مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

دینیات

اشاعت: 1937ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "دینیات" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ جامع اور مختصر تصنیف ہے جس میں انہوں نے اسلام کے بنیادی عقائد، احکام اور مقاصد کو ایک منظم، منطقی اور عام فہم انداز میں پیش کیا ہے۔ اس کتاب کا مرکزی مقصد صرف فقہی مسائل کی تفصیلات تک محدود دینی تعلیم کے روایتی نظام کی اصلاح کرنا ہے۔ مولانا مودودی نے واضح کیا ہے کہ جب تک طالب علم کو یہ نہ سمجھا دیا جائے کہ اسلام دراصل کیا ہے، اس کا مقصد کیا ہے، اور اس کے عقائد زندگی سے کس طرح وابستہ ہیں، تب تک محض نماز، روزہ یا طہارت کے احکام سکھانا بے اثر رہتا ہے۔ اس لیے انہوں نے ایک ایسا منہج اختیار کیا جو قرآن مجید کے طرزِ استدلال پر مبنی ہو، جس میں عقائد کی تعلیم کو اولین اہمیت حاصل ہو، اور طالب علم کو ان عقائد کی صحت کے مضبوط دلائل سے آشنا کیا جائے۔

کتاب کا آغاز ناشر کے تعارفی نوٹ سے ہوتا ہے، جس میں کتاب کی تاریخِ اشاعت (1937ء)، اس کی وسیع مقبولیت، اور دنیا بھر کی متعدد زبانوں میں تراجم کا ذکر ہے۔ ناشر کے مطابق، یہ کتاب نہ صرف مسلمانوں بلکہ غیر مسلموں میں بھی شہرت حاصل کر چکی ہے، اور بہت سے غیر مسلم افراد نے اس کے مطالعے کے بعد اسلام قبول کیا ہے۔ اس کے بعد مولانا مودودی خود دیباچہ میں اپنے مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ یہ رسالہ خصوصیت سے نوجوانوں کے لیے مرتب کیا گیا ہے تاکہ وہ اسلام کی حقیقت کو صحیح تناظر میں سمجھ سکیں۔

کتاب سات مختصر ابواب میں دین کے بنیادی مسائل کو ترتیب دیتی ہے۔ باب اول میں لفظِ اسلام کے معنی، اسلام کی حقیقت اور کفر کے نقصانات بیان کیے گئے ہیں؛ باب دوم اور سوم بالترتیب ایمان و اطاعت کے تقاضوں اور نبوت کے تصور—بشمول ختمِ نبوت کے دلائل—کو واضح کرتے ہیں۔ باب چہارم 'ایمان مفصل' میں اللہ، فرشتوں، کتابوں، رسولوں اور آخرت پر ایمان کی تفصیل دی گئی ہے، جبکہ باب پنجم نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج جیسی بنیادی عبادات کا تعارف کراتا ہے۔ آخری دو ابواب دین اور شریعت کے فرق، احکامِ شریعت معلوم کرنے کے ذرائع (فقہ اور تصوف) اور اللہ کے حقوق، نفس کے حقوق، بندوں کے حقوق اور تمام مخلوقات کے حقوق کی چار قسموں کو بیان کر کے کتاب کو ایک مکمل، اگرچہ مختصر، نصابی خاکے کی صورت میں مکمل کرتے ہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"دینیات"، جو انگریزی میں Towards Understanding Islam کے نام سے شائع ہوئی، غالباً مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی دنیا بھر میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے — درجنوں زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہے اور دہائیوں سے ایک معیاری تعارفی نصابی کتاب کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔ یہ ایک سپرد کردہ نصابی کتاب کے طور پر شروع ہوئی: مولانا نے اسے 1930ء کی دہائی میں ہندوستانی مسلم اسکولوں کے لیے اسلامیات کا نصاب تیار کرنے والی ایک کمیٹی کے لیے لکھا۔

