مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

اسلامی نظام زندگی اور اس کے بنیادی تصورات

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب 'اسلامی نظام زندگی اور اس کے بنیادی تصورات' ایک ایسی علمی و فکری کاوش ہے جو اسلام کو محض عبادات اور رسم و رواج تک محدود نہ سمجھتے ہوئے، اسے انسانی زندگی کا مکمل، منظم اور الٰہی ہدایت پر مبنی نظام ثابت کرتی ہے۔ کتاب کا مرکزی دعویٰ یہ ہے کہ اسلام صرف ایک ذاتی عقیدہ یا مذہبی رسوم کا نام نہیں، بلکہ وہ ایک جامع نظامِ حیات ہے جو فرد سے لے کر ریاست تک ہر شعبۂ زندگی کو اپنے دائرۂ اثر میں لیتا ہے۔ اس کتاب کی تحریر کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ انسانیت کی حقیقی سلامتی، اخلاقی استحکام اور سماجی انصاف صرف اسی وقت ممکن ہے جب انسان خدا کی حاکمیت کو تسلیم کرے اور اس کے قانون کے مطابق اپنی زندگی کی تشکیل کرے۔

کتاب کا آغاز باب اول سے ہوتا ہے جس میں مصنف توحید، نبوتِ محمدیؐ اور زندگیِ بعد موت کے عقائد کو عقلی بنیادوں پر استوار کرتے ہیں۔ وہ دلیل دیتے ہیں کہ کائنات کا منظم نظام ایک واحد، ذی شعور اور قادرِ مطلق خالق کے وجود کی ضرورت ہے، جیسا کہ ہر منظم نظام کے پیچھے ایک منصوبہ بند طاقت ہوتی ہے۔ نبوتِ محمدیؐ کو انہوں نے تاریخی تناظر میں پیش کیا ہے، جہاں ایک اُمّی شخص نے محض بیس سالوں میں ایک مکمل نظامِ حیات قائم کر دیا، جو اللہ کی طرف سے اس کی رسالت کی واضح دلیل ہے۔ آخرت پر ایمان کو وہ اخلاقی زندگی کی بنیاد قرار دیتے ہیں، کیونکہ اگر انسان کو یقین ہو کہ موت کے بعد حساب ہوگا، تو وہ اپنے اعمال کو اسی تناظر میں دیکھے گا۔

کتاب گیارہ ابواب میں پھیلی ہوئی ہے۔ ابتدائی عقلی دلائل کے بعد باب سوم "اسلام اور جاہلیت" میں شرک، رہبانیت اور ہمہ اوست جیسے جاہلی تصورات کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے، اور باب چہارم "دینِ حق" میں دین و اسلام کے قرآنی مفہوم کو واضح کیا گیا ہے۔ باب پنجم و ششم اسلام کے اخلاقی نقطۂ نظر اور تحریکِ اسلامی کی اخلاقی بنیادوں—ایمان، اسلام، تقویٰ اور احسان کے چار مراتب—کو بیان کرتے ہیں، جبکہ باب ہفتم "بناؤ اور بگاڑ" اقوام کے عروج و زوال کے الٰہی ضابطے کو تاریخی شہادتوں سے واضح کرتا ہے۔

باب ہشتم اور نہم بالترتیب جہاد فی سبیل اللہ اور شہادتِ حق کو امتِ مسلمہ کے فرضِ منصبی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ باب دہم مسلمانوں کے موجودہ زوال کے اسباب کا تفصیلی تجزیہ کرتا ہے—بشمول مغربی تہذیب کی فکری بنیادوں (ہیگل کا فلسفۂ تاریخ، ڈارون کا نظریۂ ارتقا، مارکس کی مادی تعبیرِ تاریخ) اور ان کے تعلیم، معیشت، قانون اور سیاست پر اثرات کا جائزہ—اور مستقبل کے لیے ایک واضح لائحہ عمل تجویز کرتا ہے۔ آخری باب "اسلام کا نظامِ حیات" اخلاقی، سیاسی، معاشرتی، اقتصادی اور روحانی نظاموں کو ایک اکائی کے طور پر پیش کر کے کتاب کے مجموعی موضوع کو مربوط شکل دیتا ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

