خطبات حرم
خطاب (1963-05-01 · حرمِ پاک، مکہ مکرمہ (مقامِ زمزم))سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "خطبات حرم" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے ان تین خطبوں پر مشتمل ہے جو انہوں نے ماہِ مئی 1963ء میں حج کے موقع پر حرمِ پاک میں، نمازِ عصر کے بعد زمزم کے مقام پر ادا کیے تھے۔ یہ خطبے محض تقریریں نہیں بلکہ ایک روحانی و فکری دعوت ہیں جو حاجی کے ذہن و دل کو حج کی حقیقی روح سے روشناس کرانے کے لیے پیش کی گئی ہیں۔ مولانا کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ لوگ خانۂ کعبہ کی صرف ظاہری حرمت تو نہ مانیں بلکہ اس کی الہی انتخابیت، تاریخی اہمیت، اور روحانی مرکزیت کو سمجھیں؛ حج کے مناسک کو محض رسومات نہ سمجھ کر ان کے باطنی معانی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں؛ اور سب سے اہم بات یہ کہ عبادات—خاص طور پر حج—کی نیت کو خالص اللہ کی رضا تک محدود رکھیں، نہ کہ ثانوی فوائد کو اصل مقصد بنا لیں۔
پہلا باب "خانۂ کعبہ کی مرکزیت و حرمت" اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ خانۂ کعبہ صرف ایک تعمیراتی عمارت یا تاریخی یادگار نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے منتخب کردہ ایک مقدس مرکز ہے جس کی بنیاد چار ہزار سال قبل حضرت ابراہیمؑ نے اللہ کے حکم پر رکھی تھی۔ مولانا قرآن مجید کی روشنی میں بتاتے ہیں کہ اللہ نے ابراہیمؑ کو حکم دیا تھا کہ وہ لوگوں کو حج کے لیے پکاریں، اور یہی پکار آج تک لاکھوں لوگوں کو ہر سال اس گھر کی طرف کھینچتی چلی آ رہی ہے۔ یہ مسلسل کشش اور عالمی پذیرائی خود اس بات کی دلیل ہے کہ یہ مقام الہی برکت اور انتخاب کا نتیجہ ہے، نہ کہ انسانی کوشش کا۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
تیسرا خطبہ
حمد و ثنا کے بعد:
برادرانِ اسلام! اللہ تعالیٰ نے ہم پر کوئی عبادت ایسی فرض نہیں فرمائی ہے جس میں بے شمار روحانی، اخلاقی، اجتماعی، حتیٰ کہ اقتصادی فوائد نہ ہوں۔ ظاہر بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی ذات کے لئے تو کسی کی عبادت کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ اس نے جو عبادت بھی بندوں پر فرض کی ہے وہ خود بندوں کی بھلائی کے لئے ہے۔ اللہ کی ذات ہر احتیاج سے بالاتر اور ہر نفع اور فائدہ کی ضرورت سے بلند تر ہے۔ لیکن جتنی عبادتیں بھی اس نے فرض کی ہیں ان کا ایک تو مقصد اصلی ہے جس کے لئے وہ فرض کی گئی ہیں اور اس کے علاوہ وہ بے شمار ضمنی فائدے ہیں جو ان عبادات کے انجام دینے سے آپ سے آپ حاصل ہوتے ہیں۔ اب اگر کوئی شخص نادانی سے ان ضمنی فائدوں کو ہی اصل مقصد قرار دے بیٹھے اور اُس غایتِ اصلی کو فوت کر دے جس کے لئے وہ عبادت فرض کی گئی تھی، تو حقیقت میں وہ اپنی عبادت کو ضائع کرتا ہے۔ اس کی عبادت سرے سے عبادت ہی نہیں رہتی۔ مثال کے طور پر آپ دیکھئے کہ روزے کے بے شمار اخلاقی، روحانی اور جسمانی فوائد ہیں لیکن اگر کوئی شخص روزہ اس لئے رکھے کہ اس کی صحت اچھی ہو جائے گی تو حقیقت میں وہ کوئی عبادت نہیں کرتا۔ وہ تو بس ایک فاقہ کرتا ہے کہ جو صحت درست کرنے کے لئے کسی ڈاکٹری تجویز سے یا خود اپنی رائے سے اس نے کرنا شروع کر دیا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص نماز پڑھتا ہے اور اس میں اس کے پیشِ نظر یہ بات ہوتی ہے کہ اس کی عادت میں باقاعدگی پیدا ہو جائے گی، اس کے اوقات میں نظم و ضبط پیدا ہو جائے گا، یا اسی طرح کا کوئی اور فائدہ اس کی نگاہ میں ہے تو حقیقت میں وہ کوئی عبادت نہیں کرتا، جس فائدے کو اس نے نگاہ میں رکھا ہے وہ چاہے اس کو حاصل ہو بھی جائے لیکن عبادت کا کوئی اجر اس کو نہیں پہنچتا۔ ایسا ہی معاملہ حج کا بھی ہے۔ حج کے جو اخلاقی، روحانی، اجتماعی، تمدنی اور مادی فوائد ہیں، اگر کوئی شخص ان میں سے کسی فائدے کو بھی اپنا مقصود قرار دیتا ہے تو حقیقت میں وہ کوئی حج کرتا ہی نہیں ہے۔ اس کی یہ عبادت سرے سے عبادت ہی نہیں ہے، کیونکہ تمام عبادتوں کا مقصود اصلی تو اللہ تعالیٰ کے حضور میں اپنی بندگی پیش کرنا ہے، اُس کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہے، اگر اللہ کو اللہ کی رضا حاصل ہو جائے تو اس کی عبادت کا اصل مقصد پورا ہو گیا۔ لیکن اگر وہ عبادات میں اپنی ساری دوڑ دھوپ کے باوجود اللہ کی رضا پانے سے محروم رہ گیا تو حقیقت میں اس کی ساری محنت ہی اکارت گئی۔ اس نے عبادت کے حقیقی مقصد اور اصلی فائدے کو ضائع کر دیا۔ اس لئے یاد رکھئے کہ عبادات سے ضمنی فوائد کا حاصل ہو پانا نہ ہونا بجائے خود مقصود نہیں ہے۔ آپ یہاں حج کے لئے آئے ہیں تو آپ کا سب سے پہلا کام یہ ہے کہ آپ میں سے ہر شخص حج اپنی نیت کو خالص اور پاک کر کے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقصود سمجھتے ہوئے انجام دے۔ اگر کسی شخص نے نیت کے اخلاص اور ارادے کی درستی کے ساتھ حج کیا اور اگر کچھ اور نہیں وہ صرف اپنی مغفرت حاصل کر کے لے گیا، تب بھی وہ حقیقت میں کامیاب ہے۔ اس کے آگے یہ سراسر اللہ کا فضل اور احسان ہے کہ وہ کسی آدمی کو اس پر مزید اجر اور بلند مراتب سے نوازے۔ لیکن ایک آدمی کا حج کے ذریعے سے اللہ کی رضا اور خوشنودی کو حاصل کر لینا ہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ اس لئے میں آپ کو سب سے پہلی نصیحت یہ کرتا ہوں کہ اپنے ذہن کو ہر طرح کے بے اصل افکار اور غیر حقیقی تصورات سے صاف کر لیجئے اور حج کے مقصود حقیقی کو ذہن نشین کرنے کی کوشش کیجئے۔ آج کل حج کے بارے میں بعض نئے نئے فلسفے پیش کئے جا رہے ہیں۔ بعض لوگوں کے خیال میں حج اس لئے فرض کیا گیا ہے کہ اس سے دراصل مسلمانوں کی ایک بین الاقوامی سالانہ کانفرنس کرانا مقصود ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک سالانہ کانفرنس کے جو کچھ فوائد بھی کوئی شخص اپنے ذہن میں سوچ سکتا ہے اس سے ہزار گنا زیادہ فوائد حج سے عملاً حاصل ہوتے ہیں، لیکن ایسی کوئی کانفرنس دراصل حج کا حقیقی مقصود نہیں ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ حج کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ آدمی کو عرب کی سیاحت کرنے کا، اس کے تاریخی مقامات دیکھنے کا اور اس کی تہذیبی اور تمدنی زندگی کا مطالعہ کرنے کا موقع ملتا ہے تو حقیقت میں وہ اپنے حج کو ضائع کرتا ہے۔ اگر اس کے دل میں حج کے مقصد کی حیثیت سے ایسی کوئی غرض اور ارادہ شامل ہو جائے تو فی الحقیقت اس کی یہ عبادت سرے سے عبادت ہی نہیں رہے گی۔ اس لئے اپنی نیت کو خالصاً اللہ کی عبادت کے لئے مخصوص کیجئے اور اپنے ذہن میں اس خیال کو بٹھائیے کہ ہمارا اصل مقصود اللہ کی رضا حاصل کرنا اور اس کے حضور اپنے جذبہ عبودیت کو پیش کرنا ہے۔
اس کے ساتھ جو دوسری بات میں آپ کے ذہن نشین کرانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اللہ کے حضور بندگی پیش کرنے کی دنیا میں جتنی شکلیں بھی ممکن ہیں وہ ساری کی ساری اللہ تعالیٰ نے اس حج میں جمع کر دی ہیں۔ ذرا غور کیجئے کہ ایک آدمی جس وقت حج کا ارادہ کرتا ہے اگر وہ خالصاً اللہ کی رضا طلبی کے لئے حج کا ارادہ کر رہا ہے تو اس کا یہ عزم سفر کرنا بجائے خود یہ معنیٰ رکھتا ہے کہ وہ کوئی دنیوی مقصد لے کر گھر سے نہیں نکل رہا ہے۔ اس کے پیشِ نظر کوئی تجارتی غرض نہیں ہے اور نہ اسے سیر و سیاحت ہی کا شوق چڑایا ہے۔ اس نے ہزاروں میل کا سفر کرنے کا ارادہ صرف اس لئے کیا ہے کہ اللہ کی عبادت کرے اور اس کی رضا جوئی کے لئے تگ و دو کرے۔ پھر آپ دیکھئے کہ ایک آدمی جب حج کے لیے نکلتا ہے تو اپنے بال بچوں کو چھوڑتا ہے۔
۔
۔
۔
۔
راستے کی تکلیفیں اور صعوبتیں برداشت کرتا ہے۔ میدانِ جنگ کی سختیاں جھیلتا ہے۔ قریب قریب اسی طرح کی صعوبتیں اور محنتیں اور مشقتیں آدمی کو اس تمام دَوران میں انگیز کرنی ہوتی ہیں۔ اس طریقہ سے وہ گویا جہاد فی سبیل اللہ کے اجر کا مستحق بنتا ہے۔ پھر وہ يَوْمَ النَّحْرِ کو (قربانی کے روز) قربانی کرتا ہے۔ اس طرح اس کو قربانی کا اجر بھی حاصل ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ حج جامع عبادت ہے۔ دنیا میں آج تک جتنی ممکن قسم کی عبادتیں انسانوں نے کسی معبود کو پیش کی ہیں وہ ساری کی ساری یہاں ایک بندہ مومن صرف اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کرتے ہوئے انجام دیتا ہے۔ اسی بنا پر حج کو سب سے بڑی عبادت بھی قرار دیا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اگر یہ عبادت انجام دے کر کوئی شخص اپنے گناہوں کی مغفرت ہی حاصل کرلے تو درحقیقت یہ اس کی بہت بڑی کامیابی ہے اور مغفرت کی حد تک حج کا فائدہ حاصل کرنے کے لئے یہ بات نہایت ضروری ہے کہ آپ بے عیب حج کریں۔ بے عیب حج سے مراد یہ ہے کہ آدمی حج کے دوران میں ہر قسم کی برائیوں سے بچنے کی پوری پوری کوشش کرے۔ غیبت سے پرہیز کرے، گالی دینے سے اور باہم جھگڑا کرنے سے بچے۔
