مرکزی مواد پر جائیں
سلطنتیں و ریاستیں · عرب و مرکزی خلافت

مملکتِ سعودی عرب

1932ء (1351ھ) – تاحال94 برس (اب تک)

آغاز1932ء (1351ھ)
اختتامتاحال قائم
مدت94 برس (اب تک)
خطہعرب و مرکزی خلافت
بانیشاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمٰن آلِ سعود (ابن سعود)
دارالحکومتریاض

1932ء میں نجد و حجاز کے اتحاد سے قائم ہونے والی بادشاہت۔ حرمین شریفین اسی کے زیرِ انتظام ہیں، اور تیل کی دولت کے باعث یہ عالمِ اسلام کی اہم ترین ریاستوں میں شمار ہوتی ہے۔

تاریخی تسلسل

  1. امارتِ درعیہ (پہلی سعودی ریاست) 1727ء–1818ء
  2. امارتِ نجد (دوسری سعودی ریاست) 1825ء–1891ء
  3. امارتِ ریاض و نجد (تیسری سعودی ریاست کا آغاز) 1902ء–1932ء
  4. مملکتِ سعودی عرب

عروج کے اسباب

ابن سعود نے 1902ء میں ریاض واپس لیا، 1925ء تک حجاز فتح کیا اور 23 ستمبر 1932ء کو اپنی مملکت کو «مملکتِ سعودی عرب» کے نام سے متحد کیا۔ 1938ء میں تیل کی دریافت نے اسے بڑی معاشی قوت بنا دیا۔

حکمران (7)

  1. شاہ عبدالعزیز (ابن سعود)

    1932ء – 1953ء

    مملکت کے بانی؛ نجد، حجاز اور دیگر علاقوں کو ایک ریاست میں متحد کیا۔

  2. شاہ سعود

    1953ء – 1964ء

    ابن سعود کے بعد بادشاہ بنے؛ 1964ء میں شاہی خاندان نے معزول کیا۔

  3. شاہ فیصل

    1964ء – 1975ء

    انتظامی و تعلیمی اصلاحات کیں، اسلامی تعاون تنظیم کے قیام میں نمایاں کردار ادا کیا اور 1973ء میں تیل کی پابندی لگائی؛ 1975ء میں قتل ہوئے۔

  4. شاہ خالد

    1975ء – 1982ء

    تیل کی آمدنی سے تیز رفتار ترقیاتی منصوبوں کا دور۔

  5. شاہ فہد

    1982ء – 2005ء

    1986ء میں «خادم الحرمین الشریفین» کا لقب اختیار کیا؛ حرمین کی بڑی توسیع کروائی۔

  6. شاہ عبداللہ

    2005ء – 2015ء

    تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کے بڑے منصوبے شروع کیے۔

  7. شاہ سلمان

    2015ء – 2026ء

    2015ء سے بادشاہ (تاحال)۔

متعلقہ واقعات

ماخذ و وضاحت

سعودی ریاست کا تیسرا دور 1902ء میں ریاض کی بازیابی سے شروع ہوتا ہے؛ یہاں 1932ء (مملکتِ سعودی عرب کے نام سے اتحاد) کو آغاز مانا گیا ہے۔