نظریۂ اِسلامی کی تنقید

دُنیا اور انسان کے متعلق یہ نظریہ جو پیغمبروں نے پیش کیا ہے، ایک مکمل نظریہ ہے۔ اس کے تمام اجزا میں ایک منطقی ربط ہے، کوئی جز دوسرے جز سے متناقض نہیں ہے۔ اس سے تمام واقعاتِ عالم کی پوری توجیہہ اور آثار کائنات کی پوری تعبیر ملتی ہے۔ کوئی ایک چیز بھی مشاہدے یا تجربے میں ایسی نہیں آتی جس کی توجیہہ اس نظریے سے نہ کی جا سکتی ہو۔ لہٰذا یہ ایک علمی نظریہ (scientific theory) ہے۔ ’’علمی نظریے‘‘ کی جو تعریف بھی کی جائے وہ اس پر صادق آتی ہے۔

پھر کوئی مشاہدہ یا تجربہ آج تک ایسا نہیں ہوا جس سے یہ نظریہ ٹوٹ جاتا ہو۔ لہٰذا یہ اپنی جگہ پر قائم ہے۔ ٹوٹے ہوئے نظریات میں اسے شمار نہیں کیا جا سکتا۔ [کسی زمانے کے علمی نظریات کا اس کے خلاف ہونا اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ یہ نظریہ ٹوٹ گیا ہے۔ ایک علمی نظریے کو صرف حقائق (Facts) توڑ سکتے ہیں نہ کہ نظریات۔ لہٰذا جب تک یہ نہ بتایا جائے کہ انبیاء کے پیش کیے ہوئے اس تصوّر کائنات وانسان کو کس ثابت شدہ حقیقت نے غلط ثابت کر دیا ہے، اسے ٹوٹے ہوئے نظریات میں شمار کرنا قطعاً ایک غیر علمی اور متعصبانہ ادّعا ہے۔]

پھر نظامِ عالم کا جو مشاہدہ ہم کرتے ہیں اس سے یہ نظریہ نہایت اَغلب (most probable) نظر آتا ہے۔ کائنات میں جو زبردست تنظیم پائی جاتی ہے اسے دیکھ کر یہ کہنا زیادہ قرینِ دانش ہے کہ اس کا کوئی ناظم ہے، بہ نسبت اس کے کہ کوئی ناظم نہیں ہے۔ اسی طرح اس تنظیم کو دیکھ کر یہ نتیجہ نکالنا زیادہ معقول ہے کہ یہ مرکزی نظام ہے اور ایک ہی مختار کل اس کا ناظم ہے، بہ نسبت اس کے کہ یہ لامرکزی نظام ہے اور بہت سے ناظموں کے ماتحت چل رہا ہے۔ اسی طرح جو حکمت کی شان اس کائنات کے نظام میں علانیہ محسوس ہوتی ہے اُسے دیکھ کر یہ رائے قائم کرنا زیادہ قریب از عقل ہے کہ یہ حکیمانہ اور بامقصد نظام ہے، بہ نسبت اس کے کہ بے مقصد ہے اور محض بچے کا کھیل ہے۔

پھر جب ہم اس حیثیت سے غور کرتے ہیں کہ اگر واقعی یہ نظامِ کائنات ایک سلطنت ہے اور انسان اس نظام کا ایک جز ہے تو یہ بات ہمیں سراسر معقول معلوم ہوتی ہے کہ اس نظام میں انسان کی خود مختاری وغیر ذمہ داری کے لیے کوئی جگہ نہ ہونی چاہیے۔ اس لحاظ سے یہ ہمیں نہایت معقول (most reasonable) نظریہ معلوم ہوتا ہے۔

پھر جب عملی نقطۂ نظر سے ہم دیکھتے ہیں تو یہ بالکل ایک قابلِ عمل نظریہ ہے۔ زندگی کی ایک پور ی اسکیم اپنی تمام تفصیلات کے ساتھ اس نظریے پر بنتی ہے۔ فلسفہ اور اَخلاق کے لیے، علوم وفنون کے لیے، صلح وجنگ اور بین الاقوامی تعلقات کے لیے، غرض زندگی کے ہر پہلو اور ہر ضرورت کے لیے یہ ایک مستقل بنیاد فراہم کرتا ہے اور کسی شعبۂ زندگی میں بھی انسان کو اپنا رویّہ متعین کرنے کے لیے اس نظریے سے باہر جانے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔

اب ہمیں صرف یہ دیکھنا باقی رہ گیا ہے کہ اس نظریے سے دُنیا کی زندگی میں کس قسم کا رویّہ بنتا ہے اور اس کے نتائج کیا ہیں؟

انفرادی زندگی میں یہ نظریہ دوسرے جاہلی نظریات کے برعکس ایک نہایت ذمہ دارانہ اور نہایت منضبط رویّہ (discipline) پیدا کرتا ہے۔ اس نظریے پر ایمان لانے کے معنی یہ ہیں کہ آدمی اپنے جسم اور اس کی طاقتوں اور دُنیا اور اس کی کسی چیز کو بھی اپنی ملک سمجھ کر خودمختارانہ استعمال نہ کرے بلکہ خدا کی ملک سمجھ کر صرف اس کے قانون کی پابندی میں استعمال کرے۔ ہر چیز کو جو اُسے حاصل ہے خدا کی امانت سمجھے اور یہ سمجھتے ہوئے اس میں تصرّف کرے کہ مجھے اس امانت کا پورا حساب دینا ہے، اور حساب بھی اسے دینا ہے جس کی نظر سے میرا کوئی فعل بلکہ کوئی دل میں چھپا ہوا ارادہ تک پوشیدہ نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسا شخص ہر حال میں ایک ضابطے کا پابند ہو گا۔ وہ خواہشات کی بندگی میں کبھی شتر بے مہار نہیں بن سکتا۔ وہ ظالم اور خائن نہیں ہو سکتا۔ اس کی سیرت پر کامل اعتماد کیا جا سکتا ہے۔ وہ ضابطے کی پابندی کے لیے کسی خارجی دبائو کا محتاج نہیں ہوتا۔ اس کے اپنے نفس میں ایک زبردست اَخلاقی انضباط پیدا ہو جاتا ہے جو اسے ان مواقع پر بھی راستی اور حق پر قائم رکھتا ہے جہاں اسے کسی دنیوی طاقت کی باز پُرس کا خطرہ نہیں ہوتا۔ یہ خدا کا خوف اور امانت کا احساس وہ چیز ہے جس سے بڑھ کر سوسائٹی کو قابلِ اعتماد افراد فراہم کرنے کا کوئی دوسرا ذریعہ تصوّر میں نہیں آ سکتا۔

مزید برآں یہ نظریّہ آدمی کو نہ صرف سعی وجہد کا آدمی بناتا ہے، بلکہ اس کی سعی وجہد کوخود غرضی، نفس پرستی، یا قوم پرستی کے بجائے حق پرستی اور بلند تر اَخلاقی مقاصد کی راہ پر لگا دیتا ہے۔ جو شخص اپنے متعلق یہ رائے رکھتا ہو کہ میں دُنیا میں بے کار نہیں آیا ہوں بلکہ خدا نے مجھے کام کرنے کے لیے یہاں بھیجا ہے، اور میری زندگی اپنے لیے یا اپنے دوسرے متعلقین کے لیے نہیں ہے بلکہ اس کام کے لیے ہے جس میں خدا کی رضا ہو، اور مَیں یوں ہی چھوڑا نہ جائوں گا، بلکہ مجھ سے پورا حساب لیا جائے گا کہ مَیں نے اپنے وقت کا اور اپنی قوتوں کا کتنا اورکس طرح استعمال کیا، ایسے شخص سے زیادہ کوشش کرنے والا اور نتیجہ خیز اور صحیح کوشش کرنے والا آدمی اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا یہ نظریہ ایسے بہتر افراد پیدا کرتا ہے کہ ان سے بہتر انفرادی رویّے کا تصوّر کرنا مشکل ہے۔

اب اجتماعی پہلو میں دیکھیے:

