اسلامی نظام زندگی اور اس کے بنیادی تصورات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب 'اسلامی نظام زندگی اور اس کے بنیادی تصورات' ایک ایسی علمی و فکری کاوش ہے جو اسلام کو محض عبادات اور رسم و رواج تک محدود نہ سمجھتے ہوئے، اسے انسانی زندگی کا مکمل، منظم اور الٰہی ہدایت پر مبنی نظام ثابت کرتی ہے۔ کتاب کا مرکزی دعویٰ یہ ہے کہ اسلام صرف ایک ذاتی عقیدہ یا مذہبی رسوم کا نام نہیں، بلکہ وہ ایک جامع نظامِ حیات ہے جو فرد سے لے کر ریاست تک ہر شعبۂ زندگی کو اپنے دائرۂ اثر میں لیتا ہے۔ اس کتاب کی تحریر کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ انسانیت کی حقیقی سلامتی، اخلاقی استحکام اور سماجی انصاف صرف اسی وقت ممکن ہے جب انسان خدا کی حاکمیت کو تسلیم کرے اور اس کے قانون کے مطابق اپنی زندگی کی تشکیل کرے۔
کتاب کا آغاز باب اول سے ہوتا ہے جس میں مصنف توحید، نبوتِ محمدیؐ اور زندگیِ بعد موت کے عقائد کو عقلی بنیادوں پر استوار کرتے ہیں۔ وہ دلیل دیتے ہیں کہ کائنات کا منظم نظام ایک واحد، ذی شعور اور قادرِ مطلق خالق کے وجود کی ضرورت ہے، جیسا کہ ہر منظم نظام کے پیچھے ایک منصوبہ بند طاقت ہوتی ہے۔ نبوتِ محمدیؐ کو انہوں نے تاریخی تناظر میں پیش کیا ہے، جہاں ایک اُمّی شخص نے محض بیس سالوں میں ایک مکمل نظامِ حیات قائم کر دیا، جو اللہ کی طرف سے اس کی رسالت کی واضح دلیل ہے۔ آخرت پر ایمان کو وہ اخلاقی زندگی کی بنیاد قرار دیتے ہیں، کیونکہ اگر انسان کو یقین ہو کہ موت کے بعد حساب ہوگا، تو وہ اپنے اعمال کو اسی تناظر میں دیکھے گا۔
کتاب گیارہ ابواب میں پھیلی ہوئی ہے۔ ابتدائی عقلی دلائل کے بعد باب سوم "اسلام اور جاہلیت" میں شرک، رہبانیت اور ہمہ اوست جیسے جاہلی تصورات کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے، اور باب چہارم "دینِ حق" میں دین و اسلام کے قرآنی مفہوم کو واضح کیا گیا ہے۔ باب پنجم و ششم اسلام کے اخلاقی نقطۂ نظر اور تحریکِ اسلامی کی اخلاقی بنیادوں—ایمان، اسلام، تقویٰ اور احسان کے چار مراتب—کو بیان کرتے ہیں، جبکہ باب ہفتم "بناؤ اور بگاڑ" اقوام کے عروج و زوال کے الٰہی ضابطے کو تاریخی شہادتوں سے واضح کرتا ہے۔
باب ہشتم اور نہم بالترتیب جہاد فی سبیل اللہ اور شہادتِ حق کو امتِ مسلمہ کے فرضِ منصبی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ باب دہم مسلمانوں کے موجودہ زوال کے اسباب کا تفصیلی تجزیہ کرتا ہے—بشمول مغربی تہذیب کی فکری بنیادوں (ہیگل کا فلسفۂ تاریخ، ڈارون کا نظریۂ ارتقا، مارکس کی مادی تعبیرِ تاریخ) اور ان کے تعلیم، معیشت، قانون اور سیاست پر اثرات کا جائزہ—اور مستقبل کے لیے ایک واضح لائحہ عمل تجویز کرتا ہے۔ آخری باب "اسلام کا نظامِ حیات" اخلاقی، سیاسی، معاشرتی، اقتصادی اور روحانی نظاموں کو ایک اکائی کے طور پر پیش کر کے کتاب کے مجموعی موضوع کو مربوط شکل دیتا ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
