں، اور اسی طرح جو شخص نبوت کا دعویٰ تو نہ کرے مگر یہ دعویٰ کرے کہ اس پر وحی آتی ہے، ایسے سب لوگ کافر اور نبیﷺ کے جھٹلانے والے ہیں، کیونکہ آپؐ نے خبر دی ہے کہ آپ خاتم النبیین ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں۔ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر پہنچائی ہے کہ آپ نبوت کے ختم کرنے والے ہیں اور تمام انسانوں کی طرف آپ کو بھیجا گیا ہے اور تمام اُمت کا اس پر اجماع ہے کہ یہ کلام اپنے ظاہر مفہوم پر محمول ہے، اس کے معنی و مفہوم میں کسی تاویل و تخصیص کی گنجائش نہیں ہے۔ لہٰذا ان تمام گروہوں کے کافر ہونے میں قطعاً کوئی شک نہیں، بربنائے اجماع بھی اور بربنائے نقل بھی۔ (شفاء جلد۲، ص ۲۷۰۔ ۲۷۱)

(۹) علامہ شہرستانی (متوفی ۵۴۸ھ؁) اپنی مشہور کتاب الملل و النحل میں لکھتے ہیں: اور اسی طرح جو کہے۔ کہ محمدﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا ہے (بجز عیسیٰ علیہ السلام کے، تو اس کے کافر ہونے میں دو آدمیوں کے درمیان بھی اختلاف نہیں ہے۔ (جلد۳،ص۲۴۹)

(۱۰) امام رازی (۵۴۳ھ؁۔ ۶۰۶ھ؁) اپنی تفسیر کبیر میں آیت خاتم النبیین کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اس سلسلۂ بیان میں وخاتم النبیین اس لیے فرمایا کہ جس نبی کے بعد کوئی دوسرا نبی ہو وہ اگر نصیحت اور توضیح احکام میں کوئی کسر چھوڑ جائے تو اس کے بعد آنے والا نبی اُسے پورا کرسکتا ہے۔ مگر جس کے بعد کوئی آنے والا بنی نہ ہو وہ اپنی امت پر زیادہ شفیق ہوتا ہے اور اس کوزیادہ واضح رہنمائی دیتا ہے کیونکہ اس کی مثال اس باپ کی ہوتی ہے جو جانتا ہے کہ اس کے بیٹے کا کوئی ولی و سرپرست اس کے بعد نہیں ہے۔(جلد۶، ص ۵۸۱)

(۱۱) علامہ بیضاوی (متوفی ۶۸۵ھ؁)اپنی تفسیر انوار التنزیل میں لکھتے ہیں: یعنی آپ انبیاءؑ میں سب سے آخری نبی ہیں جس نے ان کا سلسلہ ختم کر دیا، یا جس سے انبیاء کے سلسلہ پر مہر کر دی گئی۔ اور عیسیٰ علیہ السلام کا آپ کے بعد نازل ہونا اس ختم نبوت میں قادح نہیں ہے کیونکہ جب وہ نازل ہوں گے تو آپ ہی کے دین پر ہوں گے۔ (جلد۴۔ ص ۱۶۴)

(۱۲) علامہ حافظ الدین النسفی (متوفی ۷۱۰ھ؁) اپنی تفسیر ’’مدارک التنزیل‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’ اور آپ خاتم النبیین ہیں۔ یعنی نبیوں میں سب سے آخری۔ آپؐ کے بعد کوئی شخص نبی نہیں بنایا جائے گا۔ رہے عیسیٰ ؑ تو وہ ان انبیائ میں سے ہیں جو آپ سے پہلے بنی بنائے جاچکے تھے۔ اور جب وہ نازل ہوں گے گویا کہ وہ آپ کی امت کے افراد میں سے ہیں۔ (ص ۴۷۱)

