مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

غلامی کا مسئلہ

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ایک تفصیلی مباحثہ ہے جو غلامی کے مسئلے پر ملک کے ایک مشہور مصنف کی کتاب پر تنقید کرتے ہوئے ترجمان القرآن کے صفحات میں چھڑ گیا تھا۔ اس میں ترجمان القرآن کی تنقید، مصنف کا جواب، ترجمان کا جواب الجواب، ایک اور اہلِ قلم کی مصنف کی تائید، اور آخر میں ترجمان کا حتمی جواب شامل ہے۔

بحث کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ کیا قرآن مجید نے غلامی کو مکمل طور پر ممنوع قرار دیا تھا یا محض موجودہ غلاموں کی حیثیت کو مصلحتاً برقرار رکھا تھا، اور آیا اسیرانِ جنگ کو غلام بنانا جائز ہے یا انہیں صرف احسان یا فدیے کے ذریعے ہی رہا کیا جا سکتا ہے۔ مولانا مودودی قرآنی آیت "فاما منا بعد و اما فداء" کی لسانی و فقہی تحلیل کرتے ہوئے یہ ثابت کرتے ہیں کہ اسیرانِ جنگ کو غلام بنانے کی گنجائش شریعت میں موجود ہے، خصوصاً جب دشمن مسلمان قیدیوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کر رہا ہو۔

(۲) مصنفِ کتاب کی طرف سے مندرجہ بالا تنقید کا جواب

ہر فرزندِ آدم زمین کا بادشاہ ہے۔ آدم کے متعلق ہے: <<اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةً>> (البقرہ 30:2) اور فرزندانِ آدم کے بارے میں ہے: <<وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلٰئِفَ الْاَرْضِ>> (الانعام 165:6) پھر ان کی شان میں ہے: <<وَ لَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْ اٰدَمَ>> (بنی اسرائیل 70:17) کیا فرزندِ آدم کو جو زمین کی بادشاہت بلکہ آپ کی تفسیر کے مطابق نائبِ حق ہونے کے لیے پیدا کیا گیا ہے، غلام بنا لینا فطرت کے خلاف نہیں ہے؟ پھر جو چیز فطرت کے خلاف ہے، یہ کیسے ممکن ہے کہ قرآن اس کو جاری رکھے؟ آپ اس قدر تو تسلیم کرتے ہیں کہ:

”غلامی کی دو صورتیں اس وقت تک دنیا میں رائج تھیں۔ ایک یہ کہ بعض ممالک کے باشندوں کو پکڑ کر اُن کی خرید و فروخت کی جاتی تھی۔ دوسری یہ کہ جنگ میں جو لوگ گرفتار ہوتے تھے، ان کو غلام بنا لیا جاتا تھا۔ ان دونوں شکلوں میں سے پہلی شکل کو رسول اللہؐ نے قطعاً ممنوع قرار دیا اور فرمایا کہ جو شخص کسی آزاد کو پکڑ کر بیچے گا اس کے خلاف میں خود قیامت کے روز مدعی بنوں گا۔ (بخاری، کتاب البیوع) اور دوسری شکل کے متعلق اسلام کا قانون یہ قرار پایا کہ جولوگ جنگ میں گرفتار ہوں، ان کو یا تو احسان کے طور پر رہا کر دیا جائے یا فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے یا دشمن سے مسلمان قیدیوں کے ساتھ ان کا مبادلہ کر لیا جائے، لیکن اگر رہا کر دینا جنگی مصالح کے خلاف ہو اور فدیہ وصول نہ ہو سکے اور دشمن اسیرانِ جنگ کا مبادلہ کرنے پر بھی رضامند نہ ہو تو مسلمانوں کو حق ہے کہ انھیں غلام بنا کر رکھیں۔“

