حاجی شریعت اللہؒ نے مشرقی بنگال میں فرائضِ اسلام کی پابندی اور غیر شرعی رسوم کے ترک کی تحریک چلائی، جو بعد میں کسانوں کی زمینداروں کے خلاف جدوجہد سے بھی جڑ گئی۔
حاجی شریعت اللہؒ نے نوجوانی میں مکہ مکرمہ جا کر تقریباً بیس برس علم حاصل کیا اور وہاں سے اصلاحی جذبے کے ساتھ بنگال واپس آئے۔ انہوں نے دیکھا کہ مشرقی بنگال کے مسلمان کسانوں میں بہت سی ہندو رسموں، غیر شرعی طریقوں اور پیروں کی غلو آمیز عقیدت کا رواج ہے۔
انہوں نے 'فرائض' یعنی اسلام کے لازمی فرائض (نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج) کی سختی سے پابندی اور بدعات کے ترک کی دعوت دی، جس کی وجہ سے یہ تحریک فرائضی کہلائی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان دارالحرب ہے، اس لیے جمعہ و عیدین کی نمازوں کے بارے میں بھی احتیاط چاہیے۔
ان کے بیٹے دودو میاں (محسن الدین احمد) نے تحریک کو منظم شکل دی اور کسانوں کو زمینداروں کے ناجائز ٹیکسوں اور نیل کی جبری کاشت کے خلاف متحد کیا۔ یوں یہ مذہبی اصلاح کی تحریک آگے چل کر کسانوں کی معاشی جدوجہد کا حصہ بھی بن گئی۔