مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

حقوق الزوجین

اشاعت: 1943ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "حقوق الزوجین" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ اہم تصنیف ہے جس میں انہوں نے اسلامی ازدواجی نظام کی روح، اصول، مقاصد اور عملی تشکیل کا جامع جائزہ پیش کیا ہے۔ یہ کتاب محض قانونی بحث تک محدود نہیں، بلکہ ایک وسیع تر معاشرتی اور اخلاقی تناظر میں مرد و عورت کے تعلقات کو سمجھنے کی کوشش ہے، جس کا بنیادی مقصد مسلمانوں کی گھریلو زندگی کی اصلاح اور اسلامی شریعت کے صحیح نفاذ کی طرف رہنمائی کرنا ہے۔

مولانا مودودی کا مرکزی دعویٰ یہ ہے کہ موجودہ دور میں مسلمانوں کی ازدواجی زندگی کی تباہی کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ نہ تو اپنے اصلی اسلامی قانون کے تحت زندگی گزار رہے ہیں، اور نہ ہی ان پر ایسا قانون نافذ ہے جو ان کے تمدنی مزاج کے مطابق ہو۔ برطانوی دور میں نافذ کردہ "محمدن لا" نامی قانون، جو اسلامی شریعت کا نام لے کر اس کی روح سے بے نیاز ہے، نے مسلمانوں کے گھریلو معاملات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس ناقص قانون کے نتیجے میں لاکھوں گھر دوزخ کا نمونہ بن چکے ہیں، جہاں نہ صرف اخلاقیات کا پامال ہونا عام ہو گیا ہے بلکہ عزت، ناموس، ایمان اور تہذیب کی بنیادیں بھی ہلا دی گئی ہیں۔ اس صورتحال کو درست کرنے کے لیے مولانا نے 1935ء میں رسالہ "ترجمان القرآن" میں "حقوق الزوجین" کے عنوان سے مضامین کا سلسلہ شروع کیا، جسے بعد ازاں کتابی شکل دے دی گئی۔

کتاب کا آغاز دیباچۂ طبع اوّل سے ہوتا ہے، جس میں مصنف اپنی تحریر کے پسِ منظر اور مقصد کی وضاحت کرتے ہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

متعلقہ نظامات: عورت اور مرد کا تعلق

مقدمہ

ہر سوسائٹی کے تمدن کی شیرازہ بندی کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک ایسا جامع قانون جو اس کے مخصوص طرز تمدن کے مزاج کی رعایت ملحوظ رکھ کر بنایا گیا ہو۔ دوسرے ایک ایسی ہیئت حاکمہ جو اس قانون کو ٹھیک ٹھیک اُسی اسپرٹ میں نافذ کرنے والی ہو جس میں وہ وضع کیا گیا تھا۔ بد قسمتی سے ہندوستان کے مسلمان اس وقت ان دونوں چیزوں سے محروم ہیں۔ بلاشبہ ان کے پاس کتابوں میں لکھا ہوا ایک قانون ضرور موجود ہے، جو اسلامی تمدن و تہذیب کے مزاج سے پوری پوری مناسبت رکھتا ہے اور تمدن و معاشرت کے تمام پہلوؤں پر حاوی ہے۔ مگر یہ قانون اب عملاً منسوخ ہو چکا ہے اور اس کی جگہ ایک ایسا قانون ان کے تمدنی معاملات پر فرمانروائی کر رہا ہے جو تمدن و معاشرت کے اکثر و بیشتر معاملات میں کلیتہً غیر اسلامی ہے۔ اور اگر کسی حد تک اسلامی ہے بھی تو ادھورا یا مسلمان اس وقت جس نظام حکومت کے تابع ہیں اس نے عملاً ان کی تمدنی زندگی کو دو شعبوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ایک شعبہ وہ ہے جس میں اس نے ہندوستان کی دوسری قوموں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں پر بھی ایسے قوانین نافذ کر دیے ہیں جو اسلامی تمدن کے مزاج سے کسی قسم کی مناسبت نہیں رکھتے۔

