غلامی کا مسئلہ
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ایک تفصیلی مباحثہ ہے جو غلامی کے مسئلے پر ملک کے ایک مشہور مصنف کی کتاب پر تنقید کرتے ہوئے ترجمان القرآن کے صفحات میں چھڑ گیا تھا۔ اس میں ترجمان القرآن کی تنقید، مصنف کا جواب، ترجمان کا جواب الجواب، ایک اور اہلِ قلم کی مصنف کی تائید، اور آخر میں ترجمان کا حتمی جواب شامل ہے۔
بحث کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ کیا قرآن مجید نے غلامی کو مکمل طور پر ممنوع قرار دیا تھا یا محض موجودہ غلاموں کی حیثیت کو مصلحتاً برقرار رکھا تھا، اور آیا اسیرانِ جنگ کو غلام بنانا جائز ہے یا انہیں صرف احسان یا فدیے کے ذریعے ہی رہا کیا جا سکتا ہے۔ مولانا مودودی قرآنی آیت "فاما منا بعد و اما فداء" کی لسانی و فقہی تحلیل کرتے ہوئے یہ ثابت کرتے ہیں کہ اسیرانِ جنگ کو غلام بنانے کی گنجائش شریعت میں موجود ہے، خصوصاً جب دشمن مسلمان قیدیوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کر رہا ہو۔
ایک نکتہ
اس سلسلے میں صاحبِ موصوف نے ایک لطیف نکتہ بھی بیان فرمایا ہے، وہ یہ کہ ”قرآن میں جہاں جہاں مملوکوں کا ذکر ہے بصیغۂ ماضی یعنی <<مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ ۚ>> ہے۔ بصیغۂ مستقبل کہیں نہیں ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جن غلاموں کے وہ مالک ہو چکے تھے صرف انھی کی ملکیت قائم رکھی گئی تھی“۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ قرآن میں جو احکام بصیغۂ ماضی ارشاد ہوتے ہیں، وہ مستقبل کے لیے نہیں ہیں۔ مثلاً سوتیلی بیٹیاں اپنے سوتیلے باپوں کے لیے جس آیت میں حرام کی گئی ہیں، اُس کے الفاظ یہ ہیں: <<وَ رَبَآئِبُكُمُ الّٰتِيْ فِيْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَآئِكُمُ الّٰتِيْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ>> (النساء 4:23) یہاں دخلتم صیغۂ ماضی ہے، لہٰذا مصنف کے قاعدے کی رُو سے صرف اُن عورتوں کی بیٹیاں حرام ہوئیں جو نزولِ آیت سے پہلے مسلمانوں کے نکاح میں آچکی تھیں، آئندہ کے لیے یہ حکم نہ ہوگا۔ <<وَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ>> (الانفال 8:41) اس آیت میں بھی غنمتم کا حکم صرف ماضی کے لیے ہوگا، بعد کے غنائم میں خمس نہ ہوگا۔ <<يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نُوْدِيَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ>> (الجمعہ 62:9) میں جمعہ کی نماز کا حکم بھی صرف ان لوگوں کے لیے قرار پائے گا جو اُس وقت ایمان لا چکے تھے۔ بعد کے مسلمان اس حکم سے بچ گئے۔ غرض جناب مولانا نے یہ ایسا نکتہ نکالا ہے جو آج تک کسی کو نہ سوجھا تھا۔ ورنہ اب تک مسلمان ان بہت سے احکام کی بندشوں سے آزاد ہوچکے ہوتے جو بصیغۂ ماضی دیے گئے تھے اور جن میں اللہ میاں نے (نعوذ باللہ شاید بے احتیاطی کی بنا پر) مستقبل کا صیغہ استعمال نہ کیا تھا۔ یہی نہیں بلکہ اس طرح تو کافروں اور آیات الہی کو جھٹلانے والوں کے لیے بھی آتش دوزخ سے رہائی مل جاتی، کیونکہ <<وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ>> (البقرہ 2: 39) میں کفروا اور کذبوا دونوں ماضی کے صیغے ہیں۔ لہٰذا بعد کے تمام کفار و مکذبین اس وعید سے بچ گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی نکتہ آفرینی معنوی تحریف کی حد تک پہنچتی ہے۔ قرآن مجید کے معنی میں ایسی تحریف کرتے ہوئے ایک مسلمان کا ایمان لرز جانا چاہیے۔