غلامی کا مسئلہ
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ایک تفصیلی مباحثہ ہے جو غلامی کے مسئلے پر ملک کے ایک مشہور مصنف کی کتاب پر تنقید کرتے ہوئے ترجمان القرآن کے صفحات میں چھڑ گیا تھا۔ اس میں ترجمان القرآن کی تنقید، مصنف کا جواب، ترجمان کا جواب الجواب، ایک اور اہلِ قلم کی مصنف کی تائید، اور آخر میں ترجمان کا حتمی جواب شامل ہے۔
بحث کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ کیا قرآن مجید نے غلامی کو مکمل طور پر ممنوع قرار دیا تھا یا محض موجودہ غلاموں کی حیثیت کو مصلحتاً برقرار رکھا تھا، اور آیا اسیرانِ جنگ کو غلام بنانا جائز ہے یا انہیں صرف احسان یا فدیے کے ذریعے ہی رہا کیا جا سکتا ہے۔ مولانا مودودی قرآنی آیت "فاما منا بعد و اما فداء" کی لسانی و فقہی تحلیل کرتے ہوئے یہ ثابت کرتے ہیں کہ اسیرانِ جنگ کو غلام بنانے کی گنجائش شریعت میں موجود ہے، خصوصاً جب دشمن مسلمان قیدیوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کر رہا ہو۔
(۵) ترجمان القرآن کا آخری جواب
اسیرانِ جنگ کو غلام بنانے کے خلاف مصنف کے استدلال کا مدار اس آیت پر ہے:
<<حَتّٰٓى اِذَا اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَاِمَّا مَنًّاۢ بَعْدُ وَاِمَّا فِدَآءً محمد 47:4>>
یہاں تک کہ جب ان کا زور توڑ لو تو ان کو قید کر لو، پھر یا تو احسان رکھ کر چھوڑ دو یا فدیہ لے کر۔ [یہ مصنف کا اپنا ترجمہ ہے اس میں ”چھوڑ دو“ کا لفظ ان کا اپنا اضافہ ہے آیت میں کوئی لفظ ایسا نہیں ہے جس کا یہ ترجمہ ہو۔]
اس آیت سے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اسیرانِ جنگ کے حق میں دو ہی صورتیں قرآن نے تجویز کی ہیں: یا تو کسی معاوضہ کے بغیر ہی انھیں رہا کیا جائے، یا معاوضہ لے کر، لیکن رہا کرنے کا حکم قطعی ہے، اور غلام بنا کر رکھنا کسی حال میں جائز نہیں ہے۔
اب ہم کو تین حیثیتوں سے اس آیت پر نظر ڈالنی چاہیے:
آیت کے الفاظ سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟
قرآن مجید کی دوسری آیات کی روشنی میں اس کی صحیح تفسیر کیا ہے؟
نبیؐ نے اس کا کیا مفہوم سمجھا اور اس پر کس طرح عمل کیا؟