اسلامی قانون
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "اسلامی قانون" ایک ایسی علمی و فکری کاوش ہے جو اسلامی نظامِ حیات کے مرکزی ستون—شریعت—کی حقیقت، اس کے فکری خاکے، اس کے نفاذ کے طریقوں، اور جدید دور کے اعتراضات کے جوابات کو واضح اور منظم انداز میں پیش کرتی ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ بتانا ہے کہ اسلامی قانون محض چند سزاؤں یا قدیم روایات تک محدود نہیں، بلکہ ایک مکمل، ہمہ گیر اور زندگی کے ہر شعبے کو محیط نظامِ حیات کا جزو ہے، جس کا درست نفاذ صرف اس وقت ممکن ہے جب اس کے تمام اجزاء کو باہمی تعلق کے ساتھ سمجھا جائے اور اس کے مجموعی نظام کو قائم کیا جائے۔
کتاب کا آغاز باب اول سے ہوتا ہے، جس میں مصنف اسلامی قانون کا فکری خاکہ پیش کرتے ہوئے اس کے ماخذ، مقصد، ہمہ گیری اور نفاذ کے طریقوں کی وضاحت کرتے ہیں۔ وہ عام اعتراضات—جیسے قدیم قوانین کی جدید سوسائٹی کے لیے ناکفایت، سخت سزاؤں کا اطلاق، فقہی اختلافات، اور غیر مسلموں کی مطمئنیت—کو ناواقفیت اور صدیوں کے انحطاط کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ مودودی واضح کرتے ہیں کہ اسلامی نظامِ زندگی کا واحد ماخذ قرآن و سنت ہے، اور اس کا بنیادی نظریہ یہ ہے کہ کائنات اور انسان خدا کی حاکمیت کے تحت ہیں۔ جو فرد اس حاکمیت کو تسلیم کر لے، وہ مسلم ہے، اور جو معاشرہ اس تسلیم کی بنیاد پر تشکیل پائے، وہ مسلم سوسائٹی ہے، جس کا ضابطۂ حیات شریعت ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
انگریزی دَور کی مثال
قریب کے زمانہ میں خود ہمارے ملک پر جب انگریزوں کی حکومت قائم ہوئی تھی تو کیا انہوں نے یک لخت یہاں کا سارا نظام بدل ڈالا تھا؟ نہیں۔ ان کی حکومت سے پہلے چھ سات سو سال سے یہاں کا پورا نظام زندگی اسلامی فقہ پر چل رہا تھا۔ اس صدیوں کی جمی ہوئی عمارت کو ڈھا دینا اور مغربی اصول و نظریات کے مطابق ایک دوسرے نظام کی عمارت کھڑی کر دینا ایک دن کاکام نہ تھا۔ تاریخ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ انگریزی اقتدار قائم ہونے کے بعد بھی ایک مدت تک ہندوستان میں اسلامی فقہ ہی رائج رہی۔ عدالتوں میں قاضی ہی انصاف کے لیے بیٹھتے تھے اور اسلام کا قانون صرف پرسنل لا کی حد تک محدود نہ تھا بلکہ وہی ملکی قانون Law of the Land بھی تھا۔ انگریزوں کو یہاں کا قانونی نظام بدلتے بدلتے ایک صدی لگ گئی۔ انہوں نے بتدریج یہاں کا نظام بدل کر اپنے مطلب کے آدمی ڈھالے، اپنے خیالات کی اشاعت سے ذہنیتیں بدلیں، اپنے اقتدار کے اثر سے لوگوں کے اخلاق بدلے، اپنی بالادستی کے زور سے معاشی نظام بدلا اور پھر جیسے جیسے یہ مختلف قسم کے ہمہ گیر اثرات یہاں کی اجتماعی زندگی کو بدلتے گئے اسی کے مطابق پرانے قوانین منسوخ اور نئے قوانین جاری ہوتے چلے گئے۔