دوسرا شعبہ وہ ہے جس میں اس نے اصولاً مسلمانوں کے اس حق کو تسلیم کیا ہے کہ ان پر اسلامی قانون نافذ کیا جائے ۔ مگر عملاً اس شعبہ میں بھی شرع اسلامی کا نفاذ صحیح طریق پر نہیں کیا جاتا ۔ ”محمدن لا“ کے نام سے جس قانون کو اس شعبہ میں نافذ کیا گیا ہے وہ اپنی شکل اور روح دونوں میں اصل اسلامی شریعت سے بہت کچھ مختلف ہے اور اس کے نفاذ کو صحیح معنوں میں شرع اسلامی کا نفاذ نہیں کہا جا سکتا۔

اس افسوس ناک حالت نے مسلمانوں کی تمدنی زندگی کو جو نقصانات پہنچائے ہیں ، ان میں سب سے زیادہ اہم نقصان یہ ہے کہ اس نے ہمارے کم از کم ۵۰ فیصدی گھروں کو دوزخ کا نمونہ بنا دیا ہے اور ہماری آبادی کے ایک بڑے حصہ کی زندگیاں تلخ بلکہ تباہ و برباد کر دی ہیں۔ عورت اور مرد کا ازلی تعلق در حقیقت انسانی تمدن کا سنگ بنیاد ہے۔ اور کوئی فرد خواہ وہ عورت ہو یا مرد، اس قانون کے دائرے سے خارج نہیں ہو سکتا جو اس تعلق کو منضبط کرنے کے لئے بنایا گیا ہو۔ کیونکہ بچپن سے لے کر بڑھاپے تک عمر کے ہر حصہ میں یہ قانون کسی نہ کسی حیثیت سے انسان کی زندگی پر ضرور اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر وہ بچہ ہے تو ماں اور باپ کے تعلقات اس کی تربیت میں مؤثر ہوں گے۔ اگر جوان ہے تو خود اس کو ایک شریک زندگی سے واسطہ پڑے گا۔ اگر سن رسیدہ ہے تو اس کی اولاد ازدواجی تعلقات کی بندشوں میں بندھے گی اور اس کے قلب و روح کا سکون اور اس کی زندگی کا چین بڑی حد تک بہو بیٹے اور بیٹی داماد کے تعلقات کی بہتری پر منحصر ہوگا۔ غرض قانون ازواج ایک ایسا قانون ہے جو قوانین تمدن میں سب سے زیادہ اہم اور سب سے زیادہ وسیع الاثر ہے۔ اسلام میں اس قانون کی اسی حقیقی اہمیت کو ملحوظ رکھ کر اس کی تدوین نہایت صحیح اصولوں پر کی گئی تھی اور مسلمانوں کو ازدواجی معاملات میں اپنے دین سے ایک ایسا صالح ، جامع اور مکمل قانون ملا تھا جس کو دنیا کے قوانین ازدواج میں ہر حیثیت سے بہترین کہا جا سکتا ہے۔ مگر شومی قسمت سے یہ قانون بھی ”محمدن لا“ کی بھینٹ میں آگیا اور اس بری طرح مسخ ہوا کہ اس میں اور اصل اسلامی قانون ازدواج میں ایک بہت بڑی کجی مشابہت باقی رہ گئی ہے۔ اب شرع اسلامی کے نام سے مسلمانوں کے ازدواجی معاملات میں جو قانون نافذ ہے وہ نہ صالح ہے، نہ جامع ، نہ مکمل ۔ اس کے نقائص نے مسلمانوں کی تمدنی زندگی پر اتنا بُرا اثر ڈالا ہے کہ شاید کسی دوسرے قانون نے نہیں ڈالا۔ مشکل یہی ہے ہندوستان میں کوئی ایسا خوش قسمت خاندان مل سکے گا جس میں اس ناقص قانون کی بدولت کوئی زندگی تباہ نہ ہوئی ہو۔ زندگیوں کا تباہ ہونا تو پھر بھی ایک امر خفیف ہے۔ اس سے زیادہ بڑی مصیبت یہ ہے کہ اس قانون کی خرابی نے بکثرت مسلمانوں کی عزت و ناموس کو تباہ کیا ۔ ان کے اخلاق اور ایمان کو برباد کر ڈالا ۔ اور جو گھر ان کے دین اور ان کی تہذیب کے محفوظ ترین قلعے تھے، ان میں بھی فواحش اور ارتداد کے سیلاب کو پہنچا دیا۔

