جماعت اسلامی کے ۲۹ سال
خطاب (1970-08-26 · جماعت اسلامی کے یومِ تاسیس کی تقریب)سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "جماعت اسلامی کے ۲۹ سال" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک تاریخی اور فکری تحریر ہے جو دراصل ۲۶ اگست ۱۹۷۰ء کو جماعت اسلامی کے یومِ تاسیس کے موقع پر دی گئی تقریر کا متن ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد جماعت اسلامی کے قیام، اس کے فکری و تنظیمی بنیادوں، اور اس کے ابتدائی دور کے حالات کی وضاحت کرنا ہے، خصوصاً ان غلط فہمیوں کو دور کرنا جو بعض اخبارات اور سیاسی حلقوں نے مولانا کے الفاظ کو مسخ کرکے پھیلا رکھی تھیں۔ مولانا نے اس تقریر کو شائع کرنے کا مقصد یہ ظاہر کیا کہ حقیقت عام لوگوں تک پہنچے اور عوام کو صحافیوں کی جانب سے کی گئی جان بوجھ کر غلط رپورٹنگ سے آگاہ کیا جائے۔
کتاب کا پہلا باب، جو دیباچہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے، صرف تعارفی کردار ادا نہیں کرتا بلکہ ایک اخلاقی موقف کا اظہار ہے۔ مولانا نے اس میں اطلاعات کی درستگی، ذمہ داری اور خیانتِ قلم کے خلاف سخت اعتراض کیا ہے۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ غلط اور مسخ شدہ رپورٹنگ نہ صرف ذاتی تصویر کو متاثر کرتی ہے بلکہ عوامی رائے کو غلط سمت میں موڑ دیتی ہے۔ اس لیے انہوں نے اپنی تقریر کو اصل حالت میں شائع کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ حقیقت واضح ہو سکے۔
دوسرے باب میں مولانا نے ۱۹۲۸–۱۹۳۲ کے دوران ہندوستانی مسلمانوں کی سیاسی اور سماجی صورتحال کا جائزہ پیش کیا ہے۔ ان کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ مسلمان قوم باوجود ظاہری طاقت کے باطنی طور پر منتشر اور کمزور تھی۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
ضمیمہ
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب کی اس تقریر کو دیکھ کر جن مسلم لیگی حضرات کو کوئی بات غلط نظر آئے‘ وہ براہ کرم نشان لگا کر ناشر کو اطلاع کر دیں کہ اس میں کیا بات خلاف واقعہ یا غلط ہے، مگر چونکہ خاص طور پر انھوں نے اس تقریر کے ایک حصے سے یہ معنی نکالنے کی کوشش کی ہے کہ مولانا مودودی صاحب نے قائد اعظم مرحوم کی نیت پر حملہ کیا ہے‘ اس لیے مولانا محترم کے ۸ نومبر ۱۹۵۳ء کے اس بیان کو یہاں لفظ بلفظ نقل کیا جاتا ہے جو انھوں نے آج سے سترہ سال پہلے فسادات پنجاب کی تحقیقاتی عدالت کے نام، لاہور سنٹرل جیل سے بھیجا تھا۔ جسٹس منیر اس عدالت میں قائد اعظم مرحوم کی ۱۱۔ اگست ۱۹۴۷ء کی تقریر سے بار بار یہ استدلال کر رہے تھے کہ قائد اعظم پاکستان میں مسلم و غیر مسلم کو ملا کر ایک وطنی قومیت بنانا چاہتے تھے اور یہاں ان کے پیش نظر ایک اسلامی ریاست نہیں بلکہ لادینی ریاست قائم کرنا تھا۔ ان کے اس غلط استدلال کی تردید کے لیے حسب ذیل بیان مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب نے ارسال کیا تھا۔ یہ بیان مولانا محترم کی کتاب قادیانی مسئلہ اور اس کے سیاسی‘ دینی اور تمدنی پہلو کے صفحہ ۸۸ تا ۱۹۴ پر شائع شدہ موجود ہے۔ (ادارہ)