(۱۳) علامہ علاؤ الدین بغدادی (متوفی ۷۲۵ھ؁) اپنی تفسیر ’’خازن‘‘ میں لکھتے ہیں: وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْن، یعنی اللہ نے آپؐ پر نبوت ختم کر دی، اب نہ آپ کے بعد کوئی نبوت ہے نہ آپ کے ساتھ کوئی اس میں شریک ….. وَکَانَ اللّٰہُ بکُلِّ شی ءٍ عَلِیْمًا۔ یعنی یہ بات اللہ کے علم میں ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ (ص۴۷۱۔۴۷۲)

(۱۴) علامہ ابن کثیر (متوفی ۷۷۴ھ؁) اپنی مشہور و معروف تفسیر میں لکھتے ہیں: پس یہ آیت اس بات میں نص صریح ہے کہ نبیﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے، اور جب آپؐ کے بعد نبی کوئی نہیں تو رسول بدرجہ اولیٰ نہیں ہے، کیونکہ رسالت کا منصب خاص ہے اور نبوت کا منصب عام، ہر رسول نبی ہوتا ہے مگر ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔ حضورؐ کے بعد جو شخص بھی اس مقام کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا، مفتری، دجال، گمراہ اور گمراہ کرنے والا ہے خواہ وہ کیسے ہی خرق عادت اور شعبدے اور جادو اور طلسم اور کرشمے بنا کر لے آئے….. یہی حیثیت ہر اُس شخص کی ہے جو قیامت تک اس منصب کا مدعی ہو۔ (جلد۳۔ ص ۴۹۳۔۴۹۴)

(۱۵) علامہ جلال الدین سیوطی (متوفی ۹۱۱ھ؁) تفسیر جلالین میں لکھتے ہیں: وَکَانَ اللّٰہُ بکُلِّ شی ئٍ عَلِیْمًا۔ یعنی اللہ اس بات کو جانتا ہے کہ آنحضرت کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اور عیسیٰ ؑ جب نازل ہوں گے تو آپ کی شریعت ہی کے مطابق عمل کریں گے۔ (ص۷۶۸)

(۱۶) علامہ ابن نجیم (متوفی ۹۷۰ھ؁) اصول فقہ کی مشہور کتاب الاشباہ و النظائر، کتاب السیر، باب الردہ میں لکھتے ہیں: اگر آدمی یہ نہ سمجھے کہ محمدﷺ آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں ہے، کیونکہ یہ ان باتوں میں سے ہے جن کا جاننا اور ماننا ضروریات دین میں سے ہے۔ (۱۷۹)

(۱۷) ملا علی قاری (متوفی ۱۰۱۶ھ؁) شرح فقہ اکبر میں لکھتے ہیں: ہمارے نبیﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا بالاجماع کفر ہے۔ (۲۰۲)