اس کے سات ابواب ایک بنیادی نصاب کی ترتیب میں آگے بڑھتے ہیں: یہ "اسلام" کی تعریف اللہ کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کے طور پر کرتی ہے؛ ایمان اور اطاعت کو ایک مکمل اسلامی زندگی کے دو اجزاء کے طور پر بیان کرتی ہے؛ نبوت پر ایک باب یہ واضح کرتا ہے کہ اللہ نے انسانی رسولوں کے ذریعے وحی کا طریقہ کیوں چنا؛ "ایمان مفصل" کا باب عقائد کی تفصیل بیان کرتا ہے؛ عبادات پر باب پانچوں ارکان کو ارادے کی تربیت کا نظام قرار دیتا ہے؛ اور آخری دو ابواب "دین" کو "شریعت" سے ممیز کرتے ہیں — یہی تفریق جو "اسلامی ریاست" میں وسیع سیاسی معاملہ اختیار کرتی ہے۔

اہمیت اور اسے کیسے پڑھا جائے۔ اپنی وسیع عالمی رسائی کی وجہ سے، یہ کتاب بہت سے غیر اردو بولنے والوں کے لیے مولانا مودودی کی فکر سے پہلا تعارف رہی ہے۔ یہ اسلام کے بنیادی اصول اس مخصوص سیاسی نظریے سے الگ پیش کرتی ہے جس نے مولانا کو ان کی دیگر تصانیف میں متنازعہ بنایا۔ مطالعاتی حلقے کو اسے مکمل تصویر کے لیے کم از کم ایک زیادہ ترقی یافتہ سیاسی تصنیف کے ساتھ ملا کر پڑھنا چاہیے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. تعارفی طرزِ تحریر: سیاسی نظریے کو چھوئے بغیر اسلام کے بنیادی اصول پیش کرنا اس کتاب کے مقصد کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
  2. "مکمل مصنف" کا مسئلہ: اگر کسی کا مولانا سے واحد تعارف صرف یہی کتاب ہو، تو وہ ان کے بارے میں کیا چیز چھوٹ جائے گی؟
  3. اسلام بطور تسلیم: کتاب "اسلام" کو سرِ تسلیم خم کرنے کے طور پر بیان کرتی ہے۔ یہ کیا فلسفیانہ کردار ادا کرتی ہے؟
  4. عبادت بطور تربیت: مولانا پانچوں ارکان کو "ارادے کی تربیت کا نظام" قرار دیتے ہیں۔ کیا یہ آپ کو قابلِ قبول لگتا ہے؟
  5. دین بمقابلہ شریعت: یہی تفریق "اسلامی ریاست" کی سیاسی دلیل میں کس طرح بہت مختلف کردار ادا کرتی ہے؟
  6. نصابی کتاب کی ابتدا: اس ابتدا نے کتاب کے لہجے اور حذف شدہ موضوعات کو کیسے متاثر کیا ہوگا؟
  7. عالمی رسائی: یہ کتاب مولانا کی زیادہ ترقی یافتہ تصانیف کے مقابلے میں سب سے زیادہ ترجمہ شدہ کیوں بنی؟
  8. پڑھنے کی ترتیب: کیا آپ اس کتاب یا "اسلامی ریاست" سے شروع کرنے کا مشورہ دیں گے؟

