مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

اسلامی نظام زندگی اور اس کے بنیادی تصورات

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب 'اسلامی نظام زندگی اور اس کے بنیادی تصورات' ایک ایسی علمی و فکری کاوش ہے جو اسلام کو محض عبادات اور رسم و رواج تک محدود نہ سمجھتے ہوئے، اسے انسانی زندگی کا مکمل، منظم اور الٰہی ہدایت پر مبنی نظام ثابت کرتی ہے۔ کتاب کا مرکزی دعویٰ یہ ہے کہ اسلام صرف ایک ذاتی عقیدہ یا مذہبی رسوم کا نام نہیں، بلکہ وہ ایک جامع نظامِ حیات ہے جو فرد سے لے کر ریاست تک ہر شعبۂ زندگی کو اپنے دائرۂ اثر میں لیتا ہے۔ اس کتاب کی تحریر کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ انسانیت کی حقیقی سلامتی، اخلاقی استحکام اور سماجی انصاف صرف اسی وقت ممکن ہے جب انسان خدا کی حاکمیت کو تسلیم کرے اور اس کے قانون کے مطابق اپنی زندگی کی تشکیل کرے۔

کتاب کا آغاز باب اول سے ہوتا ہے جس میں مصنف توحید، نبوتِ محمدیؐ اور زندگیِ بعد موت کے عقائد کو عقلی بنیادوں پر استوار کرتے ہیں۔ وہ دلیل دیتے ہیں کہ کائنات کا منظم نظام ایک واحد، ذی شعور اور قادرِ مطلق خالق کے وجود کی ضرورت ہے، جیسا کہ ہر منظم نظام کے پیچھے ایک منصوبہ بند طاقت ہوتی ہے۔ نبوتِ محمدیؐ کو انہوں نے تاریخی تناظر میں پیش کیا ہے، جہاں ایک اُمّی شخص نے محض بیس سالوں میں ایک مکمل نظامِ حیات قائم کر دیا، جو اللہ کی طرف سے اس کی رسالت کی واضح دلیل ہے۔ آخرت پر ایمان کو وہ اخلاقی زندگی کی بنیاد قرار دیتے ہیں، کیونکہ اگر انسان کو یقین ہو کہ موت کے بعد حساب ہوگا، تو وہ اپنے اعمال کو اسی تناظر میں دیکھے گا۔

کتاب گیارہ ابواب میں پھیلی ہوئی ہے۔ ابتدائی عقلی دلائل کے بعد باب سوم "اسلام اور جاہلیت" میں شرک، رہبانیت اور ہمہ اوست جیسے جاہلی تصورات کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے، اور باب چہارم "دینِ حق" میں دین و اسلام کے قرآنی مفہوم کو واضح کیا گیا ہے۔ باب پنجم و ششم اسلام کے اخلاقی نقطۂ نظر اور تحریکِ اسلامی کی اخلاقی بنیادوں—ایمان، اسلام، تقویٰ اور احسان کے چار مراتب—کو بیان کرتے ہیں، جبکہ باب ہفتم "بناؤ اور بگاڑ" اقوام کے عروج و زوال کے الٰہی ضابطے کو تاریخی شہادتوں سے واضح کرتا ہے۔

باب ہشتم اور نہم بالترتیب جہاد فی سبیل اللہ اور شہادتِ حق کو امتِ مسلمہ کے فرضِ منصبی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ باب دہم مسلمانوں کے موجودہ زوال کے اسباب کا تفصیلی تجزیہ کرتا ہے—بشمول مغربی تہذیب کی فکری بنیادوں (ہیگل کا فلسفۂ تاریخ، ڈارون کا نظریۂ ارتقا، مارکس کی مادی تعبیرِ تاریخ) اور ان کے تعلیم، معیشت، قانون اور سیاست پر اثرات کا جائزہ—اور مستقبل کے لیے ایک واضح لائحہ عمل تجویز کرتا ہے۔ آخری باب "اسلام کا نظامِ حیات" اخلاقی، سیاسی، معاشرتی، اقتصادی اور روحانی نظاموں کو ایک اکائی کے طور پر پیش کر کے کتاب کے مجموعی موضوع کو مربوط شکل دیتا ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