اِسلامی تصوّرِ اَخلاق کا انسانی زندگی پراثر
دیکھیے، اس طرح اِسلام اُس پوری فکری اور عملی انار کی کو ختم کر دیتا ہے جو انسان کو بے خدا فرض کرکے اس کے لیے ایک نظامِ اَخلاق تجویز کرنے کی کوششوں سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کے بعد آگے چلیے۔ اِسلام خدا کا جو تصوّر پیش کرتا ہے وہ یہ ہے کہ خدا ہی انسان کا اور ساری کائنات کا واحد مالک، خالق، معبود اور حاکم ہے۔ اس خدائی میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے۔ اس کے ہاں بجز دعائے خیر کے کسی ایسی سفارش کی گنجائش بھی نہیں جو زور سے منوائی جاتی ہو اور ردّ نہ کی جا سکتی ہو۔ اس کے ہاں ہر شخص کی کامیابی وناکامی کا مدار اس کے اپنے طرز عمل پر ہے۔ نہ کوئی کسی کا کفارہ بن سکتا ہے، نہ کسی کے عمل کی ذمہ داری دوسرے پر ڈالی جاتی ہے، اور نہ کسی کے عمل کا صلہ دوسرے کو ملتا ہے۔ اس کے ہاں جانبداری نہیں کہ ایک شخص یا خاندان یا قوم یا نسل سے اسے دوسرے کی بہ نسبت زیادہ دل چسپی ہو۔ سب انسان اس کی نگاہ میں یکساں ہیں، سب کے لیے ایک ہی قانونِ اَخلاق ہے اور فضیلت جو کچھ بھی ہے اَخلاقی فضیلت کے اعتبار سے ہے۔ وہ خود رحیم ہے اور رحم کو پسند کرتا ہے۔ وہ خود فیاض ہے اور فیاضی کو پسند کرتا ہے۔ وہ خود غفور ہے اور درگزر کو پسند کرتا ہے۔ وہ خود عادل ہے اور عدل کو پسند کرتا ہے۔ وہ خود ظلم سے، تنگ نظری وتنگ دلی سے، بے رحمی و سنگ دلی سے، تعصب اور نفسانی جانبداری سے پاک ہے، اس لیے انھی کو پسند کرتا ہے جو ان صفات سے مُتّصِف ہوں۔ پھر کبریائی تنہا اسی کا حق ہے‘ اس لیے تکبر اُسے ناپسند ہے، خدائی صرف اسی کے لیے ہے اور دوسرے سب اس کے بندے ہیں‘ اس لیے ایک بندے پر‘ دوسرے کی خداوندی اسے پسند نہیں۔ مالک وہ اکیلا ہے اور دوسروں کے پاس جو کچھ ہے امانت کی حیثیت سے ہے، اس لیے کسی بندے کی خود مختاری اور کسی کا کسی کے لیے قانون بنانا اور کسی کا کسی کے لیے بذاتِ خود واجب الاطاعت ہونا یہ سب فی الحقیقت غلَط ہے۔ سب کا مطاع وہی ایک ہے اور سب کے لیے خیر اِسی میں ہے کہ اس کی بے چون وچرا اطاعت کریں۔ پھر وہ محسن ہے اور شکر، احسان مندی اور مَحبّت کا مستحق ہے۔ وہ منعم ہے اور اس کا حق دار ہے کہ اس کی نعمتوں میں اسی کے منشا کے مطابق تصرّف کیا جائے۔ وہ منصف ہے اور لازم ہے کہ انسان اس کے انصاف میں سزا پانے کا خوف اور جزا پانے کی طمع رکھے۔ وہ علیم و خبیر ہے اور دلوں کی چھپی ہوئی نیتوں سے بھی واقف ہے، اس لیے ظاہری حُسنِ اَخلاق سے اسے دھوکا نہیں دیا جا سکتا۔ وہ محیط ہے اس لیے کوئی یہ امید بھی نہیں کر سکتا کہ جرم کرکے اس کی پکڑ سے بچ نکلے گا۔
