مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

خطبات حرم

خطاب (1963-05-01 · حرمِ پاک، مکہ مکرمہ (مقامِ زمزم))

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "خطبات حرم" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے ان تین خطبوں پر مشتمل ہے جو انہوں نے ماہِ مئی 1963ء میں حج کے موقع پر حرمِ پاک میں، نمازِ عصر کے بعد زمزم کے مقام پر ادا کیے تھے۔ یہ خطبے محض تقریریں نہیں بلکہ ایک روحانی و فکری دعوت ہیں جو حاجی کے ذہن و دل کو حج کی حقیقی روح سے روشناس کرانے کے لیے پیش کی گئی ہیں۔ مولانا کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ لوگ خانۂ کعبہ کی صرف ظاہری حرمت تو نہ مانیں بلکہ اس کی الہی انتخابیت، تاریخی اہمیت، اور روحانی مرکزیت کو سمجھیں؛ حج کے مناسک کو محض رسومات نہ سمجھ کر ان کے باطنی معانی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں؛ اور سب سے اہم بات یہ کہ عبادات—خاص طور پر حج—کی نیت کو خالص اللہ کی رضا تک محدود رکھیں، نہ کہ ثانوی فوائد کو اصل مقصد بنا لیں۔

پہلا باب "خانۂ کعبہ کی مرکزیت و حرمت" اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ خانۂ کعبہ صرف ایک تعمیراتی عمارت یا تاریخی یادگار نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے منتخب کردہ ایک مقدس مرکز ہے جس کی بنیاد چار ہزار سال قبل حضرت ابراہیمؑ نے اللہ کے حکم پر رکھی تھی۔ مولانا قرآن مجید کی روشنی میں بتاتے ہیں کہ اللہ نے ابراہیمؑ کو حکم دیا تھا کہ وہ لوگوں کو حج کے لیے پکاریں، اور یہی پکار آج تک لاکھوں لوگوں کو ہر سال اس گھر کی طرف کھینچتی چلی آ رہی ہے۔ یہ مسلسل کشش اور عالمی پذیرائی خود اس بات کی دلیل ہے کہ یہ مقام الہی برکت اور انتخاب کا نتیجہ ہے، نہ کہ انسانی کوشش کا۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

پہلا خطبہ

<<بسم الله الرحمن الرحیم>>

حمد و ثنا کے بعد :۔ [مئی ۱۹۶۳ میں حج کے موقع پر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے یہ تقریریں ۵۔ ہر اور ۷۔ ذی الحجہ کو نماز عصر کے بعد حرم پاک میں زمزم کے مقام پر دے کی تھیں۔]

برادرانِ اسلام! یہ ہم سب کی انتہائی خوش بختی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو اپنے اس گھر کی زیارت کا شرف بخشا اور یہ موقع نصیب فرمایا کہ ہم یہاں حج کے لئے آئیں اور ان آیات بینات[اشارہ ہے قرآن مجید کی اس آیت کی طرف جس میں اللہ تعالیٰ نے خانہ کعبہ کے متعلق فرمایا ہے کہ : فیہ آيات بينات " اس میں روشن نشانیاں ہیں (آل عمران - ۹۷)] کو دیکھیں جو اس سرزمین میں عموماً اور خانہ کعبہ اور مسجد حرام میں خصوصاً نمایاں طور پر نظر آ رہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں آکر ایک آدمی اگر کھلی آنکھوں سے دیکھے اور سمجھنے کی کوشش کرے تو اس کو ہر طرف اللہ کی نشانیاں ہی نشانیاں نظر آئیں گی، جنہیں دیکھ کر اس کا دل ایمان سے بھر جائے گا۔

