عیسوی تاریخ1424ء–1429ء
دورملوکیت و مسلم حکمرانی
تیموری حکمران اور ماہرِ فلکیات الغ بیگ نے سمرقند میں تین منزلہ رصدگاہ تعمیر کروائی، جس کا مرکزی آلہ تقریباً چالیس میٹر نصف قطر کی ایک عظیم قوس تھا۔
یہاں کے مشاہدات سے 'زیجِ سلطانی' (1437ء) تیار ہوئی، جس میں ایک ہزار سے زیادہ ستاروں کے مقامات نئے مشاہدے سے درج کیے گئے۔ یہ بطلیموس کے بعد ستاروں کی پہلی بڑی فہرست تھی جو براہِ راست مشاہدے پر مبنی تھی۔