خدا کے اس تصوّر پر غور کیجیے۔ اس سے بالکل ایک فطری نتیجے کے طور پر انسان کے لیے ایک مکمل اَخلاقی زندگی کا نقشہ وجود میں آتا ہے اور وہ نقشہ ان تمام کم زوریوں سے خالی ہے جو مشرکانہ مذاہب کے اَخلاقیات اور دہریانہ مسلکوں کے اَخلاقیات میں پائے جاتے ہیں۔ یہاں نہ تو اَخلاقی ذمّہ داریوں سے بچ نکلنے کے دروازے کہیں موجود ہیں، نہ ان ظالمانہ فلسفوں کے لیے کوئی جگہ ہے جن کی بنا پر انسان اپنی دل چسپیوں کے لحاظ سے عالمِ انسانیت کو تقسیم کرکے ایک حصے کے لیے مجسم فرشتہ اوردوسرے حصے کے لیے مجسم شیطان بن جاتا ہے۔ نہ دہریانہ اَخلاقیات کی وہ بنیادی کم زوریاں اس میں پائی جاتی ہیں جن کی وجہ سے اَخلاق میں کوئی استحکام پیدا نہیں ہو سکتا۔ ان سلبی خوبیوں کے ساتھ اس نقشے میں یہ ایجابی خوبی موجود ہے کہ یہ اَخلاقی فضیلت کا ایک بلند ترین اور وسیع ترین منتہا پیش کرتا ہے جس کی وسعت اور بلندی کی کوئی حد نہیں، اور اس منتہا کی طرف بڑھنے کے لیے ایسے محرکات فراہم کرتا ہے جو پاکیزہ ترین ہیں۔
پھر یہ تصوّر کہ امتحان کسی ایک چیز میں نہیں بلکہ ان تمام چیزوں میں ہے جو خدا نے انسان کو دی ہیں، کسی ایک حیثیت میں نہیں بلکہ ان تمام حیثیتوں میں ہے جو انسانوں کو یہاں حاصل ہیں، اور کسی ایک شعبۂ حیات میں نہیں بلکہ پوری زندگی میں ہے، یہ اَخلاق کے دائرے کو اتنا ہی پھیلا دیتا ہے جتنا امتحان کا دائرہ پھیلا ہوا ہے۔ انسان کی عقل، اس کے ذرائع علم، اس کی ذہنی وفکری قوتیں، اس کے حواس، اس کے جذبات، اس کی خواہشات، اس کی جسمانی طاقتیں، سب کی سب امتحان میں شریک ہیں، یعنی امتحان آدمی کی پوری شخصیت کا ہے۔ پھر خارج کی دُنیا میں جن جن اشیا سے آدمی کو سابقہ پیش آتا ہے، جن اشیا پر وہ تصرّف کرتا ہے، جن انسانوں سے مختلف طور پر اسے واسطہ پڑتا ہے، ان سب کے ساتھ اس کے برتاؤ میں امتحان ہے۔ اور سب سے بڑھ کر اس امر میں امتحان ہے کہ انسان یہ سب کچھ خدا کی خداوندی اور اپنی عبدیّت ونیا بت کے احساس کے ساتھ کر رہا ہے یا آزادی وخود مختاری کی ہوا میں مبتلا ہو کر؟ یا خدا کے سوا دوسروں کا بندہ بن کر؟ اس وسیع ترین تصوّرِ اَخلاق میں وہ تنگی نہیں ہے جو مذہب کے محدود تصوّر سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ آدمی کو زندگی کے ہر میدان میں آگے بڑھاتا ہے‘ ہر میدان کی اَخلاقی ذمّہ داریاں اسے بتاتا ہے، اور وہ اَخلاقی اصول اسے دیتا ہے جن کی پیروی کرنے سے وہ خدا کے اس امتحان میں کام یاب ہو سکے جو ایک ایک میدانِ زندگی سے متعلق ہے۔