۳۔ ہمہ اُوست

تیسری رائے جو مشاہدے اور قیاس کی آمیزش سے پیدا ہوتی ہے یہ ہے کہ انسان اورکائنات کی تمام چیزیں بجائے خود غیر حقیقی ہیں۔ ان کا کوئی مستقل وجود نہیں ہے۔ دراصل ایک وجود نے ان ساری چیزوں کو خود اپنے ظہور کا واسطہ بنایا ہے اور وہی ان سب کے اندر کام کر رہا ہے۔ تفصیلات میں اس نظریے کی بے شمار صورتیں ہیں، مگر ان ساری تفصیلات کے اندر قدر مشترک یہی ایک خیال ہے کہ تمام موجودات ایک ہی وجود کا ظہور خارجی ہیں اور دراصل موجود وہی ہے باقی کچھ نہیں۔

اس نظریے کی بِنا پر انسان جو رویّہ اختیار کرتا ہے وہ یہ ہے کہ اسے خود اپنے ہونے ہی میں شک ہو جاتا ہے کجا کہ وہ کوئی کام کرے۔ وہ اپنے آپ کو ایک کٹھ پتلی سمجھتا ہے جسے کوئی اور نچا رہا ہے یا جس کے اندر کوئی اور ناچ رہا ہے۔ وہ اپنے تخیلات کے نشے میں گم ہو جاتا ہے۔ اُس کے لیے نہ کوئی مقصدِ زندگی ہوتا ہے اور نہ کوئی راہِ عمل۔ وہ خیال کرتا ہے کہ میں خود تو کچھ ہوں ہی نہیں، نہ میرے کرنے کا کوئی کام ہے، نہ میرے کیے سے کچھ ہو سکتا ہے۔ اصل میں تو وہ وجودِ کلی جو مجھ میں اور تمام کائنات میں سرایت کیے ہوئے ہے اور جو ازل سے ابد تک چلا جا رہا ہے، سارے کام اُسی کے ہیں اور وہی سب کچھ کرتا ہے۔ وہ اگر مکمل ہے تو مَیں بھی مکمل ہوں، پھر کوشش کس چیزکے لیے؟ اور وہ اگر اپنی تکمیل کے لیے کوشاں ہے تو جس عالم گیر حرکت کے ساتھ وہ کمال کی طرف جا رہا ہے اسی کی لپیٹ میں ایک جز کی حیثیت سے میں بھی آپ سے آپ چلا جائوں گا۔ میں ایک جز ہوں، مجھے کیا خبر کہ کل کدھر جا رہا ہے اور کدھر جانا چاہتا ہے۔ اس طرزِ خیال کے عملی نتائج قریب قریب وہی ہیں جو ابھی مَیں نے راہبانہ نظریّے کے سلسلے میں بیان کیے ہیں۔ بلکہ بعض حالات میں اس رائے کو اختیار کرنے والے کا طرزِ عمل ان لوگوں کے رویے سے ملتا جلتا ہے جو خالص جاہلیت کا نظریہ اختیار کرتے ہیں۔ کیوں کہ یہ اپنی خواہشات کے ہاتھ میں اپنی باگیں دے دیتا ہے اور پھر جدھر خواہشات لے جاتی ہیں اس طرف یہ سمجھتے ہوئے بے تکلف چلا جاتا ہے کہ جانے والا وجود کلی ہے نہ کہ مَیں۔

پہلے نظریے کی طرح یہ تینوں نظریے بھی جاہلیت کے نظریے ہیں اور اس بنا پر جو رویّے ان سے پیدا ہوتے ہیں وہ بھی جاہلیت ہی کے رویّے ہیں۔ اس لیے کہ اوّل تو ان میں سے کوئی نظریّہ بھی کسی علمی ثبوت پر مبنی نہیں ہے بلکہ محض خیالی اور قیاسی بنیادوں پر مختلف رائیں قائم کر لی گئی ہیں۔ دوسرے ان کا واقعہ کے خلاف ہونا تجربے سے ثابت ہوتا ہے۔ اگر ان میں کوئی رائے بھی امر واقعی کے مطابق ہوتی تو اس کے مطابق عمل کرنے سے بُرے نتائج تجربے میں نہ آتے۔ جب آپ دیکھتے ہیں کہ ایک چیز کو جہاں کہیں انسان نے کھایا اس کے پیٹ میں درد ضرور ہوا تو اس تجربے سے آپ یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ فی الحقیقت معدے کی ساخت اور اس کی طبیعت سے یہ چیز مطابقت نہیں رکھتی۔ بالکل اسی طرح جب یہ حقیقت ہے کہ شرک، رہبانیت، اور وجودیت کے نظریے اختیار کرنے سے انسان کو بحیثیت مجموعی نقصان ہی پہنچا تو یہ بھی اس امر کا ثبوت ہے کہ ان میں سے کوئی نظریہ بھی واقعہ اور حقیقت کے مطابق نہیں ہے۔