جماعت اسلامی کے ۲۹ سال
خطاب (1970-08-26 · جماعت اسلامی کے یومِ تاسیس کی تقریب)سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "جماعت اسلامی کے ۲۹ سال" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک تاریخی اور فکری تحریر ہے جو دراصل ۲۶ اگست ۱۹۷۰ء کو جماعت اسلامی کے یومِ تاسیس کے موقع پر دی گئی تقریر کا متن ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد جماعت اسلامی کے قیام، اس کے فکری و تنظیمی بنیادوں، اور اس کے ابتدائی دور کے حالات کی وضاحت کرنا ہے، خصوصاً ان غلط فہمیوں کو دور کرنا جو بعض اخبارات اور سیاسی حلقوں نے مولانا کے الفاظ کو مسخ کرکے پھیلا رکھی تھیں۔ مولانا نے اس تقریر کو شائع کرنے کا مقصد یہ ظاہر کیا کہ حقیقت عام لوگوں تک پہنچے اور عوام کو صحافیوں کی جانب سے کی گئی جان بوجھ کر غلط رپورٹنگ سے آگاہ کیا جائے۔
کتاب کا پہلا باب، جو دیباچہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے، صرف تعارفی کردار ادا نہیں کرتا بلکہ ایک اخلاقی موقف کا اظہار ہے۔ مولانا نے اس میں اطلاعات کی درستگی، ذمہ داری اور خیانتِ قلم کے خلاف سخت اعتراض کیا ہے۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ غلط اور مسخ شدہ رپورٹنگ نہ صرف ذاتی تصویر کو متاثر کرتی ہے بلکہ عوامی رائے کو غلط سمت میں موڑ دیتی ہے۔ اس لیے انہوں نے اپنی تقریر کو اصل حالت میں شائع کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ حقیقت واضح ہو سکے۔
دوسرے باب میں مولانا نے ۱۹۲۸–۱۹۳۲ کے دوران ہندوستانی مسلمانوں کی سیاسی اور سماجی صورتحال کا جائزہ پیش کیا ہے۔ ان کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ مسلمان قوم باوجود ظاہری طاقت کے باطنی طور پر منتشر اور کمزور تھی۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
بعد از مغرب کا خطاب
اب میں جماعت کی تاریخ ذرا تفصیل کے ساتھ آپ کے سامنے پیش کروں گا۔ جیسا کہ پہلے ذکر آ چکا ہے۔ جماعت کی ابتدا اگست ۱۹۴۱ء میں، ۷۵ ارکان اور ۷۴ روپے،۴ ۱آنے کے سرمائے سے ہوئی تھی (صرف دو آنے کی کسر تھی ورنہ ارکان اور سرمائے کے درمیان کچھ فرق نہ ہوتا)۔ اپنے قیام کے ۱۰ مہینے بعد ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ لاہور سے مرکز کو منتقل کر دیا جائے اور جون ۱۹۴۸ء میں ہم ایک گاؤں میں جا بیٹھے جو دارالاسلام کے نام سے موسوم تھا اور پٹھانکوٹ سے چار میل کے فاصلے پر واقع تھا۔ یہ فیصلہ ہم نے اِس لیے کیا تھا کہ اس وقت ملک میں قیام پاکستان کے لیے ایک زبردست تحریک چل رہی تھی اور ہم یہ مناسب نہیں سمجھتے تھے کہ شہر میں بیٹھ کر اپنا کام کریں اور اس تحریک کے ساتھ خواہی نخواہی کوئی مزاحمت کی صورت پیدا ہو جائے۔ جماعت اسلامی کے پیش نظر یہ بات ہرگز نہ تھی کہ پاکستان کے قیام کے لیے جو تحریک چل رہی ہے اس میں وہ کسی نوع کی مزاحمت کرے۔ آج کوئی شخص ہمارے اوپر جو الزام چاہے رکھ دے لیکن جماعت کے کسی ریزولیوشن، اس کے کسی اجتماع کی کارروائی، اور اس کے کسی بیان سے یہ بات ثابت نہیں کی جاسکتی کہ جماعت نے تحریک پاکستان کی مخالفت کی تھی۔ اس وقت ہمارے پیش نظر جو کام تھا وہ یہ کہ ایک گاؤں میں بیٹھ کر خاموشی کے ساتھ اپنے ارکان اور اپنے متفقین کی تربیت اور تنظیم کریں اور اپنے آپ کو ان حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کریں جو خدانخواستہ اگر تحریک پاکستان ناکام ہو جائے تو ہمارے نزدیک پورے ملک میں مسلمانوں کے ساتھ پیش آنے والے تھے، اور اگر یہ تحریک کامیاب ہو جائے تو ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ اور پاکستان میں اسلام کے ساتھ جن کے پیش آنے کا خطرہ تھا۔ اس لیے ہم نے اپنی تنظیم اور تربیت کا ایک خاص طریقہ اختیار کیا جو آنے والے ممکن حالات کے لیے ہمیں موزوں نظر آتا تھا۔ اسی مقصد کو پیش نظر رکھ کر اگست ۱۹۴۱ء سے اگست ۱۹۴۷ء تک چھ سال کی مدت، ہم نے اس کوشش میں صرف کی کہ جماعت اسلامی کی تنظیم اس قدر مضبوط ہو جائے کہ آئندہ پیش آنے والے حالات میں خواہ کیسے ہی طوفان اٹھیں، اس تنظیم کو ہلایا نہ جاسکے اور یہ تنظیم اپنی جگہ قائم رہے۔ ہمیں یہ اندازہ تھا کہ آگے جو حالات پیش آنے والے ہیں ان کے پیش آجانے کے بعد اس نوعیت کی تنظیم قائم کرنا ممکن نہ ہوگا۔ اس لیے ہم نے یہ چھ سال اپنی تنظیم کو مضبوط کرنے میں صرف کیے اور اس کے ساتھ کام کے لیے ایک ایسا طریقہ اختیار کیا جو بعد کے حالات میں کارآمد ہوسکتا تھا۔ اس طریق کار کی ایک خاص بات یہ تھی کہ جماعت اسلامی اپنے سالانہ اجتماعات ملک کے مختلف حصوں میں کرتی تھی اور ہر اجتماع کے بعد ایک جلسہ عام کرتی تھی جس میں ہندو، سکھ، عیسائی، ہر قوم کے لوگوں کو مدعو کیا جاتا تھا اور اس میں ہم اسلام کی خالص دعوت لوگوں کے سامنے پیش کرتے تھے اور ان کو یہ بتاتے تھے کہ اسلام کیا چیز ہے، کن اصولوں پر وہ قائم ہوا ہے اور ان اصولوں کو اختیار کرنے میں انسانیت کی فلاح کس طرح ممکن ہے۔ انتہائی شدید زمانے میں بھی جب کہ ہندوؤں اور مسلمانوں اور سکھوں کے درمیان سخت کشت و خون برپا ہو رہا تھا ہم نے یہ سلسلہ جاری رکھا۔ اس وقت صرف جماعت اسلامی ہی ایک ایسی جماعت تھی جو ہندوستان کے مختلف حصوں میں ان تمام برسر پیکار قوموں کو ایک جلسہ عام میں جمع کر سکتی تھی اور ان کے سامنے اسلام کی خالص دعوت پیش کرتی تھی۔ ہم ایسے انداز میں یہ دعوت پیش کرتے تھے جس کو ایک ہندو بھی سنتا تھا، ایک سکھ بھی سن سکتا تھا، اور ایک سخت دشمن اسلام بھی سن سکتا تھا۔