پھر یہ تصوّر کہ امتحان کا اصلی اور آخری فیصلہ اس زندگی میں نہیں بلکہ دوسری زندگی میں ہو گا اور حقیقی کامیابی وناکامی وہ ہے جو وہاں ہو نہ کہ یہاں، یہ دُنیا کی زندگی اور اس کے معاملات پر انسان کی نظر کو بنیادی طور پر بدل دیتا ہے۔ اس تصوّر کی وجہ سے وہ نتائج جو اس دُنیا میں نکلتے ہیں ہمارے لیے حُسن وقبح، صحت اور غلطی، حق اور باطل، اور کامیابی وناکامی کے قطعی، اصلی اور آخری معیار نہیں رہتے۔ اس لیے قانونِ اَخلاق کی پیروی کرنے یا نہ کرنے کا انحصار بھی ان نتائج پر نہیں ہو سکتا۔ جو شخص اس تصوّر کو قبول کر لے گا وہ قانونِ اَخلاق کی پیروی پر بہرحال ثابت قدم رہے گا خواہ اس دُنیا میں اس کا نتیجہ بظاہر اچھا ہو یا بُرا، کامیابی کی صورت میں نکلتانظر آئے یا ناکامی کی صورت میں۔ اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ اس کی نگاہ میں دنیوی نتائج بالکل ہی ناقابل لحاظ ہوں گے۔ بلکہ اس کے معنی صرف یہ ہیں کہ وہ اصلی اور آخری لحاظ ان کا نہیں بلکہ آخرت کے پائیدار نتائج کا کرے گا اور اپنے لیے صحیح صرف اس طرزِ عمل کو سمجھے گا جو اِن نتائج پر نگاہ رکھتے ہوئے اختیار کیا جائے۔ وہ کسی چیز کو چھوڑنے اور کسی کو اختیار کرنے کا فیصلہ اس بنیاد پر نہیں کرے گا کہ زندگی کے اس ابتدائی مرحلے میں وہ لذّت اور خوشی اور نفع کی موجب ہے یا نہیں۔ بلکہ اس بنیاد پر کرے گا کہ زندگی کے آخری مرحلے میں اپنے قطعی وحتمی نتائج کے اعتبار سے وہ کیسی ہے۔ اس طرح اس کا نظامِ اَخلاق ترقی پذیر تو ضرور رہے گا مگر اس کے اصولِ اَخلاق تغیر پذیر نہ ہوں گے‘ اور نہ اس کی سیرت ہی تلوّن پذیر ہو گی۔یعنی تمدن وتہذیب کے نشوونما کے ساتھ ساتھ اس کے اَخلاقی تصوّرات میں وسعت تو یقینا ہو گی‘ مگر یہ ممکن نہ ہو گا کہ واقعات کی ہر کروٹ اور حالات کی ہرگردش کے ساتھ اَخلاق کے اصول بھی بدلتے چلے جائیں اور آدمی ایک اَخلاقی گرگٹ بن کر رہ جائے کہ اس کے اَخلاقی رویّے میں سرے سے کوئی پائیدار ی ہی نہ ہو۔
پس اَخلاق کے نقطۂ نظر سے آخرت کا یہ اِسلامی تصوّر دو اہم فائدے عطا کرتا ہے جو کسی دوسرے ذریعے سے حاصل نہیں ہو سکتے۔ ایک یہ کہ اس سے اصولِ اَخلاق کو غایت درجہ کا استحکام نصیب ہوتا ہے جس میں تَزلزُل کا کوئی خطرہ نہیں۔ دوسرے یہ کہ اس سے انسان کی اَخلاقی سیرت کو وہ استقامت میسّر آتی ہے جس میں (بشرطِ ایمان) انحراف کا کوئی اندیشہ نہیں۔ دُنیا میں سچائی کے دس مختلف نتیجے نکل سکتے ہیں اور ان نتائج پر نگاہ رکھنے والا ایک ابن الوقت انسان مواقع اور امکانات کے لحاظ سے دس مختلف طرزِ عمل اختیار کر سکتا ہے۔ لیکن آخرت میں سچائی کا نتیجہ لازماً ایک ہی ہے اور اس پر نظر رکھنے والا ایک مومن انسان دنیوی فائدے اور نقصان کا لحاظ کیے بغیر لازماً ایک ہی طرز عمل اختیار کرے گا۔ دنیوی نتائج کا اعتبار کیجیے تو خیر وشر کسی متعین چیز کا نام نہیں رہتا بلکہ ایک ہی چیز اپنے مختلف نتیجوں کے لحاظ سے کبھی خیر اور کبھی شر بنتی رہتی ہے اور اس کے اتباع میں دُنیا پرست آدمی کا کردار بھی اپنی پوزیشن تبدیل کرتا رہتا ہے۔ لیکن آخرت کے نتائج پر نظر رکھیے تو خیر اور شر دونوں قطعی طور پر متعین ہو جاتے ہیں اور مومن بالآخرۃ آدمی کے لیے یہ ناممکن ہو جاتا ہے کہ کبھی خیر کو بدانجام یا شر کو نیک انجام سمجھ کر اپنے کردار کو بدل دے۔