سب سے پہلے تو یہ نظریہ انسانی اجتماع کی بنیاد بدل دیتا ہے۔ اس نظریے کی رُو سے تمام انسان خدا کی رعیّت ہیں۔ رعیّت ہونے کی حیثیت سے سب کے حقوق یکساں، سب کی حیثیت یکساں اور سب کے لیے مواقع یکساں، کسی شخص، کسی خاندان، کسی طبقے، کسی قوم، کسی نسل کے لیے دوسرے انسانوں پر نہ کسی قسم کی برتری وفوقیت ہے، نہ امتیازی حقوق، اس طرح انسان پر انسان کی حاکمیت اور فضیلت کی جڑ کٹ جاتی ہے اور وہ تمام خرابیا ںیک لخت دور ہو جاتی ہیں جو بادشاہی، جاگیرداری، نوابی (aristocracy) برہمنیت وپاپائیت اور آمریت سے پیدا ہوتی ہیں۔

پھر یہ چیز قبیلے، قوم، نسل، وطن اور رنگ کے تعصبات کا بھی خاتمہ کر دیتی ہے جن کی بدولت دُنیا میں سب سے زیادہ خون ریزی ہوئی ہے۔ اس نظریے کی رُو سے تمام رُوئے زمین خدا کا مُلک ہے۔ تمام انسان آدم کی اولاد اور خدا کے بندے ہیں، اور فضیلت کی بنیاد نسل ونسب، مال ودولت، یا رنگ کی سپیدی وسرخی پر نہیں بلکہ اَخلاق کی پاکیزگی اور خدا کے خوف پر ہے۔ جو سب سے زیادہ خدا سے ڈرنے والا اور اصلاح وتقوٰی پر عمل کرنے والا ہے وہی سب سے افضل ہے۔

اسی طرح انسان اور انسان کے درمیان اجتماعی ربط وتعلق یا فرق وامتیاز کی بنا پر بھی اس نظریے میں کلیتاً تبدیلی کر دی گئی ہے۔ انسان نے اپنی ایجاد سے جن چیزوں کو اجتماع وافتراق کی بنا ٹھیرایا ہے، وہ انسانیت کو بے شمار حصوں میں تقسیم کرتی ہیں اور ان حصوں کے درمیان ناقابلِ عبور دیواریں کھڑی کر دیتی ہیں۔ کیوں کہ نسل، یا وطن، یا قومیت یا رنگ وہ چیزیں نہیں ہیں جن کوآدمی تبدیل کر سکتا ہوا ور ایک گروہ میں سے دوسرے گروہ میں جا سکتا ہو۔ برعکس اس کے یہ نظریہ انسان اور انسان کے درمیان اجتماع وافتراق کی بنا خدا کی بندگی اور اس کے قانون کی پیروی پر رکھتا ہے۔ جو لوگ مخلوقات کی بندگی چھوڑ کر خدا کی بندگی اختیار کر لیں اور خدا کے قانون کو اپنی زندگی کا واحد قانون تسلیم کر لیں وہ سب ایک جماعت ہیں، اور جو ایسا نہ کریں وہ دوسری جماعت۔ اس طرح تمام اختلافات مٹ کر صرف ایک اختلاف باقی رہ جاتا ہے اور وہ اختلاف بھی قابل عبور ہے۔ کیوں کہ ہر وقت ایک شخص کے لیے ممکن ہے کہ اپنا عقیدہ اور طرز زندگی بدل دے اور ایک جماعت سے دوسری جماعت میں چلا جائے۔ اس طرح ایک دُنیا میں کوئی عالم گیر بین الاقوامی برادری بننا ممکن ہے تو وہ اسی نظریے پر بن سکتی ہے۔ دوسرے تمام نظریات انسانیت کو پھاڑنے والے ہیں، جمع کرنے والے نہیں۔

