مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

جماعت اسلامی کے ۲۹ سال

خطاب (1970-08-26 · جماعت اسلامی کے یومِ تاسیس کی تقریب)

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "جماعت اسلامی کے ۲۹ سال" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک تاریخی اور فکری تحریر ہے جو دراصل ۲۶ اگست ۱۹۷۰ء کو جماعت اسلامی کے یومِ تاسیس کے موقع پر دی گئی تقریر کا متن ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد جماعت اسلامی کے قیام، اس کے فکری و تنظیمی بنیادوں، اور اس کے ابتدائی دور کے حالات کی وضاحت کرنا ہے، خصوصاً ان غلط فہمیوں کو دور کرنا جو بعض اخبارات اور سیاسی حلقوں نے مولانا کے الفاظ کو مسخ کرکے پھیلا رکھی تھیں۔ مولانا نے اس تقریر کو شائع کرنے کا مقصد یہ ظاہر کیا کہ حقیقت عام لوگوں تک پہنچے اور عوام کو صحافیوں کی جانب سے کی گئی جان بوجھ کر غلط رپورٹنگ سے آگاہ کیا جائے۔

کتاب کا پہلا باب، جو دیباچہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے، صرف تعارفی کردار ادا نہیں کرتا بلکہ ایک اخلاقی موقف کا اظہار ہے۔ مولانا نے اس میں اطلاعات کی درستگی، ذمہ داری اور خیانتِ قلم کے خلاف سخت اعتراض کیا ہے۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ غلط اور مسخ شدہ رپورٹنگ نہ صرف ذاتی تصویر کو متاثر کرتی ہے بلکہ عوامی رائے کو غلط سمت میں موڑ دیتی ہے۔ اس لیے انہوں نے اپنی تقریر کو اصل حالت میں شائع کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ حقیقت واضح ہو سکے۔

دوسرے باب میں مولانا نے ۱۹۲۸–۱۹۳۲ کے دوران ہندوستانی مسلمانوں کی سیاسی اور سماجی صورتحال کا جائزہ پیش کیا ہے۔ ان کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ مسلمان قوم باوجود ظاہری طاقت کے باطنی طور پر منتشر اور کمزور تھی۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

جماعت اسلامی کے 29 سال — تسلسل 1

اب ذرا اُس دور کی سیاسی صورت حال پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔ ۱۹۲۸ء تک تو ہندوستان میں عام خیال یہ پایا جاتا تھا کہ آزادی کی کوئی تحریک مسلمانوں کو ساتھ ملائے بغیر نہیں چل سکتی، اور مسلمان بھی اس بھروسے پر تھے کہ کانگرس آزادی کے راستے پر ہمیں ساتھ لیے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتی، لیکن ۱۹۲۹ء تک پہنچتے پہنچتے گاندھی نے مسلمانوں کی اس کمزوری کو بھانپ لیا کہ یہ قوم بالکل پراگندہ ہو چکی ہے۔ اس کے اندر کوئی قیادت باقی نہیں رہی ہے۔ اس میں کوئی تنظیم باقی نہیں رہی ہے اور اب میں صرف ہندوؤں کو لے کر انگریزی حکومت سے لڑ کر آزادی حاصل کرسکتا ہوں۔ ۱۹۲۹ء میں پہلی مرتبہ اس نے مسلمانوں کو مخاطب کر کے کہا:

میں آزادی کی جنگ لڑوں گا، تم ساتھ آؤ تو تمھیں ساتھ لے کر، تم نہ آؤ تو تمھارے بغیر، اور تم مزاحمت کرو تو تمھاری مزاحمت کے باوجود۔

اس کے الفاظ یہ تھے کہ: "With you without you or inspite of you"

جب اس شخص نے یہ بات کہی اسی وقت میں نے اندازہ کر لیا کہ اب اس ملک میں مسلمانوں کی خیر نہیں ہے، اس لیے کہ وہ واقعی اُس وقت اِس پوزیشن میں تھا کہ صرف ہندوقوم کو ساتھ لے کر انگریز قوم کو عاجز کرکے آزادی دینے پر مجبور کرسکتا تھا اور مسلمان اس بری طرح بکھرے ہوئے تھے کہ وہ اس کا راستہ نہ روک سکتے تھے۔ اس نے مسلمانوں کو اس پوزیشن میں ڈال دیا کہ یا تو وہ غیر مشروط طور پر اس کی قیادت میں ہندواقتدار قائم کرنے کے لیے آلہ کار بنیں، یا خاموش تماشائی بن کر اپنی قسمت کا فیصلہ ہوتے دیکھتے رہیں یا مزاحمت کر کے انگریزی اقتدار کی حمایت کا الزام اپنے سر لیں۔ بدقسمتی سے اس وقت مسلمانوں کے تین گروہوں نے یہ تینوں راستے اختیار کیے اور پوری قوم متحد ہو کر کسی ایک قیادت کے تحت کوئی ایک راستہ اختیار نہ کر سکی۔ میں اُس طوفان کو اٹھتے دیکھ رہا تھا۔ اس کے نتائج کو بھی سمجھ رہا تھا، مگر اس وقت میری یہ حیثیت نہ تھی کہ اس کے مقابلے میں کچھ کر سکتا۔ اپنی بے بسی پر کڑھنے کے سوا میرے لیے کوئی چارہ کار نہ تھا۔

اسی زمانے میں، میں دہلی سے حیدرآباد منتقل ہو گیا۔ وہاں ایک ایسی بڑی ریاست قائم تھی جو اپنے رقبے کے اعتبار سے، اپنی آبادی کے اعتبار سے، اپنی آمدنی کے اعتبار سے، دنیا کی بعض آزاد حکومتوں سے بھی زیادہ بڑی تھی۔ مسلمان اس کے حکمراں تھے۔ مسلمانوں کے بہترین دماغ وہاں جمع تھے۔ ایک بڑی حکومت کا نظام وہ چلا رہے تھے۔ اس کے وسائل صرف حیدرآباد ہی میں نہیں، اس کے باہر بھی ہندستان کے مسلمانوں کے لیے بڑی تقویت کا باعث بنے ہوئے تھے۔ اسی ریاست نے عثمانیہ یونیورسٹی ایسی عظیم یونیورسٹی قائم کر کے اردو زبان کو تمام علوم کی اعلیٰ تعلیم کا ذریعہ بنا کر دکھا دیا تھا۔ وہاں پہنچ کر مسلمان یہ فخر محسوس کرتا تھا کہ ہندستان میں ایک ایسی سرزمین بھی ہے جہاں مسلمان ایک عظیم سلطنت کا نظام چلا رہے ہیں، لیکن اس ظاہری خوشنما پردے کے پیچھے نگاہ ڈال کر میں نے دیکھا تو نظر آیا کہ نظام کی عظیم الشان حکومت کا قصر ریت پر کھڑا ہے۔ ریاست حیدرآباد میں مسلمانوں کی آبادی صرف ۱۵ فی صد تھی، باقی ۸۵ فی صد ہندو تھے۔ مسلمانوں کا تمام انحصار سرکاری ملازمتوں یا حکومت کے منصب پر تھا۔ تجارت، صنعت و حرفت سب ہندوؤں کے ہاتھ میں تھی۔ مسلم آبادی شہروں میں سمٹی ہوئی تھی۔ دیہات میں مسلمان آٹے میں نمک کے برابر بھی نہ تھے۔ میں نے محسوس کیا کہ آزادی کی جو تحریک ہندستان میں چل رہی ہے اُس کا ریلا جب یہاں پہنچے گا تو نظام کی حکومت کا یہ قصر جو اتنا عظیم الشان نظر آ رہا ہے، ایک ٹھیس میں زمین پر آ رہے گا۔ میں نے وہاں کے بعض با اثر لوگوں سے بات کر کے اُن کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ خدارا یہاں اسلام کی تبلیغ کے لیے کچھ کرو، تاکہ مسلمانوں کی آبادی بڑھے، مگر میں نے محسوس کیا کہ نظام کی حکومت گویا ایک افیون ہے جسے کھا کر مسلمان غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان کو اگر کچھ فکر تھی تو صرف یہ کہ نظام کی حکومت کو تھامیں اور اس کی حفاظت کریں، لیکن یہ فکر نہیں تھی کہ اس کی جڑ کو مضبوط کریں، جو ظاہر ہے کہ اسلام کی اشاعت ہی سے مضبوط ہو سکتی تھی۔

