اسلام اور ضبط ولادت
اشاعت: 1943ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب ’’اسلام اور ضبط ولادت‘‘ ایک ایسی علمی و فکری تحریر ہے جو نہ صرف ایک معاصر سماجی مسئلے کا جائزہ پیش کرتی ہے بلکہ اس کے پس پردہ موجود تمدنی، معاشی، اخلاقی اور نفسیاتی عوامل کو بھی گہرائی سے سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔ مولانا کا بنیادی دعویٰ یہ ہے کہ جدید دور کی ضبطِ ولادت کی تحریک محض معاشی ضرورت کی پیداوار نہیں، بلکہ مغربی صنعتی انقلاب، سرمایہ دارانہ نظام، مادہ پرست تہذیب اور نفس پرست تمدن کا نتیجہ ہے، جس کے نتائج نہ صرف انسانی فطرت کے خلاف ہیں بلکہ قومی وجود کے لیے بھی وجودی خطرہ پیدا کر رہے ہیں۔
کتاب کا آغاز مختلف دیباچوں اور پیش لفظوں سے ہوتا ہے جو کتاب کے تاریخی پس منظر، تدوینی تاریخ اور موضوع کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں۔ مولانا نے 1935ء میں یہ مضمون لکھا تھا، جبکہ بعد میں 1961ء میں اس میں جدید معلومات کا اضافہ کیا گیا۔ ان دیباچوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مصنف کا مقصد صرف ضبط ولادت کی مذمت تک محدود نہیں، بلکہ وہ اسلامی نظامِ معاشرت کو سمجھنے کا ایک وسیع تناظر فراہم کرنا چاہتے ہیں۔
باب دوم میں مولانا ضبط ولادت کی تحریک کے تاریخی پس منظر اور اس کے جدید دور میں پھیلاؤ کے اسباب کا تجزیہ کرتے ہیں۔ وہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ تحریک مالتھوس کے معاشی نظریات سے شروع ہوئی، لیکن بعد میں صنعتی انقلاب، عورتوں کے معاشی استقلال، اور مادہ پرست تمدن کی وجہ سے اس کی نوعیت بدل گئی۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل—طبقاتی عدم توازن، آبادی کے تناسب میں بگاڑ، زنا اور امراضِ خبیثہ کی کثرت، طلاق کی بڑھتی شرح—اور انگلستان، فرانس، جرمنی، اٹلی اور سویڈن جیسے ممالک کے حکومتی ردِعمل کو بالتفصیل بیان کیا گیا ہے۔
اس کے بعد کتاب اصولِ اسلام کی روشنی میں ضبطِ ولادت کے حکم اور اس کے جسمانی، اخلاقی، معاشرتی، نسلی و معاشی نقصانات کو تفصیل سے واضح کرتی ہے، اور حامیانِ ضبطِ ولادت کے معاشی و دیگر دلائل کا نکتہ بہ نکتہ جواب دیتی ہے۔ کتاب کے آخر میں شامل ضمیمہ 'اسلام اور خاندانی منصوبہ بندی' 1961ء کے بعد کے تناظر میں پاکستان کے معاشی وسائل اور آبادی کے مسئلے کا از سرِ نو جائزہ لے کر آبادی کی بجائے 'خاندانی منصوبہ بندی' کی اصطلاح کے پیچھے کارفرما مقاصد پر سوال اٹھاتا ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
چند معاشی حقائق
ضبط ِتولید کا مسئلہ اپنی اصل کے اعتبار سے معاشی نہیں ہے لیکن اس کے چند پہلو ایسے ضرور ہیں جن پر معاشی نقطۂ نظر سے غور کیا جا سکتا ہے۔