۱۹۴۷ء میں جب کشت و خون انتہا کو پہنچ چکا تھا اور ہر طرف سخت مار دھاڑ ملک میں برپا تھی، میں نے ہندوستان کا آخری بار دورہ کیا اور مختلف مقامات پر تقریریں کیں۔ ایک تقریر میں نے اپریل ۱۹۴۷ء میں مدراس کے مقام پر کی، جس میں پوری وضاحت کے ساتھ میں نے ہندوستان کو مسلمانوں کو بتایا کہ تقسیم کے بعد کن حالات سے ان کو سابقہ پیش آنے والا ہے، کیا کچھ ان پر گزرنے والا ہے اور ان حالات میں ان کو کس طرح کام کرنا چاہیے۔ وہ تقریر شائع شدہ موجود ہے اور جماعت اسلامی کی روداد حصہ پنجم میں شامل ہے۔ میں نے وضاحت کے ساتھ اس میں ہندوستان کے مسلمانوں کو بتایا تھا کہ اب تک ہند وقوم پرستی دو ٹانگوں پر کھڑی رہی ہے۔ اس کی ایک ٹانگ ہے انگریز کے مقابلے میں آزادی کی جدوجہد، اور دوسری ٹانگ ہے مسلمانوں کی دشمنی۔ تقسیم کے بعد اس کی ایک ٹانگ آپ سے آپ ٹوٹ جائے گی کیونکہ انگریز کے مقابلے میں آزادی کی جدوجہد کا مقصد پورا ہو جائے گا۔ اس کے بعد یہ قوم پرستی صرف ایک ٹانگ پر کھڑی رہ جائے گی اور وہ مسلمانوں کی دشمنی ہے۔ ہندو قوم پرستی پوری کوشش کرے گی کہ وہ اس ٹانگ کو برقرار رکھے۔ اس کی خاطر وہ ہر طرح کا ظلم و ستم آپ پر کرے گی اور آپ کو ایک مدت دراز تک اسے برداشت کرنا ہوگا، لیکن اس کے بعد آپ یقین رکھیں کہ ہندو قومیت خود اپنے اندر جو داخلی تضادات رکھتی ہے آخر کار وہ برسرِ کار آئیں گے اور ان تضادات کی بدولت یہ قوم پرستی خود بخود اپنے برے انجام کو پہنچ جائے گی۔ اس وقت تک بہرحال آپ کو صبر کرنا پڑے گا۔ اس کے ساتھ میں نے تفصیل کے ساتھ وہاں کے مسلمانوں کو یہ بھی بتایا تھا کہ اس دوران میں آپ کو کیا کام کرنا چاہیے۔ اس میں ایک اہم مشورہ میں نے ان کو یہ دیا تھا کہ آپ ہندوستان کی تمام بڑی زبانوں (ہندی، مرہٹی، گجراتی، تلنگی، ٹامل، ملایالم، بنگالی وغیرہ) میں زیادہ سے زیادہ جس قدر بھی ممکن ہو اسلامی لٹریچر منتقل کر دیں کیونکہ اردو زبان کو یہ لوگ زندہ نہیں رہنے دیں گے۔ اس ملک کی دوسری زبانوں میں اگر آپ لٹریچر منتقل کر دیں گے تو آپ کی آئندہ نسلیں بھی اسلام سے واقف رہ سکیں گی اور ہندوؤں میں بھی اسلام پھیلا یا جا سکے گا۔
مئی ۱۹۴۷ء میں پٹھانکوٹ کے قریب دارالسلام کی بستی میں بھی، ہم نے ایک جلسہ عام منعقد کیا اور اس میں شرکت کے لیے ہندو، سکھ، مسلمان سب کو دعوت دی گئی۔ مشرقی پنجاب میں اس وقت جو حالات تھے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ کوئی شخص اُس وقت یہ تصور نہیں کر سکتا تھا کہ ان حالات میں یہ تینوں قومیں ایک جلسے میں جمع ہو سکیں گی، مگر خدا کے فضل سے ہم نے ان کو وہاں جمع کیا اور اس موقع پر میں نے وہ تقریر کی جو بناؤ اور بگاڑ کے نام سے پمفلٹ کی صورت میں شائع ہو چکی ہے اور میری کتاب اسلامی نظام زندگی میں بھی شامل ہے۔ آج بھی ہر شخص اس کو پڑھ کر دیکھ سکتا ہے کہ میں نے اس نازک زمانے میں اس مجمعے کے سامنے کس طرح حق نصیحت ادا کیا تھا۔
مئی ۱۹۴۷ء ہی میں دارالسلام کے مقام پر جماعت اسلامی کے ارکان و متفقین کا بھی ایک اجتماع ہوا تھا جس میں، میں نے وضاحت کے ساتھ یہ بتایا تھا کہ تقسیم کے بعد پاکستان میں ہم کو کیا کام کس طرح کرنا ہوگا۔ میری یہ تقریر بھی جماعت اسلامی کی دعوت کے نام سے شائع ہو چکی ہے، اور اسے پڑھ کر یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ تقسیم سے پہلے ہی جماعت اسلامی کے سامنے پاکستان میں اپنے کام کے لیے کس قدر صاف اور واضح نقشہ کار موجود تھا۔
تقسیم کے بعد اگست ۱۹۴۷ء کے آخر میں، جماعت اسلامی کا مرکز دارالاسلام سے لاہور منتقل ہو گیا۔[ آج بعض حضرات مجھے یہ طعنہ دیتے ہیں کہ تم بھاگ کر پاکستان کیوں آگئے؟ مجھے اس کا اندازہ ہے کہ پاکستان میں میرا موجود ہونا ان کے لیے کس قدر شدید غم کا موجب ہے، اور اس غم میں میری دلی ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں۔ لیکن انھیں شاید معلوم نہیں ہے کہ میں اس وقت مشرقی پنجاب میں تھا اور اس علاقے کو جس طرح جبراً مسلمانوں سے خالی کرایا گیا تھا اس کی وجہ سے میرے لیے پاکستان آنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یقیناً میں آج ہندوستان کے مسلمانوں کی وہی خدمت انجام دے رہا ہوتا جو ۲۳ سال سے ہندوستان کی جماعت اسلامی انجام دے رہی ہے۔ تاہم اس صورت میں بھی یہ ممکن نہ تھا کہ پاکستان میں جماعت اسلامی کے جو کارکن موجود تھے وہ یہاں اپنا وہی فرض انجام نہ دیتے جو آج وہ انجام دے رہے ہیں۔ اس لیے میرے پاکستان آنے یا نہ آنے سے کوئی خاص فرق نہ پڑتا اور وہ کام تو یہاں لازماً ہو کر ہی رہتا جس کا غم ان حضرات کو لاحق ہے۔]
