دینیات
اشاعت: 1937ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "دینیات" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ جامع اور مختصر تصنیف ہے جس میں انہوں نے اسلام کے بنیادی عقائد، احکام اور مقاصد کو ایک منظم، منطقی اور عام فہم انداز میں پیش کیا ہے۔ اس کتاب کا مرکزی مقصد صرف فقہی مسائل کی تفصیلات تک محدود دینی تعلیم کے روایتی نظام کی اصلاح کرنا ہے۔ مولانا مودودی نے واضح کیا ہے کہ جب تک طالب علم کو یہ نہ سمجھا دیا جائے کہ اسلام دراصل کیا ہے، اس کا مقصد کیا ہے، اور اس کے عقائد زندگی سے کس طرح وابستہ ہیں، تب تک محض نماز، روزہ یا طہارت کے احکام سکھانا بے اثر رہتا ہے۔ اس لیے انہوں نے ایک ایسا منہج اختیار کیا جو قرآن مجید کے طرزِ استدلال پر مبنی ہو، جس میں عقائد کی تعلیم کو اولین اہمیت حاصل ہو، اور طالب علم کو ان عقائد کی صحت کے مضبوط دلائل سے آشنا کیا جائے۔
کتاب کا آغاز ناشر کے تعارفی نوٹ سے ہوتا ہے، جس میں کتاب کی تاریخِ اشاعت (1937ء)، اس کی وسیع مقبولیت، اور دنیا بھر کی متعدد زبانوں میں تراجم کا ذکر ہے۔ ناشر کے مطابق، یہ کتاب نہ صرف مسلمانوں بلکہ غیر مسلموں میں بھی شہرت حاصل کر چکی ہے، اور بہت سے غیر مسلم افراد نے اس کے مطالعے کے بعد اسلام قبول کیا ہے۔ اس کے بعد مولانا مودودی خود دیباچہ میں اپنے مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ یہ رسالہ خصوصیت سے نوجوانوں کے لیے مرتب کیا گیا ہے تاکہ وہ اسلام کی حقیقت کو صحیح تناظر میں سمجھ سکیں۔
کتاب سات مختصر ابواب میں دین کے بنیادی مسائل کو ترتیب دیتی ہے۔ باب اول میں لفظِ اسلام کے معنی، اسلام کی حقیقت اور کفر کے نقصانات بیان کیے گئے ہیں؛ باب دوم اور سوم بالترتیب ایمان و اطاعت کے تقاضوں اور نبوت کے تصور—بشمول ختمِ نبوت کے دلائل—کو واضح کرتے ہیں۔ باب چہارم 'ایمان مفصل' میں اللہ، فرشتوں، کتابوں، رسولوں اور آخرت پر ایمان کی تفصیل دی گئی ہے، جبکہ باب پنجم نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج جیسی بنیادی عبادات کا تعارف کراتا ہے۔ آخری دو ابواب دین اور شریعت کے فرق، احکامِ شریعت معلوم کرنے کے ذرائع (فقہ اور تصوف) اور اللہ کے حقوق، نفس کے حقوق، بندوں کے حقوق اور تمام مخلوقات کے حقوق کی چار قسموں کو بیان کر کے کتاب کو ایک مکمل، اگرچہ مختصر، نصابی خاکے کی صورت میں مکمل کرتے ہیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
مطالعاتی رہنما / Study Guide
محقق کا خلاصہ
"دینیات"، جو انگریزی میں Towards Understanding Islam کے نام سے شائع ہوئی، غالباً مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی دنیا بھر میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے — درجنوں زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہے اور دہائیوں سے ایک معیاری تعارفی نصابی کتاب کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔ یہ ایک سپرد کردہ نصابی کتاب کے طور پر شروع ہوئی: مولانا نے اسے 1930ء کی دہائی میں ہندوستانی مسلم اسکولوں کے لیے اسلامیات کا نصاب تیار کرنے والی ایک کمیٹی کے لیے لکھا۔
اس کے سات ابواب ایک بنیادی نصاب کی ترتیب میں آگے بڑھتے ہیں: یہ "اسلام" کی تعریف اللہ کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کے طور پر کرتی ہے؛ ایمان اور اطاعت کو ایک مکمل اسلامی زندگی کے دو اجزاء کے طور پر بیان کرتی ہے؛ نبوت پر ایک باب یہ واضح کرتا ہے کہ اللہ نے انسانی رسولوں کے ذریعے وحی کا طریقہ کیوں چنا؛ "ایمان مفصل" کا باب عقائد کی تفصیل بیان کرتا ہے؛ عبادات پر باب پانچوں ارکان کو ارادے کی تربیت کا نظام قرار دیتا ہے؛ اور آخری دو ابواب "دین" کو "شریعت" سے ممیز کرتے ہیں — یہی تفریق جو "اسلامی ریاست" میں وسیع سیاسی معاملہ اختیار کرتی ہے۔