اس سلسلہ میں سب سے پہلی چیز تو یہ ہے کہ آبادی کی کثرت معاشی حیثیت سے بالعموم مفید ہوتی ہے۔ ہر وہ انسان جو دنیا میں آتا ہے وہ اپنے پاس صرف ایک پیٹ ہی نہیں رکھتا، دو ہاتھ، دو پاؤں اور ایک دماغ بھی رکھتا ہے۔ پیٹ اگر احتیاجات پیش کرتا ہے تو یہ پانچوں مل کر انھیں پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور معاشی مفکرین کا ایک بڑا موثر گروہ اس رائے کا حامی ہے کہ غیر ترقی یافتہ ممالک میں ابتدائی معاشی انقلاب کے لیے بڑھتی ہوئی آبادی بڑی مفید ہے کیونکہ اس کے ذریعہ سے وافر محنت (labour) اور موثر طلب (Effective Demand) فراہم ہوتی ہے اور ایک ترقی یافتہ معیشت میں ترقی کو قائم رکھنے اور مانگ کو وسعت دینے کے لیے (تاکہ کساد بازاری رونما نہ ہو) آبادی میں مسلسل اضافہ بے حد ضروری ہے۔ لارڈ کینز (J.M.Keynes)، پروفیسر ہینس(A.L.Hansen)، ڈاکٹر کولن کلارک (Colin Clark)، پروفیسر جی۔ڈی۔ایچ کول (G.D.H.Cole) اور متعدد دوسرے مفکر یہی نقطۂ نظر پیش کرتے ہیں اور معاشی تاریخ ان کے نظریات کی تائید کرتی ہے۔
دوسری چیز یہ ہے کہ پوری دنیا کے وسائل موجودہ آبادی ہی نہیں بلکہ ہر ممکن التصور آبادی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے کافی ہیں۔ وسائل ضرورت سے کہیں زیادہ ہیں اور بے کار پڑے ہیں۔ کولن کلارک اس رائے کا اظہار ٹھوس حقائق کی بنیاد پر کرتا ہے کہ موجودہ آبادی سے دس گنا زیادہ آبادی کو دنیا کے صرف معلوم وسائل کے صحیح استعمال سے مغربی یورپ کے اعلیٰ معیار زندگی پر برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
[بحوالہ مقالہ:…(Population Growth & Living Standards.)
مطبوعہ… (International Labour Review August 1953.]
پروفیسر جے۔ ڈی۔ برنال (J.D Bernal) بھی اپنی آزاد اور سائنٹیفک تحقیقات کے بعد یہی رائے ظاہر کرتا ہے۔[پروفیسر برنال نے بڑے سائنٹیفک انداز میں ایک نہایت تحقیقی کتاب ورلڈ ود آئوٹ وار (World Without War) اس موضوع پر لکھی ہے اور ناقابل انکار مواد کی بناء پر ثابت کیا ہے کہ دنیا کے وسائل بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے بہت کافی ہیں۔ مطبوعہ لندن1958ء]
تیسری بنیادی چیز یہ ہے کہ موجودہ آبادی کے جو اعداد وشمار پیش کیے جاتے ہیں وہ تو بڑی حد تک ضرور قابل اعتماد ہیں لیکن ماضی اور مستقبل کے رجحانات کے متعلق جو اندازے ان کی بنیاد پر قائم کیے جاتے ہیں ان پر گفتگو کی بڑی گنجائش ہے۔ ڈیمو گرافی (demography) کا علم ابھی بہت نیا ہے اور اس کی تحقیقات اس مقام پر نہیں پہنچی ہیں جہاں بھروسہ اور اعتماد کے ساتھ مستقبل کے متعلق کوئی اندازہ قائم کیا جا سکے۔ ہم بہت سے بہت مستقبل قریب کے متعلق کچھ کہہ سکتے ہیں لیکن صدیوں بعد کی آبادی کی کیفیت کے متعلق کوئی قابلِ اعتماد اندازہ قائم نہیں کر سکتے۔