حضرات! آج سے چار ہزار برس پہلے یہ جگہ بالکل ایک سنسان وادی تھی۔ دنیا سے الگ تھلگ، اس ریگستان میں، ان پہاڑوں کے درمیان، اس وادی میں اللہ کا ایک بندہ آتا ہے اور ایک چار دیواری کھینچ کر اعلان کرتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا گھر ہے، اور دنیا بھر کو پکار دیتا ہے کہ آؤ اس کا حج کرو۔ اب دیکھئے آخر کیا بات ہے کہ ہزار ہا ہزار برس سے دنیا بھر کے انسان اس پکار پر لبیک لبیک کہتے ہوئے اس گھر کی طرف کھچے چلے آرہے ہیں اور آج تک تاریخ میں ایک سال بھی ایسا نہیں گزرا ہے کہ اس کا حج اور اس کے گرد طواف نہ ہوا ہو۔ کوئی دوسرا انسان ذرا ہمت کر کے کوئی جگہ بنا کر دیکھ اور اس کو قبلۂ عالم بنانے کے لئے اپنی سی پوری کوشش کر کے دیکھے، اسے خود معلوم ہو جائے گا کہ کتنے انسان اس کی طرف کھنچ کر آتے ہیں۔ یہ صریح علامت ہے اس بات کی کہ حضرت ابراہیمؑ کو حقیقت میں اللہ تعالیٰ کے نبی تھے۔ اُنہوں نے فی الواقع اللہ تعالیٰ ہی کی مرضی اور اس کے حکم سے یہ گھر بنایا تھا۔ اُن کے بنائے ہوئے اس گھر کو واقعی اللہ تعالیٰ نے شرف قبولیت عطا فرمایا ہے اور یہ بھی اللہ ہی کا حکم تھا جس کے تحت انہوں نے دنیا کو حج کی دعوت عام دی تھی۔ اسی وجہ سے اس گھر کو اور اس دعوتِ عام کو یہ کشش نصیب ہوئی کہ صدہا برس سے دنیا بھر کے انسان اس کی طرف کھچے چلے آرہے ہیں۔ قرآن مجید اس امر کی شہادت دیتا ہے کہ وہ اللہ ہی تھا جس نے اس گھر کی تعمیر کے لئے اس جگہ کو منتخب فرمایا اور حضرت ابراہیمؑ کو حکم دیا کہ اس کا حج کرنے کے لئے دنیا بھر کو پکار دیں:

<<وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَن لَّا تُشْرِكْ بِي شَيْئًا وَطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ وَأَذِّن فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَىٰ كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ>> (الحج : ۲۶-۲۷)

”اور یاد کرو وہ وقت جب ہم نے ابراہیمؑ کے لئے اس گھر کی جگہ تجویز کی تھی اس ہدایت کے ساتھ کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام و رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے پاک رکھ اور لوگوں کو حج کے لئے پکار دے کہ وہ آئیں تیرے پاس ہر دور دراز مقام سے پیدل اور ڈبلیں اونٹنیوں پر سوار۔“

حضرات! یہی اسی فرمانِ خداوندی کی برکت ہے کہ آج لاکھوں آدمی لبیک لبیک اللهم لبیک کی صدائیں بلند کرتے ہوئے فوج در فوج یہاں آرہے ہیں اور پروانوں کی طرح اس خانہ کعبہ کے گرد گھوم رہے ہیں۔ یہ ان آیات بینات میں سے اولین اور نمایاں ترین نشانی ہے جو اس گھر میں آپ دیکھ رہے ہیں۔

