حقوق الزوجین
اشاعت: 1943ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "حقوق الزوجین" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ اہم تصنیف ہے جس میں انہوں نے اسلامی ازدواجی نظام کی روح، اصول، مقاصد اور عملی تشکیل کا جامع جائزہ پیش کیا ہے۔ یہ کتاب محض قانونی بحث تک محدود نہیں، بلکہ ایک وسیع تر معاشرتی اور اخلاقی تناظر میں مرد و عورت کے تعلقات کو سمجھنے کی کوشش ہے، جس کا بنیادی مقصد مسلمانوں کی گھریلو زندگی کی اصلاح اور اسلامی شریعت کے صحیح نفاذ کی طرف رہنمائی کرنا ہے۔
مولانا مودودی کا مرکزی دعویٰ یہ ہے کہ موجودہ دور میں مسلمانوں کی ازدواجی زندگی کی تباہی کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ نہ تو اپنے اصلی اسلامی قانون کے تحت زندگی گزار رہے ہیں، اور نہ ہی ان پر ایسا قانون نافذ ہے جو ان کے تمدنی مزاج کے مطابق ہو۔ برطانوی دور میں نافذ کردہ "محمدن لا" نامی قانون، جو اسلامی شریعت کا نام لے کر اس کی روح سے بے نیاز ہے، نے مسلمانوں کے گھریلو معاملات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس ناقص قانون کے نتیجے میں لاکھوں گھر دوزخ کا نمونہ بن چکے ہیں، جہاں نہ صرف اخلاقیات کا پامال ہونا عام ہو گیا ہے بلکہ عزت، ناموس، ایمان اور تہذیب کی بنیادیں بھی ہلا دی گئی ہیں۔ اس صورتحال کو درست کرنے کے لیے مولانا نے 1935ء میں رسالہ "ترجمان القرآن" میں "حقوق الزوجین" کے عنوان سے مضامین کا سلسلہ شروع کیا، جسے بعد ازاں کتابی شکل دے دی گئی۔
کتاب کا آغاز دیباچۂ طبع اوّل سے ہوتا ہے، جس میں مصنف اپنی تحریر کے پسِ منظر اور مقصد کی وضاحت کرتے ہیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
متعلقہ نظامات: عورت اور مرد کا تعلق
قانون ازدواج کے مقاصد
قانون کی تفصیلات سے پہلے مقاصد قانون کو سمجھ لینا ضروری ہے۔ کیونکہ قانون میں سب سے اہم چیز اس کا مقصد ہے۔ مقصد ہی کو پورا کرنے کے لئے اصول مقرر کیے جاتے ہیں اور اصولوں کے ماتحت احکام دیے جاتے ہیں۔ اگر کوئی شخص مقصد کو سمجھے بغیر احکام نافذ کرے گا تو بہت ممکن ہے کہ کسی جزئی مسئلہ میں وہ ایسا حکم نافذ کر دے جس سے قانون کا اصل مقصد ہی فوت ہو جائے۔ اسی طرح جو شخص قانون کے مقصد سے واقف نہ ہو گا وہ قانون کی صحیح اسپرٹ کے مطابق اس کا اتباع بھی نہ کر سکے گا۔ لہٰذا ہم پہلے ان مقاصد کی تشریح کریں گے جن کے لیے اسلام میں ازدواج کا قانون مقرر کیا گیا ہے۔
اخلاق و عفت کی حفاظت:
اسلامی قانون ازدواج کا پہلا مقصد اخلاق کی حفاظت ہے۔ وہ زنا کو حرام قرار دیتا ہے اور نوع انسانی کی دونوں صنفوں کو مجبور کرتا ہے کہ اپنے فطری تعلق کو ایک ایسے ضابطے کا پابند بنا دیں جو اخلاق کو بخش اور بے حیائی سے اور تمدن کو فساد سے محفوظ رکھنے والا ہو۔ اسی لیے قرآن مجید میں نکاح کو لفظ احصان سے تعبیر کیا گیا ہے۔ حصن قلعہ کو کہتے ہیں اور احصان کے معنی قلعہ بندی کے ہیں۔ جو مرد نکاح ہے گویا وہ ایک قلعہ تعمیر کرتا ہے اور جس عورت سے نکاح کیا جاتا ہے وہ "محصنہ" ہے۔ یعنی اس قلعہ کی حفاظت میں آگئی ہے جو نکاح کی صورت میں اس کے نفس اور اس کے اخلاق کی حفاظت کے لیے تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ استعارہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ اسلام میں نکاح کا اولین مقصد اخلاق اور عصمت کا تحفظ ہے اور قانون ازدواج کا پہلا کام اُس قلعہ کو مستحکم کرنا ہے جو نکاح کی صورت میں اس گراں قدر چیز کی حفاظت کے لیے تعمیر کیا جاتا ہے۔ قرآن مجید کہتا ہے ۔