آدمی کو حج میں جو سب سے بڑی مشقت پیش آتی ہے وہ یہ ہے کہ اسے مناسک حج کی ادائیگی میں قدم قدم پر رکاوٹوں اور مشکلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کیونکہ ایک ہی وقت میں لاکھوں آدمیوں کو وہ مناسک حج ادا کرنا ہوتے ہیں۔ اب چونکہ اس موقع پر لوگوں کا غیر معمولی ہجوم ہوتا ہے اور ہر کوئی ایک تگ و دو میں لگا ہوتا ہے اس لئے اس عالم میں ہر وقت اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ ایک انسان کو دوسرے انسان سے دانستہ یا نادانستہ کوئی تکلیف پہنچ جائے، یا کسی کو اپنا کوئی کام انجام دینے میں زحمت پیش آئے اس لئے ایسے مواقع پر ہر شخص کو نہایت ضبط و تحمل سے کام لینا چاہیئے اور کسی صورت میں بھی تنگ دلی اور تنگ مزاجی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔ اس عالم میں اس بات کی سخت ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی اپنے نفس پر ضبط کرے۔ باہم گالم گلوچ اور دنگا فساد سے پوری طرح بچے، اور اس امر کی کوشش کرے کہ اس کی ذات سے کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ البتہ اگر کسی کی ذات سے اس کو کوئی تکلیف پہنچ جائے تو وہ اس کو صبر کے ساتھ برداشت کرے۔ یہ کم سے کم وہ چیز ہے جو آدمی کے حج کو بے عیب بناتی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ:
<<فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ>>
”یعنی جو شخص حج کے مہینوں میں حج کی نیت کرے اُسے خبردار رہنا چاہئے کہ حج کے دوران میں اس سے کوئی شہوانی فعل، کوئی بدکاری، کوئی لڑائی جھگڑے کی بات سرزد نہ ہو۔“
حج کے دوران میں آدمی کا سب سے بڑا امتحان اسی معاملے میں ہوتا ہے اور جو آدمی حج میں لڑائی جھگڑا کرتا ہے، دوسروں کے لئے تکلیف کا باعث بنتا ہے اور دوسروں سے پہنچنے والی تکالیف پر صبر نہیں کرتا، وہ اپنے حج کے اجر کو بہت بڑی حد تک ضائع کر دیتا ہے۔
اس کے آگے اگر کوئی شخص خوبیوں والا حج کرنا چاہتا ہو تو اس کو چاہئے کہ اپنے وقت کا زیادہ سے زیادہ حصہ اللہ کا ذکر کرنے میں صرف کرے۔ بیٹھا ہوا فضول گپیں نہ ہانکے۔ بیکار قصہ گوئی نہ کرے۔ کسی کی برائی کرنا تو بڑی چیز ہے، محض دنیاوی معاملات پر ہر وقت باتیں کرتے رہنا بھی حج کے اجر و ثواب کو کم کر دیتا ہے۔ اونچے درجے کا خوبیوں والا حج اگر آپ کو مطلوب ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ اپنے اوقات کا زیادہ سے زیادہ حصہ اللہ کا ذکر کرنے میں، نمازیں پڑھنے میں، قرآن مجید کی تلاوت کرنے میں، نیکی اور بھلائی کی باتیں کرنے میں، لوگوں کو اللہ کا دین سمجھانے میں اور ان کو منکرات اور فواحش سے روکنے میں صرف کریں۔ اگر آپ ان کاموں میں اپنے اوقات صرف کرتے ہوئے حج کریں گے تو انشاء اللہ وہ حج خوبیوں والا حج ہوگا اور اس پر آپ بہت بڑے اجر کے مستحق ہو سکیں گے۔
