مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

اسلام اور ضبط ولادت

اشاعت: 1943ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب ’’اسلام اور ضبط ولادت‘‘ ایک ایسی علمی و فکری تحریر ہے جو نہ صرف ایک معاصر سماجی مسئلے کا جائزہ پیش کرتی ہے بلکہ اس کے پس پردہ موجود تمدنی، معاشی، اخلاقی اور نفسیاتی عوامل کو بھی گہرائی سے سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔ مولانا کا بنیادی دعویٰ یہ ہے کہ جدید دور کی ضبطِ ولادت کی تحریک محض معاشی ضرورت کی پیداوار نہیں، بلکہ مغربی صنعتی انقلاب، سرمایہ دارانہ نظام، مادہ پرست تہذیب اور نفس پرست تمدن کا نتیجہ ہے، جس کے نتائج نہ صرف انسانی فطرت کے خلاف ہیں بلکہ قومی وجود کے لیے بھی وجودی خطرہ پیدا کر رہے ہیں۔

کتاب کا آغاز مختلف دیباچوں اور پیش لفظوں سے ہوتا ہے جو کتاب کے تاریخی پس منظر، تدوینی تاریخ اور موضوع کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں۔ مولانا نے 1935ء میں یہ مضمون لکھا تھا، جبکہ بعد میں 1961ء میں اس میں جدید معلومات کا اضافہ کیا گیا۔ ان دیباچوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مصنف کا مقصد صرف ضبط ولادت کی مذمت تک محدود نہیں، بلکہ وہ اسلامی نظامِ معاشرت کو سمجھنے کا ایک وسیع تناظر فراہم کرنا چاہتے ہیں۔

باب دوم میں مولانا ضبط ولادت کی تحریک کے تاریخی پس منظر اور اس کے جدید دور میں پھیلاؤ کے اسباب کا تجزیہ کرتے ہیں۔ وہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ تحریک مالتھوس کے معاشی نظریات سے شروع ہوئی، لیکن بعد میں صنعتی انقلاب، عورتوں کے معاشی استقلال، اور مادہ پرست تمدن کی وجہ سے اس کی نوعیت بدل گئی۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل—طبقاتی عدم توازن، آبادی کے تناسب میں بگاڑ، زنا اور امراضِ خبیثہ کی کثرت، طلاق کی بڑھتی شرح—اور انگلستان، فرانس، جرمنی، اٹلی اور سویڈن جیسے ممالک کے حکومتی ردِعمل کو بالتفصیل بیان کیا گیا ہے۔

اس کے بعد کتاب اصولِ اسلام کی روشنی میں ضبطِ ولادت کے حکم اور اس کے جسمانی، اخلاقی، معاشرتی، نسلی و معاشی نقصانات کو تفصیل سے واضح کرتی ہے، اور حامیانِ ضبطِ ولادت کے معاشی و دیگر دلائل کا نکتہ بہ نکتہ جواب دیتی ہے۔ کتاب کے آخر میں شامل ضمیمہ 'اسلام اور خاندانی منصوبہ بندی' 1961ء کے بعد کے تناظر میں پاکستان کے معاشی وسائل اور آبادی کے مسئلے کا از سرِ نو جائزہ لے کر آبادی کی بجائے 'خاندانی منصوبہ بندی' کی اصطلاح کے پیچھے کارفرما مقاصد پر سوال اٹھاتا ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

کیا آبادی کی افزائش سے فی الواقع معیشت تنگ ہوئی ہے؟

ہمارے زمانے کی قریب ترین تاریخ ان لوگوں کے حساب کو جھٹلانے کے لیے کافی ہے جو کہتے ہیں کہ وسائلِ حیات کی افزائش آبادی کی افزائش کا ساتھ نہیں دے سکتی۔

1880ء میں جرمنی کی آبادی 45 ملین تھی۔ اس وقت وہاں کے باشندے بھوکوں مر رہے تھے اور ایک مدت سے ہزاروں کی تعداد میں جرمن لوگ اپنے ملک سے نکل نکل کر باہر چلے جا رہے تھے لیکن اس کے بعد 34 سال کے اندر جرمنی کی آبادی68 ملین تک پہنچ گئی اور اس مدت میں بجائے اس کے کہ آبادی کی افزائش سے جرمنوں کے وسائل حیات کم ہو جاتے، ان کے وسائل میں اضافۂ آبادی کی بہ نسبت کئی سو گنا زیادہ اضافہ ہو گیا حتی کہ انھیں اپنی معاشی مشین کو چلانے کے لیے باہر سے آدمی درآمد کرنے پڑے۔ 1900ء میں جو غیر ملکی جرمنی میں کام کر رہے تھے ان کی تعداد آٹھ لاکھ تھی۔ 1910ء میں یہ تعدادتیرہ لاکھ قریب پہنچ گئی۔