یہ حالات تھے جب میں نے حیدرآباد سے ۱۹۳۲ء میں رسالہ ترجمان القرآن کی ابتدا کی۔ اس وقت کام کی جو ترتیب میرے ذہن میں تھی وہ یہ تھی کہ سب سے پہلے مغربی تہذیب و افکار کے اس غلبے کو توڑ ا جائے جو مسلمانوں کے ذہن طبقے پر مسلّط ہو رہا ہے۔ یہ بات ان کے ذہن نشین کی جائے کہ اسلام اپنا ایک نظامِ زندگی رکھتا ہے، اپنا ایک نظامِ تہذیب رکھتا ہے، اپنا ایک سیاسی نظام رکھتا ہے، اپنا ایک معاشی نظام رکھتا ہے، اپنا ایک نظامِ فکر اور نظامِ تعلیم رکھتا ہے جو ہر لحاظ سے مغربی تہذیب اور اس کے متعلقات سے فائق ہے۔ یہ خیال ان کے دماغ سے نکالا جائے کہ تہذیب و تمدن کے معاملے میں انھیں کسی سے بھیک مانگنے کی کوئی ضرورت ہے۔ ان کو بتایا جائے کہ تمھارے پاس اپنا ایک پورا نظامِ زندگی موجود ہے جو دنیا کے تمام نظاموں سے بہتر ہے۔ پھر پور تنقید کرکے ان پر یہ واضح کیا جائے کہ مغرب کے جس نظام سے وہ مرعوب ہیں وہ اپنے ہر پہلو میں کیا کیا کمزوریاں رکھتا ہے۔

مجھے یہ کام کرتے ہوئے چند سال گزرے تھے کہ ۱۹۳۷ء میں مجھ کو حیدرآباد سے دہلی آنے کا اتفاق ہوا۔ اس سفر کے دوران میں، میں نے محسوس کیا کہ ہندستان کے چھ صوبوں میں کانگریس کی حکومت قائم ہو جانے کے بعد مسلمانوں پر کھلی کھلی شکست خوردگی کے آثار طاری ہو چکے ہیں۔ دہلی سے جب میں واپس حیدرآباد جا رہا تھا تو ریل میں ایک مشہور ہندو لیڈر ڈاکٹر کھرے اتفاق سے اسی کمپارٹمنٹ میں سفر کر رہے تھے جس میں میں تھا اور بہت سے مسلمان بھی اس میں موجود تھے۔ میں نے دیکھا کہ مسلمان، ڈاکٹر کھرے سے بالکل اس طرح باتیں کر رہے تھے جیسے ایک محکوم قوم کے افراد ایک حاکم قوم کے فرد سے کرتے ہیں۔ یہ منظر میرے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔ حیدرآباد پہنچا تو یقین کیجیے کہ میری راتوں کی نیند اڑ گئی۔ سوچتا رہا کہ یا اللہ اب اس سرزمین میں مسلمانوں کا کیا انجام ہونا ہے۔ آخر کار میں نے یہ سلسلہ مضامین لکھا جو مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش حصہ اوّل کے نام سے شائع ہوا ہے۔[یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ ستمبر ۱۹۳۷ء میں ایک مرتبہ پھر میں نے شمالی ہند کا سفر کیا اور اس موقع پر لاہور میں علامہ اقبال مرحوم سے میری ملاقات ہوئی۔ انھوں نے مجھے مشورہ دیا کہ میں حیدرآباد چھوڑ کر پنجاب منتقل ہو جاؤں۔ ان کی رائے یہ تھی کہ آگے چل کر جنوبی ہند میں میرے لیے کام کے مواقع کم سے کم تر ہوتے چلے جائیں گے اور جو کام اب مجھے کرنا ہے اس کے لیے پنجاب زیادہ موزوں ہے۔ ان کی یہ بات میرے دل میں اتر گئی اور میں نے اس پر عمل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ چنانچہ مارچ ۱۹۳۸ء میں ہمیشہ کے لیے حیدرآباد کو خیر باد کہہ کر میں پنجاب منتقل ہو گیا۔ یہاں ابتداءً میرا ارادہ ایک ایسا ادارہ قائم کرنے کا تھا جس میں جدید اور قدیم تعلیم یافتہ باصلاحیت نوجوانوں کو یکجا رکھ کر اخلاقی اور علمی حیثیت سے، ایک نئی قیادت فراہم کرنے کے لیے تیار کیا جائے، لیکن بعد کے حالات نے میری اس اسکیم کو بدلنے پر مجبور کر دیا۔]

۱۹۳۸ء میں، میں نے دیکھا کہ کانگریس اب اپنی اس پالیسی سے ایک قدم اور آگے بڑھ رہی ہے جس کا اعلان ۱۹۲۹ء میں کیا گیا تھا۔ اس وقت تو صرف یہی کہا گیا تھا کہ ”مسلمان آتے ہیں تو آئیں ورنہ ہم اپنی آزادی کی جنگ خود لڑیں گے“ مگر اب یہ نئی پالیسی بنائی گئی کہ مسلمانوں کو فرداً فرداً کانگریس کی تحریک میں جذب کر لیا جائے اور مسلمانوں کی کسی جماعت سے بحیثیت جماعت کوئی معاملے کی بات سرے سے کی ہی نہ جائے۔ چنانچہ اسی غرض کے لیے مسلم رابطہ عوام (Muslim Mass Contact) کی مہم شروع کی گئی جس کے اصل کارکن ”مسلمان کمیونسٹ“ تھے اور غضب یہ ہے کہ اس کام میں علمائے کرام کا ایک گروہ بھی ان کا ساتھ دے رہا تھا۔ یہ گروہ اس بات کا قائل تھا کہ ہندو اور مسلمان مل کر ایک قوم بن سکتے ہیں اور اس ایک قوم کے اندر ایک ایسا جمہوری نظام رائج ہوسکتا ہے جس میں فیصلہ اکثریت کرنے والی ہو۔ اس پر میں نے وہ مضامین لکھنے شروع کیے جو ۱۹۳۸ء میں مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش حصہ دوم اور مسئلہ قومیت کے نام سے شائع ہوئے۔ اس وقت میرے پیش نظر اولین کام یہ تھا کہ مسلمانوں کی کسی طرح اپنی قومی شخصیت اور قومی انفرادیت فراموش نہ ہونے دوں اور ان کو غیر مسلم قومیت کے اندر جذب ہونے سے بچاؤں۔ ظاہر بات ہے کہ جو شخص بھی اسلام کو یہاں سر بلند کرنا چاہے گا وہ ضرور یہ خیال کرے گا کہ میرے پاس پہلے سے جو سرمایہ موجود ہے وہ ضائع نہ ہو جائے، اس کے بعد وہ مزید سرمایہ حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ جو لوگ پہلے سے کلمہ لا الہ الا اللہ کے قائل ہیں اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں پہلے ہمیں ان کی فکر ہونی چاہیے کہ کہیں وہ بھی ضائع نہ ہو جائیں۔ دوسروں کو مسلمان بنانے کی فکر تو بعد ہی میں کی جا سکتی ہے۔ اس لیے میں نے اپنا پورا زور اس کام میں صرف کر دیا کہ مسلمانوں کو غیر مسلم قومیت کے اندر جذب ہونے سے بچایا جائے اور ان کے اندر یہ احساس پیدا کیا جائے کہ تم اپنی ایک مستقل قومیت رکھتے ہو، تمھارے لیے کسی طرح یہ ممکن نہیں ہے کہ تم کسی دوسری قومیت میں ضم ہو جاؤ۔