(۱۸) شیخ اسمٰعیل حقی (متوفی ۱۱۳۷ھ؁) تفسیر روح البیان میں اس آیت کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: عاصم نے لفظ خاتَم ت کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے جس کے معنی ہیں آلۂ ختم کے جس سے مہر کی جاتی ہے، جیسے طابع اس چیز کو کہتے ہیں جس سے ٹھپا لگایا جائے۔ مراد یہ ہے کہ نبیﷺ انبیائ میں سب سے آخر تھے جن کے ذریعہ سے نبیوں کے سلسلہ پر مہر لگا دی گئی۔ فارسی میں اُسے ’’مہر پیغمبراں‘‘ کہیں گے، یعنی آپ سے نبوت کا دروازہ سربمہر کر دیا گیا اور پیغمبروں کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔ باقی قاریوں نے اُسے ت کے زیر کے ساتھ خاتم پڑھا ہے، یعنی آپ مہر کرنے والے تھے۔ فارسی میں اس کو ’’مہر کنندۂ پیغمبراں‘‘ کہیں گے۔ اس طرح یہ لفظ بھی خاتم کا ہم معنی ہی ہے….. اب آپ کی اُمت کے علمائ آپ سے صرف ولایت ہی کی میراث پائیں گے، نبوت کی میراث آپ کی ختمیت کے باعث ختم ہوچکی ۔ اور عیسیٰ علیہ السلام کا آپؐ کے بعد نازل ہونا آپ کے خاتم النبیین ہونے میں قادح نہیں ہے کیونکہ خاتم النبیین ہونے کے معنی یہ ہیں کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہ بنایا جائے گا….. اور عیسیٰ ؑ آپؐ سے پہلے نبی بنائے جاچکے تھے۔ اور جب وہ نازل ہوں گے تو شریعتِ محمدیﷺ کے پیرو کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔ آپؐ ہی کے قبلے کی طرف رُخ کرکے نماز پڑھیں گے۔ آپؐ کی اُمت کے ایک فرد کی طرح ہوں گے۔ نہ ان کی طرف وحی آئے گی اور نہ وہ نئے احکام دیں گے بلکہ وہ رسول اللہﷺ کے خلیفہ ہوں گے….. اور اہل سنت و الجماعت اس بات کے قائل ہیں کہ ہمارے نبیﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ولٰکن رسول اللہ و خاتم النبیین۔ اور رسول اللہﷺ نے فرمایا لا نبی بعدی۔اب جو کوئی کہے کہ ہمارے نبیﷺ کے بعد کوئی نبی ہے تو اس کو کافر قرار دیا جائے گا، کیونکہ اس نے نص کا انکار کیا۔ اور اسی طرح اُس شخص کی بھی تکفیر کی جائے گی جو اس میں شک کرے کیونکہ حجت نے حق کو باطل سے ممیز کر دیا ہے۔ اور جو شخص محمدﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے اس کا دعویٰ باطل کے سوا کچھ اور ہو ہی نہیں سکتا۔ (جلد ۲۲، ص ۱۸۸)(۱۸) فتاویٰ عالمگیری، جسے بارھویں صدی ہجری میں اورنگ زیب عالمگیر کے حکم سے ہندوستان کے بہت سے اکابر علمائ نے مرتب کیا تھا، اس میں لکھا ہے: اگر آدمی یہ نہ سمجھے کہ محمدﷺ آخری نبی ہیں تو وہ مسلم نہیں ہے۔ اور اگر وہ کہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں یا میں پیغمبر ہوں تو اس کی تکفیر کی جائے گی۔ (جلد۲، ص ۲۶۳)

(۱۹) علامہ شوکانی (متوفی ۱۲۵۵ھ؁) اپنی تفسیر فتح القدیر میں لکھتے ہیں: جمہور نے لفظ خاتم کوت کے زیر کے ساتھ پڑھا ہے اور عاصم نے زبر کے ساتھ۔ پہلی قرأت کے معنی یہ ہیں کہ آپ نے انبیائ کو ختم کیا، یعنی سب کے آخر میں آئے۔ اور دوسری قرأت کے معنی یہ ہیں کہ آپ اُن کے لیے مہر کی طرح ہوگئے جس کے ذریعے سے ان کا سلسلہ سربمہر ہوگیا اور جس کے شمول سے ان کا گروہ مزین ہوا۔ (جلد۴۔ص۲۷۵)

(۲۰) علامہ آلوسی (متوفی ۱۲۷۰ھ؁) تفسیر روح المعانی میں لکھتے ہیں: نبی کا لفظ رسول کی بہ نسبت عام ہے۔ لہٰذا رسول اللہ ﷺ کے خاتم النبیین ہونے سے خود بخود لازم آتا ہے کہ آپ خاتم المرسلین بھی ہوں۔ اور آپؐ کے خاتم انبیاءؑ و رُسل ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس دنیا میں وصف نبوت سے آپ کے متصف ہونے کے بعد اب جن و انس میں سے ہر ایک کے لیے نبوت کا وصف منقطع ہوگیا۔ (جلد ۲۲۔ ص ۳۲)۔ رسول اللہﷺ کے بعد جو شخص وحی نبوت کا مدعی ہو اُسے کافر قرار دیا جائے گا۔ اس امر میں مسلمانوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ (جلد ۲۲۔ ص ۳۸)