اس سے بھی زیادہ عجیب صورتِ حال وہ ہے جو جنگ عظیم دوم کے بعد سے مغربی جرمنی میں دیکھی جا رہی ہے۔ وہاں قدرتی اضافۂ آبادی کے علاوہ مشرقی جرمنی، پولینڈ، چیکو سلواکیہ اور دوسرے اشتراکی مقبوضات سے جرمن نسل کے تقریباً ایک کروڑ پچیس لاکھ مہاجرین منتقل ہوئے ہیں اور اب تک ہر روز سینکڑوں کی تعداد میں چلے آ رہے ہیں۔ اس ملک کا رقبہ صرف 95,000 مربع میل ہے اور آبادی پانچ کروڑ بیس لاکھ سے اوپر پہنچ چکی ہے جس کے ہر پانچ آدمیوں میں سے ایک مہاجر ہے۔ پھر اس آبادی میں پینسٹھ لاکھ آدمی ناقابل کار ہونے کے باعث پنشن پارہے ہیں لیکن اس کے باوجود مغربی جرمنی کی معاشی حالت روز بروز ترقی کر رہی ہے۔ اس کی دولت جنگ سے پہلے کے متحدہ جرمنی کی دولت سے بھی زیادہ ہے۔ اس کو اضافہ آبادی کی نہیں قلت آبادی کی شکایت ہے اور کام کرنے کے لیے جتنے ہاتھ موجود ہیں ان سب کو استعمال کرنے کے بعد وہ مزید ہاتھوں کا طلب گار ہے۔

ہالینڈ کو دیکھیے۔ اٹھارہویں صدی میں اس کی آبادی مشکل سے دس لاکھ تھی۔ ڈیڑھ سو برس کے اندر وہ ترقی کرتے کرتے 1950ء میں ایک کروڑ سے اوپر پہنچ گئی۔ یہ آبادی صرف 12850 مربع میل کے رقبہ میں بس رہی ہے، جہاں فی کس پوری ایک ایکڑ قابلِ زراعت زمین بھی میسر نہیں ہے لیکن آج یہ آبادی نہ صرف اپنی ضروریات پوری کر رہی ہے بلکہ بہت سا غذائی سامان باہر برآمد کر رہی ہے۔ اس نے سمندر کو دھکیل کر اور دلدلوں کو صاف کرکے دو لاکھ ایکڑ زمین نکال لی ہے اور مزید تین لاکھ ایکڑ نکالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کی آج کی دولت سے اس دولت کو کوئی نسبت ہی نہیں ہے جو ڈیڑھ سو برس پہلے اس کی دس لاکھ آبادی کو حاصل تھی۔

انگلستان کو دیکھیے۔ 1789ء میں برطانیہ وآئرلینڈ کی مجموعی آبادی ایک کروڑ بیس لاکھ ہو گئی اور آج جنوبی آئرلینڈ نکل جانے کے باوجود پانچ کروڑچار لاکھ ہے تو کیا کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ اس پانچ گنا اضافہ نے برطانیہ کی آبادی کو پہلے سے زیادہ مفلس کر دیا ہے؟

بحیثیت ِمجموعی ساری دنیا کو دیکھیے۔ اٹھارہویں صدی کے آخر سے اس کی آبادی میں غیر معمولی اضافہ ہونا شروع ہوا ہے لیکن اس وقت سے آج تک دنیا کی آبادی جتنی بڑھی ہے اس سے بدرجہا زیادہ پیدائش دولت کے ذرائع بڑھے ہیں۔ آج متوسط درجے کے لوگوں کو وہ کچھ میسر ہے جو دو سو سال پہلے بادشاہوں کو بھی نصیب نہ تھا۔ آج کے معیار زندگی سے دو سو برس پہلے کے معیارِ زندگی کو آخر کیا نسبت ہے؟