پھر یہ تصوّر کہ انسان اس دُنیا میں خدا کا خلیفہ ہے اور تصرّف کے جو اختیارات یہاں اسے حاصل ہیں وہ سب دراصل نائبِ خدا ہونے کی حیثیت سے ہیں، انسانی زندگی کے لیے راستے اور مقصد دونوں کا تعیّن کردیتا ہے۔ اس تصوّر سے لازم آتا ہے کہ انسان کے لیے خود مختاری اور بندگیِ غیر اور خداوندانہ بڑائی کے تمام رویّے غلَط ہوں اور صرف یہی ایک رویّہ صحیح ہو کہ اپنے تمام تصرفات میں وہ خدا کی مرضی کا تابع اور اس کے نازل کردہ اَخلاقی قانون کا پابند بن کر رہے۔ نیز اس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ انسان ایک طرف تو اپنے اَخلاقی رویّے میں ہر ایسے طرزِ عمل سے بشدت اجتناب کرے جس میں خود مختاری وبغاوت کا، یا خدا کے سوا کسی اور کی بندگی کا، یا خداوندانہ کبریائی کا ذرّہ برابر شائبہ پایا جاتا ہو، کیوں کہ یہ تینوں چیزیں اس کی نائبانہ حیثیت کے منافی ہیں‘ مگر دوسری طرف خدا کی املاک میں اس کا تصرّف، اور خدا کی پیدا کردہ قوتوں میں اس کا برتاؤ ، اور خدا کی رعیّت میں اس کی فرماں روائی اس اَخلاق اور اس برتاؤ کے عین مطابق ہو جو اس سلطنت کا اصل مالک اپنے ملک اور اپنی رعیّت میں اختیار کر رہا ہے، کیوں کہ نائبانہ حیثیت کا فطری اقتضا یہی ہے کہ نائبِ سلطان کی پالیسی خود سلطان کی پالیسی سے اور نائبِ سلطان کے اَخلاق خود سلطان کے اَخلاق سے منافی نہ ہوں۔ نیز اس تصوّر سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ جو قوتیں اللہ نے انسان کو عطا کی ہیں اور جو ذرائع ا ور وسائل اسے دُنیا میں بخشے ہیں ان سب کو استعمال کرنے اور منشائِ الٰہی کے مطابق استعمال کرنے پر انسان مامور ہو، یعنی دوسرے الفاظ میں وہ نائبِ سلطان بھی سخت مجرم ہو جس نے سلطان کے منشا کے خلاف اس کی مِلک اور اس کی رعیّت میں تصرف کیا، اور وہ نائب بھی بڑا مجرم قرار پائے جس نے سلطان کے دیے ہوئے اختیارات میں سے کسی اختیار کو سرے سے استعمال ہی نہ کیا بلکہ اس کی بخشی ہوئی قوتوں میں سے کسی قوت کو بلاوجہ ضائع کر دیا، اس کے بنائے ہوئے ذرائع ووسائل سے کام لینے میں جان بوجھ کر کوتاہی کی اور اس ڈیوٹی سے منہ موڑ کر کھڑا ہو گیا جس پر سلطان نے اسے مامور کیا تھا۔ نیز اس تصوّر سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ پوری نوعِ انسانی کی اجتماعی زندگی ایسے ڈھنگ پر قائم ہو کہ سارے انسان، یعنی خدا کے سب خلیفہ، ان ذمہ داریوں کے ادا کرنے میں جو خدا نے ان پر عائد کی ہیں، ایک دوسرے کے معاون ومددگار ہوں، اور نظامِ تمدن وعمران میں ایسی کوئی چیز کار فرما نہ رہے جس کی وجہ سے ایک انسان دوسرے انسان کی، یا انسانوں کا ایک گروہ دوسرے گروہ کی خلافت کو عملاً سلب کر لے یا اس کے اجرا میں مانع و مزاحم ہو، بجز اس صورت کے جبکہ کوئی انسان یا گروہ انسانی خلافت سے محروم ہو کر اپنے حقیقی سلطان سے بغاوت کا مرتکب ہو رہا ہو۔
