مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

حقوق الزوجین

اشاعت: 1943ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "حقوق الزوجین" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ اہم تصنیف ہے جس میں انہوں نے اسلامی ازدواجی نظام کی روح، اصول، مقاصد اور عملی تشکیل کا جامع جائزہ پیش کیا ہے۔ یہ کتاب محض قانونی بحث تک محدود نہیں، بلکہ ایک وسیع تر معاشرتی اور اخلاقی تناظر میں مرد و عورت کے تعلقات کو سمجھنے کی کوشش ہے، جس کا بنیادی مقصد مسلمانوں کی گھریلو زندگی کی اصلاح اور اسلامی شریعت کے صحیح نفاذ کی طرف رہنمائی کرنا ہے۔

مولانا مودودی کا مرکزی دعویٰ یہ ہے کہ موجودہ دور میں مسلمانوں کی ازدواجی زندگی کی تباہی کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ نہ تو اپنے اصلی اسلامی قانون کے تحت زندگی گزار رہے ہیں، اور نہ ہی ان پر ایسا قانون نافذ ہے جو ان کے تمدنی مزاج کے مطابق ہو۔ برطانوی دور میں نافذ کردہ "محمدن لا" نامی قانون، جو اسلامی شریعت کا نام لے کر اس کی روح سے بے نیاز ہے، نے مسلمانوں کے گھریلو معاملات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس ناقص قانون کے نتیجے میں لاکھوں گھر دوزخ کا نمونہ بن چکے ہیں، جہاں نہ صرف اخلاقیات کا پامال ہونا عام ہو گیا ہے بلکہ عزت، ناموس، ایمان اور تہذیب کی بنیادیں بھی ہلا دی گئی ہیں۔ اس صورتحال کو درست کرنے کے لیے مولانا نے 1935ء میں رسالہ "ترجمان القرآن" میں "حقوق الزوجین" کے عنوان سے مضامین کا سلسلہ شروع کیا، جسے بعد ازاں کتابی شکل دے دی گئی۔

کتاب کا آغاز دیباچۂ طبع اوّل سے ہوتا ہے، جس میں مصنف اپنی تحریر کے پسِ منظر اور مقصد کی وضاحت کرتے ہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

متعلقہ نظامات: عورت اور مرد کا تعلق

اصول قانون

قانون کے مقاصد سمجھ لینے کے بعد ہم کو یہ دیکھنا چاہیئے کہ اسلامی قانونِ ازدواج کی تدوین کن اصولوں پر کی گئی ہے۔ اس لیے کہ جب تک یہ اصول ٹھیک ٹھیک نہ معلوم ہوں، جن فی مسائل میں قانون کے احکام کو صحیح طریقہ سے نافذ کرنا مشکل ہے۔

اصل اول:

اصولِ قانون میں پہلی اصل جس پر بہت سے احکام متفرع ہوتے ہیں، یہ ہے کہ ازدواجی زندگی میں مرد کو عورت سے ایک درجہ زائد دیا گیا ہے۔ <<وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ>> اس درجے کی تشریح ہم کو اس آیت میں ملتی ہے۔

<<الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ ۚ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ>> (النساء ۳۴)

مرد عورتوں پر قوام ہیں، اس بنا پر کہ اللہ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے، اور اس بنا پر کہ وہ اپنے اموال خرچ کرتے ہیں۔ پس جو نیک عورتیں ہیں وہ شوہروں کی اطاعت کرنے والی اور ان کی غیر موجودگی میں بتوفیقِ الٰہی ان کے حقوق کی حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں۔

یہاں اس بحث کا موقع نہیں کہ مرد کو عورت پر فضیلت کس بنا پر ہے اور اس کو قوام کیوں بنایا گیا ہے؟ [قوام (Sustainer, Provider) حاکم، محافظ ۔۔۔سربراہ کار، معاملات کا منتظم اور نگران (Protector) ]یہ قانون کی نہیں، فلسفہ اجتماع کی بحث ہے۔ اپنے موضوع زیرِ بحث کے دائرے میں رہ کر ہم یہاں صرف اس امر کی صراحت کر دینا کافی سمجھتے ہیں کہ خانگی زندگی کے نظم کو برقرار رکھنے کے لیے بہر حال زوجین میں سے ایک کا قوام اور صاحب امر ہونا ضروری ہے۔ اگر دونوں بالکل مساوی درجہ اور مساوی اختیارات رکھنے والے ہوں تو بدنظمی کا پیدا ہونا یقینی ہے۔ جیسی کہ فی الواقع اُن قوموں میں رونما ہو رہی ہے جنہوں نے عملاً زوجین کے درمیان مساوات پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسلام چونکہ ایک فطری مذہب ہے، اس لیے کہ اس نے انسانی فطرت کا لحاظ کرکے زوجین میں سے ایک کو قوام اور صاحب امر، اور دوسرے کو مطیع اور ماتحت بنانا ضروری سمجھا اور قوامیت کے لیے اُس فریق کا انتخاب کیا جو فطرتاً ہی اسی امر کے لئے پیدا ہوا ہے۔[ اس بحث کو اگر کوئی صاحب مفصل دیکھنا چاہیں تو میری کتاب ”پردہ“ ملاحظہ فرمائیں۔]

مرد کے فرائض :-

پس اسلامی قانون کے ماتحت ازدواجی زندگی کا جو ضابطہ مقرر کیا گیا ہے اس میں مرد کی حیثیت قوام کی ہے، اور اس حیثیت میں اس پر حسب ذیل فرائض عائد ہوتے ہیں۔

(۱) مہر :- یہ کہ وہ عورت کا مہر ادا کرے کیونکہ اس کو عورت پر جو حقوق زوجیت حاصل ہوتے ہیں وہ مہر کا معاوضہ ہیں۔ اور جو آیت نقل کی گئی ہے، اس میں یہ تصریح موجود ہے کہ اگرچہ یہ اصل فطرت کے لحاظ سے مرد ہی قوامیت کا مستحق ہے مگر بالفعل یہ مرتبہ اس کو اس مال کے معاوضہ میں ملتا ہے جو وہ مہر کی صورت میں خرچ کرتا ہے۔ اس کی تشریح دوسری آیات میں بھی کی گئی ہے۔ مثلاً:

