فتحِ مکہ کے فوراً بعد ہوازن و ثقیف کے قبائل نے حملہ کیا۔ ابتدائی افراتفری کے بعد نبی کریم ﷺ کی ثابت قدمی سے مسلمانوں کو فتح ملی۔ قرآن (سورۃ التوبہ) میں اس معرکے کا ذکر آیا ہے۔
فتحِ مکہ کے بعد ہوازن اور ثقیف کے قبائل کو خطرہ ہوا کہ مسلمان ان پر حملہ کریں گے، چنانچہ انہوں نے مالک بن عوف کی قیادت میں بڑا لشکر جمع کیا۔ شوال 8 ہجری میں مکہ اور طائف کے درمیان وادیِ حنین میں معرکہ ہوا۔ مسلمانوں کی تعداد بارہ ہزار تھی اور بعض کو اپنی کثرت پر ناز ہوا۔
دشمن گھاٹی میں گھات لگائے بیٹھا تھا؛ ابتدائی حملے میں مسلمانوں کی صفیں منتشر ہو گئیں۔ نبی کریم ﷺ اپنی جگہ ثابت قدم رہے اور صحابہ کو پکارا، جس پر لوگ دوبارہ جمع ہوئے اور فتح حاصل ہوئی۔ سورۃ التوبہ میں اس واقعے میں کثرت پر بھروسا کرنے کی تنبیہ اور اللہ کی مدد کا ذکر ہے۔
جنگ کے بعد بہت سا مالِ غنیمت اور قیدی ہاتھ آئے۔ نبی کریم ﷺ نے ہوازن کے وفد کی درخواست پر قیدیوں کو رہا فرما دیا، جس کا بہت اچھا اثر ہوا اور بہت سے لوگ مسلمان ہو گئے۔