مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

خطبات حرم

خطاب (1963-05-01 · حرمِ پاک، مکہ مکرمہ (مقامِ زمزم))

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "خطبات حرم" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے ان تین خطبوں پر مشتمل ہے جو انہوں نے ماہِ مئی 1963ء میں حج کے موقع پر حرمِ پاک میں، نمازِ عصر کے بعد زمزم کے مقام پر ادا کیے تھے۔ یہ خطبے محض تقریریں نہیں بلکہ ایک روحانی و فکری دعوت ہیں جو حاجی کے ذہن و دل کو حج کی حقیقی روح سے روشناس کرانے کے لیے پیش کی گئی ہیں۔ مولانا کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ لوگ خانۂ کعبہ کی صرف ظاہری حرمت تو نہ مانیں بلکہ اس کی الہی انتخابیت، تاریخی اہمیت، اور روحانی مرکزیت کو سمجھیں؛ حج کے مناسک کو محض رسومات نہ سمجھ کر ان کے باطنی معانی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں؛ اور سب سے اہم بات یہ کہ عبادات—خاص طور پر حج—کی نیت کو خالص اللہ کی رضا تک محدود رکھیں، نہ کہ ثانوی فوائد کو اصل مقصد بنا لیں۔

پہلا باب "خانۂ کعبہ کی مرکزیت و حرمت" اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ خانۂ کعبہ صرف ایک تعمیراتی عمارت یا تاریخی یادگار نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے منتخب کردہ ایک مقدس مرکز ہے جس کی بنیاد چار ہزار سال قبل حضرت ابراہیمؑ نے اللہ کے حکم پر رکھی تھی۔ مولانا قرآن مجید کی روشنی میں بتاتے ہیں کہ اللہ نے ابراہیمؑ کو حکم دیا تھا کہ وہ لوگوں کو حج کے لیے پکاریں، اور یہی پکار آج تک لاکھوں لوگوں کو ہر سال اس گھر کی طرف کھینچتی چلی آ رہی ہے۔ یہ مسلسل کشش اور عالمی پذیرائی خود اس بات کی دلیل ہے کہ یہ مقام الہی برکت اور انتخاب کا نتیجہ ہے، نہ کہ انسانی کوشش کا۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

احرام

اعمال حج میں سب سے پہلا عمل احرام ہے۔ باہر سے آنے والا کوئی حاجی میقات سے اس وقت تک نہیں گزر سکتا جب تک وہ اپنا لباس اتار کر احرام نہ باندھ لے اور اسی طرح مکہ معظمہ سے حج کی نیت کرنے والے کو بھی سب سے پہلے لباس تبدیل کر کے احرام باندھنا ہوتا ہے۔ یہ ایک انتہائی فقیرانہ لباس ہے جس میں آدمی بس ایک تہبند باندھ لیتا ہے، ایک چادر اوڑھتا ہے، اور سر ننگا رکھتا ہے۔ یہ اس عمل کی ظاہری صورت ہے۔ مگر غور سے دیکھئے کہ اس ذرا سے فعل میں کتنے گہرے معنی پوشیدہ ہیں۔

اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ حج شروع کرنے سے پہلے ہمارے وہ سارے لفافے اتروا دینا چاہتا ہے جو ہم نے اپنے اوپر ڈال رکھے ہیں، جن کے اندر ہم میں سے ہر ایک نے اپنے آپ کو اپنی اصل حقیقت سے کچھ نہ کچھ زائد بنا رکھا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ تم بندے ہو اور بندے سے بڑھ کر کچھ نہیں ہو۔ لہٰذا میرے دربار میں حاضر ہونا چاہتے ہو تو صرف بندے بن کر آؤ۔ تم کہیں کے بادشاہ یا صدر مملکت ہو تو ہو ا کرو، کوئی جنرل ہو، وزیر ہو، رئیس ہو، یا جو کچھ بھی ہو، ہوتے رہو میرے حضور میں تمہیں اپنی یہ ساری حیثیتیں ختم کر کے صرف ایک بندے کی حیثیت سے آنا ہوگا۔ اس طرح احرام کا یہ لباس ہر انسان کو بندگی کے مقام پر لاکھڑا کر دیتا ہے، اُس کی ہر شانِ امتیاز مٹا دیتا ہے، اور ایک بڑے سے بڑے شخص کو بھی ایک ادنیٰ سے ادنیٰ آدمی کی سطح پر لے آتا ہے۔ آپ حالتِ احرام میں حاجیوں کے کسی مجمع پر نگاہ ڈال کر دیکھیں تو آپ کو کسی طرح یہ معلوم نہ ہو سکے گا کہ ان میں کون اونچا اور کون نیچا ہے، کون امیر اور کون غریب ہے، کون حاکم اور کون محکوم ہے۔ اللہ کے دربار میں سب ایک ہی طرح کے فقیر نظر آئیں گے۔