<<وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً>> (النساء - ۴)

اور عورتوں کے مہر خوش دلی کے ساتھ ادا کرو۔

<<وَأُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَاءَ ذٰلِكُمْ أَنْ تَبْتَغُوْا بِأَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِيْنَ غَيْرَ مُسٰفِحِيْنَ ط فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ مِنْهُنَّ فَآتُوْهُنَّ أُجُوْرَهُنَّ فَرِيْضَةً ط>> (النساء - ۲۴)

ان محرمات کے سوا باقی سب عورتیں تمہارے لیے حلال کی گئیں تاکہ اپنے اموال کے بدلے تم ان کو حاصل کرنے کی خواہش کرو۔ قید نکاح میں لانے کے لیے نہ کہ آزاد شہوت رانی کے لیے۔ پس ان سے تم نے جو تمتع کیا ہے اس کے بدلے میں قرار داد کے مطابق ان کے مہر ادا کرو۔

<<فَانْكِحُوْهُنَّ بِإِذْنِ أَهْلِهِنَّ وَآتُوْهُنَّ أُجُوْرَهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ>> (النساء - ۲۵)

پس لونڈیوں کے ساتھ ان کے مالکوں کی اجازت سے نکاح کرو۔ اور مناسب طور پر ان کے مہر ادا کرو۔

<<وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِيْنَ أُوْتُوا الْكِتٰبَ>>

اور حلال کی گئیں تمہارے لیے عورت دار عورتیں مومنوں میں سے اور عورت دار عورتیں

<<مِنْ قَبْلِكُمْ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ>>(۵ - مائدہ)

اُن لوگوں میں سے جن کے پاس تم میں سے پہلے کتاب بھیجی جاچکی ہے جبکہ تم ان کے مہر ادا کردو۔

پس نکاح کے وقت عورت اور مرد کے درمیان مہر کی جو قرار داد ہوئی ہو اس کو پورا کرنا مرد پر لازم ہے ۔ اگر وہ اس قرار داد کو پورا کرنے سے انکار کرے تو عورت کو حق ہے کہ اپنے نفس کو اس سے روک لے۔ یہ ایسی ذمہ داری ہے جس سے سبکدوش ہونے کی کوئی صورت مرد کے لئے بجز اس کے نہیں ہے کہ عورت یا تو اس کو مہلت دے [اسی کو مہر مُؤجَّل کہتے ہیں ۔ مگر آج کل مہر مُؤجَّل کا مفہوم یہ ہو گیا ہے کہ نکاح کے وقت ہزارں لاکھوں کی دستاویز یہ سمجھ کر لکھوادی جاتی ہے کہ ”کون لیتا ہے کون دیتا ہے“۔ گویا ابتدا ہی سے ادا کرنے کی نیت نہیں ہوتی ۔ حالانکہ اس نیت کے ساتھ جو نکاح کیا جائے وہ عند اللہ فاسد ہے ۔ حقیقی مہر مُؤجَّل وہ ہے جس میں واضع طور پر یہ مدت کا تعین کیا گیا ہو کہ مرد اتنی مدت میں اسے ادا کرے گا ۔ اور جس مہر کی قرار داد میں مدت کا تعین نہ ہو وہ عند الطلب (On Demand) کی حیثیت رکھتا ہے ۔ مجھے ان فقہاء سے سخت اختلاف ہے جو ایسے مہر کو شوہر کی وفات کے بعد واجب الادا بتاتے ہیں۔ گویا نکاح تو شوہر کرے اور مہر اس کے وارثوں پر عائد ہو۔ یہ چیز مذکورہ بالا آیات قرآنی کی روح کے بالکل خلاف ہے اور اس فتوے کیلئے کتاب و سنت میں کوئی دلیل نہیں ہے ۔]۔ یا اس کی ناداری کا لحاظ کر کے بخوشی معاف کر دے ۔ یا اس پر احسان کر کے برضاو رغبت اپنے حق سے دست بردار ہوجائے ۔

<<فَإِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْئٍ مِنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ هَنِيئًا مَّرِيئًا>>

پھر اگر وہ خوش دلی کیساتھ مہر میں سے کچھ معاف کر دیں تو اس کو مزے سے کھاؤ۔ (النساء - ۴)

<<وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَاضَيْتُمْ بِهِ مِنْ بَعْدِ الْفَرِيضَةِ>> (النساء - ۴)

اور اگر تم قرار داد کے بعد اس میں کم زیادہ پر باہمی رضا مندی سے کوئی تصفیہ کر لو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔

2- نفقہ: شوہر کا دوسرا فرض نفقہ ہے۔ قانون اسلام نے زوجین کے حدود و عمل کی واضح طور پر تقسیم کر دی ہے۔ عورت کا کام گھر میں بیٹھنا اور خانگی زندگی کے فرائض انجام دینا ہے <<وَقَرْنَ فِى بُيُوْتِكُنَّ>> اور مرد کا کام کمانا اور اپنے اہل کے لیے ضروریات زندگی فراہم کرنا ہے۔ یہ دوسری چیز ہے جس کی بنا پر شوہر کو اپنی بیوی پر فضیلت کا ایک درجہ دیا گیا ہے اور یہ چیز قوامیت کے عین مفہوم میں داخل ہے۔ قوام کہتے ہی اس شخص کو ہیں جو کسی شئے کی نگہبانی اور خبر گیری کرنے والا ہو۔ اور اسی حیثیت سے اس شے پر اقتدار رکھتا ہو۔ قرآن مجید کی آیت <<الرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَى النِّسَاءِ>> میں جس شے <<اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ>> سے جس طرح مہر کا وجوب ثابت ہوتا ہے، اُسی طرح نفقہ کا وجوب بھی ثابت ہوتا ہے۔ اگر شوہر اس ذمہ داری کو ادا نہ کرے تو قانون اس کو ادا کرنے پر مجبور کرے گا۔ اور بصورت انکار یا بصورت عدم استطاعت، اس کا نکاح فسخ کر دے گا۔ لیکن نفقے کی مقدار کا تعین عورت کی خواہشات پر مبنی نہیں ہے، بلکہ مرد کی استطاعت پر ہے۔ قرآن مجید نے اس بارے میں ایک قائدہ کلیہ بیان کر دیا ہے کہ <<عَلَى الْمُوْسِعِ قَدَرُهُ وَ عَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهُ>> ۔ مالدار پر اس کی استطاعت کے مطابق نفقہ ہے اور مفلس پر اس کی استطاعت کے مطابق۔ یہ نہیں کہ غریب آدمی سے وہ نفقہ وصول کیا جائے جو اس کی حیثیت سے زیادہ ہو، یا مال دار آدمی وہ نفقہ دے جو اس کی حیثیت سے کم ہو۔