اس کے بعد ۱۹۳۹ء اور اس کے بعد کا دور آیا۔ مسلم لیگ کی تحریک نے زور پکڑا۔ پاکستان کی تحریک اُٹھنی شروع ہوئی جس نے آخر کار ۱۹۴۰ء میں قرارداد پاکستان کی شکل اختیار کی۔ اس زمانے میں جو بات میرے نزدیک اہم تھی وہ یہ تھی کہ مسلمانوں کو اس بات کا احساس دلایا جائے کہ تم محض ایک قوم نہیں ہو اور تمھارا مقصود بھی محض ایک قومی حکومت کا قیام نہیں ہونا چاہیے۔ تم ایک مبلغ قوم ہو۔ تم ایک مشنری قوم ہو۔ تم اپنے مشن کو کبھی نہ بھولو۔ تمھیں وہ حکومت قائم کرنی چاہیے جو دنیا میں اسلام کے لیے ایک مشنری حکومت بن جائے۔ میں اس وقت یہ دیکھ رہا تھا کہ مسلمان قوم خدا کے فضل سے اب ہندو قوم کے اندر جذب ہونے سے تو بچ گئی ہے۔ اس کے اندر اپنی قومیت کا احساس اب اتنا مضبوط ہو گیا کہ کسی نہرو اور کسی گاندھی کے بس کا یہ کام نہیں رہا ہے کہ ان کو ہندوؤں، یا ہندستانی قومیت کے اندر جذب کر سکے۔ اب جو مسئلہ میری نگاہ میں اہم تھا وہ یہ تھا کہ مسلمان قوم کو احساس دلایا جائے کہ اسلامی حکومت کیا چیز ہوتی ہے، اسے قائم کرنے کے لیے کس سیرت و کردار کی ضرورت ہے، کس طرح کی تحریک سے وہ قائم کی جا سکتی ہے، اور ایک اسلامی حکومت اور مسلمانوں کی قومی حکومت میں اصولاً اور عملاً کیا فرق ہوتا ہے۔ اسی غرض کے لیے میں نے وہ سلسلۂ مضامین لکھنا شروع کیا جو بعد میں مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش حصہ سوم کے نام سے شائع ہوا۔ اس کے مضامین زیادہ تر ۱۹۳۹ء سے ۱۹۴۰ء تک لکھے گئے تھے اور اس کا کچھ حصہ ۱۹۴۱ء کا لکھا ہوا ہے۔

آج اُس کے متعلق جس کا جو جی چاہے کہتا رہے، مجھے اس کی کوئی پروا نہیں۔ میں اپنی جگہ ایمان داری سے یہ سمجھتا ہوں کہ اس وقت میرا فرض یہی تھا کہ مسلمانوں کو اس بات کا احساس دلاؤں کہ محض قومی حکومت تمھارا مقصود نہیں ہونا چاہیے بلکہ تمھارا مقصود یہ ہونا چاہیے کہ تم ایک اسلامی حکومت قائم کرو اور ایک اسلامی حکومت قائم کرنے کے لیے جس سیرت و کردار کی ضرورت ہے وہ اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرو، لیکن جب میں نے دیکھا کہ میری آواز صدا بصحرا ثابت ہو رہی ہے تو پھر دوسرا قدم جو میری سمجھ میں آیا، یہ تھا کہ اپنی طرف سے ایک ایسی جماعت منظم کرنی چاہیے جو صاحب کردار لوگوں پر مشتمل ہو اور ان فتنوں کا مقابلہ کر سکے جو آگے آتے نظر آ رہے تھے۔ جس وقت تحریک پاکستان اُٹھی ہے اور ۱۹۴۰ء میں قرارداد پاکستان پاس ہوئی ہے، ظاہر بات ہے کہ اس وقت کوئی شخص بھی یقین کے ساتھ یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ ملک یقیناً تقسیم ہو جائے گا اور پاکستان ضرور بن جائے گا۔ حتیٰ کہ ۱۹۴۷ء کے آغاز تک بھی یہ بات یقینی نہیں تھی کہ واقعی پاکستان بن جائے گا۔ اُس وقت جو اہم ترین سوالات میرے سامنے تھے وہ یہ تھے کہ حالات جس رخ پر جارہے ہیں ان میں ایک شکل تو یہ پیش آسکتی ہے کہ پاکستان کے لیے کوشش کرکے مسلم لیگ ناکام ہوجائے اور ہندوستان میں انگریز واحد ہندوستانی قومیت کی بنیاد پر ایک جمہوری حکومت قائم کرکے اسے ہندوؤں کے حوالے کرکے چلا جائے۔ اس صورت میں کیا کرنا ہو گا؟ دوسری شکل یہ پیش آسکتی ہے کہ مسلم لیگ اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائے اور ملک تقسیم ہو جائے۔ اس صورت میں جو کروڑوں مسلمان ہندوستان میں رہ جائیں گے ان کا کیا حشر ہوگا؟ اور خود پاکستان میں اسلام کا حشر کیا ہوگا؟ جس قسم کے عناصر پاکستان کی تحریک میں شامل ہورہے تھے ان کو دیکھتے ہوئے میں یقینی طور پر یہ سمجھ رہا تھا کہ یہ عناصر جمع ہو کر ایک ملک بنا سکتے ہیں، ایک قومی حکومت قائم کرسکتے ہیں، لیکن ان عناصر سے کبھی یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ یہ ایک اسلامی حکومت بنالیں گے۔ میں اس کو بالکل صاف دیکھ رہا تھا۔ مسئلہ ایک شخص کا یا چند اشخاص کا نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس تحریک میں جو لوگ شامل ہورہے تھے، جو اس میں پیش پیش تھے، جو اس تحریک کو چلا رہے تھے، ان کے کیریکٹر کو دیکھتے ہوئے، ان کی زندگیوں کو دیکھتے ہوئے، ان کی تعلیم، ان کے خیالات اور ان کی ہر چیز کو دیکھتے ہوئے ان سے کیا توقعات وابستہ کی جاسکتی تھیں۔ میں یہ اندازہ کر رہا تھا کہ یہ ایک ملک بنا سکتے ہیں لیکن اس کو اسلامی حکومت نہیں بنا سکتے۔