قانون اور اس کو نافذ کرنے والی مشین کے نقائص سے جو خرابیاں پیدا ہوئیں اُن پر مزید خرابیوں کا اضافہ دو وجہ سے ہوا۔

ایک دینی تعلیم و تربیت کا فقدان ، جس کی بدولت مسلمان اسلام کے قانون ازدواج سے اس حد تک بیگانہ ہو گئے کہ آج اچھے تعلیم یافتہ

آدمی اس قانون کے معمولی مسائل تک سے ناواقف ہیں بلکہ تفصیلات تو درکنار اس کے اصول تک کو جاننے اور سمجھنے والے مسلمان بہت کم ملیں گے ۔ حتیٰ کہ وہ لوگ بھی جو عدالت کی کرسیوں پر بیٹھ کر ان کے معاملات نکاح و طلاق کا تصفیہ کرتے ہیں، اسلامی قانون ازدواج کے مبادی تک سے ناواقف ہیں۔ اس عام جہالت نے مسلمانوں کو اس قابل بھی نہ رکھا کہ وہ بطور خود اپنے ازدواجی تعلقات میں اسلامی قانون کا ٹھیک ٹھیک اتباع کرسکیں۔

رہی دوسری وجہ تو وہ غیر اسلامی تمدنوں کا اثر ہے جس کی بدولت مسلمانوں کے ازدواجی تعلقات میں نہ صرف بہت سے ایسے رسمیات اور سمیات داخل ہو گئے ہیں جو اسلامی قانون ازدواج کے اصول اور اس کی اسپرٹ کے [مثلاً مثال کے طور پر یہ جہالت ہی کا کرشمہ ہے کہ مسلمان بالعموم طلاق دینے کے صرف ایک ہی طریقہ سے واقف ہیں اور وہ یہ کہ بیک وقت تین طلاقیں دے ڈالی جائیں ۔ حتیٰ کہ طلاق کی دستاویز لکھنے والے بھی جب لکھتے ہیں ، تین ہی طلاق لکھتے ہیں۔ حالانکہ اسلام میں یہ بدعت اور سخت گناہ ہے اس سے بڑی قانونی پیچیدگیاں واقع ہو جاتی ہیں۔ اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ ایک طلاق دینے سے وہ مقصد بھی حاصل ہو جاتا ہے جس کے لیے تین طلاقیں دی جاتی ہیں، اور اس صورت میں عدت کے اندر رجوع کرنے اور عدت گزر جانے پر دوبارہ نکاح کر لینے کا موقع بھی باقی رہتا ہے، تو کتنے ہی گھر تباہ ہونے سے اور کتنے ہی بندگانِ خدا جھوٹ اور حیلہ بازیوں اور دوسری متقانون شکنینوں سے بچ جاتے ۔]