3- ظلم سے اجتناب: مرد کا تیسرا فرض یہ ہے کہ اس کو عورت پر جو ترجیحی حقوق اور اختیارات دیے گئے ہیں ان کو ظالمانہ طریقہ سے استعمال نہ کرے۔ ظلم کی متعدد صورتیں ہیں مثلاً

ایلاء :

عورت کے داعیاتِ نفس کو پورا کرنے سے کسی عذرِ جائز کے بغیر اعراض کرنا جس کا مقصد محض اس کو سزا دینا اور تکلیف پہنچانا ہو[عذر جائز سے مراد ہے مرد یا عورت کی بیماری۔ یا مرد کا حالتِ سفر میں ہونا یا کوئی ایسی صورت پیش آجانا جس میں مرد اپنی بیوی کیطرف رغبت رکھتا ہو مگر اس کے پاس جانے کا موقع نہ ہو۔] اس کے لئے قانونِ اسلام نے زیادہ سے زیادہ چار مہینے کی مدت رکھی ہے۔ اس مدت کے اندر مرد پر لازم ہے کہ اپنی بیوی سے تعلق زن و شوہر قائم کرلے۔ ورنہ انقضائے مدت کے بعد اس کو مجبور کیا جائے گا کہ عورت کو چھوڑ دے۔

<<لِّلَّذِيْنَ يُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَاۗىِٕهِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَةِ اَشْهُرٍۚ فَاِنْ فَاۗءُوْ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَإِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ>> (البقره - ٢٢٦)

جو لوگ اپنی عورتوں کے پاس نہ جانے کی قسم کھا لیتے ہیں، ان کے لیے چار مہینے کی مہلت ہے۔ اگر وہ رجوع کر لیں تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے اور اگر طلاق کا عزم کر لیں تو اللہ سننے اور جاننے والا ہے۔

اس مسئلہ میں بعض فقہاء نے حلف کی شرط لگائی ہے، یعنی اگر شوہر نے بیوی کے پاس نہ جانے کی قسم کھائی ہے تب تو ایلاء ہوگا اور یہ حکم جاری کیا جائے گا۔ لیکن اگر قسم نہیں کھائی، خواہ وہ بیوی سے ناراض ہو کر دس برس بھی اس سے علیحدہ رہے، اُس پر ایلاء کا اطلاق نہ ہوگا۔ لیکن مجھے اس رائے سے اتفاق نہیں ہے۔ اس سلسلے میں میرے دلائل حسب ذیل ہیں۔

اوّل یہ کہ قرآن مجید اگر کسی خاص صورت معاملہ کے متعلق کوئی حکم دے اور ایسے الفاظ استعمال کرے جن کا اطلاق اُسی صورت معاملہ پر ہوتا ہو، تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس حکم کا اطلاق اُسی صورت معاملہ پر ہوگا۔ مثال کے طور پر قرآن نے سوتیلی بیٹی کو اس کے باپ پر حرام کرنے کے لیے جو الفاظ استعمال کیے ہیں وہ یہ ہیں <<وَرَبَائِبُكُمُ الّٰتِيْ فِيْ حُجُوْرِكُمْ>> اور تمہاری وہ پروردہ لڑکیاں جنہوں نے تمہاری گودوں میں پرورش پائی ہے“۔ اس سے صرف ان لڑکیوں کے حرام ہونے کا حکم نکلتا ہے جو چھوٹی عمر میں اپنی ماں کے ساتھ سوتیلے باپ کے گھر آئی ہوں۔ مگر کوئی بھی اس بات کا قائل نہیں ہے کہ یہ حکم صرف اسی صورت کے لیے خاص ہے۔ بلکہ سب اُس لڑکی کے حرام ہونے پر بھی متفق ہیں جو سوتیلے باپ اپنے ماں کے نکاح کے وقت جوان ہو اور جس نے ایک دن بھی اُس باپ کے گھر میں پرورش نہ پائی ہو۔ اسی طرح اگر قرآن نے لفظ <<يُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَاۗىِٕهِمْ>> (جو بیویوں سے صحبت نہ کرنے کی قسم کھا لیتے ہیں) کے الفاظ استعمال کیے ہیں تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ایسے لوگوں کے لیے جو حکم بیان کیا گیا ہے وہ صرف قسم کھانے والے لوگوں ہی کے لیے خاص ہو۔