<<وَ أُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَاءَ ذٰلِكُمْ أَنْ تَبْتَغُوْا بِأَمْوَالِكُمْ مُحْصِنِيْنَ غَيْرَ مُسٰفِحِيْنَ>>
یہ عورتیں جو تم پر حرام کی گئی ہیں ، ان کے سوا باقی سب عورتیں تم پر حلال کر دی گئیں بشرطیکہ شہوت رانی کے لیے نہیں بلکہ قید نکاح میں لانے کے لیے تم اپنے اموال کے بدلے میں ان کو حاصل کرنا چاہو ۔ (النساء ۔ ۲۴)
پھر عورتوں کے لیے کہتا ہے ۔
<<فَانْكِحُوْهُنَّ بِإِذْنِ أَهْلِهِنَّ وَ اٰتُوْهُنَّ أُجُوْرَهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَيْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّ لَا مُتَّخِذٰتِ أَخْدَانٍ>>
پس تم ان کے سرپرستوں کی اجازت سے اُن کے ساتھ نکاح کرو ، اور مناسب طور پر ان کے مہر ادا کرو ، تاکہ وہ مُحْصَنات بنیں نہ کہ علانیہ یا چوری چھپے بدکاری کرنے والیاں ۔ (النساء ۔ ۲۵)
دوسری جگہ ارشاد ہے ۔
<<وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ اِذَآ اٰتَيْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ مُحْصِنِيْنَ غَيْرَ مُسٰفِحِيْنَ وَلَا مُتَّخِذِيْٓ اَخْدَانٍ>>
اور محفوظ عورتیں (حلال ہیں) اُن قوموں میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی بشرطیکہ تم اُن کے مہر ادا کر کے نکاح میں لانے والے ہو، نہ کہ علانیہ یا چوری چھپے ناجائز تعلقات پیدا کرنے والے۔ (المائدہ - ۵)
ان آیات کے الفاظ اور معانی پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی نگاہ میں سب سے زیادہ اہمیت اس چیز کی ہے کہ مرد اور عورت کے ازواجی تعلق میں احصان یعنی اخلاق اور عفت و عصمت کا پورا پورا تحفظ ہو۔ یہ ایسا مقصد ہے جس کے لیے ہر دوسری غرض کو قربان کیا جا سکتا ہے۔ مگر کسی دوسری غرض کے لیے اس کو قربان نہیں کیا جا سکتا۔ زوجین کو نکاح کی قید میں اسی لیے مقید کیا جاتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حدود کے اندر رہ کر اپنی فطری خواہشات پوری کریں۔ لیکن اگر کسی قید نکاح میں ایسے حالات پیدا ہو جائیں جن سے حدود اللہ کے ٹوٹنے کا خوف ہو، تو بجائے اس کے کہ نکاح کی ظاہری قید کو برقرار رکھنے کے لیے اللہ کی حدود کو قربان کیا جائے، بدر جہا بہتر یہ ہے کہ اللہ کی حدود پر ایسی قید نکاح کو قربان کر دیا جائے۔ اسی لیے ایلاء کرنے والوں کو حکم دیا گیا کہ چار مہینے سے زیادہ اپنے عہد پر قائم نہ رہیں، اور اگر وہ چار مہینے کی مدت گزرنے پر بھی رجوع نہ کریں تو انہیں ایسی عورت کو نکاح میں رکھنے کا کوئی حق نہیں ہے جس سے وہ ہم بستر نہیں ہونا چاہتے۔ کیونکہ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ عورت اپنے