خلاف ہیں، بلکہ سرے سے زوجیت کا اسلامی تصور ہی ان کی ایک بڑی اکثریت کے ذہن سے محو ہو گیا ہے۔ کہیں ہندو تصور غالب آ گیا ہے اور اس کا اثر یہ ہے کہ بیوی کو لونڈی اور شوہر کو آقا بلکہ دیوتا سمجھا جاتا ہے۔ نکاح کی بندش اعتقاداً نہیں نوعملاً ناقابل فسخ ہے۔ طلاق اور خلع اس قدر معیوب ہو گئے ہیں کہ جہاں ان کی ضرورت ہے وہاں بھی ان سے محض اس بنا پر احتراز کیا جاتا ہے کہ کہیں ناک نہ کٹ جائے خواہ در پردہ وہ سب کچھ کیا جائے جو در حقیقت طلاق اور خلع سے زیادہ بدتر ہے۔ طلاق کو روکنے کے لیے مہر کی مقدار اس قدر بڑھا دی گئی ہے کہ شوہر کبھی طلاق دینے کی ہمت ہی نہ کر سکے، اور منافرت کی صورت میں عورت کو معلق رکھ چھوڑنے پر مجبور ہو جائے ”یہ شوہر پرستی“ عورت کے مضرّات اور اخلاقی فرائض میں داخل ہو گئی ہے۔ سخت سے سخت حالات میں بھی وہ محض سوسائٹی کی لعنت ملامت کے خوف سے طلاق یا خلع کا نام زبان پر نہیں لاسکتی۔ حتیٰ کہ اگر شوہر مر جائے تب بھی اس کا اخلاقی فرض یہ ہو گیا ہے کہ ہندو عورتوں کی طرح اس کے نام پہ بیٹھی رہے، کیونکہ بیوہ کا نکاح ثانی ہونا صرف اس کے لیے بلکہ اس کے سارے خاندان کے لیے موجب ذلت ہے دوسری طرف جو نئی نسلیں فرنگی تہذیب سے متاثر ہوئی ہیں، اُن کا حال یہ ہے کہ <<وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِيْ عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ>>[ عورتوں کو بھی حسنِ سلوک کا ویسا ہی حق ہے جیسا مردوں کو ان پر حاصل ہے۔] تو بڑے زور سے کہتے ہیں، مگر <<وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ>> [مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ زیادہ حاصل ہے۔]پر پہنچ کر دفعتاً ان کی آواز دب جاتی ہے اور جب <<الرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَی النِّسَآءِ>> [مرد و عورتوں پر قوام ہیں۔] کا فقرہ ان کے سامنے آتا ہے تو ان کا بس نہیں چلتا کہ کس طرح اس آیت کو قرآن سے خارج کر دیں۔ عجیب عجیب طریقہ سے اس کی تاویلیں کرتے ہیں اور تاویل کا انداز کچھ دیتا ہے کہ وہ اپنے دل میں اس بات پر سخت شرمندہ ہیں کہ ان کے مذہب کی مقدس کتاب میں یہ آیت پائی جاتی ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ فرنگی تہذیب نے عورت اور مرد کی مساوات کا جو صور پھونکا ہے اس سے وہ دہشت زدہ ہو گئے ہیں۔ اور ان کے دماغوں میں اُن ٹھوس اور مستحکم عقلی اصولوں کو سمجھنے کی صلاحیت باقی نہیں رہی ہے، جن پر اسلام نے اپنے نظام معاشرت کو قائم کیا ہے۔