اب ذرا ایک اور نشانی ملاحظہ فرمائیے۔ اس گھر کی تعمیر جب ہوئی تھی اُسی وقت اللہ تعالیٰ نے اعلان فرما دیا تھا کہ ہم اسے لوگوں کا مرکز بنائیں گے، یہی نہیں بلکہ امن کا گھر بھی بنائیں گے۔ <<وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَأَمْنًا>> (البقرہ : ۱۲۵) ”اس اعلان پر چار ہزار برس گزر چکے ہیں“، اور اس وقت سے آج تک یہ امن اسی طرح کا بندھا ہوا ہے۔ نہ صرف یہ گھر امن کا گھر ہے بلکہ جس شہر میں یہ واقع ہے وہ بھی امن کا شہر ہے اور اس کے گردو پیش بھی کئی کئی میل تک کا پورا رقبہ ایک ایسا حرم ہے جس کے اندر کسی نوعیت کی بدامنی نہیں ہو سکتی۔ آج روئے زمین پر اس حرم پاک کے سوا کوئی دوسرا گھر، کوئی خطہ بھی ایسا نہیں پایا جاتا جسے اس معنی میں حرم ہونیکا شرف حاصل ہو اور آج ہی نہیں کبھی دنیا میں کوئی دوسرا ایسا حرم نہیں پایا گیا جس کا وہ احترام کیا گیا ہو جو اس حرم کا ہوا ہے۔ اس کی برکت کا اندازہ آپ اس بات سے کیجئے کہ حضرت ابراہیمؑ کے وقت سے سیدنا محمدؐ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت تک ڈھائی ہزار برس کا زمانہ عرب کی سر زمین میں ایسا گزرا ہے جس میں بے ملک و تنظیم حاکم تھی۔ ہر قوم و قبیلہ وہاں کوئی حکومت نہ تھی کوئی قانون نہ تھا۔ ہر طرف بدامنی پھیلی ہوئی تھی۔ قتل و خون اور غارتگری کا دور تھا۔ کسی کے لئے جان مال اور عزت و آبرو کی امان نہ تھی۔ لیکن اس پورے ملک میں صرف یہ حرم پاک ہی ایک ایسا خطہ تھا جہاں ان ۲۵ صدیوں کے دوران میں کامل امن قائم رہا۔ عرب کے وہ لوگ جو خونخوار قبائل تھے جو ذری ذری سی باتوں پر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو جاتے تھے اور صدیوں تک ان کے درمیان کشت و خون کا سلسلہ جاری رہتا تھا، ان کا بھی یہ حال تھا کہ اس حرم کے حدود میں پہنچتے ہی ان کے ہاتھ رک جاتے تھے۔ حتیٰ کہ اگر کوئی شخص اپنے باپ کے قاتل کو بھی یہاں پالیتا تھا تو اس سے انتقام نہ لے سکتا تھا۔ یہ اس کے سوا اور کسی چیز کا نتیجہ نہ مانا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود اس خطہ پاک کو حرم اور امن کا گھر بنا دیا تھا۔ یہ اللہ جل شانہ کے فرمان ہی کی برکت تھی کہ: <<مَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا>> ”جو اس میں داخل ہوا وہ امن میں آگیا“ (آل عمران : ۹۷) اللہ کی قدرت کے سوا دنیا میں کوئی طاقت اس انتہائی بے نظمی اور طوائف الملوکی کے زمانے میں ڈھائی ہزار برس تک یہاں امن قائم نہیں رکھ سکتی تھی۔ اسی نشانی کی طرف اللہ تعالیٰ نشانہ زمین کو توجہ دلاتا ہے کہ:

<<أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ>> (عنکبوت : ۶۷)

”کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم نے ایک پُر امن حرم بنا رکھا ہے، حالانکہ ان کے گردو پیش لوگ اُچک لئے جا رہے ہیں؟“

اس سے بھی زیادہ بڑے پیمانے پر ایک اور نشانی ہے جو اس سر زمین میں پائی جاتی ہے۔ آپ خداوندِ عالم سے عرب کی تاریخ اور عرب کے ملک پر ایک نظر ڈالیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ عربی قوم کا ایک قوم کی حیثیت سے باقی رہنا اور عربی زبان کا اس قوم کی زبان کی حیثیت سے زندہ رہ جانا بھی اسی بیت اللہ کی برکت کا نتیجہ ہے۔ دنیا میں آج کونسی ملک ایسا نہیں پایا جاتا، نہ کبھی پایا گیا ہے جس کا مرکز تو اتنا وسیع ہو جتنا عرب کا ہے اور پھر اس پورے ملک میں ایک ہی زبان بولی جاتی ہو۔ اور دنیا میں کوئی ایسا ملک بھی نہ آج موجود ہے، نہ کبھی موجود رہا ہے جس میں چار ہزار برس سے ایک ہی زبان بولی جا رہی ہو۔ اتنی لمبی مدت میں زبانیں بدل کر کچھ سے کچھ ہو جاتی ہیں اور اتنے وسیع و عریض ملکوں میں ایک نہیں بیسیوں بلکہ سیکڑوں زبانیں بن جاتی ہیں۔ خصوصیت کے ساتھ جس ملک میں ہزاروں برس تک بدامنی اور ابتری پھیلی رہی ہو، اور جو ملک صدیوں قبائلی لڑائیوں کی آماجگاہ بنا رہا ہو، اس کے اندر تو یہ وحدت باقی رہ جانا بالکل ہی ایک معجزہ ہے۔ لیکن یہ معجزہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت نے اس سرزمین میں کر کے دکھا دیا، اور اس کا ذریعہ بھی خانہ کعبہ اور یہی حج تھا۔

