مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

غلامی کا مسئلہ

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ایک تفصیلی مباحثہ ہے جو غلامی کے مسئلے پر ملک کے ایک مشہور مصنف کی کتاب پر تنقید کرتے ہوئے ترجمان القرآن کے صفحات میں چھڑ گیا تھا۔ اس میں ترجمان القرآن کی تنقید، مصنف کا جواب، ترجمان کا جواب الجواب، ایک اور اہلِ قلم کی مصنف کی تائید، اور آخر میں ترجمان کا حتمی جواب شامل ہے۔

بحث کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ کیا قرآن مجید نے غلامی کو مکمل طور پر ممنوع قرار دیا تھا یا محض موجودہ غلاموں کی حیثیت کو مصلحتاً برقرار رکھا تھا، اور آیا اسیرانِ جنگ کو غلام بنانا جائز ہے یا انہیں صرف احسان یا فدیے کے ذریعے ہی رہا کیا جا سکتا ہے۔ مولانا مودودی قرآنی آیت "فاما منا بعد و اما فداء" کی لسانی و فقہی تحلیل کرتے ہوئے یہ ثابت کرتے ہیں کہ اسیرانِ جنگ کو غلام بنانے کی گنجائش شریعت میں موجود ہے، خصوصاً جب دشمن مسلمان قیدیوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کر رہا ہو۔

(۴) ایک مشہور اہل قلم کی طرف سے مصنف کی تائید

بات یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ اسیرانِ جنگ کو یا تو احساناً رہا کر دیا جائے ، یا فدیہ (بشکل زر فدیہ یا بشکل مبادلۂ اسیرانِ جنگ) لے کر، لیکن اگر ایسی صورت پیدا ہو جائے کہ احساناً چھوڑنا خلافِ مصلحت ہو اور فدیہ ادا کرنے پر دشمن تیار نہ ہوں ، تو اس صورت میں کیا کرنا چاہیے؟ صاحبِ تعلیمات نے لکھا ہے کہ ایسی صورت میں وہ شاہی قیدی ہوں گے اور ان سے ایسا ہی سلوک کیا جائے گا لیکن آپ نے فرمایا ہے کہ ایسی شکل میں وہ غلام بنا لیے جائیں گے۔ صاحبِ تعلیمات نے آپ کے اس دعوے کی دلیل میں قرآن کریم سے ثبوت مانگا تھا، مگر آپ نے اپنے جواب میں اس طرف توجہ منعطف نہیں فرمائی اور قرآن کریم سے اسیرانِ جنگ کو غلام بنانے کا جواز پیش نہیں کیا۔ البتہ دو دلیلیں پیش کی ہیں: اوّل تو یہ کہ جب دشمن مسلمان اسیرانِ جنگ کو غلام بنا کر رکھیں تو مسلمان اُن کے قیدیوں کو غلام کیوں نہ بنائیں۔ بات تو ہے یہ جی کو لگتی ہوئی، لیکن اس کا کیا علاج کہ قرآن کریم مسلمانوں کو اس سطح سے بہت بلند لے جانا چاہتا ہے کہ اگر دشمن تمھارے ساتھ نازیبا سلوک کریں تو تم بھی ایسا ناشائستہ سلوک ان سے کرو۔ مسلمانوں کو تو یہ بھی اجازت نہیں دی گئی کہ مشرکین کی مٹی کی مورتیوں کو بھی گالی دیں۔ آپ خود فرماتے ہیں کہ ان غلاموں سے انتہائی رأفت و رحمت کے سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ بات از خود آپ کے قائم کردہ اصول کے خلاف ہے۔ کفّار تو آپ کے قیدیوں سے انتہائی بدسلوکی کا برتاؤ کریں اور آپ انھیں اپنی سوسائٹی کے بہترین افراد میں جگہ دیں؟ پھر اگر آپ کا اصول مان لیا جائے تو کیا آپ اس کی بھی اجازت دیں گے کہ دشمن اگر مسلمان قیدی عورتوں سے کوئی گستاخی کریں تو کیا اس کے بدلے میں مسلمان بھی اُن کی قیدی عورتوں سے ایسا ہی سلوک کریں؟ اسلام کے اصول تو بالکل ”اپنے“ ہیں، اور یہ انھی کے ماتحت حکم دے گا، دُنیا خواہ کچھ کرے۔

دوسری دلیل پھر اصحابِ رسولؐ اور اہلِ بیت کے طرزِ عمل کی ہے۔ میرے لیے تو یہ کافی ہوسکتی ہے، لیکن معترض اگر کہیں کہ آپ تو وعدہ کر چکے ہیں کہ قرآن سے باہر نہیں جاؤں گا۔ پھر اسی سے ثبوت کیوں نہیں دیا جاتا، تو کیا حق بجانب نہیں ہوگا۔

آپ نے فرمایا ہے کہ احساناً قیدیوں کو چھوڑ دینے میں مسلمانوں کو بہت نقصان رہتا ہے کہ اس صورت میں کوئی قوم اتنی احمق نہ تھی کہ زر فدیہ ادا کرتی، لیکن میں تو دیکھتا ہوں کہ بطورِ احسان چھوڑ دینے میں جو فائدے حاصل ہوئے، زرِ فدیہ کے درہم و دینار ان کا کم ہی مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اس سے اسلام کے متعلق لوگوں کی ذہنیت بدل گئی۔ آنحضرتؐ نے ہزارہا قیدی بلا فدیہ لیے، رہا کر دیئے اور ان احسانات کا جو اثر ہوا، اس کے شاہد زمین و آسمان ہیں۔ پھر سوال تو غلام بنانے اور انھیں فروخت کرنے کا ہے۔ اس کے متعلق فرمائیے کہ قرآن کا کیا حکم ہے؟ اور اگر کوئی قوم فدیہ نہ ادا کرے اور مسلمان ان کے اسیرانِ جنگ کو احساناً نہ چھوڑنا چاہیں تو ان سے کیا سلوک کریں؟ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ اور اسیرانِ جنگ کی بحث آج بڑے اہم مسائل میں سے ہے۔ اسے ضرور حل کیجیے۔

(ترجمان القرآن ۔ ذی الحجہ ۱۳۵۳ھ)