داعیات فطرت کو پورا کرنے کے لیے حدود اللہ کو توڑنے پر مجبور ہو گئی جسے اللہ کا قانون کسی حال میں گوارا نہیں کر سکتا ۔ اسی طرح جو لوگ ایک سے زیادہ بیویاں کرتے ہیں ان کو سختی کے ساتھ تاکید کی گئی ہے کہ <<۔۔۔۔۔۔۔۔>> یعنی ایک عورت کی طرف بالکل اس طرح نہ جھک پڑو کہ دوسری عورت گویا معلق رہ جائے اس حکم کا مقصد بھی یہی ہے کہ کوئی عورت ایسی حالت میں مبتلا نہ ہونے پائے جس سے وہ حدود اللہ کو توڑنے پر مجبور ہو۔ ایسی حالت میں نکاح کی ظاہری قید برقرار رکھنے سے بہتر ہے کہ اس کو توڑ دیا جائے اور عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنے کے لیے آزاد ہو جائے ۔ پھر عورت کو خلع کا حق بھی اسی مقصد کے تحت دیا گیا ہے۔ ایک عورت کا کسی ایسے شخص کے پاس رہنا جس سے وہ خوش نہ ہو ، یا جس سے اس کے نفس کو اطمینان حاصل نہ ہوتا ہو ، اس کو ایسے حالات میں مبتلا کر دیتا ہے جن میں حدود اللہ کے ٹوٹ جانے کا خوف ہے۔ اس لیے ایسی عورت کو حق دیا گیا ہے کہ وہ شوہر کو اس کا مال ، جو مہر کی صورت میں اس سے ملا تھا ، یا اس سے کم زیادہ دے کر قید نکاح سے رہائی حاصل کرلے۔ قانون اسلامی کی ان دفعات کو آگے چل کر شرح وبسط کے ساتھ بیان کیا جائے گا۔ مگر یہاں ان مثالوں کے بیان کرنے سے اس حقیقت کو واضح کرنا مقصود ہے کہ اسلامی قانون نے اخلاق و عفت کی حفاظت کو سب چیزوں سے زیادہ اہمیت دی ہے۔ اگرچہ وہ قید نکاح کو حتی الامکان ہر طریقہ سے مستحکم کرنے کی کوشش کرتا ہے ، لیکن جہاں اس قید کے برقرار رہنے سے اخلاق وعفت کو صدمہ پہنچنے کا اندیشہ ہو وہاں اس متاع گراں مایہ کی خاطر نکاح کی گرہ کو کھول دینا ضروری سمجھتا ہے ۔ اسلامی قانون کی جو دفعات آئندہ بیان کی جائیں گی ان کو سمجھنے اور ان کو قانون کی اسپرٹ کے مطابق نافذ کرنے کے لئے اس نکتہ کو ذہن نشین کر لینا ضروری ہے۔
مَوَدَّت و رحمت:
دوسرا اہم مقصد یہ ہے کہ نوع انسانی کی دو نو صنفوں کے درمیان ازدواج کا تعلق مودت و رحمت کی بنیاد پر ہو تاکہ مناکحت سے تمدن و تہذیب کے جو مقاصد متعلق ہیں ان کو وہ اپنے اشتراک عمل سے بدرجۂ اَتم پورا کر سکیں اور ان کو اپنی خانگی زندگی میں وہ راحت و مسرت اور سکون و آرام حاصل ہو سکے جس کا حصول انہیں تمدن کے بالاتر مقاصد پورے کرنے کی قوت بہم پہنچانے کے لیے ضروری ہے۔ قرآن مجید میں اس مقصد کو جس انداز سے بیان کیا گیا ہے اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی نگاہ میں زوجیت کا تصور ہی مودت و رحمت ہے۔ اور زوجین بنائے ہی اس لیے گئے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے پاس سکون حاصل کریں۔ چنانچہ ارشاد ہے۔
<<وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً ط>>
اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے خود تم ہی میں سے جوڑے پیدا کیے ہیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کی ہے۔ (الروم - ۲۱)
اور دوسری جگہ فرمایا: -
<<هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْهَا>>
وہی ہے جس نے تم کو تن واحد سے پیدا کیا اور اس کیلئے خود اسی کی جنس سے ایک جوڑا
<<زَوْجَهَا لِتَسْكُنَ إِلَيْهَا>> (اعراف - ۱۸۹) بنایا، تاکہ وہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔
پھر ایک دوسرے سے پیرایہ میں زوجیت کے اس تصور کو یوں پیش کیا ہے ۔
<<هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ>> (بقرہ - ۱۸۷) وہ تمہارے لیے لباس ہیں۔ اور تم ان کے لیے لباس ۔