اہمیت اور اسے کیسے پڑھا جائے۔ اپنی وسیع عالمی رسائی کی وجہ سے، یہ کتاب بہت سے غیر اردو بولنے والوں کے لیے مولانا مودودی کی فکر سے پہلا تعارف رہی ہے۔ یہ اسلام کے بنیادی اصول اس مخصوص سیاسی نظریے سے الگ پیش کرتی ہے جس نے مولانا کو ان کی دیگر تصانیف میں متنازعہ بنایا۔ مطالعاتی حلقے کو اسے مکمل تصویر کے لیے کم از کم ایک زیادہ ترقی یافتہ سیاسی تصنیف کے ساتھ ملا کر پڑھنا چاہیے۔
مطالعاتی حلقہ کے سوالات
- تعارفی طرزِ تحریر: سیاسی نظریے کو چھوئے بغیر اسلام کے بنیادی اصول پیش کرنا اس کتاب کے مقصد کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
- "مکمل مصنف" کا مسئلہ: اگر کسی کا مولانا سے واحد تعارف صرف یہی کتاب ہو، تو وہ ان کے بارے میں کیا چیز چھوٹ جائے گی؟
- اسلام بطور تسلیم: کتاب "اسلام" کو سرِ تسلیم خم کرنے کے طور پر بیان کرتی ہے۔ یہ کیا فلسفیانہ کردار ادا کرتی ہے؟
- عبادت بطور تربیت: مولانا پانچوں ارکان کو "ارادے کی تربیت کا نظام" قرار دیتے ہیں۔ کیا یہ آپ کو قابلِ قبول لگتا ہے؟
- دین بمقابلہ شریعت: یہی تفریق "اسلامی ریاست" کی سیاسی دلیل میں کس طرح بہت مختلف کردار ادا کرتی ہے؟
- نصابی کتاب کی ابتدا: اس ابتدا نے کتاب کے لہجے اور حذف شدہ موضوعات کو کیسے متاثر کیا ہوگا؟
- عالمی رسائی: یہ کتاب مولانا کی زیادہ ترقی یافتہ تصانیف کے مقابلے میں سب سے زیادہ ترجمہ شدہ کیوں بنی؟
- پڑھنے کی ترتیب: کیا آپ اس کتاب یا "اسلامی ریاست" سے شروع کرنے کا مشورہ دیں گے؟
حمایت اسلام
آخری فرض جو خدا کی طرف سے تم پر عائد کیا گیا ہے ، حمایت اسلام ہے۔اگر چہ یہ ارکان اسلام میں سے نہیں ہے مگر یہ اسلامی فرائض میں سے ایک اہم فرض ہے اور قرآن وحدیث میں اس پر بہت زور دیا گیا ہے۔حمایت اسلام کیا چیز ہے اور کیوں فرض کی گئی ہے؟ اس کو تم ایک مثال سےبآسانی سمجھ سکتے ہو۔ فرض کرو کہ ایک شخص تم سے دوستی کرتا ہے، مگر ہر آزمائش کےموقع پر ثابت ہوتا ہے کہ اس کو آپ سے کوئی ہمدردی نہیں۔ وہ تمھارے فائدےاور نقصان کی کوئی پروا نہیں کرتا ۔ جس کام میں تمہارا نقصان ہوتا ہو اس کو وہ اپنےذاتی فائدے کی خاطر بے تکلف کر گزرتا ہے۔ جس کام میں تمہارا فائدہ ہوتا ہےاس میں تمہارا ساتھ دینے سے وہ صرف اس لیے پر ہیز کرتا ہے کہ اس میں خود اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ تم پر کوئی مصیبت آئے تو وہ تمھاری کوئی مدد نہیں کرتا ۔کہیں تمھاری برائی کی جارہی ہو تو وہ خود بھی برائی کرنے والوں میں شریک ہو جاتا ہے،یا کم از کم تمھاری برائی کو خاموشی کے ساتھ سنتا ہے۔ تمھارے دشمن تمھارے خلاف کوئی کام کریں تو وہ ان کے ساتھ شریک ہو جاتا ہے، یا کم از کم تمھیں ان کی شرارتوں سے بچانے کی ذرا کوشش نہیں کرتا ۔ بتاؤ! کیا تم ایسے شخص کو اپنا دوست سمجھوگے؟ تم یقیناً کہو گے ہر گز نہیں۔ اس لیے کہ وہ محض زبان سے دوستی کا دعوی کرتا ہے مگردر حقیقت دوستی اس کے دل میں نہیں ہے۔ دوستی کے معنی تو یہ ہیں کہ انسان جس کادوست ہو، اس سے محبت اور خلوص رکھے، اس کا ہمدرد و خیر خواہ ہو، وقت پر اس کےکام آئے ، دشمنوں کے مقابلے میں اس کی مدد کرے، اس کی برائی سننے تک کا روادارنہ ہو۔ جب یہ بات اس میں نہیں تو وہ منافق ہے، اس کا دوستی کا دعویٰ جھوٹا ہے۔اسی مثال پر قیاس کرلو کہ جب تم مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہو تو تم پر کیافرض عائد ہوتا ہے۔ مسلمان ہونے کے معنی یہ ہیں کہ تم میں اسلامی حمیت ہو، ایمانی غیرت ہو، اسلام کی محبت اور اپنے مسلمان بھائیوں کی سچی خیر خواہی ہو ۔ تم خواہ دنیاکا کوئی کام کرو، اس میں اسلام کا مفاد اور مسلمانوں کی بھلائی ہمیشہ تمھارے پیش نظررہے۔ اپنے ذاتی فائدے کی خاطر یا اپنے کسی ذاتی نقصان سے بچنے کی خاطر تم سے بھی کوئی ایسی حرکت سرزد نہ ہو جو اسلام کے مقاصد اور مسلمانوں کی فلاح کےخلاف ہو، اور ہر اس کام میں دل اور جان اور مال سے حصہ لو جو اسلام اور مسلمانوں کے لیے مفید ہو، اور ہر اس کام سے الگ رہو جو اسلام اور مسلمانوں کے لیے نقصان دہ ہو۔ اپنے دین اور اپنی دینی جماعت کی عزت کو اپنی عزت سمجھو۔ جس طرح تم خود اپنی توہین برداشت نہیں کر سکتے ، اسی طرح اسلام اور اہل اسلام کی تو ہین بھی برداشت نہ کرو۔ جس طرح آپ خود اپنے خلاف اپنے دشمنوں کا ساتھ نہیں دیتے،اسی طرح اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کا بھی ساتھ نہ دو۔ جس طرح تم اپنی جان،مال اور عزت کی حفاظت کے لیے ہر قسم کی قربانی پر آمادہ ہو جاتے ہو، اسی طرح اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت کے لیے بھی ہر قربانی پر آمادہ رہو۔ یہ صفات ہر اس شخص میں ہونی چاہئیں جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو، ورنہ اس کا شمار منافقوں میں ہو گا، اور اس کا عمل خود ہی اس کے زبانی دعوے کو جھوٹا ثابت کر دے گا۔اسی حمایت اسلام کا ایک شعبہ وہ ہے جس کو شریعت کی زبان میں "جہاد" کہتےہیں۔ جہاد کے لفظی معنی ہیں کسی کام میں اپنی انتہائی طاقت صرف کر دینا ۔ اس معنی کے لحاظ سے جو شخص خدا کا کلمہ بلند کرنے کے لیے روپے سے، زبان سے قلم سے،ہاتھ پاؤں سے کوشش کرتا ہے وہ بھی جہاد ہی کرتا ہے۔ مگر خاص طور پر "جہاد" کا لفظ اس جنگ کے لیے استعمال کیا گیا ہے جو تمام دنیوی اغراض سے پاک ہو کر محض خداکے لیے اسلام کے دشمنوں سے کی جائے ۔ شریعت میں اس جہاد کو فرض کفایہ کہتےہیں۔ یعنی یہ ایسا فرض ہے جو تمام مسلمانوں پر عائد تو ہوتا ہے، لیکن اگر ایک جماعت اس کو ادا کر دے تو باقی لوگوں پر سے اس کو ادا کرنے کی ذمہ داری ساقط ہو جاتی ہے۔ البتہ اگر کسی اسلامی ملک پر دشمنوں کا حملہ ہو تو اس صورت میں جہاد اس ملک کے تمام باشندوں پر نماز اور روزے کی طرح فرض عین ہو جاتا ہے۔ اور اگر وہ مقابلے کی طاقت نہ رکھتے ہوں تو ان کے قریب جو ملک واقع ہوں وہاں کے بھی ہرمسلمان پر فرض ہو جاتا ہے کہ جان اور مال سے ان کی مدد کرے۔ اور اگر ان کی مددسے بھی دشمن کا حملہ دفع نہ ہو تو تمام دنیا کے مسلمانوں پر ان کی حمایت اسی طرح فرض ہو جاتی ہے جس طرح نماز اور روزہ فرض ہے۔ یعنی اگر کوئی ایک شخص بھی یہ فرض اداکرنے میں کوتاہی کرے گا تو گناہ گار ہوگا۔ ایسی صورتوں میں جہاد کی اہمیت نماز اورروزے سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے، اس لیے کہ وہ وقت ایمان کے امتحان کا ہوتا ہے۔
جو شخص مصیبت کے وقت اسلام اور مسلمانوں کا ساتھ نہ دے اس کا ایمان ہی مشتبہ ہے۔ پھر اس کی نماز کس کام کی اور اس کے روزے کی کیا وقعت؟ اور اگر کوئی بدبخت ایسا ہو کہ اس وقت اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کا ساتھ دے تو وہ یقیناً منافق ہے۔ اس کی نماز اور اس کا روزہ اور اس کی زکوٰۃ اور اس کا حج سب کچھ بے کار ہے۔