اب میں مختصر طور پر آپ کو یہ بھی بتاتا ہوں کہ حج کے وہ ضمنی فوائد کیا ہیں جو اس کے بنیادی مقصد کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ آپ سے آپ حاصل ہوتے ہیں یہ بات پہلے بھی آپ کو بتا چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی عبادت فرض نہیں کی ہے جو اپنے اندر ہمارے لئے بے شمار فوائد نہ رکھتی ہو۔
اجتماعی طور پر حج سے جو بہت بڑا فائدہ حاصل ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر عالمگیر برادری اور عالمگیر مساوات پیدا ہوتی ہے۔ اسی خانہ کعبہ کے دروازے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمؐ نے فتح مکہ کے موقع پر اسی جگہ کھڑے ہو کر یہ اعلان فرمایا تھا کہ: ”اے قریش کے لوگو! اللہ نے تمہاری جاہلیت کی نخوست دور کر دی ہے، اب نسبوں اور خاندانی اعزازات کے لئے کوئی مقام باقی نہیں رہا۔ اب یہاں حسب و نسب کے لئے کوئی فخر نہیں ہے کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں ہے، سوائے تقوے کے۔ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنے تھے۔“
یہ اعلان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمؐ نے اسی جگہ سے فرمایا تھا اور اسی مقام پر سب سے بڑھ کر اس بات کا مظاہرہ ہوتا ہے کہ تمام انسان یکساں ہیں۔ کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔ نہ یہاں کوئی امیر ہے نہ غریب۔ نہ کوئی حاکم ہے نہ محکوم۔ سب برابر ہیں۔ یہاں آتے ہی بلکہ اس خانہ کعبہ سے میلوں دُور میقات پر پہنچتے ہی ایک آدمی کو اپنے پہنے ہوئے کپڑے اتار کر احرام کا لباس لینا پڑتا ہے۔ خواہ کوئی افریقہ سے آ رہا ہو یا امریکہ سے، ایشیا کے کسی دُور دراز گوشے سے آ رہا ہو یا یورپ کے کسی دور افتادہ مقام سے۔ جہاں سے بھی وہ آیا ہو ہر شخص کو اپنا قومی لباس اتار کر صرف ایک احرام پہن لینا ہوتا ہے۔ اس طرح بیسیوں کے اختلافات سے جو قومی امتیازات پیدا ہوتے ہیں وہ یکلخت ختم ہو جاتے ہیں۔ تمام مسلمان ایک ہی لباس میں حج کرتے ہیں۔ اس طرح یہاں ایک ایسی وحدت جنم لیتی ہے جو کسی دوسری تدبیر سے پیدا نہیں کی جا سکتی۔ یہ وحدت نہ تقریروں سے پیدا ہو سکتی ہے اور نہ کانفرنسیں منعقد کرنے سے۔ یہ صرف اسی عمل سے پیدا ہو سکتی ہے جو دنیا کے ہر حصے سے آئے ہوئے لاکھوں مسلمان بیک وقت انجام دیتے ہیں کہ میقاتوں پر پہنچتے ہی وہ یکلخت اپنے قومی لباسوں کو چھوڑ کر ایک ہی لباس زیب تن کر لیتے ہیں۔