اب گویا تین مسئلے درپیش تھے: اگر ملک تقسیم نہ ہو تو مسلمانوں کو بچانے کے لیے کیا کیا جائے۔ ملک تقسیم ہو جائے تو جو مسلمان ہندوستان میں رہ جائیں گے ان کے لیے کیا کیا جائے اور جو ملک مسلمانوں کے قبضے میں آئے گا اس کو مسلمانوں کی کافرانہ حکومت بننے سے کیسے بچایا جائے اور اسے اسلامی حکومت کے راستے پر کیسے ڈالا جائے۔ یہ موقع تھا جب میں نے قطعی طور پر یہ فیصلہ کر لیا کہ جماعت اسلامی کے نام سے ایک جماعت قائم کی جائے۔ کئی سال سے میں جن خیالات کی اشاعت کر رہا تھا، اگرچہ ان کی بنا پر مختلف حلقوں کی طرف سے مجھے گالیاں بھی دی جارہی تھیں، لیکن بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جو ان سے متفق تھے اور سمجھتے تھے کہ حق بات یہی ہے جو میں کہہ رہا ہوں۔ انہی لوگوں کے اتفاق و اشتراک سے جماعت قائم کی گئی۔ جیسا کہ میں نے ابتداء میں آپ سے بیان کیا ہے، یہ اسکیم یکا یک میرے دماغ میں نہیں آ گئی تھی بلکہ بائیس سال تک جو کچھ میں دیکھتا رہا تھا، جو میرے مشاہدات اور تجربات تھے ان سب کو پیش نظر رکھ کر میں نے اس جماعت کی تشکیل کی اور وہ تمام احتیاطیں ملحوظ رکھیں جو ان مشاہدات کی بنا پر ضروری تھیں۔ اب ان میں سے ایک ایک چیز کو میں آپ کے سامنے بیان کرتا ہوں۔

میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ ۱۹۲۵ء سے میں یہ یقین رکھتا تھا کہ مسلمانوں کی نجات اسی میں ہے کہ وہ ایک مشنری قوم کی حیثیت اختیار کریں، اس بات کو نہ بھولیں کہ ایک مسلمان قوم ہونے کی حیثیت سے دنیا میں ان کا ایک مشن ہے، اور اس غلط فہمی میں نہ پڑ جائیں کہ وہ بھی دوسری قوموں کی طرح محض ایک قوم ہیں۔ اس لیے میں نے اولین چیز یہ پیش نظر رکھی کہ ان لوگوں کو جمع کیا جائے جن کے اندر مشنری اسپرٹ موجود ہو، جو اپنے اندر بھی یہ احساس رکھیں کہ ہم ایک مشنری قوم کے فرد ہیں اور مسلمان قوم کو بھی ایک مشنری قوم بنانے کی کوشش کریں۔[میرے نزدیک یہی اس مسئلے کا حل تھا جس سے ہندستان کے مسلمان دوچار تھے۔ غیر مسلم اکثریت کے درمیان ایک مسلم اقلیت کا وجود، اور پھر اس میں جمہوریت کا یہ اصول کہ تمام ملکی مسائل کے فیصلے اکثریت کی رائے سے ہوں، مسلمانوں کے لیے ایک ایسا پیچیدہ مسئلہ پیدا کر رہا تھا جسے جدا گانہ انتخاب اور آئینی تحفظات کے ذریعے سے کسی طرح حل نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اپنے قومی وجود کے تحفظ کے لیے لڑ کر مسلمان جیت نہیں سکتے تھے۔ اس کا صحیح حل یہی تھا اور آج بھی ہے کہ مسلمانوں میں پھر انھی مبلغانہ اوصاف کو تازہ کیا جائے جن کی بدولت برصغیر ہند میں کروڑوں غیر مسلم اس سے پہلے مسلمان ہو چکے تھے اور جن کی بدولت اسی برصغیر میں دو بڑے خطے ایسے پیدا ہوئے جن میں مسلم اکثریت کی بنیاد پر پاکستان بننا ممکن ہوا۔]

میں یہ بات بھی پہلے عرض کر چکا ہوں کہ ۱۹۲۶ء سے، جب کہ میں نے اپنی کتاب الجہاد فی الاسلام لکھی تھی، میرے دماغ میں یہ تصور پوری طرح مستحکم ہو چکا تھا کہ مسلمانوں کا اصل نصب العین اسلامی نظام زندگی کا قیام ہے۔ اُن کا نصب العین اپنی ایک قومی حکومت کا قیام نہیں ہے بلکہ اُن کا حقیقی نصب العین ایک ایسی ریاست قائم کرنا ہے جو دنیا میں اللہ کا کلمہ بلند کرے۔ جس کی تہذیب و ثقافت، جس کا معاشرتی نظام، جس کا معاشی نظام، جس کا اخلاقی ماحول، جس کی عدالت، جس کی پولیس، جس کے قوانین، جس کی فوج، جس کی سفارت، غرض جس کی ہر چیز دنیا کے سامنے اسلام کا نمونہ پیش کرنے والی ہو، جس کو دیکھ کر دنیا یہ جانے کہ اسلام اور کفر میں کیا فرق ہے اور اسلام ہر حیثیت سے کتنا بلند ہے۔ اسی چیز کو ہم نے جماعت اسلامی کا نصب العین قرار دیا۔ اسلام کی اصطلاح میں ان کا نام اقامت دین ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے کہ << أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ >> الشوریٰ 13:42