اُس وقت جماعت کے کل ارکان ۶۲۵ تھے۔ اُن میں سے ۲۴۰ ارکان ہندوستان اور مقبوضہ کشمیر میں رہ گئے اور ۳۸۵ ارکان پاکستان میں یا تو پہلے سے موجود تھے یا بعد میں ہجرت کر کے آگئے۔ اس طرح پاکستان میں جماعت اسلامی کے کام کی ابتدا ۳۸۵ ارکان سے ہوئی۔ ہم نے آغاز ہی میں جماعت اسلامی ہند اور جماعت اسلامی پاکستان کا نظام بالکل ایک دوسرے سے الگ کر دیا تھا، کیونکہ ان دونوں کے درمیان کسی قسم کے ربط کا قطعاً کوئی امکان نہیں تھا۔[بعد میں اخبارات کے ذریعے سے معلوم ہوا کہ جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کا نظم بھی جماعت اسلامی ہند سے ابتدا ہی میں الگ ہو گیا۔]
تقسیم کے بعد چند ہی مہینے گزرے تھے کہ ہمیں یہ نظر آنے لگا کہ تقسیم سے پہلے ہمیں جو اندیشے تھے وہ صحیح ثابت ہو رہے ہیں۔ جس طرح کے متضاد عناصر جمع ہو کر تحریک پاکستان چلا رہے تھے ان کو دیکھتے ہوئے ہم پہلے ہی یہ اندازہ کر رہے تھے کہ پاکستان بننے کے بعد کیا صورت حال پیش آنے والی ہے اور ہم نے دیکھا کہ واقعتاً وہی صورت پیش آ رہی ہے۔ آج ۲۳ سال بعد ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایک ایک چیز جو تقسیم سے کئی سال پہلے ہم نے کہی تھی اس کی پوری طرح تصدیق ہو گئی ہے اور اب کوئی شخص بھی اس کو جھٹلا نہیں سکتا۔ تقسیم کے بعد پاکستان آکر ہم نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ جو مہاجرین یہاں لٹ پٹ کر آ رہے تھے ان کی خدمت شروع کی۔ جس وقت یہ لٹے پٹے لوگ آ کر پاکستان میں پناہ لے رہے تھے، میں بڑے افسوس کے ساتھ بتاتا ہوں کہ عین اسی وقت وہ لوگ جو خود کو بانیانِ پاکستان کہتے ہیں ان کی ایک اچھی خاصی تعداد ہندوؤں کی چھوڑی ہوئی جائیدادوں پر قبضے کرنے میں لگی ہوئی تھی، اور ان میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو مہاجرین کے کیمپوں میں ان لڑکیوں کو تلاش کرتے پھرتے تھے جو ہندوؤں اور سکھوں سے بچ کر آ گئی تھیں۔ اس زمانے میں بہت سی جگہ خود سرکاری افسروں کو جماعت کے کارکنوں پر اعتماد کرنا پڑا کہ ان کے ذریعے سے ہی مہاجرین میں صحیح طریقے سے راشن تقسیم کیا جا سکتا ہے اور مستحقین تک پہنچایا جا سکتا ہے ۔ [اس وقت بھی بکثرت لوگ ایسے زندہ موجود ہیں جو اس بات کی شہادت دیں گے کہ تقسیم کے بعد ہی یہ حالات سامنے آنے شروع ہو گئے تھے۔]
اس کے بعد ہم نے محسوس کیا کہ پاکستان کے بنانے والوں کا ارادہ ہرگز یہاں ایک اسلامی حکومت قائم کرنے کا نہیں ہے ۔[ میرے اس فقرے کو یہ معنی پہنانے کی کوشش کی گئی ہے کہ بانیانِ پاکستان کا شروع ہی سے پاکستان کو ایک اسلامی حکومت بنانے کا ارادہ نہیں تھا۔ پھر اس میں مزید شرارت سے یہ معنی بھی پیدا کر لیے گئے ہیں کہ دراصل میں نے اس فقرے میں قائد اعظم مرحوم پر حملہ کیا ہے۔ حالانکہ یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔ جہاں تک قائد اعظم کا تعلق ہے ان کی پوزیشن میں نے منیر انکوائری کمیٹی کے سامنے اپنے دوسرے بیان مورخہ ۸ نومبر ۱۹۵۳ء میں واضح کر دی تھی۔ یہ پورا بیان اس پمفلٹ کے آخر میں بطور ضمیمہ درج کیا جا رہا ہے تاکہ ہر شخص خود اس کو پڑھ کر دیکھ لے۔ ”پاکستان بنانے والے“ تو ان سے میری مراد وہ بہت سے متضاد عناصر ہیں جو تحریک پاکستان کو مقبول اور کامیاب ہوتے دیکھ کر نہ صرف اس میں شامل بلکہ پیش پیش ہو گئے تھے، اور ان کے متعلق بھی میں نے یہ نہیں کہا ہے کہ ان کا ارادہ شروع ہی سے پاکستان کو اسلامی حکومت بنانے کا نہ تھا‘ بلکہ یہ کہا ہے کہ پاکستان بننے کے بعد ان کے طرز عمل سے ہمیں یہ محسوس ہوا کہ وہ اس ملک کو اسلامی ریاست بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے اور اس کی دلیل میں نے یہ دی ہے کہ اگر فی الواقع وہ ایسا ارادہ رکھتے تھے تو جو قرارداد مقاصد ڈیڑھ دو سال کے سخت مطالبے کے بعد پاس کی گئی وہ ابتدا ہی میں پاس کر دی جاتی اور اسلامی حکومت نہ قائم کرنے کے لیے وہ بہانے پیش نہ کیے جاتے جو اس زمانے میں بار بار پیش کیے جاتے رہے۔] میں آپ سے پوچھتا ہوں اور ہر شخص خود غور کرے کہ اگر واقعی پاکستان کو اسلامی حکومت بنانے کا مقصد ان کے پیش نظر تھا تو کیا پہلا کام ان کو یہ نہ کرنا چاہیے تھا کہ دستور ساز اسمبلی میں قرارداد مقاصد (objective resolution) پاس کرتے؟ جس قرارداد کو ڈیڑھ دو سال کے سخت مطالبے کے بعد پاس کیا گیا اس کو تو اوّل روز پاس ہونا چاہیے تھا اگر واقعی اسلامی حکومت بنانا پیش نظر تھا، لیکن ہم نے دیکھا کہ بڑے بڑے لیڈر اپنی تقریروں میں کہہ رہے ہیں کہ اگر یہاں اسلامی حکومت قائم ہوئی تو ۹۵ فی صد لوگوں کے ہاتھ کٹ جائیں گےــــــ اس کے دوسرے معنی یہ تھے کہ پاکستان کی آبادی کا ۹۵ فی صد حصہ چور ہےــــــ یہاں تک کہا گیا کہ ہم دنیا کو کیا منہ دکھائیں گے اگر ہم نے یہاں ایک اسلامی حکومت قائم کر دی۔ یہ تک کہا گیا اگر ہم پاکستان میں اسلامی حکومت قائم کریں گے تو ہندوستان میں ہندو حکومت قائم ہو جائے گی۔ یہ اور دوسرے بہانے اس زمانے میں کیے گئے۔ [ جو بہانے اس زمانے میں اسلامی حکومت قائم نہ کرنے کے لیے بنائے جا رہے تھے ان کو میں نے اپنی ان تقریروں میں مفصل بیان کر کے ان کا مفصل جواب دیا تھا جو اپریل اور مئی ۱۹۴۸ء میں، میں نے لاہور، ملتان، کراچی، راولپنڈی، سیالکوٹ اور پشاور میں کی تھیں۔ ان تقریروں کا مجموعہ اسی زمانے میں ”مطالبہ نظام اسلامی“ کے نام سے شائع ہو گیا تھا اور اب وہ میری کتاب اسلامی ریاست (ایڈیشن ۶۲ء) میں شامل ہے (ملاحظہ ہو کتاب مذکورہ، صفحات ۳۹۲ تا ۳۹۹)]
جب یہ صورت حال سامنے آئی کہ کس طرح اسلامی ریاست کی بات ٹالنے کی کوشش کی جا رہی ہے تو میں نے فروری ۱۹۴۸ء میں لا کالج لاہور میں تقریر کرتے ہوئے واضح طور پر یہ بتایا کہ اسلامی حکومت کس چیز کو کہتے ہیں اور اسلام نے حکمرانی کے کیا اصول پیش کیے ہیں۔ میں نے اپنی اس تقریر میں پہلے پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانے کی ضرورت ثابت کی اور اس کے بعد یہ چار اصول بیان کیے جنھیں تسلیم کیے بغیر پاکستان ایک اسلامی ریاست نہیں بن سکتا:
۱۔ اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کیا جائے۔
۲۔ حکومت یہ پابندی قبول کرے کہ وہ اللہ کی مقرر کردہ حدود کے اندر رہ کر کام کرے گی۔
۳۔ اس بات کا فیصلہ کر دیا جائے کہ انگریزی دور سے جو قوانین اسلامی شریعت کے خلاف چلے آ رہے ہیں اُن کو بدل دیا جائے گا۔
۴۔ آئندہ جو نئے قوانین بنائے جائیں گے وہ اسلام کے مطابق ہوں گے۔[ یہ تقریر اسلامی قانون اور پاکستان میں اس کے نفاذ کی عملی تدابیر کے نام سے اسی زمانے میں شائع ہو گئی تھی اور اب بھی ہر جگہ مل سکتی ہے۔]
میں نے یہ تجویز پیش کی کہ قانون کی زبان میں، ہماری دستور ساز اسمبلی، پہلے ان اصولوں کو طے کر دے۔ اس کے بعد ہی یہ حکومت اسلامی حکومت ہو گی۔ اس کے بغیر یہاں اسلامی ریاست قائم نہیں ہو سکتی۔ یہ بالکل ایسی ہی بات ہے کہ ایک شخص اسی وقت مسلمان ہو سکتا ہے جب کہ وہ کلمہ <<لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِ >> زبان سے ادا کرے۔ اسی طرح ایک حکومت مسلمان نہیں ہو سکتی جب تک وہ یہ اقرار نہ کرے کہ اس کا بادشاہ خدا ہے، جب تک وہ یہ تسلیم نہ کرے کہ دنیا میں جو لوگ اس حکومت کا نظام چلاتے ہیں وہ خدا کے امین کی حیثیت سے یہ کام کرتے ہیں، جب تک وہ یہ تسلیم نہ کرے کہ اس کے قانون کا ماخذ خدا کی کتاب اور اس کے رسولؐ کی سنت ہے اور جب تک وہ یہ فیصلہ نہ کر لے کہ اس کے حدود اقتدار میں غیر اسلامی قوانین نافذ نہیں ہو سکتے۔ اگر ایک حکومت اس بات کا فیصلہ نہیں کرتی تو وہ با قاعدہ ایک مسلمان حکومت نہیں بن سکتی۔
اس بات کا مطالبہ کرنے کے بعد، جب اسے تسلیم کرانے کے لیے، ہم نے عوام میں کام شروع کیا تو ارباب اقتدار اس فکر میں لگ گئے کہ ان لوگوں کا منہ کس طرح بند کیا جائے۔ علی الاعلان یہ کہا نہیں جا سکتا تھا کہ ہم اسلامی حکومت کے قیام کا مطالبہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اسی وجہ سے ایک سازش تیار کی گئی تا کہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو کسی اور الزام میں پھانسا جائے۔ وہ سازش یہ تھی کہ پشاور میں ایک صاحب میرے پاس تشریف لائے جو آزاد کشمیر کے پبلسٹی آفیسر تھے اور انھوں نے علیحدگی میں بات کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ میں نے تخلیے میں ان کو بلا لیا۔ انھوں نے آ کر کہا کہ آپ کشمیر کے جہاد میں کیوں حصہ نہیں لے رہے؟ میں نے کہا کہ اس کی ایک وجہ ہے جو میں بیان نہیں کرنا چاہتا۔ انھوں نے کہا کم از کم مجھے تو بتا دیجیے، میں محض ذاتی طور پر آپ سے دریافت کر رہا ہوں۔ میں نے کہا جس قوم سے پاکستان کی حکومت نہ لڑ رہی ہو اس سے پاکستان کے افراد کیسے لڑ سکتے ہیں، یہ بات میری سمجھ میں نہیں آتی، مگر میں اس معاملے میں خاموش ہی رہنا چاہتا ہوں، اپنی رائے کا اظہار کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔[ یہ مئی ۱۹۴۸ء کا واقعہ ہے۔ اس کی پوری تفصیلات میری نظر بندی کے بعد جماعت اسلامی نے اسی زمانے میں مولانا مودودی کی نظر بندی کیوں کے نام سے ایک پمفلٹ کی صورت میں شائع کر دی تھیں۔]