دوم یہ کہ احکام فقیہہ کے استنباط میں یہ اصول قریب قریب ساری امت میں متفق علیہ ہے کہ جس صورت معاملہ کے متعلق کوئی حکم نہ پایا جاتا ہو، اُس کو کسی ایسی صورت معاملہ پر قیاس کیا جا سکتا ہے جس کے بارے میں حکم موجود ہو بشرطیکہ دونوں میں علت حکم مشترک ہو۔ اب سوال یہ ہے کہ شارع نے ایلاء کرنے والوں کے لیے چار مہینے کی مدت کس لیے مقرر کی ہے؟ اور کیوں یہ فرمایا ہے کہ اگر اس مدت کے اندر رجوع نہ کرے تو پھر طلاق دے دو۔ کیا اس کی وجہ اس کے سوا کچھ اور بتائی جاسکتی ہے کہ چار مہینے سے زیادہ مدت تک مقاربت سے پرہیز کرنا عورت کے لئے موجب ضرار ہے اور شارع ضرار ہی کو روکنا چاہتا ہے؟ اسی آیت سے اگلے رکوع میں شارع کا یہ ارشاد موجود ہے کہ <<لَا تُضَارُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُوا عَلَيْهِنَّ>> (ان کو محض ضرار کے لئے نہ روک رکھو تاکہ ان پر زیادتی کرو) اور سورہ نساء میں شارع فرماتا ہے <<فَلَا تَمِيلُوا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوهَا كَالْمُعَلَّقَةِ>> (پس ایک ہی بیوی کی طرف پوری طرح نہ جھک پڑو کہ دوسری کو معلق چھوڑ دو)۔ ان اشارات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ عورت کو نکاح میں بھی رکھنا اور پھر اسے معلق رکھ چھوڑنا اور محض ستانے کے لئے روک رکھنا شارع کو پسند نہیں ہے ۔ اس کے سوا چار مہینے کی مدت مقرر کرنے کی کوئی دوسری علت بیان نہیں کی جاسکتی۔ اب اگر یہی علت اس صورت میں بھی پائی جاتی ہو جب کہ شوہر قسم کھائے بغیر بیوی سے قصدًا مباشرت کرنا چھوڑ دے تو کیوں نہ اس پر بھی یہی حکم نافذ کیا جائے؟ آخر قسم کھانے یا نہ کھانے سے نفسِ ضرار میں کیا فرق واقع ہو جاتا ہے؟ کیا کوئی معقول آدمی یہ تصور کر سکتا ہے کہ شوہر قسم کھا کر ترک مباشرت کرے تو ضرار ہوگا۔ اور اگر اس نے قسم نہ کھائی، تو ساری عمر بھی اس بیوی کے پاس نہ جانے سے کوئی ضرار نہ ہو گا۔

سوم یہ کہ اسلامی نقطہ نظر سے ازداوجی قانون کا اہم ترین مقصد اخلاق اور عصمت کی حفاظت ہے۔ ایک مرد اگر ایک بیوی سے ناراض ہو کر دوسری بیوی کو لے تو وہ اس طرح اپنے آپ کو بدکاری و بد نظری سے بچا سکتا ہے۔ لیکن وہ عورت جسے اس کے شوہر نے خواہشات نفس کی تسکین سے مستقل طور پر محروم کر رکھا ہو، کا کس طرح اپنے اخلاق کی حفاظت کر سکتی ہے جب تک کہ اس کا شوہر اس کی طرف رجوع نہ کرے؟ یا کیا شارع حکیم سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ ایسی عورت کے شوہر نے اگر اس سے الگ رہنے کی قسم کھا لی ہو، تب تو وہ اس کے اخلاق کی حفاظت کا بندوبست کرے گا ورنہ اسے غیر محدود مدت تک بداخلاقی کے خطرے میں مبتلا چھوڑے گا؟

ان وجوہ سے میرے نزدیک فقہائے مالکیہ کا مسلک پر سونا چاہیے جو فرماتے ہیں کہ اگر شوہر بیوی کو تکلیف دینے کی نیت سے مباشرت ترک کر دے تو اس پر بھی ایلاء ہی کا حکم لگایا جائے گا، اگرچہ اس نے قسم نہ کھائی ہو کیونکہ ایلاء پر پابندی عائد کرنے سے شارع کا مقصود ضرار کو روکنا ہے اور یہ علت اس ترک مباشرت میں بھی پائی جاتی ہے جو حلف کے بغیر بقصد ضرار کیا جائے۔ [لے احکام القرآن لابن عربی جلد ا صفحہ ۷۵ ، و بدایة المجتهدین رشد جلد ۳ صفحہ ۸۸]

<<فَإِنْ عَزَمُوا الطلاق>> کی تفسیر میں بھی فقہاء کے درمیان اختلاف ہوا ہے۔ حضرت عثمان بن عفان، زید بن ثابت، ابن مسعود اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کی رائے یہ ہے کہ چار مہینہ کی مدت کا گزر جانا ہی اس بات کی دلیل ہے۔ کہ شوہر نے طلاق کا عزم کر لیا ہے، لہٰذا اس مدت کے ختم ہونے پر اس کو رجوع کا حق باقی نہیں رہتا۔ حضرت علی و ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی ایک قول اس معنیٰ میں منقول ہے۔ مگر ایک دوسرا قول جو موخرالذکر دونوں بزرگوں اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پہنچا ہے یہ ہے کہ ختم مدت پر شوہر کو نوٹس دیا جائے گا کہ اپنی بیوی سے رجوع کر و یا اس کو طلاق دے دو۔ لیکن جب ہم آیت کے الفاظ پر غور کرتے ہیں تو پہلا قول ہی صحیح معلوم ہوتا ہے۔ آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایلاء کرنے والوں کو بالفاظ صریح صرف چار مہینے کی مہلت دی ہے۔ اس کو رجوع کا حق اس مہلت کے اندر ہی ہے۔ اس کے ختم ہو جانے پر دوسری صورت بجز طلاق اور جدائی کے اور کوئی نہیں ہے۔[ یہ امر مختلف فیہ ہے کہ یہ طلاق، ایک طلاق بائن کے حکم میں ہے یا رجعی کے حکم میں ۔] اب اگر کوئی شخص چار مہینے کے بعد اس کو رجوع کا حق دیتا ہے تو گویا وہ اس کی مہلت میں اضافہ کرتا ہے، اور یہ اضافہ ظاہر کتاب اللہ کی مقرر کی ہوئی حد سے زائد ہے۔

ضرار اور تعدی:

عورت سے رغبت نہ ہو، اس کو رکھنا نہ چاہے ، مگر محض ستانے اور زیادتی کرنے کے لئے اس کو رکھ چھوڑے ۔ بار بار طلاق دے اور دو طلاقوں کے بعد تیسری طلاق سے پہلے رجوع کرلے ۔ قرآن مجید میں اس کو نہایت سختی کے ساتھ منع کیا گیا ہے ۔ کہ یہ بھی ظلم ہے ۔

<<وَلَا تُمْسِكُوْهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْاوَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ ۚ وَلَا تَتَّخِذُوْٓا اٰيٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا>>