ان تمام اصلاحات کے بعد جو سوسائٹی اس نظریے پر بنتی ہے اس کی ذہنیت، اسپرٹ، اور اجتماعی تعمیر (social structure) بالکل بدلی ہوئی ہوتی ہے۔ اس میں اسٹیٹ انسان کی حاکمیت پر نہیں بلکہ خدا کی حاکمیت پر بنتا ہے۔[ تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو میری کتاب: ’’اسلام کا نظریۂ سیاسی‘‘ مطبوعہ اسلامک پبلی کیشنز (پرائیویٹ)لمیٹڈ لاہور۔] حُکُومت خدا کی ہوتی ہے۔ قانون خدا کا ہوتا ہے۔ انسان صرف خدا کے ایجنٹ کی حیثیت سے کام کرتا ہے۔ یہ چیز اوّل تو اُن ساری خرابیوں کو دُور کر دیتی ہے جو انسان پر انسان کی حُکُومت اور انسان کی قانون سازی سے پیدا ہوتی ہے۔ پھر ایک عظیم الشان فرق جو اس نظریے پر اسٹیٹ بننے سے واقع ہو جاتا ہے وہ یہ ہے کہ اسٹیٹ کے پورے نظام میں عبادت اور تقوٰی کی اسپرٹ پھیل جاتی ہے۔ راعی اور رعیت دونوں یہ سمجھتے ہیں کہ ہم خدا کی حُکُومت میں ہیں اور ہمارا معاملہ براہِ راست اُس خدا سے ہے جو عالم الغیب والشہادہ ہے۔ ٹیکس دینے والا یہ سمجھ کر ٹیکس دیتا ہے کہ وہ خدا کو ٹیکس دے رہا ہے، اور ٹیکس لینے والے اور اس ٹیکس کو خرچ کرنے والے یہ سمجھتے ہوئے کام کرتے ہیں کہ یہ مال خدا کا مال ہے اور ہم امین کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ ایک سپاہی سے لے کر ایک جج اور گورنر تک ہر کارندۂ حُکُومت اپنی ڈیوٹی اُسی ذہنیت کے ساتھ انجام دیتا ہے جس ذہنیت کے ساتھ وہ نماز پڑھتا ہے۔ دونوں کام اس کے لیے یکساں عبادت ہیں اور دونوں میں وہی ایک تقوٰی اور خشیت کی رُوح درکار ہے۔ باشندے اپنے اندر سے جن لوگوں کو خدا کی نیابت کا کام انجام دینے کے لیے چنتے ہیں ان میں سب سے پہلے جو صفت تلاش کی جاتی ہے وہ خوفِ خدا اور امانت وصداقت کی صفت ہے۔ اس طرح سطح پر وہ لوگ ابھر کر آتے ہیں اور اختیارات اُن کے ہاتھوں میں دیے جاتے ہیں جو سوسائٹی میں سب سے بہتر اَخلاق کے حامل ہوتے ہیں۔

تمدن ومعاشرت میں بھی یہ نظریہ تقوٰی اور طہارتِ اَخلاق کی یہی اسپرٹ پھیلا دیتا ہے۔ اس میں نفس پرستی کے بجائے خدا پرستی ہوتی ہے، ہر ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان خدا کا واسطہ حائل ہوتا ہے، اور خدا کا قانون دونو ں کے تعلقات کو منضبط کرتا ہے۔ یہ قانون چوں کہ اُس نے بنایا ہے جو تمام نفسانی خواہشات اورذاتی اغراض سے پاک ہے، اور علیم وحکیم بھی ہے اس لیے اس میں فتنے کا ہر دروازہ اور ظلم کا ہر راستہ بند کیا گیا ہے اور انسانی فطرت کے ہرپہلو اور اس کی ہر ضرورت کی رعایت کی گئی ہے۔