اس کے ساتھ جو چیز میں نے جماعت کی تشکیل میں پیش نظر رکھی وہ یہ تھی کہ جماعت ایسے افراد پر مشتمل ہونی چاہیے جو نہ صرف عقیدے میں مخلص ہوں بلکہ اپنی انفرادی سیرت و کردار میں بھی قابل اعتماد ہوں۔ میرے ۲۲ سال کے مشاہدات یہ بتا رہے تھے کہ مسلمانوں کی جماعتوں اور تحریکوں کو جس چیز نے آخر کار خراب کیا وہ اچھے لوگوں کے ساتھ بہت سے ناقابل اعتماد لوگوں کا شریک ہو جانا تھا۔ تحریک خلافت میں بڑے بڑے نیک اور فاضل اور بہترین اخلاق کے لوگ شامل تھے، لیکن ایک کثیر تعداد اس میں ایسے کارکنوں کی بھی آ کر شامل ہو گئی تھی جو سیرت و کردار کے لحاظ سے ناقص تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انھوں نے اپنے اعمال سے تحریک کو بد نام کیا۔ اپنے بہترین لیڈروں کو بد نام کیا۔ مسلمانوں نے جو لاکھوں کروڑوں روپیہ جمع کرکے اس کار خیر کے لیے دیا تھا، اس کا اچھا خاصا حصہ ان غلط کارکنوں کے ہاتھوں خرد برد ہوا اور ایک مدت دراز تک مسلمانوں میں چندے کا نام لینا مشکل ہو گیا کیونکہ عوام سے چندہ لے کر کام کرنے والے کارکنوں کا اعتماد اس بری طرح مجروح ہو چکا تھا کہ مخلص اور نیک نیت کارکن بھی اگر کسی اچھے کام کے لیے لوگوں سے مالی مدد طلب کرتے تھے تو لوگ سمجھتے تھے کہ یہ چندہ کھا جائیں گے۔ انھی مشاہدات کی بنا پر میں نے یہ رائے قائم کی کہ اصل اہمیت کثرت تعداد کی نہیں بلکہ قابل اعتماد سیرت و کردار رکھنے والے کارکنوں کی ہے۔ خواہ تھوڑے ہی افراد ملیں، مگر بہر حال ہماری جماعت صرف ایسے لوگوں پر مشتمل ہونی چاہیے جن میں سے ایک ایک فرد کی سیرت قابل اعتماد ہو۔ جس کے قول اور عمل پر لوگ بھروسہ کر سکیں، جس کے ہاتھ میں مسلمان اپنا مال اطمینان کے ساتھ دے سکیں اور ان کو پورا یقین ہو کہ جس کام کے لیے یہ مال اس کے ہاتھ میں دیا جا رہا ہے اسی کام میں یہ صرف ہوگا۔ اس کے ساتھ میں نے اپنے طویل تجربات و مشاہدات کے بعد یہ نتیجہ بھی اخذ کیا تھا کہ مسلمانوں کی تحریکوں کے ناکام ہونے یا ابتدا میں کامیاب ہوکر، آخر کار ناکام ہو جانے کے اہم اسباب میں سے ایک سبب تنظیم کی کمی بھی ہے۔ میں نے فیصلہ کیا کہ جماعت اسلامی کا نظم نہایت سخت اور مضبوط ہونا چاہیے، خواہ کوئی رہے یا جائے، عزیز سے عزیز آدمی بھی چلا جائے تو کوئی پروا نہ کی جائے لیکن تنظیم میں ڈھیل نہ ہونے دی جائے۔ اس لیے کہ ایک غیر منظم جماعت کبھی ایسی طاقتوں کا مقابلہ نہیں کرسکتی جو تنظیم کے ساتھ اٹھنے والی ہوں۔ ایک قلیل التعداد جماعت اگر منظم ہو اور حکمت کے ساتھ کام کرے تو وہ پوری ایک قوم کو سنبھال سکتی ہے، لیکن لاکھوں انسانوں کی بھیڑ آپ جمع کرلیں اور اُس کے اندر تنظیم نہ ہو تو وہ کوئی کام نہیں کرسکتی۔ اس بنا پر ہم نے جماعت میں شریک کرنے کے لیے ایک ایسا معیار تجویز کیا جو اسلام کی رو سے مسلمان ہونے کی کم سے کم شرائط ہیں۔ اپنی طرف سے کوئی چیز ہم نے اضافہ نہیں کی۔ مسلمان کے اوپر اللہ تعالیٰ نے جو فرائض عائد کیے ہیں ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ ہمارا جو رکن بھی ہو وہ ان فرائض کا پابند ہو، ان فرائض کی ادائیگی میں کوئی ڈھیل برداشت نہ کی جائے گی۔ اسی طرح اسلام نے جن چیزوں کو حرام کیا ہے ہمارے ارکان میں کوئی ایسا نہیں ہونا چاہیے جو ان میں سے کسی کا ارتکاب کرنے والا ہو۔ ظاہر بات ہے کہ اگر آپ لوگوں کو برائیوں سے روکنے کے لیے جائیں اور آپ خود ان میں کسی برائی میں مبتلا ہوں تو آپ کی تبلیغ کا آخر کیا اثر ہوگا؟[جماعت نے اپنی تنظیم کو چلانے کے لیے باقاعدہ ایک دستور بھی بنایا ہے جو شائع شدہ موجود ہے۔ اس میں ہم نے جماعت کے ڈسپلن کو برقرار رکھنے کے لیے جو طریق کار طے کیا ہے اس کی ہم سختی کے ساتھ پابندی کراتے ہیں اور کسی عہدیدار، یا رکن یا جماعت کی کسی شاخ کو دستور کے خلاف کام کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ دستور کو توڑ کر جو شخص بھی کام کرے اسے یا تو اپنی اصلاح کرنی ہوتی ہے یا پھر جماعت چھوڑنی پڑتی ہے۔]

تاہم ارکان جماعت کے علاوہ معاشرے میں ایسے بہت سے لوگ موجود ہیں جو ہمارے مقصد کو پسند کرتے ہیں اور ہم سے تعاون کرنا چاہتے ہیں، لیکن رکنیت کی پابندیاں اور جماعت کا ڈسپلن قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کے لیے ہم نے یہ طے کیا کہ انھیں متفق کی حیثیت سے اپنے ساتھ ملائیں تا کہ جتنی کچھ بھی وہ ہماری مدد کر سکتے ہیں‘ ہاتھ سے‘ پاؤں سے‘ زبان سے‘ مال سے‘ جس چیز سے جتنا کچھ بھی وہ ہمارے ساتھ تعاون کر سکتے ہیں‘ کریں مگر متفق بن کر کریں اور جماعت کے نظم میں دخل نہ دیں۔ اس طرح سے ہم نے جماعت سے تعلق رکھنے والوں کی دو قسمیں بنا دیں جس پر روز اعتراض ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ صاحب اس جماعت کے اندر عجیب صورت حال ہے کہ ارکان صرف چند لوگ ہیں باقی سب متفق ہیں۔ حالانکہ یہ اعتراض صرف دور سے کھڑے ہو کر دیکھنے والے ہی کرتے ہیں۔ خدا کے فضل سے جو لوگ ہمارے متفقین میں شامل ہوئے ہیں وہ اس بات پر مطمئن ہیں کہ جماعت کا یہی نظم ٹھیک ہے۔ دراصل کسی متفق کے لیے بھی ہمارے ہاں رکنیت کا دروازہ بند نہیں ہے۔ جس وقت بھی وہ چاہے رکنیت کی شرائط پوری کر کے اور جماعت کا ڈسپلن قبول کر کے رکنیت کی درخواست دے دے۔ ہم تو خود چاہتے ہیں اور بار بار کہتے ہیں کہ ہمارے متفقین رکن جماعت بننے کی کوشش کریں، مگر یہ ان کی اپنی ہی مجبوریاں ہیں جن کی وجہ سے وہ رکنیت اور نظم جماعت کی پابندیاں قبول کرنے سے اپنے آپ کو عاجز پاتے ہیں اور متفق بن کر دامے، درمے، سخنے جماعت کے ساتھ ہر وہ تعاون کر رہے ہیں جو ان کے امکان میں ہے۔ انھیں اس بات کی کوئی شکایت نہیں ہے کہ ان کو متفق بنا کر کیوں رکھا گیا ہے۔