اور ان کو ستانے اور زیادتی کرنے کے لئے نہ روک رکھو۔ جو ایسا کرے گا وہ اپنے اوپر آپ ظلم کرے گا۔ اللہ کی آیات کا مذاق نہ بنا لو۔[ قانون سے الفاظ سے ایسا ناجائز فائدہ اٹھانا جو قانون کے مقصد اور اس کی روح کے خلاف ہو، دراصل قانون سے کھیلنا اور اس کا مذاق بنانا ہے۔ قرآن میں مرد کو ایک طلاق یا دو طلاق دے کر رجوع کر لینے کا جو حق دیا گیا ہے وہ صرف اس غرض کے لیے ہے کہ اگر اس دوران میں زوجین کے درمیان مصالحت ہو جائے اور ان کے باہم مل جل کر رہنے کی کوئی صورت نکل آئے تو شریعت کی طرف سے اس میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو۔ لیکن اگر کوئی شخص اس گنجائش سے فائدہ اٹھا کر طلاق دے۔ پھر عدت گزرنے سے پہلے رجوع کر لے۔ پھر طلاق دے دے اور پھر رجوع کرلے اور اس حرکت سے اس کی غرض یہ ہو کہ عورت کو خواہ مخواہ لٹکائے رکھے، نہ اپنے گھر میں بسائے اور نہ اسے آزاد ہی کرے کہ بیچاری کہیں اور نکاح کر سکے۔ تو یہ خدا کے قانون سے مسخرہ پن اور کھیل ہے، جس کی جُرأت کوئی سچا مومن نہیں کر سکتا۔](البقره - ۲۳۱)

ضرار اور تعدی کے الفاظ نہایت وسیع ہیں۔ ظاہر ہے کہ جو شخص ستانے اور زیادتی کرنے کی نیت سے کسی عورت کو روک رکھے گا وہ ہر طرح سے اس کو آزار پہنچائے گا۔ روحانی اور جسمانی تکلیفیں دے گا۔ ادنیٰ طبقہ کا ہو گا تو مار پیٹ اور گالم گلوچ کرے گا۔ اونچے طبقے کا ہوگا تو تذلیل اور ایذا رسانی کے دوسرے طریقے اختیار کرے گا۔ ضرار اور تعدی کے الفاظ سب پر حاوی ہیں اور قرآن مجید کی رو سے یہ سب افعال ممنوع ہیں۔ جو شوہر اپنی بیوی کے ساتھ اس قسم کا برتاؤ کرتا ہے وہ اپنی جائز حد سے تجاوز کا مرتکب ہوتا ہے اور ایسی صورت میں عورت اس کی مستحق ہے کہ قانون کی مدد سے کہ اس مرد سے چھٹکارا حاصل کرے۔

ازواج میں عدل نہ کرنا :

متعدد بیویاں ہونے کی صورت میں کسی ایک کی طرف مائل ہو کر دوسری بیوی یا بیویوں کو معلق رکھ چھوڑنا ظلم ہے جسے قرآن مجید صاف الفاظ میں ناجائز ٹھہراتا ہے۔

<<فَلَا تَمِيلُوا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوهَا كَالْمُعَلَّقَةِ>> (النساء - ۱۲۹)

کسی ایک کی طرف بالکل نہ جھک پڑو کہ دوسری کو گویا معلق رکھ چھوڑو۔

قرآن مجید میں تعدد ازواج کی اجازت عدل کی شرط کے ساتھ دی گئی ہے۔ اگر کوئی شخص عدل نہ کرے تو اسے اس مشروط اجازت سے فائدہ اٹھانے کا حق نہیں ہے۔ خود اس آیت میں بھی جہاں تعدد ازواج کی اجازت دی گئی ہے، صاف حکم موجود ہے کہ اگر عدل نہ کر سکو تو ایک ہی بیوی رکھو۔

<<فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا>> (النساء ۳)

پھر اگر تم کو خوف ہو کہ عدل نہ کر سکو گے تو ایک ہی بیوی رکھو۔ یا لونڈی سی جو تمہارے قبضہ میں ہو۔ یہ زیادہ قرین مصلحت ہے تاکہ تم حق سے متجاوز نہ ہو جاؤ۔

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے أَلَّا تَعُولُواْ کے معنی یہ کئے ہیں کہ تمہارے عیال زیادہ نہ ہوں جن کی پرورش کا بار تم پر پڑ جائے۔ لیکن یہ اصل لغت کے خلاف ہے۔ لغت میں عَوْل کے معنی میل کے ہیں۔ ابو طالب کا شعر ہے ۔

<<بِمِيزَانِ صِدْقٍ لَّا يُخْسِرُ شَعِيرَةً ۔۔۔وَوَزَّانُ قِسْطٍ وَزْنُهُ غَيْرُ عَائِلِ>>

یہاں عائل بمعنی مائل مستعمل ہوا ہے ۔ اسی بنا پر عول کو جور اور طریق عدل سے ہٹ جانے کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ چنانچہ ابن عباس ، حسن ، مجاہد ، شعبی عکرمہ اور قتادہ وغیرہم نے <<لَا تَعُوْلُوْا>> کے معنی <<لَا تَمِيلُوْا عَنِ الْحَقِّ>> کیے ہیں لہٰذا قرآن مجید کی مذکورہ بالا آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ جو شخص دو یا زائد بیویوں کے درمیان عدل نہیں کرتا، اور ایک کی طرف جھک کہ دوسری کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی کرتا ہے وہ ظالم ہے۔ تعدد ازواج کی اجازت سے فائدہ اٹھانے کا اس کو کوئی حق نہیں ہے۔ قانون کو ایسی حالت میں اسے صرف ایک بیوی رکھنے پر مجبور کرنا چاہیئے اور دوسری بیوی یا بیویوں کو اس کے خلاف قانون سے دادرسی پانے کا حق ہونا چاہیئے ۔

عدل کے باب میں قرآن کریم نے تصریح کر دی ہے کہ دلی محبت کا جہاں تک تعلق ہے اس میں مساوات برتنے پر نہ انسان قادر ہے اور نہ اس کے لیے مکلف <<وَلَنْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ>> ۔ البتہ اس کو تکلیف جس بات کی دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ نفقہ اور معاشرت اور تعلقات زن و شو میں ان کے ساتھ یکساں برتاؤ کرے۔