یہ خانہ کعبہ اور یہ حج اس کا ذریعہ کیسے بنا؟ اس کی مختصر تشریح یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس گھر کو مرکز و مرجع (مَثَابَةً لِلنَّاسِ) بنایا اور حضرت ابراہیمؑ کو حکم دیا کہ لوگوں کو اس کا حج کرنے کی دعوتِ عام دیں، تو اس کے ساتھ یہی فیصلہ فرما دیا کہ سال میں چار مہینے (ذی القعدہ، ذی الحجہ اور محرم حج کے لئے اور رجب عمرے کے لئے) حرام قرار دیئے جائیں۔ حکم دیدیا گیا کہ ان چار مہینوں میں لڑائی بند رہے، حج اور عمرے کے لئے آنے جانے والوں کو کوئی نہ چھیڑے، اور ان جانوروں پر بھی کوئی ہاتھ نہ ڈالے جو قربانی کے لئے بیت اللہ کی طرف لئے جا رہے ہوں۔ یہ حکم صرف ایک بندۂ خدا کی زبان سے ادا ہوا تھا۔ اس کے ہاتھ میں کوئی حکومت نہ تھی۔ اس کے پاس کوئی فوج، پولیس یا عدالت نہ تھی کہ اس کے زور سے وہ اس قانون کو جاری کرتا۔ مگر اس کی پشت پر اللہ رب العالمین کی طاقت تھی جس کے زور سے یہ حکم نافذ ہوا اور عرب کے باشندے نسلاً بعد نسل اس کی پیروی کرتے چلے گئے۔

اس حکم کی برکت یہ تھی کہ عرب کی سرزمین کو ہر سال چار مہینے امن و امان کے میسر آجاتے تھے۔ جن سے فائدہ اٹھا کر ملک کے ہر گوشے سے قافلے بیت اللہ کی طرف آتے تھے، قبائل کے لوگ ایک دوسرے سے ملتے تھے، آزادانہ تجارت ہوتی تھی، میلے لگتے تھے، شاعری اور فصاحت کے مقابلے ہوتے تھے، اور عرب کے دوسرے حصوں میں بھی قافلوں کی آمد و رفت جاری رہتی تھی۔ اس طرح عربوں میں ایک قوم ہونے کا احساس زندہ رہا۔ ان کی زبان محفوظ رہی، اور وہ تمام عربوں کی ایک ہی زبان بن گئی۔ ان کی ثقافت اور ان کی روایات باقی رہیں۔ اور یہ قوم ٹکڑے ٹکڑے ہو جانے سے بچ گئی۔ یہ سب کچھ اسی گھر کا صدقہ اور اسی گھر کا کرشمہ ہے۔ اس کی بدولت ایک قوم مرنے سے بچی، ایک زبان مٹنے سے بچی اور ایک ملک کے اندر ایک ہی زبان اور ایک ہی تہذیب برقرار رہی۔ یہ گھر نہ ہوتا اور یہ حج نہ ہوتا تو ہزاروں برس کی بدامنی و برہنگی اور طوائف الملوکی سے عرب قوم اور عربی زبان اور عربی ثقافت کبھی کی مٹ چکی ہوتی۔

ایک اور نشانی ملاحظہ ہو۔ جس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہاں اپنی ایک بیوی اور ایک بچے کو لا کر چھوڑا تھا اُس وقت یہاں کوئی شہر تو درکنار بسائے نام کو بھی جھاڑ جھاڑ کاؤں تک نہ تھا۔ اس حالت میں ان کی زبان پاک سے یہ دعا نکلی ہے کہ:

<<رَّبَّنَا إِنِّي أَسْكَنتُ مِن ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِندَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُم مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ>> (ابراہیم : ۳۷)

”اے ہمارے پروردگار میں نے اپنی نسل کا ایک حصہ لا کر بے آب و گیاہ وادی میں بسا دیا ہے، تیرے عزت والے گھر کے پاس، اے پروردگار، اس لئے کہ وہ نماز قائم کریں۔ پس لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کر دے اور ان کو پھلوں سے رزق دے تاکہ یہ شکر گزار ہوں۔“

