آزادی
اشاعت: 1968ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ۱۴ اگست ۱۹۶۸ء کو پاکستان کی اکیسویں سالگرہ کے موقع پر لاہور میں تحریکِ جمہوریتِ پاکستان کے زیرِ اہتمام ایک عظیم الشان جلسے سے مولانا مودودی کا خطاب ہے، جو انہوں نے علالت کے باوجود اس موقع کی اہمیت کے پیشِ نظر مختصراً ارشاد فرمایا۔
اس خطاب میں وہ آزادی کے تین مفہوم بیان کرتے ہیں: پہلا غیروں کی غلامی سے نجات، دوسرا ایک قوم کی حیثیت سے اپنے ملکی معاملات پر خود اختیار ہونا، اور تیسرا ایک مسلمان قوم کی حیثیت سے اللہ کے احکام نافذ کرنے کے لیے آزاد ہونا۔ وہ اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ اکیس سال گزرنے کے باوجود پاکستان دوسرے اور تیسرے مفہوم کی آزادی سے بڑی حد تک محروم رہا ہے، اور قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس نامکمل آزادی کو مکمل کرنے کی کوشش جاری رکھے۔
آزادی اور ایمان
حضرات! یہ چند باتیں تھیں جو میں آپ سے کہنا چاہتا تھا۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ میں سے ہر شخص اس بات پر غور کرے کہ فی الواقع ہم نے اب تک کیا پایا ہے اور کیا کھویا ہے۔ جو کچھ پایا ہے اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے، لیکن جو کچھ نہیں پایا ہے اور جسے آپ حاصل کرنا چاہتے ہیں، اسے حاصل کرنے کی کوشش کیجیے۔ اگر اس کو حاصل کرنے کی آپ کوشش نہیں کریں گے تو اندیشہ ہے کہ غیروں کی غلامی سے جو نجات آپ کو ملی ہے، اس سے بھی آپ کہیں ایک روز محروم ہو کر نہ رہ جائیں۔ کیونکہ جو آزادی مسلمان قوم میں اسلامی اقدار، اسلامی تہذیب اور اسلامی زندگی پیدا کرنے کا ذریعہ نہ بنے، تو مسلمان کبھی اس آزادی کی حفاظت نہیں کر سکتا۔ دنیا کی کوئی دوسری قوم کسی دوسری چیز کے بل بوتے پر اپنی آزادی کی حفاظت کے لیے لڑ سکتی ہے، لیکن مسلمان اگر جان دے سکتا ہے تو صرف ایمان کے لیے۔ وہ جس ایمان کو عزیز رکھتا ہے، اس کے ضائع ہونے کا خطرہ اسے سربکف بنا سکتا ہے۔ لیکن اگر سر سے اس کے ایمان ہی کی جان نکال دی جائے تو اس کے بعد وہ محرک کیا رہ جاتا ہے جس کے لیے وہ جان دے گا۔ خود ۱۹۶۵ء کی جنگ میں آپ دیکھ چکے ہیں کہ پاکستان کو جس چیز نے بچایا، وہ اسلامی جذبہ تھا۔ کوئی قومی یا وطنی جذبہ نہ تھا۔ اس جنگ میں لڑنے والا اس خیال سے لڑا کہ میں خدا کی راہ میں لڑنے جا رہا ہوں۔ جس نے جان دی ہے، یہ سمجھتے ہوئے دی ہے کہ میں شہید ہو رہا ہوں۔ اگر اس کو یہ یقین نہ ہوتا کہ میں شہید ہو رہا ہوں اور میری اس موت کے بعد مجھے جنت نصیب نہیں ہوگی تو سرفروشی کی وہ تاریخ مرتب نہ ہو سکتی تھی جو اس جنگ میں مرتب ہوئی۔
سوال یہ ہے کہ اگر وہی اصل چیز جس کے بل پر مسلمان قربانی کر سکتا ہے ختم کر دی جائے تو آپ کہاں سے وہ جذبہ قربانی لے کر آئیں گے جس سے اس سرزمین کی حفاظت ہو سکے۔ اس لیے میں آپ سے کہتا ہوں کہ اگر یہاں صحیح اسلامی آزادی قائم نہ ہوتو ہم نے غیروں سے جو آزادی حاصل کی ہے اس کی بھی حفاظت نہیں کر سکیں گے۔
<<واخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين>>
(ہفت روزہ ’آئین‘ ١٨ اگست ١٩٦٨ء)