1744ء میں امیر محمد بن سعود اور شیخ محمد بن عبدالوہاب کے اتحاد سے مضبوط ہونے والی ریاست، جو نجد سے پھیل کر انیسویں صدی کے آغاز میں حجاز تک پہنچی۔
تاریخی تسلسل
- امارتِ درعیہ (پہلی سعودی ریاست)
- امارتِ نجد (دوسری سعودی ریاست) 1825ء–1891ء
- امارتِ ریاض و نجد (تیسری سعودی ریاست کا آغاز) 1902ء–1932ء
- مملکتِ سعودی عرب 1932ء–تاحال
جانشین:
عروج کے اسباب
امیر محمد بن سعود کی درعیہ کی چھوٹی سی امارت نے 1744ء میں شیخ محمد بن عبدالوہاب کی اصلاحی دعوت سے اتحاد کیا؛ اس مذہبی و سیاسی اتحاد نے نجد کے قبائل کو یکجا کر کے ریاست کو وسعت دی۔
زوال کے اسباب
عثمانی حکم پر مصر کے محمد علی پاشا کی افواج نے 1811ء–1818ء کی مہم میں حجاز واپس لیا اور 1818ء میں درعیہ کو تباہ کر دیا؛ آخری امیر کو استنبول میں سزائے موت دی گئی۔
حکمران (4)
محمد بن سعود
1727ء – 1765ءریاست کے بانی؛ 1744ء میں شیخ محمد بن عبدالوہاب سے اتحاد کیا۔
عبدالعزیز بن محمد
1765ء – 1803ءریاست کو نجد سے باہر پھیلایا۔
سعود بن عبدالعزیز
1803ء – 1814ءمکہ و مدینہ پر قبضہ کیا؛ ریاست اپنی سب سے بڑی وسعت پر پہنچی۔
عبداللہ بن سعود
1814ء – 1818ءآخری امیر؛ 1818ء میں درعیہ کے سقوط کے بعد استنبول میں سزائے موت پائی۔
ماخذ و وضاحت
آغاز کا سال بعض مآخذ 1744ء (محمد بن عبدالوہاب سے اتحاد) بتاتے ہیں؛ یہاں محمد بن سعود کی امارت کا آغاز (1727ء) لیا گیا ہے۔
تاریخیں عیسوی ہیں؛ ہجری سال تقریبی تبدیلی سے دیے گئے ہیں۔