یہ تو ہے وہ اَخلاقی منہاج جو تصوّرِ خلافت سے ایک لازمی نتیجے کے طور پر انسان کے لیے بنتی ہے۔ رہا انسان کی اَخلاقی زندگی کا مقصد اور اس کی تمام سعی وعمل کا نصب العین تو وہ بھی اسی تصوّر سے بالکل ایک منطقی لزوم کے ساتھ متعین ہوتا ہے۔ نائب سلطان کی حیثیت سے انسان کا زمین پر مامور ہونا خود بخود اس بات کا مقتضی ہے کہ انسان کی زندگی کا مقصد زمین پر خدا کی مرضی پوری کرنے کے سوا اورکچھ نہ ہو۔ خدا نے زمین کے انتظام کا جتنا حصہ انسان سے متعلق کیا ہے اس حصے میں خدا کے قانون کو جاری کرنا، خدا کے منشا کے مطابق امن اور عدل اور صلاح کا نظام قائم کرنا اور قائم رکھنا، اس نظام میں شروفساد کی جو صورتیں شیاطین جِنّ واِنس پیدا کریں انھیں دبانا اور مٹانا، اور ان بھلائیوں کو زیادہ سے زیادہ نشوونما دینا جو خدا کو محبوب ہیں اور جن سے خداوند عالم اپنی زمین اور اپنی رعیّت کو آراستہ دیکھنا چاہتا ہے، یہ ہے وہ مقصد جس پر ہر وہ انسان اپنی تمام مساعی کو مرکوز کر دے گا جس کے اندر خلیفۂ اِلٰہی ہونے کا شعور پیدا ہو چکا ہو۔ یہ مقصد صرف یہی نہیں کہ ان تمام مقاصد کی نفی کر دیتا ہے جو لذّت پرستوں اور مادہ پرستوں اور قوم پرستوں اور دوسرے مہملات کے پرستاروں نے اپنی زندگی کے لیے مقرر کیے ہیں، بلکہ یہ ان لایعنی مقاصد کی بھی اتنی ہی شدت کے ساتھ نفی کرتا ہے جو روحانیت کے ایک غلط تصوّر کے تحت اہلِ مذاہب نے متعین کیے ہیں۔ ان دونوں غلَط انتہاؤں کے درمیان خلافتِ الٰہیہ کا تصوّر انسان کے سامنے ایک ایسا بلند ترین اور پاکیزہ ترین مقصد حیات رکھ دیتا ہے جو اس کی ساری قوتوں اور قابلیتوں کو زندگی کے ہر میدان میں برسرِ کار لاتا ہے اور انھیں ایک صالح ترین نظامِ تہذیب وتمدن کے قیام وارتقا کی خدمت میں استعمال کرتا ہے۔
یہ ہیں وہ بنیادیں جو اَخلاقِ انسانی کی تعمیر کے لیے اِسلام نے ہم کو دی ہیں۔ اِسلام کسی ایک قوم کی جائداد نہیں بلکہ تمام انسانیّت کی مشترک میراث ہے اور سارے انسانوں کی فلاح اس کے پیشِ نظر ہے۔ اس لیے ہر اُس شخص کو جواپنی اور انسانیت کی فلاح کا خواہش مند ہو، یہ سوچنا چاہیے کہ آیا انسانی اَخلاق کی تعمیر کے لیے یہ بنیادیں بہتر ہیں جو اِسلام ہمیں دے رہا ہے یا وہ جو روحانی مذاہب یا فلسفیانہ مسالک ہمیں دیتے ہیں؟ اگر کسی کا دل گواہی دے کہ اَخلاق کے لیے یہی بنیادیں صحیح ہیں تو پھر کوئی جاہلانہ تعصّب اسے ان بنیادوں کے قبول کر لینے میں مانع نہ ہونا چاہیے۔