رسول اللہﷺ کا خاتم النبیین ہونا ایک ایسی بات ہے جسے کتاب اللہ نے صاف صاف بیان کیا، سنت نے واضح طور پر اس کی تصریح کی، اور اُمت نے اس پر اجماع کیا۔ لہٰذا جو اس کے خلاف کوئی دعویٰ کرے اُسے کافر قرار دیا جائے گا۔ (جلد۲۲۔ ص۳۹)

یہ ہندوستان سے لے کر مراکش اور اندلس تک، اور ٹر کی سے لے کریمن تک ہر مسلمان ملک کے اکابر علماء و فقہاء اور محدثین و مفسرین کی تصریحات ہیں۔ ہم نے ان کے ناموں کے ساتھ ان کے سنین ولادت و وفات بھی دے دئیے ہیں جن سے ہر شخص بیک نظر معلوم کرسکتا ہے کہ پہلی صدی سے تیرھویں صدی تک تاریخ اسلام کی ہر صدی کے اکابر ان میں شامل ہیں۔ اگرچہ ہم چودھویں صدی کے علمائے اسلام کی تصریحات بھی نقل کرسکتے تھے، مگر ہم نے قصداً انہیں اس لیے چھوڑ دیا کہ ان کی تفسیر کے جواب میں ایک شخص یہ حیلہ کرسکتا ہے کہ ان لوگوں نے اس دَور کے مدعی نبوت کی ضد میں ختم نبوت کے یہ معنی بیان کیے ہیں۔ اس لیے ہم نے پہلے کے علماء کی تحریریں نقل کی ہیں جو ظاہر ہے کہ آج کے کسی شخص سے کوئی ضد نہ رکھ سکتے تھے۔ ان تحریروں سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہو جاتی ہے کہ پہلی صدی سے آج تک پوری دنیائے اسلام متفقہ طور پر ’’خاتم النبیین‘‘ کے معنی ’’آخری نبی‘‘ ہی سمجھتی رہی ہے، حضورؐ کے بعد نبوت کے دروازے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند تسلیم کرنا ہر زمانے میں تمام مسلمانوں کا متفق علیہ عقیدہ رہا ہے، اور اس امر میں مسلمانوں کے درمیان کبھی کوئی اختلاف نہیں رہا کہ جو شخص محمد رسول اللہﷺ کے بعد رسول یا نبی ہونے کا دعویٰ کرے اور جو اُس دعوے کو مانے وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔

اب یہ دیکھنا ہر صاحب عقل آدمی کا اپنا کام ہے کہ لفظ خاتم النبیین کا جو مفہوم لغت سے ثابت ہے، جو قرآن کی عبارت کے سیاق و سباق سے ظاہر ہے، جس کی تصریح نبیﷺ نے خود فرما دی ہے، جس پر صحابہ کرامؓ کا اجماع ہے، اور جسے صحابہ کرامؓ کے زمانے سے لے کر آج تک تمام دنیا کے مسلمان بلا اختلاف مانتے رہے ہیں، اس کے خلاف کوئی دوسرا مفہوم لینے اور کسی نئے مدعی کے لیے نبوت کا دروازہ کھولنے کی کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے، اور ایسے لوگوں کو کیسے مسلمان تسلیم کیا جاسکتا ہے جنہوں نے باب نبوت کے مفتوح ہونے کا محض خیال ہی ظاہر نہیں کیا ہے بلکہ اس دروازے سے ایک صاحب حریم نبوت میں داخل بھی ہوگئے ہیں اور یہ لوگ ان کی نبوت پر ایمان بھی لے آئے ہیں۔

اس سلسلے میں تین باتیں اور قابل غور ہیں۔