اب دیکھئے کہ اس دعا کا ایک ایک لفظ کس طرح پورا کیا گیا۔ اس بیت اللہ کے گرد یہ شہر مکہ آباد ہوا۔ حج نے اس کو تمام عرب کا مرکز بنا دیا۔ تجارتی قافلے عرب کے ہر حصے سے یہاں آنے لگے اور یہاں سے گزرنے لگے۔ اسلام سے صدیوں پہلے یہ شہر ایک تجارتی منڈی بن چکا تھا اور دنیا بھر کا مال کھنچ کھنچ کر یہاں آتا تھا۔ آج بھی آپ دیکھیں گے کہ دنیا کی کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو مکہ کے بازاروں میں آپ کو نہ مل جاتی ہو۔ اسی چیز کو اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں بیان فرماتا ہے کہ:

<<أَوَلَمْ نُمَكِّن لَّهُمْ حَرَمًا آمِنًا يُجْبَىٰ إِلَيْهِ ثَمَرَاتُ كُلِّ شَيْءٍ رِّزْقًا مِّن لَّدُنَّا>> ۔ (القصص : ۵۷)

”کیا ہم نے اہل مکہ کے لئے ایک پُر امن حرم نہیں بنا دیا ہے جس کی طرف ہر طرح کے پھل کھچے چلے آتے ہیں، ہماری طرف سے رزق کے طور پر؟“

حضرات! عرب اور عربی قوم اور عربی زبان پر یہ ساری عنایات جس مقصدِ عظیم کے لئے ارزانی کی گئیں وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے صاحبزادے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایک دعا کو پورا کرنا تھا جسے قرآن مجید ان الفاظ میں نقل کرتا ہے:

<<وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِن ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ>> (البقرہ : ۱۲۷-۱۲۹)

”اور جب ابراہیمؑ اور اسمعیلؑ اس گھر کی بنیادیں اٹھا رہے تھے تو وہ یہ دعا کر رہے تھے کہ ”اے ہمارے رب، ہماری اس سعی کو قبول فرما، یقیناً تو سب ہی کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ اے ہمارے رب، اور ہم دونوں کو اپنا مسلم (فرمانبردار) بنالے اور ہماری نسل سے ایک ایسی اُمت پیدا کر جو تیری مسلم ہو، اور ہم کو ہماری عبادت کے طریقے بتا اور ہمارے قصور معاف کر، بے شک تو ہی توبہ قبول کرنے والا رحیم ہے۔ اے ہمارے رب، اور ان لوگوں کے اندر خود انہی میں سے ایک رسول مبعوث فرما جو ان کو تیری آیات سنائے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کا تزکیہ کرے، یقیناً تو ہی زبردست حکیم ہے۔“

یہ تھا وہ اصل مقصد جس کے لئے عرب قوم اور عربی زبان کو زندہ رکھنے کا وہ اہتمام فرمایا گیا تھا جس کی تفصیل ابھی آپ نے سنی ہے۔ حضرت ابراہیمؑ و اسماعیلؑ کی یہ دعا، اور اس کے نتیجے میں آخر کار اسی شہر مکہ سے محمدؐ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا مبعوث ہونا اور پھر پچیس سے ایک عظیم الشان اُمت مسلمہ کا اٹھنا جو دنیا میں قیامت تک کے لئے توحید کی علمبردار بنی، یہ اللہ جل شانہ کی نشانیوں میں سے سب سے بڑی نشانی ہے جس کا مشاہدہ آپ اس حرم پاک میں کر رہے ہیں۔

یہی شہر مکہ ہے جس سے محمدؐ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت الی اللہ کا آغاز فرمایا تھا اور یہی صفا کی پہاڑی ہے جس پر کھڑے ہو کر حضورؐ نے سب سے پہلے قریش کے خاندان کو نام بنام پکار کر اللہ وحدہ لاشریک پر ایمان لانے کی تلقین فرمائی تھی۔ اس شہر کے سرداروں نے حضورؐ کی اس دعوت کو دبا دینے کے لئے اپنا سارا زور صرف کر دیا۔ جرم کی زمین یہ ابو جہل کا کیا ٹھا اور یہ کسی گھاٹیاں سب اس ظلم و ستم کے گواہ ہیں جو ۱۳ سال تک حضورؐ اور آپؐ کے اصحابؓ پر توڑا گیا۔ مگر آخر کار اُن سب لوگوں نے بچشم خود دیکھا جنہوں نے دعوت محمدیؐ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کو نیچا دکھانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا تھا۔ دیکھ لیجئے، آج یہاں ابو جہل اور ابولہب کا نام لینے والا کوئی نہیں ہے اور اس حرم کے میناروں سے پانچوں وقت اشھد ان محمداًؐ رسول اللہ کی آواز بلند ہو رہی ہے۔