پھر یہ عمل محض عالم گیر اخوت ہی پیدا نہیں کرتا بلکہ عالمگیر مساوات بھی پیدا کرتا ہے۔ کوئی بڑے سے بڑا رئیس بھی یا کہیں کا بادشاہ، کوئی فیلڈ مارشل، کوئی بڑا جاگیردار، بڑا عالم، ہر ایک کو وہی ایک لباس پہننا پڑتا ہے جو اس کے لئے مقرر کر دیا گیا ہے۔ ہر کوئی وہی ایک چادر باندھے گا اور ویسے ہی دوسری چادر اوپر سے اوڑھے گا۔ یہاں اگر کسی کی کوئی امتیازی شان باقی نہیں رہتی۔ امیر اور غریب، حاکم اور محکوم، خادم اور مخدوم، ادنیٰ اور اعلیٰ سب برابر ہو جاتے ہیں۔ اللہ کے دربار میں پہنچ کر کسی کی کوئی حیثیت بندہ خدا ہونے کے سوا باقی نہیں رہتی۔ اس طرح سے جو مساوات یہاں قائم ہوتی ہے اس کی کوئی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔ دنیا کے کسی دین میں اور کسی اجتماعی مسلک میں کہیں کوئی ایسی تدبیر موجود نہیں ہے جو تمام انسانوں کو بیک وقت ایک سطح پر لا کھڑا کر دیتی ہو۔ یہی حج کی ایک ایسی بے نظیر خصوصیت ہے جس کے متعلق اگر ایک آدمی غور کرے تو اس کو محسوس ہوگا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے سوا اور کسی چیز کا نتیجہ نہیں ہو سکتی۔ کوئی انسان ایسا نسخہ تجویز نہیں کر سکتا تھا، جس سے تمام انسانوں کو ایک ہی سطح پر لاتا اور ان کے درمیان ایسی کامل مساوات قائم کرنا ناممکن ہو سکے۔ اس ضمن میں اسلامی تاریخ سے بھی ایک مثال آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں، یہی مطالعات ہے جہاں آپ حج کر سکتے ہیں۔ اسی جگہ قبیلہ غسان کا ایک بادشاہ (جبلہ بن ایہم) حضرت عمر رضی اللہ عنہؓ کے زمانے میں آیا اور یہاں طواف کرتے ہوئے ایک بدو کا پاؤں اس کی چادر پر پڑ گیا، اس نے غضب ناک ہو کر اس بدو کے ایک تھپڑ مارا۔ وہ بدو حضرت عمر رضی اللہ عنہؓ کے پاس اپنی فریاد لے کر گیا۔ حضرت عمرؓ نے دونوں کے بیانات سننے کے بعد یہ فیصلہ دیا کہ اب وہ بدو اس بادشاہ کے اسی طرح تھپڑ لگا کر اپنا بدلہ لے۔ گو یا حضرت عمر رضی اللہ عنہؓ نے اس بادشاہ کو یہ سبق سکھانا چاہا کہ کیا یہاں آکر بھی تیرے دماغ میں بادشاہی کا نخوت اور غرور باقی رہ گیا۔ تو نے خدا کے دربار میں آکر بھی اپنے آپ کو بدو سے بالا تر سمجھا! یہ ہے وہ مساوات جو صحیح قائم کرنا ہے۔ یہاں اب بھی آپ دیکھ سکتے ہیں کہ بڑے سے بڑا رئیس اور غریب سے غریب آدمی ایک ہی طرح سے دھکے کھاتا ہوا ہجوم میں آتا ہے اور دھکے کھاتا ہوا خدا کے گھر کا طواف کرتا ہے۔ یہاں جس مقام پر کسی بھی شخص کو نماز کے لئے جگہ مل جائے وہ وہیں پڑھتا ہے، کوئی رئیس، کوئی فرمانروا اور کوئی صدر مملکت ایسا نہیں ہے جس کے لئے زبردستی آگے جانے کا راستہ بنایا جا سکتا ہو، اگر کوئی ایسا راستہ بناتا ہے تو قطعاً کرتا ہے، جرم کرتا ہے۔