اُونچ نیچ برابر کرنے کے ساتھ یہ احرام مسلمانوں کے درمیان تمام قومی، نسلی اور وطنی امتیازات بھی ختم کر دیتا ہے۔ اسلام کے ماننے والے دنیا کے ہر حصے سے چل کر آتے ہیں، مشرق، مغرب، شمال، جنوب، ہر طرف سے ملک ملک کے لوگ طرح طرح کے لباس پہنے ہوئے اپنے گھروں سے چلتے ہیں۔ مگر جونہی وہ مرکزِ اسلام سے ایک خاص فاصلے پر پہنچتے ہیں، ان کو یکایک میقات کی سرحد پر روک کر ان کے تمام قومی لباس اُتروا دیئے جاتے ہیں اور سب کو ایک ہی طرح کا لباس پہنا دیا جاتا ہے تاکہ خدا وندِ عالم کے دربار میں جب وہ حاضر ہوں تو انسان اور مسلمان کے سوا اور کچھ نہ ہوں۔ مسلمانوں کے اندر ملتِ واحدہ ہونے کا احساس پیدا کرنے کی اس سے زیادہ کارگر تدبیر شاید ہی کوئی دوسری ہو سکے۔ آپ کے سامنے لاکھوں حاجیوں کا ایک سیلِ رواں ہوتا ہے جس میں سیکڑوں قومیتوں کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ گزر رہے ہوتے ہیں۔ مگر یہ احرام کی برکت ہے کہ ہر دیکھنے والی نگاہ ان کو ایک ملت اور ایک ہی قوم کی حیثیت سے دیکھتی ہے اور ان کے سارے وطنی و نسلی امتیازات دب کر رہ جاتے ہیں۔

پھر یہ احرام آدمی کی حیوانیت سے دُور اور ملائکہ کے مقام سے قریب کر دیتا ہے۔ اس حالت میں وہ کوئی جوں تک نہیں مار سکتا، کوئی بال تک نہیں اُکھاڑ سکتا۔ کسی جانور کا شکار خود کرنا تو درکنار دوسرے کو کسی قسم کی مدد بھی شکار میں نہیں دے سکتا۔ اپنے جسم کی زینت و آرائش بھی اس کے لئے جائز نہیں رہتی۔ اس کی اپنی بیوی بھی اس کے لئے حرام ہو جاتی ہے جو عام حالات میں اس کے لئے حلال ہے، حتیٰ کہ وہ اس کی طرف کسی شہوانی میلان تک کا اظہار نہیں کر سکتا۔ اس کے لئے فحش گوئی، لڑائی جھگڑا، سب کچھ ممنوع ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنے خادم کو بھی ڈانٹنے کا مجاز نہیں رہتا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ احرام باندھتے ہی آدمی اللہ کا فقیر بن گیا اور اس نے تمام خواہشاتِ نفس کو تیاگ دیا۔ اب دنیا کی ہر چیز کو اس کی طرف سے امن و سلامتی کا پیغام ہے۔ اب کسی کو اس سے ضرر کا اندیشہ نہیں۔ اب وہ کسی کے لئے بھی جابر و قہار اور ظالم نہیں رہا۔ اب وہ دنیا کی لذتوں سے کنارہ کش ہونے اور کبریائی کا ہر شائبہ اپنے نفس سے نکال دینے کے بعد بس ایک بندہء عاجز ہے جو اپنے خدا کے حضور اپنی نیازمندی پیش کرنے کے لئے جا رہا ہے۔

حضرات یہ ہے احرام کی اصل روح۔ آپ جب غسل یا وضو کر کے احرام باندھتے ہیں اور ان قواعد کی پابندی کرتے ہیں جو حالتِ احرام کے لئے مقرر کئے گئے ہیں، تو اس سے عمل کی صرف ظاہری شکل قائم ہوتی ہے۔ یہ شکل بناتے ہوئے اگر آپ کا ذہن اس تصور سے خالی ہو کہ یہ شکل آپ نے کیوں بنائی ہے تو یہ گویا ایک جسم ہوگا جس میں جان نہ ہو۔ جان اس میں اسی وقت پڑے گی جب آپ پورے شعور اور ارادے کے ساتھ اپنے اندر وہ باطنی کیفیات بھی پیدا کر لیں جو درحقیقت احرام سے مقصود ہیں۔ قانون کی نگاہ میں تو ہر شخص محرم ہے جس نے احرام کی پابندیوں میں سے کسی کو نہ توڑا ہو۔ مگر خدا کی نگاہ میں اصل محرم وہی ہے جو احرام باندھتے ہی فی الواقع ایک فقیر اور ایک بندہء عاجز بن کر رہ گیا ہو، جس نے اپنے دماغ سے کبریائی کی ہوا نکال دی ہو، جس نے قومی و نسلی تعصبات کو بھی اپنے ذہن سے نکال باہر کیا ہو جو خلقِ خدا کے لئے سراپا رحم اور خیر مجسم بن گیا ہو، اور جس نے حیاتِ دنیا کی زینتوں سے منہ موڑ کر کم از کم یہ چند دن تو صرف اپنے رب سے لَو لگانے کے لئے خاص کر لئے ہوں۔