1857ء کی جنگِ آزادی کے دوران حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کی قیادت میں مولانا قاسم نانوتویؒ اور مولانا رشید احمد گنگوہیؒ سمیت علما نے شاملی (مظفر نگر) میں انگریزی فوج کا مقابلہ کیا؛ حافظ ضامن شہیدؒ اسی معرکے میں شہید ہوئے۔
1857ء کے ہنگاموں میں دہلی کے گرد و نواح میں مغربی اترپردیش کے علاقے مظفر نگر، تھانہ بھون اور شاملی میں مسلمان علما نے، حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کی قیادت میں، عملی مزاحمت کا فیصلہ کیا۔ حاجی صاحب کو امیر مقرر کیا گیا، مولانا رشید احمد گنگوہیؒ قاضی بنے اور مولانا قاسم نانوتویؒ اور مولانا محمد منیرؒ کے ساتھ حافظ ضامنؒ اور دیگر علما و مجاہدین شریک ہوئے۔
انہوں نے تھانہ بھون کے علاقے میں اپنی انتظامیہ قائم کی اور شاملی کے قصبے میں سرکاری خزانے اور تحصیل پر حملہ کیا۔ حافظ ضامن شہیدؒ اس لڑائی میں شہید ہوئے، مگر انگریزی فوج کی مزید کمک آنے پر یہ مزاحمت زیادہ دیر نہ چل سکی۔
بعد میں کئی علما کے وارنٹ جاری ہوئے؛ حاجی امداد اللہؒ مکہ ہجرت کر گئے، جبکہ نانوتویؒ اور گنگوہیؒ نے تعلیمی و اصلاحی راستہ اختیار کیا، جس کے نتیجے میں 1866ء میں دارالعلوم دیوبند قائم ہوا۔ اس طرح شاملی کا معرکہ دیوبندی فکر کی تاریخی بنیادوں میں سے ایک ہے۔