ابھی تک ہمارے پاس وہ ذرائع معلومات نہیں ہیں جن کی بنیاد پر یقینی تخمینے پیش کیے جا سکیں۔ پھر آبادی کے رجحانات کے بہت سے اسباب ابھی تک نامعلوم ہیں۔ مثلاً ڈاکٹر آرنلڈ ٹائن بی (Dr. Arnold Toynbee) ہمیں بتاتا ہے کہ تیئس میں سے اِکیس تہذیبوں میں عروج پر پہنچ کر آپ سے آپ آبادی کے اضافہ کی رفتار میں کمی ہو جاتی ہے۔ اس کی توثیق آبادی کے فطری اضافے کی تاریخ سے بھی ہوتی ہے۔ مثلاً رے مونڈ پرل (Raymond Pearl) اپنے ایک مضمون میں لکھتا ہے کہ:
’’صنعتی ترقی، شہروں کے فروغ (urbansation) اور ان کے نتیجہ میں رونما ہونے والی آبادی کی گنجانی ایک ملک میں جتنی زیادہ ہو گی اتنی ہی اس ملک میں باروری(fertility) اور شرح اضافہ آبادی کم ہو گی…… چند واضح مستثنیات کو چھوڑ کر ایسا ہی ہوا ہے۔‘‘[Pearl. Raymond: "The Boilogy of Population Growth "in Natural History of Population p. 2)]
ڈاکٹر میڈ اور ایف۔ آر۔ایس اپنے1959ء کے ریتھ لیکچرز میں علم آبادی کے اندازوں کی مشکلات تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔[ملاحظہ ہو ڈاکٹر پی۔بی۔ میڈاور (Dr. P.B. Medawar) کی کتاب ’’انسان کا مستقبل‘‘ (The Fiture of Man"مطبوعہ لندن، 1960ء باب اول (The Fallibility of Prediction)] اقوام متحدہ کی ایک سرکاری رپورٹ میں بھی اس بات کا اظہار کیا گیا ہے کہ یہ سمجھنا درست نہیں ہو گا کہ آئندہ صدی میں بھی اضافہ اسی رفتار سے ہو گا جس سے ماضی میں ہوا ہے۔ اس رپورٹ کی رو سے: ’’یہ بات بالکل احمقانہ ہو گی کہ ہم اس وقت اپنے اندازوں کو مستقبل بعید کی دور درازیوں تک لے جائیں۔‘[The Future Growth of World Population. p. 21]
اس رپورٹ کے مطابق معقول اندازے اس صدی کے اخیر تک کے لیے قائم کیے جا سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ نہیں۔ لیکن کچھ دوسرے ماہرین کا خیال ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ آئندہ دس پندرہ سال تک کا اندازہ قائم کر سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ کرنا احتیاط کے منافی ہے[(Migration News. Geneva. March-April 1959.p.2.)]
اور ایک سوشیولوجسٹ پوری بحث کو اس طرح سمیٹتا ہے کہ:
’’آبادی کے متعلق تخمینوں اور پشین گوئیوں میں دلچسپی بڑی کم ہو گئی ہے اور اس کی وجہ اعتماد کی کمی ہے۔ تھوڑے عرصہ قبل تک غیر ماہرین آبادی (non-demographers) میں یہ خیال عام تھا کہ علم آبادی ایک ایسا علم ہے جس میں مستقبل کے واقعات کے بارے میں پشین گوئی غیر معمولی طور پر درست ہوتی ہے لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا، ناامیدی بڑھتی گئی اور اب بے اعتمادی عام ہے۔‘‘[Sociology To-day, F.d. R.K.Merton. New York. 1959.p.315)]
اس سے معلوم ہوا کہ معاشی حیثیت سے خود آبادی کے اندازے اور اس کے رجحانات پر بھی بڑی احتیاط سے غور ہونا چاہیے اور عام صحافیانہ انداز میں یہ کہہ دینا کہ 600 سال کے بعد دنیا میں کھڑے ہونے کی جگہ بھی باقی نہ رہے گی، بے حد قابل اعتراض ہے۔