یہاں اتنا موقع نہیں کہ میں اُس پوری اجتماعی عمارت کا نقشہ پیش کروں جو اُس نظریے پر بنتی ہے مگر جو کچھ میں نے بیان کیا ہے اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ پیغمبروں نے جو نظریۂ کائنات وانسان پیش کیا ہے وہ کس قسم کا رویّہ پیدا کرتا ہے اور اس کے نتائج کیا ہیں اور کیا ہو سکتے ہیں۔ پھر یہ بات بھی نہیں کہ یہ محض کاغذ پر ایک خیالی نقشہ ہو بلکہ تاریخ میں اس نظریے پر ایک اجتماعی نظام اور ایک اسٹیٹ بنا کر دکھایا جا چکا ہے اور تاریخ شاہد ہے کہ جیسے افراد اس نظریے پر تیار کیے گئے تھے نہ اس سے بہتر افراد کبھی رُوئے زمین پر پائے گئے اور نہ اس اسٹیٹ سے بڑھ کر کوئی اسٹیٹ انسان کے لیے رحمت ثابت ہوا۔ اس کے افراد میں اپنی اَخلاقی ذمہ داری کا احساس اتنا بڑھ گیا تھا کہ ایک صحرائی عورت کو زنا سے حمل ہو جاتا ہے، وہ جانتی ہے کہ میرے لیے اس جرم کی سزا سنگ ساری جیسی ہولناک سزا ہے، مگر وہ خود چل کر آتی ہے اور درخواست کرتی ہے کہ اس پر سزا نافذ کی جائے۔ اس سے کہا جاتا ہے کہ وضع حمل کے بعد آئیو، اور بغیر کسی مچلکہ وضمانت کے اُسے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ وضع حمل کے بعد وہ پھر صحرا سے آتی ہے اور سزا دیے جانے کی درخواست کرتی ہے۔ اس سے کہا جاتا ہے کہ بچے کو دودھ پلا اور جب دُودھ پلانے کی مدت ختم ہو جائے تب آئیو۔ پھر وہ صحرا کی طرف واپس چلی جاتی ہے اور کوئی پولیس کی نگرانی اس پر نہیں ہوتی۔ رضاعت کی مدت ختم ہونے کے بعد وہ پھر آ کر التجا کرتی ہے کہ اب اسے سزا دے کر اُس گناہ سے پاک کر دیا جائے جو اس سے سرزد ہو چکا ہے۔ چنانچہ اسے سنگسار کیا جاتا ہے اور جب وہ مر جاتی ہے تو اُس کے لیے دعائے رحمت کی جاتی ہے۔ اور جب ایک شخص کی زبان سے اس کے حق میں اتفاقاً یہ کلمہ نکل جاتا ہے کہ کیسی بے حیا عورت تھی تو جواب میں فرمایا جاتا ہے کہ ’’خدا کی قسم! اس نے ایسی توبہ کی تھی کہ اگر ناجائز محصول لینے والا بھی ایسی توبہ کرتا تو بخش دیا جاتا۔‘‘ یہ تواس سوسائٹی کے افراد کا حال تھا اور اس اسٹیٹ کا حال یہ تھا کہ جس حُکُومت کی آمدنی کروڑوں روپے تک پہنچی ہوئی تھی اور جس کے خزانے ایران وشام ومصر کی دولت سے معمور ہو رہے تھے، اس کا صدر صرف ڈیڑھ سو روپیہ مہینہ تنخواہ لیتا تھا، اور اس کے شہریوں میں ڈھونڈے سے بھی بمشکل کوئی ایسا شخص ملتا تھا جوخیرات لینے کا مستحق ہو۔

اس تجربے کے بعد بھی اگر کسی شخص کو یہ اطمینان حاصل نہ ہو کہ انبیا نے نظامِ کائنات کی حقیقت اور اس میں انسان کی حیثیت کے متعلق جو نظریہ پیش کیا ہے وہ حق ہے تو ایسے شخص کے اطمینان کے لیے کوئی دوسری صورت ممکن نہیں ہے۔ کیوں کہ خدا اور فرشتوں اورآخرت کی زندگی کا براہِ راست عینی مشاہدہ تو اُسے بہرحال حاصل نہیں ہو سکتا۔ جہاں مشاہدہ ممکن نہ ہو وہاں تجربے سے بڑھ کر صحت کا کوئی دوسرا معیار نہیں ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایک طبیب بیمار کے اندرمشاہدہ کرکے یہ نہیں دیکھ سکتا کہ فی الواقع سسٹم میں کیا خرابی پیدا ہو گئی ہے تو مختلف دوائیں دے کر دیکھتا ہے، اور جو دوا اس اندھیری کوٹھڑی میں ٹھیک نشانے پر جا کر بیٹھتی ہے اس کا مرض کو دور کر دینا ہی اس بات پر قطعی دلیل ہوتا ہے کہ سسٹم میں فی الواقع جو خرابی تھی یہ دوا اس کے عین مطابق تھی۔ اسی طرح جب انسانی زندگی کی کل کسی دوسرے نظریے سے درست نہیں ہوتی اور صرف انبیا کے نظریے ہی سے درست ہوتی ہے تو یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ نظریہ حقیقت کے مطابق ہے۔ فی الواقع یہ کائنات اللہ کی سلطنت ہے اور واقعی اس زندگی کے بعد ایک زندگی ہے جس میں انسان کو اپنے کارنامۂ حیاتِ دنیوی کا حساب دینا ہے۔