مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

اسلامی قانون

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "اسلامی قانون" ایک ایسی علمی و فکری کاوش ہے جو اسلامی نظامِ حیات کے مرکزی ستون—شریعت—کی حقیقت، اس کے فکری خاکے، اس کے نفاذ کے طریقوں، اور جدید دور کے اعتراضات کے جوابات کو واضح اور منظم انداز میں پیش کرتی ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ بتانا ہے کہ اسلامی قانون محض چند سزاؤں یا قدیم روایات تک محدود نہیں، بلکہ ایک مکمل، ہمہ گیر اور زندگی کے ہر شعبے کو محیط نظامِ حیات کا جزو ہے، جس کا درست نفاذ صرف اس وقت ممکن ہے جب اس کے تمام اجزاء کو باہمی تعلق کے ساتھ سمجھا جائے اور اس کے مجموعی نظام کو قائم کیا جائے۔

کتاب کا آغاز باب اول سے ہوتا ہے، جس میں مصنف اسلامی قانون کا فکری خاکہ پیش کرتے ہوئے اس کے ماخذ، مقصد، ہمہ گیری اور نفاذ کے طریقوں کی وضاحت کرتے ہیں۔ وہ عام اعتراضات—جیسے قدیم قوانین کی جدید سوسائٹی کے لیے ناکفایت، سخت سزاؤں کا اطلاق، فقہی اختلافات، اور غیر مسلموں کی مطمئنیت—کو ناواقفیت اور صدیوں کے انحطاط کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ مودودی واضح کرتے ہیں کہ اسلامی نظامِ زندگی کا واحد ماخذ قرآن و سنت ہے، اور اس کا بنیادی نظریہ یہ ہے کہ کائنات اور انسان خدا کی حاکمیت کے تحت ہیں۔ جو فرد اس حاکمیت کو تسلیم کر لے، وہ مسلم ہے، اور جو معاشرہ اس تسلیم کی بنیاد پر تشکیل پائے، وہ مسلم سوسائٹی ہے، جس کا ضابطۂ حیات شریعت ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

خاتمۂ کلام

یہ چند تجاویز ہیں جو میرے نزدیک اس ملک میں اسلامی قانون کے اجرا و نفاذ کو ممکن بنانے کے لیے روبعمل آنی چاہئیں۔ میں چاہتا ہوں کہ اہل علم اصحاب اور وہ لوگ جو عدالت و قانون کے معاملات کا عملی تجربہ رکھتے ہیں، ان پر غور فرمائیں اور انہیں مکمل کرنے کی کوشش کریں۔ میں سمجھتا ہوں کہ میری ان گزارشات سے وہ حضرات بھی ایک حد تک مطمئن ہوگئے ہوں گے جو اسلامی قانون کے نفاذ کو اب ممکن ہی نہیں سمجھتے۔ انہیں معلوم ہوگیا ہوگا کہ یہ کام کس طرح ہوسکتا ہے اور اس کی عملی تدابیر کیا ہیں۔ لیکن جیسا کہ پہلے عرض کر چکا ہوں، دنیا میں کسی چیز کی تعمیر بھی بغیر اس کے ممکن نہیں ہے کہ اس کو جاننے والے اور اس کی خواہش اور ارادہ رکھنے والے معمار موجود ہوں اور اس کی تعمیر کے لیے ضروری وسائل و ذرائع ان کے ہاتھ میں ہوں۔ یہ دونوں چیزیں جہاں بہم پہنچ جائیں وہاں سب کچھ بن سکتا ہے۔ خواہ مسجد ہو یا شوالہ۔