دوسرے دن انھوں نے پریس میں جا کر یہ بیان شائع کروا دیا کہ مولانا مودودی نے جہاد کشمیر کو حرام قرار دیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ اس میں مرنے والے حرام موت مر رہے ہیں۔ اس کے بعد یہ جھوٹ نہایت بڑے پیمانے پر پھیلایا گیا۔ سری نگر ریڈیو نے فوراً اس کا فائدہ اٹھایا اور کشمیر میں جو لوگ لڑ رہے تھے ان کو روز یہ سنانا شروع کر دیا کہ پاکستان کے ایک فلاں عالم نے جس کی یہ اور یہ حیثیت ہے یہ کہا ہے کہ تم لوگ اگر لڑو گے تو حرام موت مرو گے۔ میں نے ریڈیو پاکستان کو لکھا کہ ریڈیو مقبوضہ کشمیر بالکل غلط پروپیگنڈا میرے نام سے کر رہا ہے، مجھے اجازت دی جائے کہ میں خود آ کر اس کی تردید کروں اور لوگوں کو بتاؤں کہ یہ سب جھوٹا پروپیگنڈا ہے، لیکن مجھے اس کی اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا گیا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس وقت کشمیر کا مسئلہ بھی ان لوگوں کی نگاہ میں اتنی اہمیت نہیں رکھتا تھا جتنی اہمیت اس بات کی تھی کہ پاکستان میں نظام اسلامی کے قیام کے مطالبے کو دبایا جائے۔ آج تک اسی جھوٹے الزام کو دہرایا جا رہا ہے۔ جب کبھی میں پاکستان کی اصلاح کے لیے کوئی کام شروع کرتا ہوں اس الزام کی تشہیر شروع کر دی جاتی ہے، حالانکہ بارہا میں اس جھوٹ کی حقیقت واضح کر چکا ہوں۔
یہ جھوٹا الزام لگانے کے بعد اکتوبر ۱۹۴۸ء میں مجھے، مولانا امین احسن صاحب اور میاں طفیل محمد صاحب کو نظر بند کر دیا گیا۔ بیس ماہ تک ہم نظر بند رہے۔ ان لوگوں کا خیال تھا کہ ان تین آدمیوں کو اگر یہ پکڑ لیں گے تو جماعت اسلامی ختم ہو جائے گی، مگر ان کو معلوم نہیں تھا کہ جماعت ریت کا گھروندا نہیں ہے ایک مضبوط تنظیم ہے جو خوب سوچ سمجھ کر بنائی گئی ہے۔ مطالبۂ نظامِ اسلامی کو ہماری گرفتاری کے بعد بھی کسی طرح روکا نہ جا سکا۔ آخر کار مارچ ۱۹۴۹ء میں وہ قرارداد مقاصد پاس کی گئی جس کو ہماری دستور ساز اسمبلی میں دراصل پہلے روز پاس ہونا چاہیے تھا، لیکن نہ اس قرارداد کے پاس کرنے سے پہلے اور نہ اس کے بعد کوئی آثار ایسے ظاہر ہوئے جن سے یہ معلوم ہوتا کہ واقعی اب اس ملک میں اسلامی نظام قائم کرنے کا ارادہ کر لیا گیا ہے۔ اس کی اصل حیثیت کو میں نے نظر بندی سے رہا ہونے کے بعد اپنی ایک تقریر میں اس طرح بیان کیا تھا کہ یہ ایک ایسی عجیب بارش تھی جس کے آنے سے پہلے نہ کوئی گھٹا اٹھی نہ اس کے بعد کوئی روئیدگی پیدا ہوئی۔ بس ایک قرارداد تھی جو پاس کر دی گئی۔ سوال یہ ہے کہ اگر آپ نے سچے دل سے وہی بات مان لی تھی جس کا ہم مطالبہ کر رہے تھے تو اس کے بعد ہمیں نظر بند رکھنے کا کیا جواز تھا؟ پھر تو آپ کو کہنا چاہیے تھا کہ اب جماعت اسلامی اور مسلم لیگ کے مقصد میں کوئی فرق نہیں رہا ہے، آؤ اب ہم مل کر اس مقصد کے لیے کام کریں ۔[یہی بات میں نے اپنی ان تقریروں میں کہی تھی جو اپریل اور مئی ۴۸ء میں ملک کے مختلف مقامات پر میں نے کی تھیں۔ ان میں، میں نے کہا تھا: ”میں اپنے مسلم لیگی بھائیوں سے کہتا ہوں کہ آپ نے پاکستان اسلامی حکومت قائم کرنے کے لیے مانگا تھا۔ آپ نے سب کچھ اسلام کے نام پر کیا۔ اب آپ آزمائش میں ڈال دیئے گئے ہیں۔ اس آزمائش پر آپ پورا اترنا چاہتے ہیں تو اس مطالبے کو اپنا مطالبہ بنائیے۔ اسے ابتدائی مسلم لیگوں سے پاس کرائیے۔ پھر صوبائی مسلم لیگوں کے سامنے یہ مسئلہ لائیے اور جو لوگ اس مطالبے سے متفق نہ ہوں انھیں لیگ سے نکال باہر کیجیے۔ اب اشتراکیوں اور ملحد قسم کے لوگوں کے مسلم لیگ پر قابض رہنے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہی۔ اگر یہ دونوں باتیں ہو جائیں تو پھر مسلم لیگ اور جماعت اسلامی میں کوئی اختلاف باقی نہیں رہتا بلکہ دونوں قریب قریب ایک ہو جاتی ہیں۔ (ملاحظہ ہو میری کتاب اسلامی ریاست ایڈیشن ۱۹۶۲ء ،ص ۳۸۷)] مگر تجربے سے معلوم ہوا کہ وہ قرارداد محض منہ بند کرنے کے لیے پاس کی گئی تھی، اس غرض کے لیے نہیں تھی کہ اسے عمل میں لایا جائے۔ اس کے بعد بھی ہماری نظر بندی میں مسلسل ہر چھ مہینے بعد اضافہ ہوتا رہا۔ یہ تو اتفاق کی بات ہے کہ ایک اور مقدمے میں عدالت نے یہ فیصلہ کر دیا کہ ایک آدمی کی نظر بندی میں تین بار سے زیادہ توسیع نہیں کی جا سکتی۔ اس فیصلے کے نتیجے میں ہم بھی رہا ہو گئے ورنہ قرارداد مقاصد پاس کرنے والوں کا ارادہ یہ نہیں تھا کہ جیتے جی کبھی ہمیں جیل سے باہر آنے دیں گے۔
جیل سے باہر آ کر جب ہم نے پھر یہ مطالبہ شدت کے ساتھ اٹھایا کہ اب قرارداد مقاصد کے مطابق اسلامی دستور بنایا جائے اور خواجہ ناظم الدین مرحوم کے دور وزارت میں دستور کی تیاری شروع بھی ہوگئی تو اُس کا راستہ روکنے کے لیے ایک نئی سازش اٹھا کھڑی کی گئی اور جماعت اسلامی پر تیسرا حملہ ۱۹۵۳ء میں کر ڈالا گیا۔ میں صاف صاف کہتا ہوں کہ ختم نبوت کی تحریک اٹھوائی ہی اس غرض کے لیے گئی تھی کہ مطالبہ نظام اسلامی کو روکا جائے۔[منیر رپورٹ سے یہ بات پوری طرح ثابت ہوگئی ہے اور میں نے اس سلسلے کے تمام حقائق اپنی کتاب قادیانی مسئلہ اور اس کے سیاسی دینی اور تمدنی پہلو میں بیان کر دیے ہیں۔] اس موقع پر ختم نبوت کی تحریک کے لیڈروں کو بہتیر سمجھایا گیا اور ان سے کہا گیا کہ خدا کے لیے ایک مرتبہ دستور پاس ہو جانے دو، اس کے بعد تم اس مسئلے کو اٹھا سکتے ہو۔ خواجہ ناظم الدین کی رپورٹ تیار ہو چکی تھی۔ دستور پاس ہونے میں کچھ زیادہ دیر نہیں تھی۔ صرف اتنا کام باقی تھا کہ دستور ساز اسمبلی میں بنیادی اصولوں کی رپورٹ پیش ہو، اور دستور پاس ہو جائے، لیکن عین وقت پر ہنگامہ برپا کر دیا گیا۔ خواجہ ناظم الدین کی رپورٹ دھری کی دھری رہ گئی۔ لاہور میں مارشل لا لگا دیا گیا۔ خواجہ ناظم الدین وزارتِ عظمیٰ سے رخصت کر دیے گئے اور بیورو کریسی اس طرح ملک کے سینے پر سوار ہوئی کہ آج تک اس سے پیچھا نہیں چھڑایا جاسکا ہے۔