چوتھی بات یہ ہے کہ معاشی نقطۂ نظر سے اگر آبادی کے مسئلہ پر غور کیا جائے تو اس کا بڑا قریبی تعلق معیشت کی تنظیمی ہیئت (Structure of the Economy) سے ہے۔ مغرب نے اپنے حالات کی مناسبت سے ایک خاص ہیئت بنائی جوپیمانہ کبیر اور سرمایہ کی مرکزیت پر مبنی تھی اور جس میں ساری کوشش محنت کے حصہ کو کم کرنے اور سرمائے کے حصہ کو بڑھانے پر صرف ہوئی۔ ایسی صنعت کو معاشیات کی اصطلاح میں کیپیٹل ان ٹینسو انڈسٹری (Capital Intensive Industry) کہتے ہیں۔ اس قسم کی معاشی ہیئت میں محنت کی ضرورت برابر کم ہوتی جاتی ہے اور آبادی کے بڑھنے سے بیروزگاری کا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے لیکن اگر معیشت کا ڈھانچہ کسی اور بنیاد پر تعمیر کیا جائے اور اسے کوئی دوسری ہیئت دی جائے تو آبادی کا مسئلہ اس میں پیدا نہ ہو گا۔ اس کی مثال جاپان میں ملتی ہے۔ جاپان نے اس بات کو محسوس کر لیا تھا کہ کیپیٹل ان ٹینسو (Capital Intensive) صنعتی ہیئت اس کے لیے موزوں نہیں ہے۔ وہاں سرمایہ کی کمی اور محنت کی فراوانی تھی۔ اس لیے اس نے چھوٹے پیمانے کی صنعت کو بے مرکزیت (de-centralisation) کے ساتھ فروغ دیا اور اس کی کارکردگی کو اعلیٰ ترین معیار پر پہنچانے کی کوشش کی۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ اس کی صنعت (Labour Intensive) ہو گئی اور اس میں آبادی کے غیر معمولی اضافے کے باوجود بے روزگاری یا کثرتِ آبادی کا مسئلہ پیدا نہ ہوا۔
جاپان کا رقبہ پاکستان کے رقبے کا تقریباً نصف ہے۔ پھر ملک کے پورے رقبے کا صرف 17 فیصد قابل استعمال ہے۔ باقی تمام آتش فشاں پہاڑوں کے سلسلہ کی وجہ سے بیکار ہے۔ اس طرح اس کا قابل استعمال رقبہ ہمارے رقبہ کا تقریباً بارہواں حصہ (1/12)ہے۔ لیکن اس ملک نے ہماری آبادی سے بڑی آبادی کو بڑے اچھے معیار پر قائم رکھا اور اپنی معاشی قوت کو وہ ایسے مقام پر لے گیا کہ اس کی مصنوعات نے برطانیہ اور امریکہ کی منڈیوں پر قبضہ کر لیا، حتیٰ کہ یورپ کی ساری ترقی یافتہ اقوام مل کر بھی معاشی میدان میں اس کا مقابلہ نہ کر سکیں۔ نہ صرف یہ بلکہ اس کی طاقت ایک ایسے مقام تک پہنچ گئی جہاں سے اس نے خود سیاسی میدان میں بھی ساری مغربی دنیا کو چیلنج کر دیا۔
اس سے معلوم ہوا کہ آبادی کے مسئلہ کا مطالعہ محض سطحی انداز سے نہیں ہونا چاہیے۔ اگر معیشت کی تنظیمی ہیئت کو آبادی کے مناسب حال ترقی دے دی جائے تو معاشی حیثیت سے آبادی کا کوئی مسئلہ پیدا ہو جانے کا کوئی سوال نہیں۔ آج کی دنیا میں فی الواقع اگر آبادی کے لیے غربت، افلاس اور بدحالی کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو اس کی وجہ ہماری اپنی غلطیاں ہیں فطری وسائل اور اسباب اس کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ اس سلسلہ میں بھی چند بنیادی باتیں ہم عرض کرنا چاہتے ہیں۔