یہاں زوجین کو ایک دوسرے کا لباس کہا ہے۔ لباس وہ چیز ہے جو انسان کے جسم سے متصل رہتی ہے اور اس کی پردہ پوشی کرتی ہے اور اس کو خارجی فضا کے مضر اثرات سے بچاتی ہے ۔ اس لباس کے استعارہ کو زوجین کے لیے استعمال کرنے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ان کے درمیان مناکحت کا تعلق معنوی حیثیت سے ویسا ہی تعلق ہونا چاہیے جیسا جسم اور لباس کے درمیان ہوتا ہے۔ ان کے دل اور ان کی روحیں ایک دوسرے کے ساتھ متصل ہوں، وہ ایک دوسرے کی ستر پوشی کریں ، اور ایک دوسرے کو ان اثرات سے بچائیں ، جو ان کی عزت اور ان کے اخلاق پر حرف لانے والے ہوں۔ یہی مقتضیٰ ہے مودت و رحمت کا اور اسلامی نقطۂ نظر سے یہ ازدواجی تعلق کی اصلی روح ہے اگر کسی ازدواجی تعلق میں یہ روح نہیں ہے، تو گویا وہ ایک بے جان لاش ہے ۔
اسلام میں ازدواجی تعلقات کے لیے جو قوانین مقرر کئے گئے ہیں ان سب میں اس مقصد کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ زوجین اگر ایک دوسرے کے ساتھ رہیں، تو صلح و آشتی، محبت اور دلی یک جہتی کے ساتھ رہیں۔ ایک دوسرے کے حقوق ادا کریں، اور آپس کے تعلقات میں فیاضانہ برتاؤ رکھیں۔ لیکن وہ اگر ایسا نہ کر سکیں تو پھر ان کی یک جائی سے جدائی بہتر ہے۔ کیونکہ مودت و رحمت کی روح نکل جانے کے بعد ازدواجی تعلق ایک مردہ جسم ہے جس کو اگر دفن نہ کر دیا جائے تو عفونت پیدا ہو گی، اور اس سے خانگی زندگی کی ساری فضا زہر آلود ہو جائے گی۔ اسی لیے قرآن مجید کہتا ہے۔
`<<وَاِنْ تُصْلِحُوا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا وَاِنْ يَّتَفَرَّقَا يُغْنِ اللَّهُ كُلًّا مِّنْ سَعَتِهٖ>>` (النساء - ۱۲۹ - ۱۳۰) اگر آپس میں موافقت سے رہو اور ایک دوسرے سے زیادتی کرنے سے بچو تو بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے اور اگر (یہ نہ ہو سکے، اور زوجین ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں تو اللہ اپنے وسیع خزانہ غیب سے ہر ایک کی کفالت کرے گا۔
پھر جگہ جگہ احکام بیان کرنے کے ساتھ تاکید کی گئی ہے کہ۔
`<<فَاِمْسَاكٌ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِيْحٌ بِاِحْسَانٍ>>` (البقرہ - ۲۲۹) یا تو بھلے طریقہ سے ان کو اپنے پاس رکھا جائے یا احسان (خوش اسلوبی) کے ساتھ رخصت کر دیا جائے۔
`<<فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ>>` (الطلاق - ۳) یا تو بھلے طریقہ سے ان کو اپنے پاس رکھو یا بھلے طریقہ سے ان سے جدا ہو جاؤ۔
`<<وَعَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ>>` (النساء - ۱۹) اپنی بیویوں کے ساتھ اچھی طرح رہو۔
`<<فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَلَا تُمْسِكُوْهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا>>` یا تو بھلے مانسوں کی طرح ان کو رکھو یا بھلے مانسوں کی طرح رخصت کرو، محض ستانے کیلئے ان کو نہ روک رکھو کہ ان کی حق تلفی کرنے
<<وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ>> لگوا اور جو ایسا کرے گا وہ اپنے نفس پر خود ظلم کرے گا (یعنی اپنے آپ کو خدا کے عذاب کا مستحق بنائے گا) (البقره - ۲۳۱)
<<وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ>> اور آپس کے تعلقات میں فضل کو نہ بھولو (یعنی فیاضی کا برتاؤ کرو) ( البقره - ۲۳۷)