ان مختلف اسباب نے مل جل کر مسلمانوں کی خاندانی زندگی کو اتنا ہی بدتر کر دیا ہے جتنی وہ کسی زمانہ میں بدتر تھی۔ جہالت اور اجنبی تمدنوں کے اثر سے ان کے ازدواجی معاملات میں جو پیچیدگیاں پیدا ہو گئی ہیں ان کو سلجھانے سے موجودہ قانون اور اس قانون کو نافذ کرنے والی مشین سراسر قاصر ہے۔ بلکہ اس کے قصور نے ان پیچیدگیوں پر بہت سی مزید الجھنوں کا اضافہ کر دیا ہے۔ ناواقفیت کی وجہ سے مسلمانوں کی ایک جماعت یہ سمجھتی ہے کہ ان تمام خرابیوں کی وجہ اسلامی قانون کا نقص ہے۔ اسی لیے ایک نئے قانون کی تدوین پر زور دیا جاتا ہے۔ حالانکہ در حقیقت اسلام میں ایک ایسا مکمل ازدواجی قانون موجود ہے جس میں زوجین کے لیے انصاف کے ساتھ واضح حقوق متعین کئے گئے۔ ہیں ۔ ان حقوق کی حفاظت کا اور تعدی کی صورت میں (خواہ وہ عورت کی طرف سے ہو یا مرد کی طرف سے) دادرسی کا پورا انتظام کیا گیا ہے اور ایسی کوئی پیچیدگی نہیں چھوڑی گئی ہے جس کو عدل کے ساتھ حل نہ کر دیا گیا ہو ۔ لہٰذا اسلامی فنوں کو کسی نئے قانون کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ اصلی ضرورت جس چیز کی ہے وہ یہ ہے کہ اسلام کا قانون ازدواج اپنی صحیح صورت میں پیش کیا جائے اور اس کو صحیح طریقہ سے نافذ کرنے کی کوشش کی جائے ۔ یہ کام کوئی بہت آسان کام نہیں ہے ۔ سب سے پہلے علماء کا فرض ہے کہ تقلید جامد کو چھوڑ کر موجودہ زمانے کے حالات و ضروریات کا لحاظ کرتے ہوئے اسلام کے قانون ازدواج کو ایسی صورت میں مدوّن کریں کہ مسلمانوں کے ازدواجی مسائل کی موجودہ پیچیدگیوں کو پوری طرح حل کیا جا سکے ۔ اس کے بعد عام مسلمانوں کو اس کی تعلیم دی جانی چاہیئے تاکہ وہ اپنے نظامِ معاشرت کو ان جاہلانہ رسموں اور اُن حبائلی تصورات سے پاک کریں جن کو انہوں نے غیر اسلامی تمدنوں سے اخذ کیا ہے اور اسلامی قانون کے اصول اور اسپرٹ کو سمجھ کر اس کے مطابق اپنے معاملات انجام دیں ۔ پھر ایک ایسا نظامِ عدالت درکار ہے جو خود اس قانون پر ایمان رکھتا ہو اور جس کے منصفوں کو علمی اور اخلاقی حیثیت سے وہ تربیت دی گئی ہو جو اس قانون کو دنیا کے دوسرے قوانین کی اسپرٹ میں نہیں بلکہ اس کی اپنی اسپرٹ میں نافذ کریں ۔

یہ مضمون اسی ضرورت کو مد نظر رکھ کر لکھا جا رہا ہے ۔ ہم آئندہ صفحات میں اسلامی قانون ازدواج کا ایک پورا خاکہ پیش کرنا چاہتے ہیں جس میں اس قانون کے مقاصد، اصول اور احکام سب چیزیں اپنے اپنے موقع پر بیان کی جائیں گی۔ حسب ضرورت ہم تشریح کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے فیصلوں کی نظیریں اور ائمہ سلف کی اجتہادی آراء بھی نقل کریں گے تاکہ ان سے جزئی مسائل مستنبط کرنے میں آسانی ہو۔ آخر میں چند ایسی تجویزیں پیش کی جائیں گی جن سے اصولِ شرع اسلامی کے مطابق مسلمانوں کے ازدواجی معاملات کی الجھنیں کسی حد تک دور ہو سکتی ہیں۔ اگرچہ ان الجھنوں کا اصلی اور صحیح علاج صرف اسلامی حکومت اور قضائے شرعی کا قیام ہے۔ لیکن ہم محض بسبیلِ تنزّل وہ کم سے کم صورتیں بھی بیان کر دینا چاہتے ہیں جن سے موجودہ حالات میں مسلمانوں کے ازدواجی معاملات کی خرابیاں نسبتاً ایک صحیح شرعی طریقے سے رفع کی جا سکتی ہیں، تاکہ جو لوگ ان مسائل کے حل کی کوشش کر رہے ہیں وہ غلط سمت میں اقدام کرنے کے بجائے ایسا طریقہ اختیار کریں جو کچھ شریعت کے مطابق ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