(۱) ہم اپنے وسائل کو ٹھیک ٹھیک استعمال نہیں کر رہے ہیں۔ وسائل موجود ہیں اور بہ افراط موجود ہیں لیکن انسان اپنی سستی اور کاہلی کی وجہ سے ان سے فائدہ نہیں اٹھا رہا ہے۔ دنیا میں غربت کا سب سے بنیادی سبب یہی ہے۔
(ب) فطرت نے پوری دنیا میں وہ تمام وسائل ودیعت کر دیے ہیں جو انسانیت کے لیے ضروری ہیں۔ وسائل کی تقسیم اس طرح ہے کہ پوری دنیا ایک وحدت اور اکائی کی حیثیت رکھتی ہے۔ کوئی ایک ملک بھی ایسا نہیں ہے جو اپنی ضرورت کی تمام چیزیں صرف اپنے وسائل سے حاصل کرلے۔ البتہ پوری دنیا کے تمام وسائل سب انسانوں کے لیے کافی ہیں۔ انسان کو اپنی تنگ نظری کو چھوڑ کرایسے مسائل پر عالمی بنیادوں پر غور کرنا ہو گا۔ ہم ایک ملک میں یہ ضروری نہیں سمجھتے کہ ہر ہر شہر میں اس کی ضرورت کی تمام چیزیں پیدا ہوں۔ یہی نقطۂ نظر پوری دنیا کے لیے بھی اختیار کرنا ہو گا۔ تب ہی دنیا کے سارے وسائل انسانیت کی فلاح وبہبود کے لیے استعمال ہو سکیں گے۔
(ج) اسی غلط نقطۂ نظر کا نتیجہ ہے کہ اس وقت دولت کی تقسیم نہایت غلط ہے۔ جن حصوں میں پیداوار کی افراط ہے وہ وہیں ضائع ہو رہی ہے اور باقی انسانیت کی فلاح کے لیے استعمال نہیں ہو رہی۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ دنیا کی پیداوار کم ہے وہ نہیں جانتے کہ مغربی دنیا کے لیے اور خصوصیت سے امریکہ کے لیے اصل مسئلہ کثرت پیداوار (over-production) کا ہے۔ اس کے لیے زائد پیداوار کو ٹھکانے لگانے کا مسئلہ درد سر کا باعث بنا ہوا ہے۔ امریکہ کی حکومت کوبیس کروڑ سےچالیس کروڑ ڈالر (تقریباً ایک ارب روپیہ) تک محض فاضل آلوؤں کو ضائع کرنے یا کم قیمت پر بیچنے پر صرف کرنے پڑتے ہیں۔ کیلیفورنیا کی کروڑوں روپے کی کشمش اور منقیٰ سؤروں کو کھلا دی جاتی ہے۔ امریکہ کی کریڈٹ کارپوریشن (U.S Commodity Credit Corporation) کے پاس بیس ارب ڈالر (تقریباً 90 ارب روپے) کا فاضل مال بے کار پڑا ہوا ہے۔ اس میں سے چند چیزیں یہ ہیں:[ ایک بشل29 سیر کا ہوتا ہے۔
(2) Duddly stamp: Our Developing World, P: 166]
{https://drive.google.com/file/d/1JTnZY5GUQlCxnV8JgnOB_SgA2u2m9_sw/view?usp=sharing}
اسی طرح (F.A.O) کے اعداد وشمار سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر استعمال شدہ اسٹاک برابر بڑھ رہے ہیں، اربوں من غذائی اور دوسری اشیاء دنیا کے کچھ حصوں میں بے کار پڑی سڑ رہی ہیں اور ان کی حفاظت پر کروڑوں روپیہ صرف کیا جا رہا ہے، جب کہ دنیا کے دوسرے حصوں میں فقر وفاقہ کی حکمرانی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب صورت حال یہ ہے تو پھر ہم قلت کے لیے اللہ میاں اور معاشی وسائل کا رونا کیوں روئیں۔ بقول شیکسپیئر:
(The fault, dear Brutus, is not in our stars but in ourselves that we are underlings.)
