مرکزی مواد پر جائیں
ٹائم لائن · ملوکیت و مسلم حکمرانی (661ء – 1924ء)

بنو امیہ — ملوکیت کے دور کا آغاز

661ء41 ہجری

ٹائم لائن پر دیکھیں ←
عیسوی تاریخ661ء
ہجری تاریخ41 ہجری
دورملوکیت و مسلم حکمرانی

حضرت امیر معاویہؓ کے دور سے خلافت موروثی حکمرانی (ملوکیت) میں تبدیل ہونا شروع ہوئی۔

حضرت علیؓ کی شہادت کے بعد اہلِ کوفہ نے ان کے بیٹے حضرت حسنؓ کے ہاتھ پر بیعت کی، مگر حضرت حسنؓ نے امت کو مزید خونریزی سے بچانے کے لیے حضرت معاویہؓ کے حق میں دستبرداری اختیار فرمائی۔ یہ سال 41 ہجری (661ء) تھا اور اسے 'عامُ الجماعۃ' یعنی اتحاد کا سال کہا جاتا ہے۔

حضرت معاویہؓ نے دمشق کو دارالحکومت بنا کر ایک مستحکم مرکزی انتظامیہ، ڈاک کا نظام، منظم بحری بیڑا اور فوجی نظم قائم کیا۔ انہوں نے اپنے بیٹے یزید کو ولی عہد نامزد کیا، جس سے خلافت میں وراثتی طرزِ جانشینی کا آغاز ہوا، اور اسی نکتے کی وجہ سے علما اس دور کو 'ملوکیت' کے دور کے آغاز کے طور پر بیان کرتے ہیں۔

اموی حکومت نے تقریباً نوے برس میں سلطنت کو مغرب میں اندلس اور مشرق میں سندھ و ماوراء النہر تک پھیلا دیا۔ عبدالملک بن مروان کے دور میں عربی کو دفتری زبان اور اسلامی سکہ رائج ہوا، اور عمر بن عبدالعزیزؒ کا مختصر دور عدل کی مثال کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

ملوکیت و مسلم حکمرانی