طلاق رجعی کے احکام جہاں بیان کئے گئے ہیں، وہاں رجوع کے لئے نیک نیتی کی شرط لگا دی گئی۔ یعنی دو طلاق دینے کے بعد تیسری طلاق سے پہلے شوہر کو یہ حق تو ہے کہ اپنی بیوی کی طرف رجوع کرلے ، مگر شرط یہ ہے کہ اس کی نیت صلح و آشتی کے ساتھ رہنے کی ہو، نہ کہ ستانے اور لٹکائے رکھنے کی۔ <<وَبُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِيْ ذٰلِكَ اِنْ اَرَادُوْا اِصْلَاحًا>> ۔ (البقره - ۲۲۸)
غیر مسلموں سے ازدواجی تعلق کی قباحت:
یہی وجہ ہے کہ مسلمان مردوں اور عورتوں کے لئے تمام اُن غیر مسلموں سے ازدواجی تعلق کو ممنوع کر دیا گیا ہے جو اہلِ کتاب نہیں ہیں ۔ کیونکہ وہ اپنے مذہب اپنے خیالات ، اپنی تہذیب و معاشرت اور اپنے طور طریقوں میں مسلمانوں سے اتنے مختلف ہیں کہ ایک حقیقی مسلمان کا دلی محبت اور قلب و روح کی یک جہتی کے ساتھ ان سے میل نہیں ہو سکتا۔ اگر اس اختلاف کے باوجود وہ ایک دوسرے کے ساتھ جوڑے جائیں تو ان کا ازدواجی رشتہ کوئی صحیح تمدنی رشتہ نہ ہوگا بلکہ محض ایک شہوانی رشتہ بن جائے گا۔ اور اس میں یا تو مودّت و رحمت نہ ہو گی یا اگر ہو گی تو وہ اسلامی تہذیب و تمدن کے لئے اور خود اس مسلمان کے لئے مفید ہونے کے بجائے اہل سعی بر ہو جائے گی۔
<<وَلَا تَنكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّىٰ يُؤْمِنَّ وَلَأَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِّن مُّشْرِكَةٍ وَلَوْ أَعْجَبَتْكُمْ وَلَا تُنكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّىٰ يُؤْمِنُوا وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَيْرٌ مِّن مُّشْرِكٍ وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ>> (البقرہ - ۲۲۱)
”مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں۔ ایک مومن لونڈی ایک مشرک شریف زادی سے بہتر ہے ، اگر چہ وہ تم کو پسند ہو، اور مشرک مردوں سے اپنی عورتوں کی شادیاں نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں، ایک مومن غلام ایک مشرک شریف زادے سے بہتر ہے ، اگر چہ وہ تم کو پسند ہو۔“
اہلِ کتاب کے معاملہ میں اگرچہ قانون اس کی اجازت دیتا ہے کہ ان کی عورتوں سے نکاح کر لیا جائے [اہل کتاب مردوں سے مسلمان عورت کا نکاح پھر بھی ممنوع ہے۔ کیونکہ عورت کی فطرت میں اثر پذیری اور قبولیت کا مادہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے اس لئے ایک غیر مسلم خاندان اور سوسائٹی میں غیر مسلم شوہر کے ساتھ اس کے رہنے سے یہ خطرہ زیادہ ہے کہ وہ ان کا رنگ اختیار کرلے گی اور یہ توقع بہت کم ہے کہ انہیں اپنے رنگ میں رنگ لے گی۔ نیز اگر وہ ان کا اثر قبول نہ کرے تو یہ امر یقینی ہے کہ اس کا یہ رشتہ محض ایک شہوانی رشتہ بن کر رہ جائے گا۔ نہ غیر مسلم شوہر سے وہ مودت و رحمت کے ساتھ پیوستہ ہو سکے گی اور نہ غیر مسلم خاندان اور سوسائٹی کے ساتھ اس کا کوئی مفید تمدنی رابطہ قائم ہو سکے گا۔] کیونکہ تہذیب کے مبادی میں ایک حد تک ہمارے اور ان کے درمیان اشتراک ہے، لیکن اس کو بھی اسلام میں پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا گیا ہے۔ کعب بن مالکؓ نے ایک کتابیہ سے نکاح کرنا چاہا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع فرما دیا اور ممانعت کی وجہ یہ ارشاد فرمائی <<أَنَّهَا لَا تُحْصِنُكَ>> وہ تجھے محصن نہیں بنا سکتی۔ مطلب یہ ہے کہ اس صورت میں دونوں کے درمیان وہ مودت و رحمت نہ ہو گی جو احصان کی اصلی روح ہے۔ حضرت حذیفہؓ نے ایک یہودیہ سے نکاح کرنا چاہا تو حضرت عمرؓ نے ان کو لکھا کہ اسے چھوڑ دو۔ حضرت علیؓ اور حضرت ابن عمرؓ نے کتابیات سے نکاح کو بامرِ اَحَنَّتْ مکروہ فرمایا ہے اور حضرت علیؓ نے کراہیت کی دلیل یہ پیش کی ہے کہ <<لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللهَ وَرَسُولَهُ>> ، یعنی جو مومن ہے وہ ایسے لوگوں سے محبت نہیں کر سکتا جو اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہوں۔ اور جب زوجین میں محبت ہی نہ ہو تو ایسا نکاح کس کام کا؟
کفاءت:
مرد مسلمانوں کے درمیان بھی شریعت یہ چاہتی ہے کہ ازدواجی تعلق ایسے لوگوں کے درمیان قائم ہو جن کے درمیان، غالب حال کے لحاظ سے، مودت و الفت تو قع ہو اور جہاں یہ توقع نہ ہو وہاں رشتہ کرنا مکروہ ہے یہی وجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح سے پہلے عورت کو دیکھ لینے کا حکم دیا (کم از کم مشورہ)۔
<<اخطب احدكم المرأةلِمَا عَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى مَايدعوه إلى نكاحها فليفعل>> جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو نکاح کا پیغام دے تو حتی الامکان اسے دیکھ لینا چاہیے کہ آیا اس میں کوئی ایسی چیز ہے جو اسکو اس عورت سے نکاح کی رغبت دلانے والی ہو۔ – (اَبُو دَاؤُد)
اور یہی وجہ ہے کہ شریعت نکاح کے معاملہ میں کفاءت (ہمسری) کو ملحوظ رکھنا پسند کرتی ہے اور غیر کفو میں نکاح کو مناسب نہیں سمجھتی ۔ جو عورت اور مرد اپنے اخلاق میں ، اپنی دینداری میں ، اپنے خاندان کے طور طریقوں میں ، اپنی معاشرت اور رہن سہن میں ، ایک دوسرے سے مشابہت یا کم از کم قریبی مماثلت رکھتے ہوں، ان کے درمیان مودت و رحمت کا رابطہ پیدا ہونا زیادہ متوقع ہے اور ان کے باہمی ازدواج سے یہ بھی توقع کی جا سکتی ہے کہ ان دونوں کے خاندان بھی اس رشتہ کی وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ متحد ہو سکیں گے۔ بخلاف اس کے جن کے درمیان یہ مماثلت موجود نہ ہو، ان کے معاملہ میں زیادہ تر اندیشہ یہی ہے کہ وہ گھر کی زندگی میں ، اور اپنے قلبی و روحی تعلق میں ، ایک دوسرے سے متصل نہ ہو سکیں گے اور اگر شخصاً میاں اور بیوی باہم متصل ہو بھی جائیں تو کم ہی یہ امید کی جا سکتی ہے کہ دونوں کے خاندان آپس میں مل سکیں۔ شریع اسلامی میں مسئلہ کفاءت کی یہی اصل ہے۔
مندرجہ بالا مثالوں سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ صیانت اخلاق و حفظ کے بعد دوسری چیز جو اسلام کے قانون ازدواج میں مقصدی اہمیت رکھتی ہے زوجین کے درمیان مودت و رحمت ہے۔ جب تک ان کے تعلقات میں اس چیز کے باقی رہنے کی امید ہو، اسلامی قانون ان کے رشتۂ مناکحت کی حفاظت پر اپنی پوری قوت صرف کرتا ہے۔ مگر جب یہ مودت و رحمت باقی نہ رہے اور اس کی جگہ بے دلی ، ہمدردی ، نفرت اور بیزاری پیدا ہو جائے ، تو قانون کا میلان رشتہ نکاح کی گرہ کھول دینے کی طرف منعطف ہو جاتا ہے ۔ یہ نکتہ بھی اس قابل ہے کہ اس کو ذہن نشین کر لیا جائے ۔ کیوں کہ جو لوگ اس کو نظر انداز کر کے قانون اسلام کے اصولوں کو جزئیات پر منطبق کرتے ہیں وہ قدم قدم پر ایسی غلطیاں کر جاتے ہیں جن سے قانون کا اصل مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے ۔