یہی خانہ کعبہ ہے جس کی دیوار کے نیچے ایک روز رسول اللہؐ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے اور حال یہ تھا کہ مکہ میں ہر طرف مسلمانوں پر بے تحاشہ ظلم ہو رہا تھا۔ اس حالت میں حضرت عتاب بن الارتؓ نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ اب تو ظلم کی حد ہو گئی ہے، کیا آپ ہمارے لئے دعا نہ فرمائیں گے؟ اس پر حضورؐ نے فرمایا: ”یہ کام تو پورا ہو کر رہے گا، یہاں تک کہ ایک وقت آئے گا جب ایک مسافر صنعا سے حضرت موت تک بے خوف و خطر سفر کرے گا۔ مگر تم لوگ بے صبری کر رہے ہو“ اللہ کے رسولؐ کی یہ بات حرف بحرف پوری ہوئی اور چند سال کے اندر ہی وہ وقت آگیا جب اسلام کی حکومت نے پورے جزیرۃ العرب میں مکمل امن قائم کر دیا۔

یہی خانہ کعبہ ہے جس کے کلید بردار عثمان بن طلحہؓ سے ایک مرتبہ رسول اللہؐ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنجی مانگی تاکہ بیت اللہ میں داخل ہو کر عبادت کریں۔ اس نے نہ صرف یہ کہ انکار کیا بلکہ حضورؐ کے ساتھ سخت بد کلامی کی۔ آپؐ خاموشی کے ساتھ اس کی ساری سخت سست باتیں سنتے رہے اور پھر بڑی سنجیدگی کے ساتھ فرمایا: ”اے عثمان تم دیکھ لو گے کہ ایک دن یہی میرے ہاتھ میں ہوگی اور مجھے اختیار ہوگا کہ جسے چاہوں دیدوں“ عثمان نے کہا ”اگر ایسا ہوا تو وہ دن قریش کے لئے ہلاکت اور ذلت کا دن ہوگا۔“ حضورؐ نے فرمایا ”نہیں، وہ قریش کے لئے عزت اور سرفرازی کا دن ہوگا۔“ یہ قول بھی پتھر کی لکیر ثابت ہوا۔ اس بات کو دس سال سے زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ مکہ معظمہ فتح ہوا۔ اسی عثمان بن طلحہؓ کو حضورؐ نے حکم دیا کہ کلید خانہ کعبہ پیش کرے۔ اس نے بے چون و چرا حاضر کر دی۔ حضرت عباسؓ نے باصرار درخواست کی کہ اب کلید برداری کعبہ کی خدمت بنی ہاشم کے سپرد کر دی جائے لیکن حضورؐ نے وہ کنجی اسی عثمان بن طلحہؓ کو عطا کی اور فرمایا: <<خذوها خالدة تالدة لا ينزعها منكم الا ظالم ۔>> ”لے لو اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تم سے اس کو کوئی نہ چھینے گا مگر ظالم۔“ یہ ارشاد بھی پورا ہو کر رہا۔ آج تک اس گھر کا کلید بردار وہی خاندان چلا آرہا ہے جسے فتح مکہ کے روز حضورؐ نے اس کی کنجی سپرد فرمائی تھی۔