یہ تو مسلم ہوا کہ کسی آزاد کو پکڑ کر غلام بنانا ایسا سنگین جرم ہے کہ اس کے مدعی قیامت کے دن خود رسول کریمؐ ہوں گے۔ اب رہا اسیرانِ جنگ کا معاملہ۔ ان کے متعلق قرآن میں قطعی حکم ہے کہ <<فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً>> (محمد 4:47) ”پھر یا تو احسان رکھ کر انھیں چھوڑ دو یا فدیہ لے کر“۔ فدیہ خواہ زرِ نقد یا سامان کی صورت میں ہو یا مبادلۂ اسیران کی شکل میں، مگر قطعی حکم ہے کہ ان کو چھوڑ دو۔ بے شک اُس وقت تک وہ اسیر رکھے جاسکتے ہیں جب تک کہ اسلامی مفاد کو ان کی رہائی سے خطرے کا اندیشہ ہو۔ لیکن ان کو غلام نہیں بنایا جا سکتا۔ قرآن نے خود حکومت کو یہ اختیار نہیں دیا کہ ان کو مملوک بنا کر بیچے یا سپاہیوں میں تقسیم کرے بلکہ وہ سرکاری قیدی رہیں گے اور عزت و آبرو کے ساتھ رکھے جائیں گے۔ برخلاف اس کے آپ یہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کو حق ہے کہ وہ اسیرانِ جنگ کو آپس میں بانٹ کر ملکیت بنالیں اور ان کو استعمال کرنا شروع کریں، یا بھیڑ بکریوں کی طرح دست بدست بیچنے لگیں، اور قیامت تک جب تک ان کے مالک ان کو آزاد نہ کریں، وہ نسلاً بعد نسلٍ اور بطناً بعد بطنٍ غلام اور ہر قسم کے انسانی حقوق سے محروم رکھے جائیں، نہ ایک پیسے کے مالک ہوسکیں نہ ایک حبّہ کے۔ اور خواہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو جائیں، اُن کو انسانیت کا کوئی حق کبھی نہ مل سکے۔

کیا یہ قرآن کی تعلیم ہے؟ کیا اس کو قرآن کی آیت یا کسی لفظ یا کسی حرف سے آپ ثابت کر سکتے ہیں؟ پھر میرے اوپر اعتراض کیوں ہے؟ میں نے قرآن کی تعلیمات لکھی ہیں۔

آپ کا استدلال یہ ہے کہ:

”صحابہ کے عہد میں بہت سے اسیرانِ جنگ کو ممالیک کی حیثیت سے رکھا گیا ہے۔ خود اہلِ بیت رسول کے گھروں میں جنگ کے پکڑے ہوئے غلام اور مفتوح ممالک سے آئی ہوئی لونڈیاں موجود تھیں۔‘‘

آپ کے نزدیک صحابہ اور اہل بیت رضی اللہ عنہم کا ہر فعل قرآنی تعلیم ہے، مگر میرے نزدیک اُن کا وہی فعل دینی ہے جس کی سند قرآن سے مل سکے۔ ہاں اگر آپ تاریخی حدود میں آ کر بحث کریں تو میں کافی اور شافی جواب دے سکتا ہوں کہ کن اسباب اور حالات کی وجہ سے صحابہ اور اہل بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین مملوک بنانے پر مجبور ہوئے، لیکن ان کے اس عمل کو جو ایک خاص ماحول میں تھا، بلا کسی دلیل کے قرآنی تعلیم کہہ دینا جائز نہیں سمجھتا۔ قرآن ہر مسلمان کے گھر میں ہے، دیکھیے اور پھر دیکھیے! اگر کوئی دلیل اس خلافِ فطرت غلامی کی مل سکے تو پیش کیجیے۔

’’میں نے لکھا تھا کہ عرب میں چونکہ غلامی رائج تھی اور لوگوں کے پاس مملوک موجود تھے۔ قرآن نے انھی کو غلامی میں رہنے دیا اور ان کی آزادی کے لیے بھی بہت سی راہیں نکال دیں اور آئندہ کے لیے راستہ ہی بند کر دیا‘‘۔ اس پر آپ لکھتے ہیں:

’’ایسی مصلحت شناسی کو خدا کی طرف منسوب کرنا دراصل خدا کی طرف کمزوری کو منسوب کرنا ہے۔ جس خدا نے شراب کو حرام کر دیا تھا اور اس معاملے میں بندوں کی ذرا پروا نہ کی، جس نے زنا کو حرام کر دیا اور اس کی ذرا پروا نہ کی کہ عرب اور دوسرے ممالک میں اس کا کس قدر رواج تھا، اس کو کون سا امر غلامی کی ہر صورت کو قطعاً حرام کر دینے سے روک سکتا تھا‘‘۔

لیکن آپ نے یہ خیال نہ کیا کہ شراب خوری، زنا، قمار بازی وغیرہ شخصی اخلاقی جرائم ہیں جن کو فوراً روک ہی دینا چاہیے تھے۔ بخلاف اس کے ممالیک اہل عرب کی معیشت میں داخل ہو چکے تھے۔ سینکڑوں گھرانے اور قبیلے اُن کی کمائی پر گزارہ کرتے تھے۔ اُن کو فوراً آزادی کا حکم دینے سے بہت سے قبائل کی اقتصادی حالت خراب ہونے اور ابتری واقع ہو جانے کا اندیشہ تھا، اس لیے اس کا انسداد بتدریج مناسب تھا اور یہی اُس علیم و حکیم نے کیا۔

(ترجمان القرآن، جمادی الاولیٰ ۱۳۵۳ھ)