جناب پروٹس:
’’خرابی زمین وآسمان میں نہیں خود ہم میں ہے اور ہمیں خود اپنی آنکھ کے شہتیر کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔‘‘
یہ مغربی انسان کی خود غرضی ہے جو دنیا میں معاشی بدحالی کی باعث ہے۔ مہذب انسان ایک طرف اپنی فاضل پیداوار کو مصنوعی قیمتوں کے قیام کی خاطر ضائع کر رہا ہے اورانسانیت کو اس سے مستفید نہیں ہونے دیتا۔ دوسری طرف وہ اپنے سارے وسائل کو پیداوار کے لیے استعمال نہیں کرتا بلکہ انھیں تعیش اور ضیاع کی نذر کر دیتا ہے۔ بقول پروفیسر لینڈس:
’’انانیت زدہ مغربی انسان ایک ایسے مقام پر پہنچ گیا ہے جہاں وہ اپنی ساری قوتیں خوراک کی رسد کو بڑھانے کے لیے استعمال کرنے پر تیار نہیں ہے۔‘‘
[ (Landis. Social Problems. Chtcago. 1959.p.600]
(د) مشرقی ممالک میں کاہلی اور سست رفتاری ضرور ہے لیکن ان کے وسائل سے مغرب جس طرح فائدہ اٹھا رہا ہے وہ بھی ان کے لیے ایک بہت بڑا بار ہے جس کے نتیجہ کے طور پر ان کی غربت اور معاشی پریشانی کچھ اور بھی سوا ہو گئی ہے۔ استعمار نے جس طرح ان ممالک کے وسائل کو لوٹا کھسوٹا ہے اور افریقہ میں آج بھی لوٹ رہا ہے وہ بڑی تلخ داستان ہے۔ آزادی کے بعد بھی سو طریقوں سے ان ممالک کا انتفاع جاری ہے۔ اس کی صرف ایک مثال قیمتوں میں عدم استحکام (instability) ہے۔ مغربی ممالک جو ان ممالک کی اشیاء کے خریدار ہیں، قیمتوں میں استحکام نہیں آنے دیتے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان ممالک کو بڑے عظیم مالی نقصان پر اپنا مال بیچنا پڑتا ہے۔ مثلاً صرف کوکو کی قیمتوں میں غیر معمولی کمی کی بنا پر مغربی افریقہ کے ممالک کو صرف ایک سال (1965ء) میں 62 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا۔ (1954ء میں قیمت 57 سینٹ فی پونڈ تھی جو 1956ء میں 26 سینٹ پر آ گئی) یا ربڑ کی قیمتوں میں عدم استحکام کی وجہ سے ایک سال میں جنوب مشرقی ایشیا کو ایک ارب بتیس کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا۔ (1951ء میں قیمت 56 سینٹ فی پونڈ تھی جو 1954ء میں 23 سینٹ رہ گئی۔) [ ڈڈلے اسٹامپ،کتاب مزکور۔صفحہ١٧٤]
اگر سارے حقائق کو سامنے رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی پریشانیاں خود حضرت انسان ہی کی پیداکردہ ہیں۔ جو دو مثالیں ہم نے اوپر دی ہیں ان سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ اگر قیمتوں کو مستحکم کیا جاتا اور ان ممالک کی مجبوری سے ناجائز فائدہ نہ اٹھایا جاتا تو یہ سارا سرمایہ ان کی معاشی ترقی کے لیے استعمال ہو سکتا تھا۔ غیر ترقی یافتہ ممالک میں سرمایہ کی کمی ضرور ہے اور یہ کمی معاشی ترقی کی راہ میں مانع بھی ہے لیکن خود اس کمی کے اسباب کیا ہیں؟ ان کا سررشتہ خود انھی عناصر کی کرم فرمائیوں سے جا ملتا ہے جو سرمایہ کی قلت کا راگ صبح وشام الاپتے ہیں اور مشرقی لوگوں کو بچے کم پیدا کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
(ھ) اسی طرح دنیا کے وسائل کا جو حصہ جنگ کی تیاری پر صرف ہو رہا ہے اگر اسے یا اس کے بڑے حصہ کو معاشی تعمیر کیلئے استعمال کیا جا سکے تو دنیا کی غربت ایک محدود عرصہ میں ختم ہو سکتی ہے۔ ۵۷۔۱۹۵۰ء کے اعداد وشمار کی بنیاد پر یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ اس زمانہ میں کم از کمنوّے ارب ڈالر سالانہ (تقریباً چار سو ارب روپے سالانہ) جنگی تیاری پر خرچ ہوا ہے۔[World Without War, P:21]
برنال تفصیلی بحث کے بعد یہ ثابت کرتا ہے کہ:
’’یہ رقم اس رقم سے کہیں زیادہ ہے جو دنیا کے تمام غیر ترقی یافتہ ممالک میں تیز رفتار عملی ترقی کے حصول کے لیے ضروری ہے۔‘[برنال ایضاصفحہ٢٠]
منجملہ اور اسباب کے یہ وہ موٹے موٹے اسباب ہیں جو دنیا میں غربت اور معاشی مفلوک الحالی کے ذمہ دار ہیں۔ آبادی کے مسئلہ کا اصلی حل ان موانع کو دور کرنے میں ہے، انسانوں کی پیدائش روکنے میں نہیں ہے۔