اسلامی قانون
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "اسلامی قانون" ایک ایسی علمی و فکری کاوش ہے جو اسلامی نظامِ حیات کے مرکزی ستون—شریعت—کی حقیقت، اس کے فکری خاکے، اس کے نفاذ کے طریقوں، اور جدید دور کے اعتراضات کے جوابات کو واضح اور منظم انداز میں پیش کرتی ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ بتانا ہے کہ اسلامی قانون محض چند سزاؤں یا قدیم روایات تک محدود نہیں، بلکہ ایک مکمل، ہمہ گیر اور زندگی کے ہر شعبے کو محیط نظامِ حیات کا جزو ہے، جس کا درست نفاذ صرف اس وقت ممکن ہے جب اس کے تمام اجزاء کو باہمی تعلق کے ساتھ سمجھا جائے اور اس کے مجموعی نظام کو قائم کیا جائے۔
کتاب کا آغاز باب اول سے ہوتا ہے، جس میں مصنف اسلامی قانون کا فکری خاکہ پیش کرتے ہوئے اس کے ماخذ، مقصد، ہمہ گیری اور نفاذ کے طریقوں کی وضاحت کرتے ہیں۔ وہ عام اعتراضات—جیسے قدیم قوانین کی جدید سوسائٹی کے لیے ناکفایت، سخت سزاؤں کا اطلاق، فقہی اختلافات، اور غیر مسلموں کی مطمئنیت—کو ناواقفیت اور صدیوں کے انحطاط کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ مودودی واضح کرتے ہیں کہ اسلامی نظامِ زندگی کا واحد ماخذ قرآن و سنت ہے، اور اس کا بنیادی نظریہ یہ ہے کہ کائنات اور انسان خدا کی حاکمیت کے تحت ہیں۔ جو فرد اس حاکمیت کو تسلیم کر لے، وہ مسلم ہے، اور جو معاشرہ اس تسلیم کی بنیاد پر تشکیل پائے، وہ مسلم سوسائٹی ہے، جس کا ضابطۂ حیات شریعت ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
پاکستان میں اسلامی قانون کا نفاذ کس طرح ہوسکتا ہے؟
[یہ تقریر ۱۹ فروری ۴۸ء کو لا کالج لاہور میں کی گئی تھی] اس سے پہلے میں آپ کے سامنے ایک تقریر اس موضوع پر کرچکا ہوں کہ اسلامی قانون کی حقیقت کیا ہے، اس کی روح اور اس کا مقصد کیا ہے، اس کے بنیادی اصول کیا ہیں، مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارا اس کے ساتھ تعلق کیا ہے اور ہم کیوں اپنے ملک میں اسے نافذ کرنے کے پابند ہیں اور وہ شبہات کیا وزن رکھتے ہیں جو اس کے بارے میں عام طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔ میری وہ تقریر محض ایک تعارفی تقریر تھی۔ اب میں ذرا تفصیل کے ساتھ اس مسئلے پر بحث کرنا چاہتا ہوں کہ اگر اب ہم اس ملک میں اسلامی قانون کو ازسرِ نو جاری کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کے لیے کیا تدبیریں کرنی ہوں گی۔