آلِ سعود کی دوسری سعودی ریاست، وسطی عرب کے علاقے نجد میں قائم ہوئی۔
تاریخی تسلسل
- امارتِ درعیہ (پہلی سعودی ریاست) 1727ء–1818ء
- امارتِ نجد (دوسری سعودی ریاست)
- امارتِ ریاض و نجد (تیسری سعودی ریاست کا آغاز) 1902ء–1932ء
- مملکتِ سعودی عرب 1932ء–تاحال
پیش رو (جن کی جگہ یہ آئی):
جانشین:
عروج کے اسباب
پہلی سعودی ریاست کے خاتمے کے بعد ترکی بن عبداللہ نے 1824ء میں نجد میں دوسری سعودی ریاست کی بنیاد رکھی۔
زوال کے اسباب
آلِ سعود خاندان کے اندرونی اقتدار کی رسّہ کشی نے ریاست کو کمزور کیا، یہاں تک کہ 1891ء میں حائل کے آلِ رشید نے نجد پر قبضہ کر لیا — تاہم آلِ سعود نے 1902ء میں دوبارہ عروج حاصل کیا جو بالآخر 1932ء کی مملکتِ سعودی عرب پر منتج ہوا۔
حکمران (10)
ترکی بن عبداللہ آل سعود
1824ء – 1834ءدوسری سعودی ریاست کی بنیاد رکھی۔
مشاری بن عبدالرحمٰن
1834ءترکی بن عبداللہ کے قتل کے بعد مختصر مدت کے لیے اقتدار پر قابض ہوئے۔
فیصل بن ترکی (پہلا دور)
1834ء – 1838ءوالد کے قاتل سے انتقام لے کر اقتدار سنبھالا، بعد میں مصری افواج کے ہاتھوں قید ہوئے۔
خالد بن سعود
1838ء – 1841ءمصری سرپرستی میں نجد کے حکمران مقرر ہوئے۔
عبداللہ بن ثنیان
1841ء – 1843ءمصری اثر کے خاتمے کے بعد مختصر عرصے کے لیے اقتدار میں آئے۔
فیصل بن ترکی (دوسرا دور)
1843ء – 1865ءریاست کو دوبارہ مستحکم کیا اور نجد پر آلِ سعود کا اقتدار بحال کیا۔
عبداللہ بن فیصل (پہلا دور)
1865ء – 1871ءبھائیوں کی رقابت کے دوران اقتدار سنبھالا۔
سعود بن فیصل
1871ء – 1875ءبھائی عبداللہ سے اقتدار چھینا، جس سے خانہ جنگی کا آغاز ہوا۔
عبداللہ بن فیصل (دوسرا دور)
1875ء – 1889ءخانہ جنگی کے بعد دوبارہ اقتدار میں آئے، مگر ریاست کمزور ہو چکی تھی۔
عبدالرحمٰن بن فیصل
1889ء – 1891ءدوسری سعودی ریاست کے آخری امیر — 1891ء میں آلِ رشید کے ہاتھوں نجد کھو دیا۔
ماخذ و وضاحت
یہ دور صرف دوسری سعودی ریاست پر محیط ہے — موجودہ مملکتِ سعودی عرب کا قیام 1932ء میں ہوا اور اس ڈیٹا کا حصہ نہیں۔ 1865ء کے بعد کی جانشینی خانہ جنگی کے باعث بعض مختصر و متنازع ادوار پر مشتمل ہے، جو یہاں مختصر کر کے پیش کی گئی ہے۔
تاریخیں عیسوی ہیں؛ ہجری سال تقریبی تبدیلی سے دیے گئے ہیں۔