بندوں کے حقوق

ایک طرف شریعت نے انسان کو اپنے نفس اور جسم کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا ہے، تو دوسری طرف یہ بھی قید لگا دی ہے کہ ان حقوق کو ادا کرنے میں وہ کوئی ایساطریقہ نہ اختیار کرے جس سے دوسرے لوگوں کے حقوق متاثر ہوں۔ کیونکہ اس طرح اپنی خواہشات اور ضرورتیں پوری کرنے سے انسان کا اپنا نفس بھی گندا ہوتاہے اور دوسروں کو بھی طرح طرح کے نقصانات پہنچتے ہیں۔ چنانچہ شریعت نےچوری، لوٹ مار، رشوت، خیانت، سود خوری اور جعل سازی کو حرام کیا ہے۔ کیونکہ ان ذرائع سے انسان جو کچھ بھی فائدہ اٹھاتا ہے وہ دراصل دوسروں کے نقصان سےحاصل ہوتا ہے۔ جھوٹ، غیبت، چغل خوری اور بہتان تراشی کو بھی حرام کیا ہے۔کیونکہ یہ سب افعال دوسروں کے لیے نقصان رساں ہیں ۔ جوئے، سٹے اور لاٹری کوبھی حرام کیا ہے۔ کیونکہ اس میں ایک شخص کا فائدہ ہزاروں آدمیوں کے نقصان پرمبنی ہوتا ہے۔ دھو کے اور فریب کے لین دین اور ایسے تمام تجارتی معاہدات کو بھی حرام کیا ہے جن میں کسی ایک فریق کو نقصان پہنچنے کا امکان ہو قتل اور فتنہ وفساد کو بھی حرام کیا ہے۔ کیونکہ ایک شخص کو اپنے کسی فائدے یا اپنی کسی خواہش کی تسکین کےلیے دوسروں کی جان لینے یا ان کو تکلیف پہنچانے کا حق نہیں ہے۔ زنا اور عمل قوم لوط کو بھی حرام کیا ہے۔ کیونکہ یہ افعال ایک طرف خود اس شخص کی صحت کو خراب اور اس کے اخلاق کو گندا کرتے ہیں جو ان کا ارتکاب کرتا ہے اور دوسری طرف ان سے تمام سوسائٹی میں بے حیائی اور بد اخلاقی پھیلتی ہے، گندی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں، نسلیں خراب ہوتی ہیں، فتنے برپا ہوتے ہیں، انسانی تعلقات بگڑتے ہیں، اور تہذیب وتمدن کی جڑ کٹ جاتی ہے۔یہ تو وہ پابندیاں ہیں جو شریعت نے اس غرض سے لگائی ہیں کہ ایک آد می اپنے نفس اور جسم کے حقوق ادا کرنے کے لیے دوسروں کے حقوق تلف نہ کرے ۔ مگرانسانی تمدن کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے صرف اتنا ہی کافی نہیں ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص کو نقصان نہ پہنچائے۔ بلکہ اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ لوگوں میں باہمی تعلقات اس طرح قائم کیے جائیں کہ وہ سب ایک دوسرے کی بہتری میںمددگار ہوں۔ اس غرض کے لیے شریعت نے جو قوانین بنائے ہیں ان کا محض ایک خلاصہ ہم یہاں بیان کرتے ہیں۔

انسانی تعلقات کی ابتدا خاندان سے ہوتی ہے۔ اس لیے سب سے پہلے اس پر نظر ڈالو۔ خاندان دراصل اس مجموعے کو کہتے ہیں جو شوہر، بیوی اور بچوں مشتمل ہوتا ہے۔ اس کے لیے اسلامی قاعدہ یہ ہے کہ روزی کمانا اور خاندان کی ضروریات مہیا کرنا اور اپنے بیوی بچوں کی حفاظت کرنا مرد کا فرض ہے۔ اور عورت کا فرض یہ ہے کہ مرد جو کچھ کما کر لائے اس سے وہ گھر کا انتظام کرے، شوہر اور بچوں کو زیادہ سے زیادہ آسائش بہم پہنچائے اور بچوں کی تربیت کرے۔ اور بچوں کا فرض یہ ہےکہ ماں باپ کی اطاعت کریں، ان کا ادب ملحوظ رکھیں، اور جب بڑے ہوں تو ان کی خدمت کریں۔ خاندان کے اس انتظام کو درست رکھنے کے لیے اسلام نے دوتدبیریں اختیار کی ہیں۔ ایک یہ کہ شوہر اور باپ کو گھر کا حاکم مقرر کر دیا ہے۔ کیونکہ جس طرح ایک شہر کا انتظام ایک حاکم کے بغیر اور ایک مدرسے کا انتظام ایک ہیڈماسٹر کےبغیر درست نہیں رہ سکتا، اسی طرح گھر کا انتظام بھی ایک حاکم کے بغیر درست نہیں رہ سکتا۔ جس گھر میں ہر ایک اپنی مرضی کا مختار ہوگا، اس گھر میں خواہ مخواہ افراتفری مچے گی۔ آسائش اور خوشی نام کو نہ رہے گی۔ شوہر ایک طرف تشریف لے جائیں گے، بیوی دوسری طرف کا راستہ لے گی اور بچوں کی مٹی پلید ہو گی ۔ ان سب خرابیوں کو دور کرنے کے لیے گھر کا ایک حاکم ہونا ضروری ہے، اور وہ مرد ہی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ وہ گھر والوں کی پرورش اور حفاظت کا ذمہ دار ہے۔ دوسری تدبیر یہ ہے کہ گھر سے باہر کے سب کاموں کا بوجھ مرد پر ڈال کر عورت کو حکم دیا گیا ہے کہ بلاضرورت گھر سے باہر نہ جائے۔ اس کو بیرونِ خانہ کے فرائض سے اسی لیے سبک دوش کیا گیا ہے کہ وہ اندرون خانہ کے فرائض انجام دے اور اس کے باہر نکلنے سے گھر کی آسائش اور بچوں کی تربیت میں خلل نہ واقع ہو۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عورتیں بالکل گھر سے باہر قدم ہی نہ نکالیں۔ ضرورت پیش آنے پر ان کو جانے کی اجازت ہے۔ مگر شریعت کا منشا یہ ہے کہ ان کے فرائض کا اصلی دائرہ ان کا گھر ہونا چاہیے اور ان کی قوت تمام تر گھر کی زندگی کو بہتر بنانے پر صرف ہونی چاہیے۔ خون کے رشتوں اور شادی بیاہ کے تعلقات سے خاندان کا دائرہ پھیلتا ہے۔ اس دائرے میں جو لوگ ایک دوسرے سے وابستہ ہوتے ہیں ان کے تعلقات درست رکھنے اور ان کو ایک دوسرے کا مددگار بنانے کے لیے شریعت نے مختلف قاعدے مقرر کیے ہیں جو بڑی حکمتوں پر مبنی ہیں۔ ان میں سے چند قاعدے یہ ہیں:

(1) جن مردوں اور عورتوں کو فطرتاً ایک دوسرے کے ساتھ گھل مل کر رہنا پڑتاہے ان کو ایک دوسرے کے لیے حرام کر دیا ہے، مثلاً ماں اور بیٹا، باپ اور بیٹی، سوتیلی بیٹی اور سوتیلا باپ، سوتیلی ماں اور سوتیلا بیٹا، بھائی اور بہن، دودھ شریک بھائی اور بہن، چچا اور بھتیجی، پھوپھی اور بھتیجا ، ماموں اور بھانجی، خالہ اور بھانجا، ساس اورداماد، خسر اور بہو ۔ ان سب رشتوں کو حرام کر نے کے بے شمار فائدوں میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ ایسے مرد اور عورتوں کے تعلقات نہایت پاک رہتے ہیں اور وہ خالص محبت کے ساتھ بے لوث اور بے تکلف ایک دوسرے سے مل سکتے ہیں۔

(۲) حرام رشتوں کے علاوہ کنبے کے دوسرے مردوں اور عورتوں کے درمیان شادی بیاہ کو جائز قرار دیا گیا تا کہ آپس کے تعلقات اور زیادہ بڑھیں۔ جو لوگ ایک دوسرے کی عادتوں اور خصلتوں سے واقف ہوتے ہیں ان کے درمیان شادی بیاہ کا تعلق زیادہ کامیاب ہوتا ہے۔ اجنبی گھرانوں میں جوڑ لگانے سے اکثر ناموافقت کی صورتیں پیدا ہوتی ہیں۔ اسی لیے اسلام میں کفو والے کو غیر کفو پر ترجیح دی گئی ہے۔

(۳) کہنے میں غریب اور امیر، خوش حال اور بد حال سب ہی قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔اسلام کا حکم یہ ہے کہ ہر شخص پر سب سے زیادہ حق اس کے رشتہ داروں کا ہے۔ اس کا نام شریعت میں صلہ رحمی ہے، جس کی بہت تاکید کی گئی ہے۔ رشتہ داروں سے بے وفائی کرنے کو قطع رحمی کہتے ہیں اور یہ اسلام میں بہت بڑا گناہ ہے۔ کوئی قرابت دار مفلس ہو یا اس پر کوئی مصیبت آئے تو خوش حال عزیزوں کا فرض ہے کہ اس کی مدد کریں۔ صدقہ و خیرات میں بھی خاص طور پر رشتہ داروں کے حق کو زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔

(۴) وراثت کا قانون بھی اس طرح بنایا گیا ہے کہ جو شخص کچھ مال چھوڑ کر مرے، خواہ وہ کم ہو یا زیادہ، بہر حال وہ ایک جگہ سمٹ کر نہ رہ جائے بلکہ اس کے رشتہ داروں کو تھوڑا یا بہت حصہ پہنچ جائے۔ بیٹا، بیٹی، بیوی شوہر ، ماں، باپ، بھائی، بہن، انسان کے سب سے زیادہ قریبی حق دار ہیں۔ اس لیے وراثت میں پہلے ان ہی کے حصے مقرر کیے گئے ہیں۔ یہ اگر نہ ہوں تو ان کے بعد جو رشتہ دار قریب ترہوں ان کو حصہ پہنچتا ہے، اور اس طرح ایک شخص کے مرنے کے بعد اس کی چھوڑی ہوئی دولت بہت سے عزیزوں کے کام آتی ہے۔ اسلام کا یہ قانون دنیا میں بے نظیر قانون ہے اور اب دوسری قومیں بھی اس کی نقل کر رہی ہیں۔مگر افسوس کہ مسلمان اپنی جہالت اور نادانی کی وجہ سے اکثر اس قانون کی خلاف ورزی کرنے لگے ہیں۔

خصوصاً لڑکیوں کا حصہ نہ دینے کی رسم پاکستان اور ہندوستان کے مسلمانوں میں بہت پھیلی ہوئی ہے۔ حالانکہ یہ بہت بڑا ظلم ہے اور قرآن کے صریح احکام کی مخالفت ہے۔ خاندان کے بعد انسان کے تعلقات اپنے دوستوں، ہمسایوں، اہل محلہ، اہل شہر اور ان لوگوں کے ساتھ ہوتے ہیں جن سے اس کو کسی نہ کسی طرح کے معاملات پیش آتے ہیں۔ اسلام کا حکم یہ ہے کہ ان سب کے ساتھ راست بازی، انصاف اور حسن اخلاق بر تو ۔ کسی کو تکلیف نہ پہنچاؤ۔ کسی کی دل آزاری نہ کرو۔ فحش گوئی اور بدکلامی سے بچو۔ ایک دوسرے کی مدد کرو ۔ بیماروں کی عیادت کے لیے جاؤ ۔ کوئی مر جائے تو اس کے جنازے میں شریک ہو۔ کسی پر مصیبت آئے تو اس سے ہمدردی کرو۔ جو غریب، محتاج، معذور لوگ ہوں ان کو ڈھانک چھپا کر مدد پہنچاؤ۔ یتیموں اور بیواؤں کی خبر گیری کرو۔ بھوکوں کو کھانا کھلاؤ۔ ننگوں کو کپڑے پہناؤ ۔ بے کاروں کو کام پر لگانے میں مدد دو۔ اگر تم کو خدا نے دولت دی ہے تو اس کو صرف اپنے عیش میں نہ اڑا دو۔ چاندی سونے کے برتن استعمال کرنا اور ریشمی لباس پہننا اور اپنے روپے کو فضول تفریحوں، آسائشوں میں ضائع کرنا اسی لیے اسلام میں ممنوع ہے کہ جو دولت ہزاروں بندگانِ خدا کو رزق بہم پہنچا سکتی ہے اسے کوئی شخص صرف اپنے ہی اوپر خرچ نہ کر دے۔