پھر دنیا میں کہیں اس بات کی نظیر بھی موجود نہیں ہے کہ اس نوعیت کا بین الاقوامی اجتماع کسی قوم وملت میں پایا جاتا ہو۔ ہزارہا برس کے بعد اب انسان نے اس زمانے میں لیگ آف نیشنز اور یونائیٹڈ نیشنز کا تصور سوچا ہے اور اس کی بنیاد پر بعض بین الاقوامی ادارے قائم کئے ہیں۔ لیکن خواہ آپکوہائی لیگ آف نیشنز ہو یا موجودہ زمانے کے یونائیٹڈ نیشنز، ان میں ہونے والے بین الاقوامی اجتماعات میں اور حج کے بین الاقوامی اجتماع میں ایک بہت بڑا بنیادی فرق ہے۔ یونائیٹڈ نیشنز میں جو ممالک اجتماع ہوتا ہے وہ قوموں کے نمائندوں، ان کے سیاسی لیڈروں اور حکمرانوں کا اجتماع ہوتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کے مقابلے میں مفاد اور اغراض کی کشمکش کرتے ہیں۔ اس کا نام بین الاقوامی اجتماع نہیں ہو سکتا۔ حقیقی معنوں میں بین الاقوامی اجتماع تو یہ ہے جو ہر سال حج پر یہاں ہوتا ہے، کہ اس کے اندر دنیا کی تمام قوموں کے عام آدمی جمع گُھل کر آتے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہتے ہیں۔ اور سب اجتماعی طور پر مختلف عبادات سرانجام دیتے ہیں، یہاں قوموں کے نمائندے، حکمران، سیاست دان اور پارلیمنٹوں کے ارکان نہیں آتے بلکہ عام انسان آتے ہیں اور دنیا کی ہر قوم کے عام انسانوں سے ملتے ہیں۔ بین الاقوامی اجتماع کا ایسا عظیم نقشہ اور کہاں دیکھا جا سکتا ہے۔
آخری بات جو میں آپ سے عرض کروں گا وہ یہ ہے کہ عالم اسلام کے اندر خانہ کعبہ کی مثال وہی ہے جو انسان کے جسم میں دل کی ہوتی ہے۔ انسان کے جسم میں دل کا مقام یہ ہے کہ وہ رگ رگ سے خون کھینچ کر اپنی طرف لاتا اور پھر اس کو پمپ کر کے ایک صالح شکل میں انسان کے جسم کی رگ رگ میں واپس پہنچاتا ہے۔ یہ ہر ملت کے لئے ایسا ہی عمل خانہ کعبہ کرتا ہے۔ یہ ہر سال دنیا کے ہر گوشے سے مسلمانوں کو کھینچ کر لاتا ہے اور پھر ان کو گناہوں کی آلائشوں اور سیرت وکردار کی خامیوں سے پاک کر کے ان کے اندر ایک نئی اور صالح زندگی کی افزائش کر کے دنیا کے گوشے گوشے میں واپس پہنچاتا ہے۔ اس دل کی یہ دھڑکن جب تک ہو رہی ہے، دنیا کی کوئی طاقت اسلام کو نہیں مٹا سکتی۔ یہ ایک ایسی تحریک ہے جو ہر سال مسلمانوں کو کھینچ بلا کر ایک جگہ جمع کرتی ہے، ان کو ایک وقت تک ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر رکھتی ہے۔ ان سے مختلف عبادات انجام دلاتی ہے اور ان عبادات کے دوران میں تمام اسلامی جذبات کو تازہ کر کے ایک متحرک اور فعال اسلامی روح ان کے اندر پھونک کر انہیں واپس بھیجتی ہے جس طرح سے انسان کے جسم میں دل جب تک دھڑکتا رہتا ہے انسان کا جسم زندہ رہتا ہے، اسی طرح سے یہ حج حقیقت میں دنیائے اسلام کے دل کی دھڑکن ہے جو خون کو کھینچ کر لا رہی ہے اور پھر اس کو صالح اور پاکیزہ بنا کر واپس پہنچا رہی ہے۔ یہ عمل جب تک جاری رہے گا انشاء اللہ قیامت تک اسلام قائم رہے گا۔ دنیا کی کوئی طاقت خواہ وہ اپنا کتنا ہی زور صرف کر لے اس کو دبا سے نہیں مٹا سکتی!
<<وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ>>