ایک اور چیز جس کو ہم نے جماعت کی تشکیل میں پیش نظر رکھا وہ یہ تھی کہ جدید اور قدیم تعلیم یافتہ، دونوں قسم کے عناصر کو ملا کر ایک تنظیم میں شامل کیا جائے اور یہ دونوں مل کر اسلامی نظام قائم کرنے کے لیے ایک تحریک چلائیں۔ اپنے سابقہ تجربات کی بنا پر میری یہ رائے تھی کہ خالص جدید تعلیم یافتہ لوگوں کی جماعت چاہے اپنی جگہ اسلام کے معاملے میں کتنی ہی مخلص ہو لیکن چونکہ وہ دین کو نہیں جانتی اس لیے تنہا وہ ایک دینی نظام قائم نہیں کر سکتی۔ اس طرح محض دینی تعلیم پائے ہوئے لوگ اگرچہ وہ دین کو خوب جانتے ہیں مگر چونکہ انھوں نے وہ تعلیم حاصل نہیں کی جس سے وہ ایک جدید دور میں ایک جدید ریاست کا نظام چلا سکیں، اس لیے صرف ان پر مشتمل کوئی خالص مذہبی جماعت بھی نہ دینی نظام قائم کر سکتی ہے، نہ اسلام کی بنیاد پر جدید دور میں ایک اسلامی ریاست کا انتظام کر سکتی ہے۔ ان وجوہ سے میرے نزدیک یہ ناگزیر تھا کہ ان دونوں گروہوں کو ملایا جائے۔ جماعت کے اندر جدید تعلیم یافتہ طبقے میں سے ایسے سب لوگوں کو شامل کیا جائے جو نہ صرف مخلص مسلمان ہوں بلکہ اسلامی احکام پر عمل کرنے کے لیے بھی تیار ہوں اور جن کا ذہن اس حد تک مومن ہو کہ کسی بات کو تسلیم کرنے کے لیے وہ عقلی دلیل کو شرط نہ سمجھتے ہوں بلکہ یہ دلیل ان کے لیے بالکل کافی ہو کہ اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم ہے اور جب ان کو معلوم ہو جائے کہ اللہ اور رسول کا یہ حکم ہے تو پھر وہ بلا تامل سر جھکا دیں۔ اسی طرح ان دین دار علماء کو بھی اس میں شامل کر لیا جائے جن کے اندر گروہی تعصب موجود نہ ہو اور جو خود اس بات کی ضرورت سمجھتے ہوں کہ اس دور میں اسلامی نظام قائم کرنے کے لیے انھیں جدید تعلیم یافتہ لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔[یہ جماعت اسلامی کی خصوصیات میں سے ایک اہم خصوصیت ہے کہ اس نے جدید اور قدیم تعلیم یافتہ لوگوں کو ملا کر ایک مزاج اور ایک طرز فکر رکھنے والی مشترک قیادت فراہم کی ہے، ورنہ اس سے پہلے علماء جب کبھی جدید تعلیم یافتہ لوگوں کے ساتھ ملے ہیں محض ایک مددگار قوت کی حیثیت سے ملے ہیں۔ قیادت میں ان کا کوئی حصہ نہیں رہا ہے۔ ان کا ایک گروہ کانگریس کی طرف گیا، اور دوسرا گروہ مسلم لیگ کی طرف، مگر نہ کانگریس کی پالیسیاں بنانے میں ان کا کوئی حصہ تھا، نہ مسلم لیگ کی پالیسیاں بنانے میں۔ ان کا کام صرف یہ تھا کہ جس قیادت کی بھی وہ تائید کریں اس کے پیچھے مسلمانوں کو لگا دینے کی خدمت انجام دیں۔]

جماعت نے یہ کوشش بھی کی کہ ہر فرقہ اور مسلک کے مسلمانوں کو ایک جگہ جمع کیا جائے۔ ظاہر بات ہے کہ اصل اسلام قرآن و سنت کو ماخذ قانون ماننے کا نام ہے اور ہر وہ شخص مسلمان ہے جو ان دونوں چیزوں کو قانون کا ماخذ مانتا ہو۔ [اس سے صرف وہی لوگ مستثنیٰ ہو سکتے ہیں جو قرآن و سنت کو ماخذ قانون ماننے کے باوجود کوئی ایسا مذہب ایجاد کریں جو خود قرآن و سنت ہی کی صریح تعلیمات کے خلاف پڑتا ہو، مثلاً قادیانی حضرات۔] لیکن ہر مسئلے میں قرآن و سنت کے احکام و ارشادات کی لازماً صرف ایک ہی تعبیر نہیں ہو سکتی بلکہ مختلف تعبیریں ممکن ہیں اور عملاً کی بھی گئی ہیں جن کی بدولت مسلمانوں میں مختلف مکاتب فکر رکھنے والے گروہ پائے جاتے ہیں۔ اب اگر ہم اپنے اندر یہ رواداری پیدا نہیں کریں گے کہ ہم میں سے جو گروہ جس تعبیر کو صحیح سمجھتا ہو اس پر خود عمل کرے اور دوسرے گروہ پر اپنی تعبیر کو زبردستی نہ ٹھونسے، بلکہ اس کا بھی یہ حق تسلیم کرے کہ جو تعبیر اس کے نزدیک صحیح ہے اس پر وہ عمل کرتا رہے، تو ہمارے لیے مل کر کام کرنا اور پورے ملک میں قرآن وسنت کا قانون نافذ کر دینا کسی طرح ممکن نہ ہوگا۔ اس لیے لامحالہ ہمیں مسالک کے اختلاف کو صرف مسالک کے اختلافات کی حد تک رکھنا ہوگا۔ ان کی بنا پر اپنے آپ کو الگ الگ امتیں بنالینا اور اپنی الگ الگ تنظیمات قائم کرنا مناسب نہ ہوگا۔ جماعت اسلامی نے اسی بنا پر یہ طے کیا کہ سب مسلکوں کے لوگ اس بات پر اتفاق کریں کہ ہمیں وہ نظام قائم کرنا ہے جس کی بنیاد قرآن اور سنت کی تعلیمات پر ہو، اور اس غرض کے لیے وہ ایک ہی تنظیم میں شامل ہو کر کام کریں۔ اس طرح جماعت نے ہر فرقہ و مسلک کے لوگوں کو اپنے ساتھ ملایا۔ اس کے اندر اہل حدیث بھی ہیں، بریلوی بھی ہیں، دیوبندی بھی ہیں، شیعہ حضرات میں سے ابھی تک کوئی رکن تو نہیں بنا ہے لیکن متفقین میں اچھی خاصی تعداد اُن کی بھی موجود ہے۔ جماعت اسلامی بنی ہی اسی اصول پر ہے کہ آپ اپنا جو مسلک بھی رکھتے ہوں اُس پر عمل کیجیے مگر دوسرے پر زبردستی اس کو نہ ٹھونسیے۔ جس عمل کو آپ صحیح نہیں سمجھتے وہ نہ کیجیے، لیکن اس بات کا مطالبہ بھی نہ کیجیے کہ دوسرا بھی اسے صحیح نہ سمجھے اور اسے چھوڑ دے۔ اس کے بعد ہم سب مل کر اسلامی نظام قائم کرنے کی کوشش کریں۔

اب میں مختصراً آپ کو بتاؤں گا کہ جماعت اسلامی میں جو لوگ شریک ہوتے ہیں اُن کی تربیت کے لیے ہم نے کیا طریقہ اختیار کیا ہے۔ اگرچہ ہم تربیت گاہیں بھی قائم کرتے ہیں اور اسلامی لٹریچر کا مطالعہ بھی ان کو کراتے ہیں تاکہ وہ دین کو اچھی طرح سمجھیں، لیکن ہمارے نزدیک اصل تربیت یہ ہے کہ آدمی اللہ کے دین کی طرف دعوت دینے کے لیے اٹھ کھڑا ہو، اور خلقِ خدا کے سامنے دین کو پیش کرے۔ یہ کام آدمی جب کرنے کے لیے اٹھتا ہے تو اس کی زندگی میں جس پہلو سے بھی کوئی کمزوری ہوتی ہے فوراً لوگ اس پر انگلی رکھ دیتے ہیں کہ اپنے اندر یہ کمزوری لیے ہوئے تم ہمارے پاس کیا تبلیغ کرنے آئے ہو۔ یہ وہ تربیت ہے جو ہر اس شخص کو روز ملے گی جو تبلیغ دین کرے گا۔ ہر طرف سے لوگ اس کو مانجھ مانجھ کر صاف کریں گے یہاں تک کہ وہ آخر کار ایک کھرا مسلمان بن جائے گا۔ اسی طرح تزکیۂ نفس کے لیے بھی ہمارا ایک خاص طریقہ ہے۔ ہمارا تزکیۂ نفس یہ ہے کہ آپ اللہ کے دین کا کام کرتے ہوئے گالیاں کھائیں مگر کسی گالی کا جواب گالی سے نہ دیں۔ آپ پر جھوٹے الزامات لگائے جائیں لیکن جواب میں آپ جھوٹا الزام کسی پر نہ لگائیں۔ آپ کے سامنے طرح طرح کے لالچ آئیں گے مگر کوئی لالچ آپ کو سیدھی راہ سے نہ ہٹا سکے۔ آپ کو راہ خدا میں چلتے ہوئے طرح طرح کے نقصانات اٹھانے پڑیں اور آپ ٹھنڈے دل سے انھیں برداشت کر لیں۔ خوفناک طاقتیں سامنے آکر آپ کو ڈرائیں مگر آپ کسی سے ڈر کر اپنا وہ راستہ نہ چھوڑیں جسے آپ حق سمجھتے ہیں۔ میرے نزدیک نفس کا اس سے بڑا ذریعہ اور کوئی نہیں ہے، اور یہ تزکیہ نفس حجروں میں نہیں ہوسکتا، یہ صرف میدان عمل میں نکل کر ہی ہوسکتا ہے۔