یہی شہر مکہ ہے جس کے لوگوں سے حضورؐ نے اپنی دعوت کے ابتدائی زمانہ میں فرمایا تھا کہ میں ایک ایسا کلمہ تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں جسے اگر تم مان لوگے تو عرب اور عجم سب اس کی بدولت تمہارے تابع فرمان ہو جائیں گے۔ کلمۂ واحدۃ تملکون بھا العرب وتدین لکم بھا العجم۔ قریش کے لوگوں نے اس وقت اس بات کو جھوٹ سمجھا تھا وہ اس کے برعکس اپنی جگہ یہ سمجھ رہے تھے کہ اس کلمے کو ہم نے قبول کر لیا تو تمام عرب ہم پر ٹوٹ پڑے گا اور ہماری ریاست تو کیا، ہمارا وجود بھی یہاں باقی نہ رہ سکے گا۔ وہ کہتے تھے کہ <<إِنْ نَتَّبِعِ الْهُدَىٰ مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ أَرْضِنَا>> ”اگر ہم تمہارے ساتھ اس ہدایت کی پیروی اختیار کر لیں تو ہم اپنی جگہ سے اُچک لئے جائیں گے“۔ لیکن اللہ کے رسولؐ کی زبانِ مبارک سے جو کچھ نکلا تھا وہ لفظ لفظ پورا ہو کر رہا۔ قریش کے جن لوگوں نے حضورؐ کی یہ بات اپنے کانوں سے سنی تھی انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ چند سال کے اندر عرب اور عجم سب خلافت اسلامیہ کے تابع فرمان ہو گئے، اور قریش ہی کے خلفا اس عظیم الشان سلطنت کے فرمانروا ہوئے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وقت سے حضورؐ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے تک یہ گھر صرف عرب کا مرکز تھا اور عرب ہی اس کے حج کے لئے آتے تھے۔ مگر جب اللہ تعالیٰ نے آنحضورؐ کی زبانِ مبارک سے یہ اعلان کرایا کہ: <<حَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ>> ”جہاں بھی تم ہو، نماز میں تم اپنا رخ اسی کی طرف پھیر دو“، اور جب مالک زمین و آسمان نے اپنے آخری نبیؐ کے ذریعے سے یہ فرمان صادر کیا کہ <<وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا>> ”اللہ کا حق ہے لوگوں پر اس گھر کا حج، جو شخص بھی اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو“، تو یہ گھر تمام دنیا کے لئے مرکز و قبلہ بن گیا۔ آج دنیا کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جہاں اس گھر کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے والے موجود نہ ہوں، اور کوئی خطہ زمین ایسا نہیں ہے جہاں سے اللہ وحدہ لا شریک کے ماننے والے اس کا حج کرنے کے لئے نہ آرہے ہوں جس وقت آنحضورؐ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے ان احکام کا اعلان ہوا تھا اس وقت اسلام کا نفوذ اثر صرف مدینہ طیبہ اور اس کے گرد و پیش ایک چھوٹے سے علاقہ تک محدود تھا۔ کوئی شخص بھی اُس وقت یہ اندازہ نہ کر سکتا تھا کہ یہ احکام تمام روئے زمین پر اور اتنے بڑے پیمانے پر نافذ ہوں گے اور ایک وقت ایسا آئے گا جب دس دس لاکھ آدمی دنیا کے ہر حصے سے کھنچ کر یہاں جمع ہوں گے۔ خداوند عالم کی طاقت کے سوا اور کونسی طاقت ایسی ہو سکتی تھی جو اس خانہ کعبہ کو یہ مقبولیت، یہ مرکزیت اور یہ کشش عطا کر دیتی۔

حضرات! یہ اللہ عزوجل کی بے شمار نشانیوں میں سے چند نمایاں نشانیاں ہیں جن کی طرف میں نے آپ کو توجہ دلائی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سرزمین میں آنے کی سعادت بخشی ہے تو آپ اس کا پورا فائدہ اٹھائیں اور یہاں سے گہرا اثر، سچا اور پختہ ایمان لے کر جائیں۔ یہاں اللہ کی جو نشانیاں نظر آتی ہیں وہ آدمی کا دل اس یقین سے بھر دینے کے لئے بالکل کافی ہیں کہ یہ گھر واقعی بیت اللہ ہے، اس کے بنانے والے حضرت ابراہیمؑ و اسماعیلؑ علیہما السلام حقیقت میں اللہ کے رسول تھے، اور دین عظیم الشان ہستیؐ کی بدولت یہ گھر ہمیشہ ہمیش کے لئے شرک و بت پرستی سے پاک ہو کر تمام دنیا کے اہل توحید کا قبلہ اور مرکز و مرجع بنا اس کی نبوت و رسالت پر شک و شبہ سے بالاتر ہے وصلی اللہ علیہ وسلمؐ۔

<<وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ>>