ملکہ الزبتھ اول نے لندن کے تاجروں کی کمپنی کو مشرقی تجارت کا شاہی چارٹر دیا۔ ابتدا میں مصالحوں اور ہندوستانی مال کی تجارت مقصود تھی، مگر یہی کمپنی آگے چل کر برصغیر پر سیاسی تسلط کا ذریعہ بنی۔
سترہویں صدی کے آغاز میں یورپ کی تجارت میں مصالحے، ریشم اور ہندوستانی کپڑا سب سے منافع بخش اشیا تھیں، اور پرتگالی و ڈچ تاجر مشرقی سمندروں پر حاوی تھے۔ انگلستان کے تاجروں نے اس تجارت میں حصہ لینے کے لیے 'گورنر اینڈ کمپنی آف مرچنٹس آف لندن ٹریڈنگ ٹو دی ایسٹ انڈیز' کے نام سے ادارہ بنایا اور 31 دسمبر 1600ء کو ملکہ الزبتھ اول سے شاہی چارٹر حاصل کیا، جس میں کمپنی کو مشرقی تجارت پر اجارہ داری دی گئی۔
ابتدا میں کمپنی کا مرکز انڈونیشیا کے مصالحہ جاتی جزائر تھے، مگر ولندیزی کمپنی کے دباؤ کے باعث اس کی توجہ ہندوستان کی طرف منتقل ہوئی، جہاں مغل بادشاہوں کی اجازت سے سورت، مدراس، بمبئی اور کلکتہ میں تجارتی مراکز (فیکٹریاں) قائم ہوئے۔
اٹھارہویں صدی میں جب مغل مرکز کمزور ہوا تو کمپنی نے اپنی فوج بنا لی، مقامی ریاستوں کے آپس کے اختلافات سے فائدہ اٹھایا اور پلاسی و بکسر کی جنگوں کے بعد بنگال کے مالیے کا اختیار حاصل کر کے ایک تجارتی ادارے سے حکمران قوت کی صورت اختیار کر لی۔ یہ کمپنی 1858ء تک ہندوستان پر حکومت کرتی رہی۔