یہ ایک ظلم ہے کہ جس روپے سے بہتوں کے پیٹ پل سکتے ہوں وہ محض ایک زیور کی شکل میں تمھارے جسم پر لٹکا رہے، یا ایک برتن کی شکل میں تمھاری میز پر سجا کرے، یا ایک قالین بنا ہوا تمھارے کمرے میں پڑا رہے، یا آتش بازی بن کر آگ میں جل جائے۔ اسلام تم سے تمھاری دولت چھیننا نہیں چاہتا۔ جو کچھ تم نے کمایا ہے یا ورثے میں پایا ہے اس کے وارث تم ہی ہو۔ وہ تمھیں اس بات کا پورا حق دیتا ہے کہ اپنی دولت سے لطف اٹھاؤ۔ وہ اس کو بھی جائز رکھتا ہے کہ جو نعمت خدا نے تم کو دی ہے اس کا اثر تمھارے لباس اور مکان اور سواری میں ظاہر ہو۔ مگر اس کی تعلیم کا مقصد یہ ہے کہ تم ایک سادہ اور معتدل زندگی اختیار کرو، اپنی ضرورتوں کو حد سے نہ بڑھاؤ، اور اپنے نفس کے ساتھ اپنے عزیزوں، دوستوں، ہمسایوں ، اہل قوم اور اہل ملک اور عام انسانوں کے حقوق کا بھی خیال رکھو۔ ان چھوٹے دائروں سے نکل کر اب بڑے دائرے پر نظر ڈالو، جو تمام دنیا کے مسلمانوں پر حاوی ہے۔ اس دائرے میں اسلام نے ایسے قوانین اور ضابطے مقرر کیے ہیں جن سے مسلمان ایک دوسرے کی بھلائی میں مددگار ہوں اور برائیاں رونما ہونے کی صورتیں جہاں تک ممکن ہو پیدا ہی نہ ہونے دی جائیں۔ مثال کےطور پر ان میں سے چند کی طرف ہم یہاں اشارہ کرتے ہیں:

(۱) قومی اخلاق کی حفاظت کے لیے یہ قاعدہ مقرر کیا ہے کہ جن عورتوں اور مردوں کے درمیان حرام رشتے نہیں ہیں وہ ایک دوسرے سے آزادانہ میل جول نہ رکھیں۔ عورتوں کی سوسائٹی الگ رہے اور مردوں کی الگ۔ عورتیں زیادہ تر خانگی زندگی کے فرائض کی طرف متوجہ رہیں۔ اگر ضرورتا باہر نکلیں تو بناؤ سنگار کے ساتھ نہ نکلیں۔ سادہ کپڑے پہن کر آئیں۔ جسم کو اچھی طرح ڈھانکیں۔ چہرہ اور ہاتھ اگر کھولنے کی شدید ضرورت نہ ہو تو ان کو بھی چھپائیں، اور اگر واقعی کوئی ضرورت پیش آ جائے تو صرف اس کو پورا کرنے کے لیے ہاتھ منہ کھولیں ۔ اس کے ساتھ مردوں کو حکم دیا کہ غیر عورتوں کی طرف دیکھنے سے پرہیز کریں۔ اچانک نظر پڑ جائے تو نظر ہٹا لیں۔ دوبارہ دیکھنے کی کوشش کرنا معیوب ہے اور ان سے ملنے کی کوشش معیوب تر ۔ ہر مرد اور عورت کا فرض ہے کہ وہ اپنے اخلاق کی حفاظت کرے اور خدا نے خواہشات نفسانی کو پورا کرنے کے لیے نکاح کا جو دائرہ مقرر کر دیا ہے اس سے باہر نکلنے کی کوشش کیا معنی ، خواہش بھی اپنے دل میں پیدا نہ ہونے دیں۔

(۲) قومی اخلاق ہی کی حفاظت کے لیے یہ قاعدہ مقرر کیا گیا ہے کہ کوئی مرد گھٹنے اور ناف کے درمیان کا حصہ اور کوئی عورت چہرے اور ہاتھ کے سوا اپنے جسم کا کوئی حصہ کسی کے سامنے نہ کھولے خواہ وہ اس کا قریبی عزیز ہی کیوں نہ ہو۔ اس کو شریعت کی زبان میں ستر کہتے ہیں اور اس کا چھپانا ہر مرد اور عورت پر فرض ہے۔ اسلام کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں میں حیا کا مادہ پیدا ہو اور وہ بے حیائیاں نہ پھیل سکیں جن سے آخر کار بداخلاقی پیدا ہوتی ہے۔