مرد کے ظلم کی تین صورتیں ایسی ہیں جن میں قانون مداخلت کر سکتا ہے۔ ان کے علاوہ زوجین کے باہمی تعلقات میں بہت سے ایسے معاملات بھی پیش آسکتے ہیں اور آتے رہتے ہیں جو مودت و رحمت کے منافی ہیں۔ مگر ان میں قانون کے لئے مداخلت کی گنجائش نہیں ہے۔ قرآن مجید نے ایسے معاملات کے لئے شوہروں کو عام اخلاقی ہدایات دی ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ عورت کے ساتھ مرد کا برتاؤ فیاضانہ اور محبت آمیز ہونا چاہیئے۔ رات دن کی تھکا تفصیلتی کے ساتھ زندگی گزارنا حماقت ہے۔ اگر عورت کو رکھنا ہے تو سیدھی طرح سے رکھو۔ نہ بنے تو سیدھی طرح رخصت کر دو۔ قرآن کی ان ہدایات کو قانون کی طاقت سے نافذ نہیں کیا جا سکتا اور نہ یہ ممکن ہی ہے کہ میاں بیوی کے ہر جھگڑے میں قانون مداخلت کیا کرے۔ لیکن اس سے قانون کی اسپرٹ یہ معلوم ہوتی ہے کہ عدل و انصاف اور رحمت و مودت کے برتاؤ کی ذمہ داری زیادہ تر مرد پر عائد کرتا ہے۔

مرد کے حقوق:- مرد کو تو ایسی بہت سی ذمہ داریوں کے ساتھ دیا گیا ہے وہ اوپر بیان ہوئیں۔ اب دیکھنا چاہیے کہ قوام ہونے کی حیثیت سے مرد کے حقوق کیا ہیں۔

(۱) حفظ للغیب: عورت پر مرد کا پہلا حق قرآن مجید نے ایسے الفاظ میں بیان کیا ہے جن کا بدل کسی دوسری زبان میں مہیا ہی نہیں کیا جا سکتا۔ وہ کہتا ہے۔

<<فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللهُ>>

جونیک عورتیں ہیں وہ اطاعت کرنے والی اور غیب کی حفاظت کرنے والی ہیں۔ اللہ تعالیٰ حفاظت کے ماتحت۔ (النساء: ۳۴) کی

یہاں حفظ للغیب سے مراد ہر اس چیز کی حفاظت کرنا ہے جو شوہر کی ہو اور اُس کی غیر موجودگی میں بطور امانت عورت کے پاس رہے۔ اس میں اس کے نسب کی حفاظت، اس کے نطفے کی حفاظت، اُس کی آبرو کی حفاظت، اس کے مال کی حفاظت،اُس کے رازوں کی حفاظت ، غرض سب ہی کچھ آجاتا ہے۔ اگر عورت ان حقوق میں سے کسی حق کو ادا کرنے میں کوتاہی کرے تو مرد کو وہ اختیارات استعمال کرنے کا حق ہو گا جن کا ذکر آگے آتا ہے۔

(2) شوہر کی طاعت: مرد کا دوسرا حق یہ ہے کہ عورت اس کی اطاعت کرے <<فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ>> (النساء:۳۴) جو نیک عورتیں ہیں وہ شوہروں کی اطاعت کرنے والی ہوتی ہیں۔ یہ ایک عام حکم ہے جس کی تشریح میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد چیزیں بیان فرمائی ہیں۔ مثلاً

<<اِنْ لَّكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَّا يُوْطِئْنَ فُرُشَكُمْ اَحَداً تَكْرَهُوْنَه>>

تمہارا ان پر یہ حق ہے کہ وہ تمہارے ہاں کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں جس کو تم نا پسند کرتے ہو۔

<<لَا تَصَدَّقُ بِشَيْءٍ مِّنْ بَيْتِه إِلَّا بِإِذْنِهِ فَإِنْ فَعَلَتْ كَانَ لَهُ الْأَجْرُ وَ عَلَيْهَا الْوِزْرُ وَلَا تَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ>>

وہ اس کے گھر میں سے کوئی چیز اس کی اجازت کے بغیر صدقہ نہ کرے۔ اگر ایسا کرے گی تو اجر شوہر کو ملے گا اور گناہ عورت پر ہو گا۔ نیز وہ اس کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے نہ نکلے۔

<<لَا تَصُوْمُ الْمَرْأَةُ وَزَوْجُهَا شَاهِدٌ مِّنْ غَيْرِ رَمَضَانَ إِلَّا بِإِذْنِهِ>> (احمد، ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ)

عورت اپنے شوہر کی موجودگی میں رمضان کے سوا نفل روزے اس کی اجازت کے بغیر ایک دن بھی نہ رکھے۔

<<خَيْرُ النِّسَاءِ امْرَأَةٌ اِذَا نَظَرْتَ اليها سرتك واذا امرتها اطاعتك واذا اغتبت عنها حفظتك في مالك ونفسها>>

بہترین عورت وہ ہے کہ جب تو اس کو دیکھے تو تیرا دل خوش ہو جائے اور جب تو اس کو حکم دے تو وہ تیری اطاعت کرے اور جب تو اس کے پاس موجود نہ ہو تو وہ تیرے مال اور اپنے نفس میں تیرے حق کی حفاظت کرے۔

اس عام حکم اطاعت میں صرف ایک استثنا ہے، اور وہ یہ ہے کہ اگر عورت سے اس کا شوہر اللہ کی معصیت کا مطالبہ کرے تو وہ اس کا حکم ماننے سے انکار کر سکتی ہے بلکہ اسے انکار کر دینا چاہیئے ۔ مثلاً وہ فرض نماز اور روزے سے منع کرے: یا شراب پینے کا حکم دے، یا پردہ شرعی ترک کرانے یا فواحش کا ارتکاب اس سے کرانا چاہے، تو عورت نہ صرف اس کی مجاز ہے، بلکہ اس کا فرض ہے کہ شوہر کے ایسے حکم کو ٹھکرا دے ۔ اس لئے کہ خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔ <<لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوْقٍ فِيْ مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ>>۔ اس صورت خاص کے سوا باقی تمام صورتوں میں شوہر کی اطاعت عورت کا فرض ہے اگر نہ کرے گی تو نافرمان ہوگی اور شوہر کو وہ اختیارات استعمال کرنے کا حق ہوگا جن کی تفصیل آگے آتی ہے۔

