مرکزی مواد پر جائیں
سلطنتیں و ریاستیں · جدید عالمی طاقتیں (تقابلی حوالہ)

سوویت یونین

1922ء (1341ھ) – 1991ء (1412ھ)69 برس

غیر اسلامی سلطنت · تقابلی حوالہ
آغاز1922ء (1341ھ)
اختتام1991ء (1412ھ)
مدت69 برس
خطہجدید عالمی طاقتیں (تقابلی حوالہ)
بانیولادیمیر لینن
دارالحکومتماسکو

1917ء کے بالشویک انقلاب اور خانہ جنگی کے بعد 1922ء میں قائم ہونے والی کمیونسٹ وفاقی ریاست، جس میں وسطی ایشیا اور قفقاز کی مسلم آبادیاں بھی شامل تھیں اور مذہب پر سخت پابندیاں رہیں۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد یہ امریکہ کے مقابل عالمی سپر طاقت بنی۔

تاریخی تسلسل

  1. سلطنتِ منگول 1206ء–1368ء
  2. اردوئے زریں (الوسِ جوچی) 1242ء–1502ء
  3. زارِ روس کی مملکت (ماسکووی) 1547ء–1721ء
  4. روسی سلطنت 1721ء–1917ء
  5. سوویت یونین

عروج کے اسباب

پہلی جنگِ عظیم کے دوران 1917ء کے انقلابات میں روسی بادشاہت ختم ہوئی اور لینن کی بالشویک پارٹی نے اقتدار سنبھالا؛ خانہ جنگی میں فتح کے بعد دسمبر 1922ء میں روس، یوکرین، بیلاروس اور قفقاز کی سوویت جمہوریاؤں نے مل کر سوویت یونین بنایا۔

زوال کے اسباب

معاشی جمود، افغانستان کی جنگ (1979ء–1989ء) کا بوجھ اور قوم پرست تحریکیں؛ دسمبر 1991ء میں یونین تحلیل ہو کر 15 آزاد ریاستوں میں بٹ گئی، جن میں چھ مسلم اکثریتی ریاستیں (آذربائیجان، ازبکستان، قازقستان، کرغیزستان، تاجکستان، ترکمانستان) تھیں۔

حکمران (5)

  1. ولادیمیر لینن

    1922ء – 1924ء

    بالشویک انقلاب کے قائد اور ریاست کے بانی۔

  2. جوزف اسٹالن

    1924ء – 1953ء

    جبری صنعت کاری، اجتماعی زراعت اور بڑے پیمانے پر جبر؛ دوسری جنگِ عظیم میں فتح۔

  3. نکیتا خروشچیف

    1953ء – 1964ء

    اسٹالن کی پالیسیوں پر تنقید اور سرد جنگ کے بحران۔

  4. لیونڈ بریژنیف

    1964ء – 1982ء

    معاشی جمود؛ 1979ء میں افغانستان پر حملہ۔

  5. میخائل گورباچوف

    1985ء – 1991ء

    اصلاحات (گلاسنوسٹ، پریسترائیکا)؛ آخری سوویت رہنما۔

متعلقہ واقعات

ماخذ و وضاحت

1917ء–1922ء کا انقلابی اور خانہ جنگی کا دور الگ نہیں دکھایا گیا۔