(۳) اسلام ایسی تفریحوں اور مشغلوں کو بھی پسند نہیں کرتا جو اخلاق کو خراب کرنے والے اور بُری خواہشات کو ابھارنے والے اور وقت اور صحت اور روپے کو ضائع کرنے والے ہوں۔ تفریح بجائے خود نہایت ضروری چیز ہے، انسان میں زندگی کی روح اور عمل کی طاقت پیدا کرنے کے لیے کام اور محنت کے ساتھ اس کا ہونا بھی لازم ہے۔ مگر وہ ایسی ہونی چاہیے جو روح کو تازہ کرنے والی ہو نہ کہ اور زیادہ غلیظ اور کثیف بنانے والی۔ بے ہودہ تفریحیں جن میں ہزاروں آدمی ایک ساتھ بیٹھ کر جرائم کے فرضی واقعات اور بے شرمی کے نظارے دیکھتے ہیں، تمام قوموں کے اخلاق و عادات کو بگاڑنے والی چیزیں ہیں ، خواہ بظاہر کیسی ہی خُوش نما ہوں۔

(۴) قومی اتحاد اور فلاح و بہبود کے لیے مسلمانوں کو تاکید کی گئی کہ آپس کی مخالفت سے بچیں۔ فرقہ بندی سے پر ہیز کریں۔ کسی معاملے میں اختلاف رائے ہو تو نیک نیتی کے ساتھ قرآن اور حدیث سے اس کا فیصلہ کرنے کی کوشش کریں۔ اگر تصفیہ نہ ہو سکے تو آپس میں لڑنے کے بجائے خدا پر اس کا فیصلہ چھوڑ دیں۔ قومی فلاح و بہبود کے کاموں میں ایک دوسرے کی معاونت کریں۔ اپنی قوم کے سرداروں کی اطاعت کرتے رہیں۔ جھگڑے برپا کرنے والوں سے الگ ہو جائیں اور آپس کی لڑائیوں سے اپنی طاقت کو برباد اور اپنی قوم کو رسوا نہ کریں۔

(۵) مسلمانوں کو غیر مسلم قوموں سے علوم و فنون حاصل کرنے اور ان کے کارآمد طریقے سیکھنے کی پوری اجازت ہے، مگر زندگی میں ان کی نقالی کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ ایک قوم دوسری قوم کی نقالی اسی وقت کرتی ہے جب وہ اپنی ذلت اور کم تری تسلیم کر لیتی ہے۔ یہ غلامی کی بدترین قسم ہے، اپنی شکست کا کھلا ہوا اعلان ہے اور اس کا آخری نتیجہ یہ ہے کہ نقالی کرنے والی قوم کی تہذیب فنا ہو جاتی ہے۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر قوموں کی مشابہت اختیار کرنے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ یہ بات معمولی عقل کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ کسی قوم کی طاقت اس کے لباس یا اس کے طرز زندگی کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ اس کے علم اور اس کی تنظیم اور اس کی قوت عمل کے سبب سے ہوتی ہے۔ پس اگر طاقت حاصل کرنا چاہتے ہو تو وہ چیزیں لو جن سے قو میں طاقت حاصل کرتی ہیں، نہ کہ وہ چیزیں جن سے قو میں غلام ہوتی ہیں، اور آخر کار دوسروں میں جذب ہو کر اپنی قومی ہستی ہی فنا کر دیتی ہیں۔

غیر مسلموں کے ساتھ برتاؤ کرنے میں مسلمانوں کو تعصب اور تنگ نظری کی تعلیم نہیں دی گئی ہے۔ ان کے بزرگوں کو بُرا کہنے یا ان کے مذہب کی توہین کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ ان سے خود جھگڑا نکالنے سے بھی روکا گیا ہے۔ وہ اگر ہمارے ساتھ صلح و آشتی رکھیں اور ہمارے حقوق پر دست درازی نہ کریں تو ہم کو بھی ان کے ساتھ صلح رکھنے اور دوستی کا برتاؤ کرنے اور انصاف کے ساتھ پیش آنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ ہماری اسلامی شرافت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم سب سے بڑھ کر انسانی ہمدردی اور خوش اخلاقی برتیں۔ کج خلقی اور ظلم اور تنگ دلی مسلمان کی شان سے بعید ہے۔

مسلمان دنیا میں اس لیے پیدا کیا گیا ہے کہ حسن اخلاق اور شرافت اور نیکی کا بہترین نمونہ بنے اور اپنے اصولوں سے دلوں کی تسخیر کرے۔