۱۹۴۹ء سے ایک سرکاری یا نیم سرکاری پروپیگنڈہ مشینری جماعت اسلامی کے خلاف مسلسل ایک مہم چلاتی رہی ہے جس کا سلسلہ ۱۹۶۸ء تک جاری رہا ہے۔ باقاعدہ تنخواہ دار آدمی یا اجرت پر کام کرنے والے لوگ اس کام پر لگائے گئے کہ جماعت کے خلاف طرح طرح کے بہتان لگائے جائیں اور اسلام کے معاملے میں لوگوں کے ذہن کو جتنا زیادہ سے زیادہ ممکن ہے الجھایا جائے۔ سرکاری خزانے سے لاکھوں روپیہ اس کام پر خرچ کیا گیا۔ بہت سے رسالے یہ کام کرتے رہے۔ بیسیوں کتابیں ہمارے خلاف شائع کی گئیں اور سرکاری طور پر ہر طبقے میں انھیں پھیلایا گیا۔ جماعت اسلامی کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی گئی، اور اس کے ساتھ ہر ممکن طریقے سے یہ کوشش کی گئی کہ لوگوں کے ذہنوں میں گھپلا ڈال دیا جائے اور لوگ یہ سمجھنے لگیں کہ اسلام کے پاس نہ تو کوئی سیاسی نظام ہے، نہ معاشی نظام اور نہ کوئی ایسا قانون ہے جو اس زمانے میں قابل عمل ہو۔
۱۹۵۵ء سے علماء کا ایک گروہ بھی مجھے اور جماعت اسلامی کو گالیاں دینے اور بدنام کرنے میں لگا ہوا ہے۔ میں ابھی جیل ہی میں تھا کہ یہ کام شروع کر دیا گیا تھا اور آج پندرہ سال ہو چکے ہیں اس کی شدت میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔
اس کے بعد ۱۹۶۳ء میں جماعت کی زندگی کو ختم کرنے کی ایک بھر پور کوشش کی گئی۔ اسی شہر لاہور میں ہم جماعت اسلامی کا سالانہ اجتماع کر رہے تھے۔ پہلے تو اس میں لاؤڈ سپیکر استعمال کرنے کی اجازت نہ دی گئی۔ پھر اس کے لیے ایک بہت تنگ جگہ دی گئی تا کہ جماعت کا اجتماع پھیل جائے۔ پھر اس میں غنڈے بھیجے گئے اور اب یہ کچھ چھپا ہوا نہیں ہے ان کو بھیجنے والے کون تھے۔ اسکیم یہ تھی کہ غنڈے آ کر گڑ بڑ کریں اور اگر جماعت اسلامی کے کارکن کسی ایک غنڈے پر بھی ہاتھ ڈال دیں تو فوراً پولیس حملہ آور ہو جائے اور جماعت کو خلاف قانون قرار دے کر گولی چلا دی جائے۔ جنھوں نے یہ اسکیم بنائی تھی انھوں نے صاف صاف یہ کہا تھا کہ ہم جماعت کا یہاں وہ حشر کریں گے جو مصر میں اخوان کا ہو چکا ہے۔ یہ اللہ کا فضل تھا کہ جماعت اسلامی کی اتنی زبردست تربیت ہو چکی تھی اور جماعت اس قدر منظم تھی کہ دشمنوں کی یہ ساری تدبیر دھری کی دھری رہ گئی۔ جماعت کے ایک آدمی نے بھی کسی غنڈے پر ہاتھ نہ ڈالا۔ غنڈے ادھر سے اُدھر تک کودتے پھرے۔ قناتوں کی رسیاں کاٹتے پھرے۔ ہر طرف انھوں نے گڑ بڑ پھیلائی، لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ یہاں کوئی کچھ بولتا ہی نہیں تو تھک ہار کر چلے گئے۔ جماعت اسلامی کا جلسہ جس طرح ہو رہا تھا اسی طرح ہوتا رہا۔ ان لوگوں کا خیال تھا کہ اجتماع میں جب میری طرف پستول تان کر گولی چلائی جائے گی تو میں کسی تخت کے نیچے چھپ جاؤں گا، لیکن جب ان کو معلوم ہوا کہ یہ آدمی کھڑا رہا ہے اور اس ساری مدت میں ایک منٹ کے لیے بھی نہیں بیٹھا تو ان کے حواس باختہ ہو گئے اور انھیں پتہ چل گیا کہ انھیں کس قسم کے آدمی سے سابقہ درپیش ہے [یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اجتماع گاہ میں پردے کے پیچھے ایک ہزار سے زیادہ خواتین موجود تھیں۔ غنڈوں نے ان کے کیمپ پر بھی بوتلیں پھینکیں، مگر ان میں کوئی اضطراب پیدا نہ ہوا۔ اسی دوران میں ہمارا ایک کارکن (اللہ بخش مرحوم) شہید کر دیا گیا۔ اس کی بیوی اور لڑکی عورتوں کے کیمپ میں موجود تھیں۔ ان کو جب شوہر اور باپ کی شہادت کا علم ہوا تو انھوں نے کوئی نالہ و شیون برپا نہ کیا اور صبر کے ساتھ اپنا بستر باندھ کر شہید کی لاش کے ساتھ روانہ ہو گئیں۔ میں نے اس موقع پر اپنی تقریر میں کہا تھا کہ یہ مقدمہ کہیں اور درج ہو چکا ہے اور اس کا فیصلہ ان شاء اللہ وہیں سے ہو گا۔ چنانچہ فیصلہ ہوا اور ایسا عبرتناک ہوا کہ شاید ہی کسی ظالم نے اپنے ظلم کا ایسا عبرتناک انجام دیکھا ہو۔]
جب اس میں بھی یہ لوگ ناکام ہو گئے تو آخر کار ۱۹۶۴ء میں جماعت اسلامی کو یکا یک خلاف قانون قرار دے دیا گیا۔ جماعت نے ۱۹۶۳ء کے آخر میں اس غرض کے لیے ایک زبردست مہم چلائی تھی کہ ایوب صاحب اپنے ۱۹۶۲ء کے دستور میں باقاعدہ بنیادی حقوق کی ضمانت دیں۔ اس مہم کا یہ اثر ہوا کہ ان کو بنیادی حقوق کی ضمانت تو دینی پڑی لیکن باوجود اس کے کہ مسودہ قانون اسمبلی میں پاس ہو چکا تھا۔ صدر صاحب نے اس پر دستخط کرنے میں دانستہ تاخیر کی۔ ۶ جنوری ۱۹۶۴ء کو جب ہمیں گرفتار کر لیا گیا اور جماعت کو خلاف قانون قرار دے دیا گیا تب ۱۰ جنوری کو صدر صاحب نے اس مسودہ قانون پر دستخط فرمائے۔ مقصود یہ تھا کہ بنیادی حقوق کے قانون سے ہم کوئی فائدہ نہ اٹھا سکیں، لیکن اللہ کے فضل سے ان کی یہ کوشش بھی جماعت کو ختم کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ ہائی کورٹ نے ہماری نظر بندی کو اور سپریم کورٹ نے جماعت اسلامی کے خلاف قانون قرار دیے جانے کو کالعدم کر دیا اور جس روز عدالت نے یہ فیصلہ دیا اس پر ۲۴ گھنٹے نہ گزرے تھے کہ جماعت اسلامی پھر اسی جگہ کھڑی تھی جہاں وہ ایوب صاحب کے اس حملے سے پہلے تھی۔ یہی صورت اُس وقت بھی پیش آئی تھی جب ۱۹۵۸ء میں مارشل لا لگا اور دوسری تمام جماعتوں کے ساتھ جماعت اسلامی بھی ۴۵ مہینے تک خلاف قانون رہی۔ میں نے اس زمانے میں بھی صاف صاف یہ کہہ دیا تھا کہ آپ ان تدبیروں سے جماعت اسلامی کو ختم نہیں کر سکتے۔ جس وقت بھی آپ کا مارشل لا اٹھے گا، جماعت اسلامی کی تنظیم ۲۴ گھنٹے کے اندر پھر کھڑی ہو جائے گی۔
یہ تاریخ جو میں نے آپ کے سامنے بیان کی ہے اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اگر تقسیم سے پہلے جماعت کی تنظیم چھ سال کے اندر مضبوط بنیادوں پر قائم نہ کر لی گئی ہوتی تو بعد کے دور میں اس کو فنا کرنے کی مسلسل جو کوششیں کی جاتی رہی ہیں وہ اسے کبھی کی ختم کر چکی ہوتیں۔ پچھلے ۲۳ سال میں برسراقتدار حکومتوں نے، بیوروکریسی نے، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں نے، لادینی اور سوشلزم کی حامی جماعتوں نے، مختلف قسم کی گمراہیاں پھیلانے والے عناصر نے، طرح طرح کی مخالف سیاسی پارٹیوں نے، علماء کرام کے بعض گروہوں نے اس جماعت کو ختم کرنے کے لیے اپنا پورا زور صرف کر دیا، حتیٰ کہ ایک وقت ایسا بھی گزرا ہے جب پورا پریس جماعت کی مخالفت میں لگا ہوا تھا اور کوئی اس کی حمایت کرنے والا نہ تھا، مگر اس کے باوجود جماعت نہ صرف قائم رہی بلکہ اس کا قدم آگے ہی بڑھتا گیا اور کوئی طاقت اسے بڑھنے سے نہ روک سکی۔ یہ سراسر اللہ کا فضل و احسان ہے جس کا شکر ہم پر واجب ہے۔
اب میں مختصر طور پر آپ کو یہ بتاؤں گا کہ جماعت اسلامی نے پچھلے ۲۹ سالوں میں کیا کیا کام کیا ہے:
۱- جماعت کا اہم ترین کام یہ ہے کہ اس نے ایک وسیع لٹریچر فراہم کیا ہے جو ہر پہلو میں اسلام کی صداقت اور اس کے قابل عمل ہونے کے بارے میں مسلمانوں کے جدید تعلیم یافتہ طبقے کو پوری طرح مطمئن کر سکتا ہے اور ایک ایک شک کو جو مغربی تعلیم و تہذیب نے ان کے دل میں پیدا کیا ہے اچھی طرح رفع کر سکتا ہے۔ جماعت اسلامی وہ تحریک نہیں ہے جو تقریروں کے بل پر اٹھی ہو۔ تقریریں تو ہوا میں اڑ جاتی ہیں۔ جماعت اسلامی ایک مضبوط لٹریچر کی بنیاد پر اٹھی ہے جو اس سرزمین میں ان شاء اللہ صدیوں تک قائم رہے گا۔ پچھلے ۲۹ سال کی مدت میں یہ لاکھوں گھروں تک پہنچ چکا ہے۔ لاکھوں انسان اسے پڑھ چکے ہیں، پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے رہیں گے۔ جہاں بھی اس لٹریچر نے جڑ پکڑ لی ہے بفضل خدا اب کوئی اس پر قادر نہیں ہے کہ ایک ایک گھر سے اور ایک ایک شخص کے دماغ سے اس کو اکھیڑ کر نکال سکے۔ تعلیم یافتہ طبقے کی ایک بہت بڑی تعداد اس بات پر پوری طرح مطمئن ہوگئی ہے اور ہوتی جارہی ہے کہ ایک جدید ترین ریاست کو اسلام کے اصولوں پر بڑی خوبی سے چلایا جاسکتا ہے بلکہ اس شان سے چلایا جاسکتا ہے کہ دنیا کی دوسری قومیں اور ریاستیں اس سے سبق حاصل کریں۔ اب کوئی یہ کہنے کی اگر جرات کرے کہ اسلام ایک فرسودہ نظام ہے جو اس دور میں نہیں چل سکتا، تو ہزار ہا زبانیں اس کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے موجود ہیں۔ یہ جماعت اسلامی کا ایک بڑا کام ہے جو اللہ کے فضل سے اس نے انجام دیا ہے اور دے رہی ہے۔
۲۔ دوسرا کام جماعت کا یہ ہے کہ اس نے مخلص اور بھروسے کے قابل سیرت و کردار رکھنے والے کارکنوں کی ایک ایسی منظم ٹیم تیار کی ہے جس نے ان تھک محنت سے لاکھوں آدمیوں کو اپنا ہم خیال بنایا ہے، قوم میں اپنی دیانت و امانت کا اعتماد قائم کیا ہے، ہر آفت کے موقع پر جو ملک کے اندر یا ملک سے باہر مسلمانوں پر آئی ہے آگے بڑھ کر ہر وہ خدمت انجام دی ہے جو اس کے امکان میں تھی، اور ملک کے ہر حصے میں ایسی مقام قیادت فراہم کر دی ہے۔ جسے اپنے علاقے کے لوگوں کا اعتماد حاصل ہے۔ ملک کے عوام میں جماعت اور اس کے کارکنوں کی کتنی ساکھ ہے اس کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب آزمائش کا کوئی موقع پیش آتا ہے۔ مثال کے طور پر جماعت اسلامی کے کارکن بقر عید میں خدمت خلق کے لیے کھالیں جمع کرتے ہیں۔ ہر سال جب بقر عید آتی ہے تو اشتہارات سے دیواریں لپ جاتی ہیں جن میں کہا جاتا ہے کہ اس جماعت کو کھالیں دینا حرام ہے۔ ہر طرح کے الزامات جماعت کے خلاف لگائے جاتے ہیں۔ ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے کہ لوگ اس کو کھالیں نہ دیں۔ لیکن جتنی کھالیں سب مل کر جمع کرتے ہیں ان سے بہت زیادہ تنہا جماعت اسلامی کو دی جاتی ہیں۔ جماعت کے مخالفین تک نے بارہا اپنی قربانی کی کھالیں جماعت کے حوالے کی ہیں۔ ایوب صاحب کے انتہائی خطرناک دور میں جب کہ جماعت کے قریب تک پھٹکنا خطرے سے خالی نہ تھا بڑے بڑے ذمہ دار سرکاری افسر خاموشی سے قربانی کی کھالیں جماعت اسلامی کو بھیج دیتے تھے۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ قوم میں عام طور پر یہ اعتماد پیدا ہو چکا ہے کہ اس جماعت کے کارکنوں کو جو کچھ دیا جائے گا وہ صحیح مصرف ہی میں صرف ہو گا‘ یہ وہ لوگ نہیں ہیں جو لیتے کسی اور نام سے ہیں اور خرچ کسی اور کام میں کرتے ہیں۔ ۱۹۶۵ء کی جنگ کے موقع پر بھی یہ ثابت ہو گیا کہ جماعت کو عوام کا کتنا اعتماد حاصل ہے۔ اس وقت تمام سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں نے مل کر جنگ کے مصیبت زدہ لوگوں کے لیے جتنا کچھ جمع کیا اس سے کئی گنا زیادہ جماعت اسلامی نے جمع کیا۔ بارہا ایسا ہوا کہ جنگ کے مصیبت زدہ لوگوں میں تقسیم کرنے کے لیے اللہ کے نیک بندے بڑا بڑا قیمتی سامان لے کر آئے اور انھوں نے کہا کہ اگر آپ خود تقسیم کریں تو یہ حاضر ہے لیکن اگر کسی سرکاری ادارے کو دینا ہے تو ہم واپس لیے جاتے ہیں۔ اس طرح کے امتحان وقتاً فوقتاً پیش آتے رہتے ہیں جن سے ہمیں معلوم ہو جاتا ہے کہ ملک میں جماعت کے کارکنوں کی کتنی ساکھ ہے۔ [پچھلے ۲۳ سالوں میں طوفانوں اور سیلابوں سے متاثرہ افراد‘ ۶۵ء کی جنگ کے مصیبت زدگان‘ جہاد کشمیر‘ دفاع پاکستان‘ جہاد فلسطین اور اریٹیریا کے مجاہدین کی امداد کے سلسلے میں پاکستان کے عوام نے مجموعی طور پر ۷۰ لاکھ روپے نقد اور سامان و جنس کی صورت میں جماعت کو دیئے ہیں‘ جن کی آمد و خرچ کا پورا حساب جماعت کے پاس موجود ہے۔ غالباً ملک میں کوئی دوسری جماعت ایسی نہیں ہے جس پر قوم نے اتنا اعتماد کیا ہو۔] گالیوں کا پروپیگنڈہ اپنی جگہ چل رہا ہے۔ جھوٹے الزامات کا نہ تھمنے والا سلسلہ بھی برابر جاری ہے، مگر جب کبھی عوام سے سابقہ پیش آتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ ان کو جو اعتماد جماعت پر ہے وہ کسی اور پر نہیں ہے۔
۳۔ تیسرا بڑا کام جو جماعت نے کیا ہے وہ یہ ہے کہ جو تحریکیں اس ملک میں لادینی اور ملحدانہ نظام لانا چاہتی ہیں یا جو تحریکیں ملک کے ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتی ہیں، جماعت اسلامی نے ہر میدان میں ان کا مقابلہ کیا ہے۔ یہ تحریکیں ملک کے مراکز اعصاب پر قبضہ کرتی ہیں اور پھر ملک کے نظام زندگی کو درہم برہم کر کے اپنا مطلوبہ انقلاب لانے کی کوشش کرتی ہیں۔ وہ طلبہ پر قبضہ کرتی ہیں، مزدوروں پر قبضہ کرتی ہیں، کسانوں پر قبضہ کرتی ہیں، استادوں اور پروفیسروں کو استعمال کرتی ہیں۔ اس طرح وہ ان راستوں سے آتی ہیں جن پر اگر ان کا قبضہ ہو جائے تو وہ ملک میں انقلاب برپا کر ڈالیں اور قوم دیکھتی کی دیکھتی رہ جائے۔ جماعت اسلامی ان سب میدانوں میں ان کا مقابلہ کر رہی ہے، کوئی دوسری جماعت ایسی نہیں ہے جو قومی زندگی کے ان مراکزِ اعصاب پر ان کے تسلط کا راستہ روک رہی ہو۔
آپ یقین رکھیے، سوشلزم کا انقلاب یا کوئی اور دوسرا انقلاب جو ملک کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے لیے ہو وہ کبھی عوام کی تائید سے نہیں آئے گا کہ صرف جلسہ ہائے عام اور تقریروں سے آپ اس کو روک سکیں۔ وہ آئے گا ان مراکز اعصاب پر قبضہ کر کے۔ وہ مزدوروں پر قبضہ کر کے ملک کے نظامِ معیشت کو، نظام مواصلات کو، ریلوے، ٹیلیفون اور تار کو معطل کرے گا۔ وہ طلبا کو بھڑکا کر میدان میں لائے گا اور ان سے ہنگامے برپا کرائے گا۔ وہ اساتذہ کے ذریعے طلبا کے دماغ خراب کرائے گا اور ان کے اندر بے حیائی اور بے دینی پیدا کرنے کی کوشش کرے گا۔ ان میدانوں میں اس کا مقابلہ کرنے والی اگر جماعت کے علاوہ کوئی اور جماعت ہے تو اس کا نام بتایا جائے۔ جماعت اسلامی عوامی اجتماعات کے ذریعے سے بھی ان کا مقابلہ کر رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان مراکز اعصاب کو بھی ان لوگوں کے قبضے سے نکالنے کی کوشش کر رہی ہے، حتیٰ کہ ایک سال کے اندر اندر اس نے ان کے حواس باختہ کر دیئے ہیں۔
یہ مختصر بیان ہے جماعت اسلامی کی تاریخ کا اور اس کام کا جو اب تک اس نے کیا ہے۔ اس بیان سے میرا مقصد یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے ارکان اور کارکن اور متفقین بھی جماعت کے کام اور نظام کو اچھی طرح سمجھ لیں اور دوسرے جو لوگ بھی جماعت سے دلچسپی رکھتے ہیں ان کو بھی یہ معلوم ہو جائے کہ یہ جماعت دراصل ہے کیا چیز۔ میرا ان سے یہ مطالبہ نہیں ہے کہ یہ سب کچھ سن کر وہ جماعت کی قدر کرنے لگیں۔ اصل قدر تو وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں ہو۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ جو شخص بھی جماعت کے ساتھ مل کر کام کرے وہ پورے اطمینان کے ساتھ اس کام کو حق اور صحیح سمجھ کر کرے اور جو اصحاب اس کے ساتھ کام کرنا پسند نہ کریں وہ کم از کم کسی غلط فہمی میں نہ رہیں۔ اگر کوئی ہماری مخالفت نہ کرے تو وہ بھی ہم پر بہت بڑی مہربانی کرے گا۔