مرد کے اختیارات:

قانون اسلام نے چونکہ مرد کو قوام بنایا ہے اور اس پر عورت کے مہر، نفقے اور نگہبانی و خبر گیری کی ذمہ داری عائد کی ہے ، اس لیے وہ مرد کو عورت پر چند ایسے اختیارات عطا کرتا ہے جو خانگی زندگی کا نظم برقرار رکھنے اور اپنے گھر کے اخلاق اور حسن معاشرت کی حفاظت کرنے اور خود اپنے حقوق کو برباد ہونے سے بچانے کے لئے اس کو حاصل ہونے ضروری ہیں۔ قانون اسلام میں ان اختیارات کو بالوضاحت بیان کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ وہ حدود بھی متعین کر دیئے گئے ہیں ، جن کے اندر یہ اختیارات استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

نصیحت، تادیب اور تعزیر: اگر عورت اپنے شوہر کی اطاعت نہ کرے، یا اس کے حقوق میں سے کسی حق کو تلف کرے، تو ایسی صورت میں مرد پر لازم ہے کہ پہلے اس کو نصیحت کرے، نہ مانے تو اس کو اختیار ہے کہ اپنے برتاؤ میں حسب ضرورت اس کے ساتھ سختی کرے ۔ اور اگر اس پر بھی نہ مانے تو وہ اس کو مار سکتا ہے ، یہاں تک کہ وہ اس کی اطاعت کرنے لگے ۔

<<وَالّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَاهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوْهُنَّ فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَيْهِنَّ سَبِيْلًا >> (النساء ۔ ۳۴)

اور جن عورتوں سے تم نشوز [نشوز کے معنی ارتفاع کے ہیں۔ اصطلاح میں اس سے مراد اپنے حق سے اعراض ہے خواہ وہ عورت کی طرف سے ہو یا مرد کی طرف سے]دیکھو ان کونصیحت کرو ۔ اور بستروں پر ان کو چھوڑ دو اور ان کو مارو ۔ اگر وہ تمہاری اطاعت کریں تو پھر ان پر سختی کرنے کا کوئی طریقہ نہ ڈھونڈو ۔

اس آیت میں <<وَاهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ>> (یعنی بستروں پر ان کو چھوڑ دو)، فرما کر سزا کے طور پر ترک مباشرت کی اجازت دی گئی ہے ۔ مگر آیت ایلاء نے جس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے ، اس کے لئے ایک فطری حد مقرر کر دی ہے کہ یہ بستر کی علیحدگی چار مہینے سے زیادہ نہ ہو۔ جو عورت اتنی نافرمان اور شوریدہ سر ہو کہ شوہر ناراض ہو کر اس کے ساتھ سونا چھوڑ دے اور وہ جانتی ہو کہ چار مہینے تک یہ حالت قائم رہنے کے بعد شوہر از روئے احکام الہی اس کو طلاق دے دے گا، اور پھر بھی وہ اپنے نشوز سے باز نہ آئے ، وہ اسی قابل ہے کہ اسے چھوڑ دیا جائے ۔ چار مہینے کی مدت ادب سکھانے کے لیے کافی ہے ۔ اس سے زیادہ مدت تک یہ سزا دینا غیر ضروری ہو گا، کیونکہ اتنے دن تک اس کا نشوز پر قائم رہنا ، یہ جانتے ہوئے کہ اس کا نتیجہ طلاق ہے ، اس بات کی دلیل ہے کہ اس میں ادب سیکھنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ یہ مادہ حسنِ معاشرت کے ساتھ کم از کم اس شوہر سے نباہ نہیں کر سکتی۔ نیز اس سے وہ مقاصد بھی فوت ہونے کا اندیشہ ہے جن کے لیے ایک مرد کو ایک عورت کے ساتھ رشتہ مناکحت میں باندھا جاتا ہے ۔ ممکن ہے ایسی حالت میں شوہر اپنی خواہشات نفس پوری کرنے کے لیے کسی ناجائز طریقے کی طرف مائل ہو جائے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ عورت کسی اخلاقی فتنہ میں مبتلا ہو جائے ۔ یہ بھی اندیشہ ہے کہ جہاں میاں بیوی میں سے ایک اس قدر ضدی اور شوریدہ سر موجود وہاں زوجین میں مودت و رحمت قائم نہ ہو سکے گی۔

امام سفیان ثوری سے <<وَاهْجُرْهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ>> کے معنی میں ایک دوسرا قول منقول ہے ۔ سو وہ کلام عرب سے استدلال کر کے کہتے ہیں کہ هجر کے معنی ، باندھنے کے ہیں ۔ هجر <<البُعْيَرُ إِذَا لَطِهَ صَاحِبُهُ بِالْهِجَارِ>> ۔ ہجار اس رسی کو کہتے ہیں جو اونٹ کی پیٹھ اور ٹانگوں کو ملا کر باندھی جاتی ہے ۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا مقصود یہ ہے کہ جب وہ نصیحت نہ قبول کریں تو گھر میں ان کو باندھ کہ ڈال دو۔ لیکن یہ معنی قرآن مجید کے منشاء سے بعید ہیں۔ فی المضاجع کے الفاظ میں قرآن نے اپنے منشاء کی طرف صاف اشارہ کر دیا ہے مَضجَع سونے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ اور سونے کی جگہ میں باندھنا بالکل بے معنی بات ہے۔

دوسری سزا جس کی اجازت زیادہ شدید حالات میں دی گئی ہے، مارنے کی سزا ہے۔ مگر اس کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قید لگا دی ہے کہ ضرب شدید نہ ہونی چاہیے۔

<<اضْرِبُوهُنَّ إِذَا عَصَيْنَكُمْ فِي الْمَعْرُوفِ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ وَّلَا يَضْرِبَ الْوَجْهَ وَلَا يُقَبِّحَ>>