عام طور پر ہمارے مخالفین ہم پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ یہ ایک فسطائی جماعت ہے اور اس کے اندر کوئی جمہوریت نہیں ہے۔ حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی میں جتنی جمہوریت ہے شاید دنیا کی کسی جماعت میں بھی ایسی جمہوریت نہیں ہے، لیکن لوگ اس کو اس وجہ سے نہیں سمجھ سکتے کہ انھوں نے دنیا کی عام پارٹیوں کی طرح جماعت اسلامی کے متعلق کبھی یہ نہیں سنا کہ اس میں عہدہ داروں کے انتخاب کے موقع پر مختلف امیدوار کھڑے ہوئے ہوں، ان کے درمیان کشمکش برپا ہوئی ہو، اور کوئی امیدوار عہدہ نہ ملنے کی بنا پر لڑ جھگڑ کر جماعت سے باہر نکل گیا ہو، یا جماعت کے اندر رہ کر لڑتا رہا ہو۔ چونکہ لوگ یہی منظر پارٹیوں میں دیکھنے کے عادی رہے ہیں، اور یہاں یہ نظر نہیں آتا، اس لیے وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ یہاں شاید کسی فسطائی طریقے سے عہدے تقسیم ہوتے ہوں گے۔ لیکن حقیقت واقعہ اس کے برعکس ہے۔ جماعت نے ابتدا سے اپنے نظام کو نفسانیت سے پاک رکھنے اور اپنے کارکنوں کو بے غرض اور خالص نیک نیت کارکن بنا کر رکھنے کے لیے یہ طے کر دیا تھا کہ ہمارے ہاں کوئی شخص کبھی کسی عہدے کا خود امیدوار نہ ہو گا، کوئی عہدہ حاصل کرنے کے لیے کسی قسم کی کوشش یا کنویسنگ نہ کرے گا، بلکہ اگر کسی کے اندر امیدواری کی بو بھی پائی گئی، یا کوئی عہدہ نہ ملنے پر کبیدہ خاطری محسوس کی گئی تو اسے نہ صرف یہ کہ کسی عہدے کا اہل نہ سمجھا جائے گا بلکہ اس کی رکن جماعت ہونے کی اہلیت بھی مشتبہ ہو جائے گی۔ جماعت میں انتخابات کا طریقہ یہ ہے کہ امیر جماعت سے لے کر نیچے تک کے مناصب کے جس عہدے کے لیے بھی انتخاب مطلوب ہو، اس کے لیے ارکان جماعت کو براہِ راست پرچہ ہائے رائے دہندگی بھیج دیے جاتے ہیں اور ان سے کہا جاتا ہے کہ اس عہدے کے لیے آپ کے نزدیک جو شخص موزوں ہو اس کا نام لکھ دیجیے۔ اس کے لیے کوئی کنویسنگ نہیں ہوگی۔ کوئی شخص لوگوں سے جا کر یہ نہیں کہے گا کہ آپ مجھے ووٹ دیجیے، یا فلاں شخص کو ووٹ دیجیے۔ یہ ووٹر کا اپنا کام ہے کہ خود اپنی جگہ بیٹھ کر رائے قائم کرے کہ اس منصب کے لیے کون آدمی اس کی نگاہ میں موزوں ہے۔ وہ اس کا نام لکھ کر بھیج دے گا اور اس کے بعد کثرت رائے سے یہ فیصلہ ہو جائے گا کہ یہ منصب کس کو دیا جائے۔ اس طریقے سے ہمارے ہاں انتخابات ہوتے رہے ہیں۔

جماعت اسلامی کے نظام کو خرابیوں سے پاک رکھنے کے لیے ہم نے جو طریقہ اختیار کیا ہے وہ یہ ہے کہ ارکان کے اجتماعات میں کھلا کھلا محاسبہ ہوتا ہے۔ صاف صاف غلطیوں کی نشان دہی ہوتی ہے۔ ارکان ہوں یا عہدے دار، سب پر بے لاگ تنقید ہوتی ہے۔ جس شخص میں کوئی کمزوری ہو، یا جس سے کوئی غلطی سرزد ہوئی ہو، بے تکلف اُس پر گرفت کی جاتی ہے اور اس کی اصلاح کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ارکان جماعت کے اجتماعاتِ عام میں، سب سے پہلے میں نے اپنے آپ کو تنقید کے لیے پیش کیا ہے۔ رفقا کو کھلی دعوت دی ہے کہ ”میرے اوپر جو اعتراض بھی ہو، مجھ سے جو شکایت بھی ہو، اسے بیان کریں، میں مجمع عام میں اس کی جواب دہی کروں گا“، بعض اوقات میرے اوپر اجتماعات میں ایسی سخت تنقید ہوئی ہے کہ نئے ارکان اُسے سن کر پریشان ہو گئے ہیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے کہ برسرِ عام امیر جماعت کی خبر لی جا رہی ہے، مگر میں نے اُن کو سمجھایا کہ ”بھائی! یہی تو وہ ذریعہ ہے جس سے ہم جماعت کو درست رکھ سکتے ہیں، تم اس سے گھبراتے کیوں ہو؟ اگر میں اپنی جماعت کے لوگوں کو مطمئن نہ کر سکوں تو میں اس قابل نہیں ہوں کہ اس جماعت کو چلاؤں۔ ان لوگوں کو حق ہے کہ مجھ پر تنقید کریں، اور میرا فرض ہے کہ ان کو مطمئن کروں۔ اگر انھیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے تو اسے رفع کر کے انھیں مطمئن کروں گا اور اگر ان کا اعتراض صحیح ہے تو میں اپنی غلطی کا اعتراف کر کے اپنی اصلاح کروں گا“۔ اس طریقے سے آج تک ہم اپنی جماعت کو خرابیوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

اب میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ جماعت میں شوریٰ کا طریقہ کیا ہے؟

اس جماعت کی پوری تاریخ میں شاید دو چار دفعہ ہی یہ نوبت آئی ہے کہ ووٹ لے کر اکثریت سے کوئی فیصلہ کیا گیا ہو ورنہ ہم آج تک ہمیشہ یہی کوشش کرتے رہے ہیں کہ ہمارا جو فیصلہ بھی ہو اتفاق رائے سے ہو۔ ہم نے بعض اوقات کئی کئی روز تک اس لیے بحث جاری رکھی ہے کہ ہماری مجلس شوریٰ کا ایک آدمی مطمئن نہیں ہو رہا تھا۔ بارہا ایسا ہوا کہ مجلس شوریٰ کے ارکان طولِ بحث سے گھبرا اٹھتے تھے اور مطالبہ کرتے تھے کہ ووٹ لے کر کثرت رائے سے فیصلہ کر دیا جائے، مگر میں نے ان کو سمجھایا کہ ہم جس کام کو لے کر چل رہے ہیں اس کے لیے پوری جماعت کا مطمئن ہو کر چلنا ضروری ہے۔ اس لیے اگر مجلس شوریٰ کے ایک آدمی کے دل میں بھی کوئی کھٹک ہے تو اسے دور کرنے کی آخر وقت تک کوشش کیجئے اور ووٹ لے کر صرف اس وقت فیصلہ کیجیے جب اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہے۔ اسی کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری مجلس شوریٰ میں جو فیصلے بھی ہوتے رہے ہیں پوری جماعت پورے اطمینان کے ساتھ ان کو لے کر چلی ہے۔

اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ کس طرح بنتی ہے اور ہماری موجودہ مجلس کن عناصر پر مشتمل ہے۔ جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ کو ارکان جماعت براہ راست اپنے ووٹوں سے منتخب کرتے ہیں۔ اس میں کوئی ایک شخص بھی نامزد کیا ہوا نہیں ہوتا۔ موجودہ مجلس شوریٰ میں مشرقی پاکستان سے علماء کی تعداد پانچ ہے، بی اے تین ہیں، ایم اے دو ہیں اور انجینئر ایک۔ مغربی پاکستان سے علماء سترہ ہیں، بی اے پانچ، بی اے بی ایڈ ایک، ایل ایل بی دو، ایم اے گیارہ، ایم کام ایک اور بی ایس سی زراعت ایک۔ اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ مجلس شوریٰ علماء اور نئے تعلیم یافتہ لوگوں کا مجموعہ ہے جو مل کر فیصلے کرتے ہیں۔

اسی طرح سے جماعت نے قومی اسمبلی کے لیے اپنے جو نمائندے نامزد کیے ہیں ان کے بارے میں بھی میں آپ کو بتاتا ہوں کہ ان میں کن قابلیتوں کے لوگ شامل ہیں۔ بعض لوگ یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ یہ مولوی لوگ آ کر ملک کا نظام کیسے چلائیں گے۔ اب ذرا ان مولویوں کی فہرست ملاحظہ فرمائیے اور خود دیکھ لیجیے کہ یہ ملک کا نظام چلا سکتے ہیں یا نہیں۔ مشرقی پاکستان سے جن لوگوں کو ہم نے قومی اسمبلی کے لیے نمائندہ تجویز کیا ہے ان میں علماء ۱۷ ہیں۔ بی اے ۱۶۔ انجینئر ۱۔ بیرسٹر ۱۔ ایل ایل بی ۳۱ اور ایم اے ۲۱۔ مغربی پاکستان سے علماء ۱۳ ہیں۔ ایل ایل بی ۱۲ ہیں۔ ایم اے، ایم ایس سی اور ایم کام ۱۷۔ بی اے اور بی ایس سی ۱۲، انجینئر ۲ اور ایم بی بی ایس ۲۔[ان کے علاوہ ایک ریٹائرڈ میجر جنرل، ایک ریٹائرڈ بریگیڈیئر اور تین ریٹائرڈ میجر بھی اس ٹیم میں شامل ہیں۔]

یہ ٹیم ہے جو قومی اسمبلی میں لے جانا چاہتے ہیں۔ اسی سے آپ قیاس کر سکتے ہیں کہ صوبائی اسمبلی میں ہم کیسے لوگوں کو لے جا رہے ہیں۔[ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جماعت نے کبھی اسمبلیوں کے لیے امیدواروں سے درخواستیں طلب نہیں کیں، نہ کسی نے خود یہ درخواست کی کہ اسے جماعت کی طرف سے ٹکٹ دیا جائے۔ ہر حلقہ انتخاب کے ارکان و متفقین نے باہم مشورے سے یہ طے کیا کہ وہ کس کو اسمبلی کے لیے کھڑا کرنا چاہتے ہیں اور ان کی تجاویز آنے کے بعد ہمارے پارلیمنٹری بورڈ نے خوب چھان بین کر کے یہ فیصلہ کیا کہ کس حلقے سے کس کو کھڑا کیا جائے۔ اس پوری مدت میں کسی ایک شخص نے بھی آ کر ہم سے یہ شکایت نہیں کہ مجھے چھوڑ کر فلاں آدمی کو کھڑا کرنے کا کیوں فیصلہ کیا گیا ہے۔ البتہ بعض لوگ یہ شکایت ضرور لے کر آئے ہیں کہ جماعت نے ان پر یہ بارِ عظیم ڈال دیا ہے حالانکہ ان سے بہتر آدمی جماعت کو مل سکتے تھے۔] یہ ایسے لوگ ہیں جو اس زمانے کے سیاسی لیڈروں سے علمی قابلیت میں کسی طرح کم نہیں ہیں۔ ملک کے معاملات کو کم از کم اتنی ہی اچھی طرح چلا سکتے ہیں جس طرح دوسرے سیاسی لیڈر چلا سکتے ہیں۔ البتہ فرق یہ ہے کہ ہماری اس ٹیم میں ایسے علماء بھی شامل ہیں جو ہر وقت ہر قدم پر ان کو یہ بتا سکتے ہیں کہ دین کے احکام کیا ہیں، اور ان کے درمیان باہم اتنا تعاون ہے کہ وہ پاکستان کو اسلامی اصولوں کے مطابق ایک جدید ترین ریاست بنانے کی زیادہ اہلیت رکھتے ہیں۔

اس کے ساتھ میں آپ کو یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ جماعت کا نظام پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے۔ ملک کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جس کے لوگ اس میں شامل نہ ہوں۔ اس میں بنگالی بھی ہیں، پنجابی بھی، پٹھان بھی، بلوچ بھی، سندھی بھی اور بروہی بھی۔ غرض پاکستان کی آبادی کے تمام عناصر اس جماعت میں شامل ہیں۔ اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ یہ جماعت کبھی کوئی ایسا فیصلہ کر سکے گی جس سے ملک کے کسی حصے کی آبادی کو بے انصافی کا خطرہ ہو۔ یہ کوئی محدود جماعت نہیں ہے۔ کسی خاص علاقے کی جماعت نہیں ہے۔ کسی خاص علاقے کے تعصبات کو اپیل کر کے نہیں آ رہی ہے۔ جو جماعتیں مختلف علاقوں سے اپنے اپنے علاقے کے تعصبات کو اپیل کر کے آرہی ہیں وہ اگر اسمبلی میں پہنچیں گی تو ملک کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا فیصلہ تو کر سکتی ہیں مگر ملک کو جمع رکھنے کا فیصلہ نہیں کر سکیں گی۔ لیکن جماعت اسلامی ایک ایسی جماعت ہے جس کا نظام پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے اور ملک کی آبادی کا ہر عنصر اس میں شامل ہے۔

یہ بھی آپ کو بتائے دیتا ہوں کہ جماعت نے ۲۹ سال پہلے اپنا جو نصب العین مقرر کیا تھا وہی آج بھی اس کا نصب العین ہے۔ کوئی شخص یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ جماعت کبھی ایک لمحے کے لیے بھی اپنے اس نصب العین سے ہٹی ہے۔ اس لیے اس سے یہ بدگمانی بھی نہیں کی جاسکتی کہ اب وہ اس ملک میں اسلامی نظام قائم کرنے کے سوا کوئی اور راستہ بھی اختیار کر سکتی ہے۔

(اس کے بعد مغرب کی نماز کے لیے جلسہ برخاست ہوا اور پھر نماز مغرب کے بعد حسب ذیل تقریر کی گئی)