اگر وہ تمہارے کسی جائز حکم کی نافرمانی کریں تو ان کو ایسی مار مارو جو زیادہ تکلیف دہ نہ ہو۔ منہ پر نہ مارے اور گالم گلوچ نہ کرے۔

یہ دو سزائیں دینے کا مرد کو اختیار دیا گیا ہے۔ مگر جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے، سزا اُس نافرمانی پر دی جا سکتی ہے جو مرد کے جائز حقوق سے متعلق ہو۔ نہ یہ کہ ہر بجا و بے جا حکم کی اطاعت پر اصرار کیا جائے اور عورت نہ مانے تو اس کو سزا دی جائے۔ پھر قصور اور سزا کے درمیان بھی تناسب ہونا چاہیے۔ اسلامی قانون کے کلیات میں سے ایک کلیہ یہ بھی ہے کہ <<فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ۔>> جو کوئی تم پر زیادتی کرے اس پر اتنی ہی زیادتی کرو جتنی اس نے کی ہے۔ ”زیادتی کی نسبت سے زیادہ سزا دینا ظلم ہے۔ جس قصور پر نصیحت کافی ہے اس پر ترک کلام، اور جس پر ترک کلام کافی ہے اس پر پھر بھی فی المضاجع اور جس پرهجر فی المضاجع کافی ہے اس پر مارنا ظلم میں شمار ہو گا۔ مار ایک آخری سزا ہے جو صرف شدید اور ناقابل برداشت قصور پر ہی دی جا سکتی ہے اور اس میں بھی وہ حد ملحوظ رکھنی ضروری ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمائی ہے۔ اس سے تجاوز کرنے کی صورت میں مرد کی زیادتی ہوگی اور عورت کو حق ہو جائے گا کہ اس کے خلاف قانون سے امداد طلب کرے۔

2: طلاق: دوسرا اختیار مرد کو یہ دیا گیا ہے کہ جس عورت کے ساتھ وہ نباہ نہ کر سکتا ہو اس کو طلاق دے دے۔ چونکہ مرد اپنا مال خرچ کر کے حقوق زوجیت حاصل کرتا ہے، اس لیے ان حقوق سے دست بردار ہونے کا اختیار بھی اسی کو دیا گیا ہے۔[ بعض لوگ اہلِ مغرب کی تقلید میں یہ چاہتے ہیں کہ طلاق دینے کا اختیار شوہر سے چھین کر عدالت کو دے دیا جائے۔ چنانچہ ٹرکی میں ایسا کر بھی دیا گیا ہے۔ لیکن یہ چیز قطعی طور پر قرآن وسنت کے خلاف ہے۔ قرآن نے طلاق کے احکام بیان کرتے ہوئے ہر جگہ فعلِ طلاق کو شوہر کی طرف منسوب کیا ہے ۔ <<إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ>> ۔ <<وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ>> وغیرہ ۔ یہ اس بات کی صریح دلیل ہے کہ طلاق دینے کا اختیار شوہر کو دیا گیا ہے ۔ پھر قرآن صاف الفاظ میں شوہر کے متعلق کہتا ہے کہ <<بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ>> (البقرہ - ۲۳۷) ۔ ”نکاح کی گرہ اس کے ہاتھ میں ہے۔“ اب کون یہ حق رکھتا ہے کہ اس گرہ کو اس کے ہاتھ سے چھین کر قاضی کے ہاتھ میں دے دے ۔ ابن ماجہ میں عبد اللہ بن عباسؓ کی روایت ہے کہ ایک شخص نے آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میرے آقا نے اپنی لونڈی کا نکاح مجھ سے کیا تھا ۔ اب وہ اسے مجھ سے جدا کرنا چاہتا ہے۔ اس پر آپؐ نے اپنے خطبے میں فرمایا۔ <<يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَا بَالُ أَحَدِكُمْ يُزَوِّجُ عَبْدَهُ أَمَتَهُ ثُمَّ يُرِيْدُ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَهُمَا . إِنَّمَا الطَّلَاقُ لِمَنْ أَخَذَ بِالسَّاقِ ۔>> "لوگو! یہ کیا ماجرا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے غلام سے اپنی لونڈی بیاہ دیتا ہے ۔ اور پھر دونوں کو جدا کرنا چاہتا ہے ۔ طلاق کا اختیار تو شوہر کو ہے"۔ یہ حدیث اگرچہ سنداً قوی نہیں ہے، مگر قرآن کی مطابقت اس کو قوت بخشتی ہے۔ پس قول خدا و رسولؐ کی بنا پر یہ ہر گز جائز نہیں ہے کہ طلاق دینے کے اختیارات شوہروں سے چھین کر عدالتوں کے حوالے کر دیئے جائیں ۔ اور عقلاً بھی یہ بالکل ایک غلط حرکت ہے ۔ اس کا نتیجہ اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے کہ یورپ کی طرح ہمارے ہاں بھی خانگی زندگیوں کے شرم ناک جھگڑوں اور بد نما واقعات کی بر سر عدالت تشہیر ہونے لگے۔ ] عورت کو یہ اختیار نہیں دیا جاسکتا تھا۔ کیونکہ اگر وہ طلاق کی مختار ہو جائے تو مرد کا حق ضائع کرنے پر دلیر ہو جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ جو شخص اپنا روپیہ صرف کر کے اس کے کوئی چیز حاصل کرے گا وہ اس کو آخری حد تک رکھنے کی کوشش کرے گا۔ اور صرف اس وقت اسے چھوڑے گا، جب اس کے لئے چھوڑنے کے سوا کوئی چارۂ کار نہ ہوگا۔ لیکن اگر مال صرف کرنے والا ایک فریق ہو اور ضائع کر نیکا اختیار دوسرے فریق کو مل جائے تو اس دوسرے فریق سے یہ امید کم کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے اس اختیار کے استعمال میں اس فریق کے مفاد کا لحاظ کرے گا جس نے مال صرف کیا ہے۔ پس مرد کو طلاق کا اختیار دینا نہ صرف اس کے جائز حق کی حفاظت ہے بلکہ اس میں یہ بھی مصلحت مضمر ہے کہ طلاق کی کثرت نہ ہو۔