مرکزی مواد پر جائیں
ٹائم لائن · غلامی و جدوجہدِ آزادی (1757ء – 1947ء)

تقویۃ الایمان کی تصنیف

1825ء (تقریباً)

ٹائم لائن پر دیکھیں ←
عیسوی تاریخ1825ء (تقریباً)
دورغلامی و جدوجہدِ آزادی

شاہ اسماعیل دہلویؒ نے توحید کی وضاحت اور شرک و بدعات کے رد میں 'تقویۃ الایمان' لکھی، جس نے تحریک کی فکری بنیاد فراہم کی اور ساتھ ہی علما میں اختلافِ رائے بھی پیدا کیا۔

'تقویۃ الایمان' شاہ اسماعیل دہلویؒ کی وہ مشہور کتاب ہے جو انیسویں صدی کی تیسری دہائی میں توحید کی وضاحت اور شرک و بدعات کے رد میں لکھی گئی۔ اس کتاب کا انداز نہایت سادہ، براہِ راست اور عوامی تھا، اور اسے قرآن و حدیث کی نصوص سے مزین کیا گیا۔ اس کی زبان آسان تھی تاکہ عام لوگ سمجھ سکیں۔

اس کتاب نے وسیع پیمانے پر مقبولیت حاصل کی، مگر ساتھ ہی اس کے بعض اسلوب اور عبارات پر علما کے درمیان تنقید اور بحثیں بھی ہوئیں۔ یہ بحثیں آگے چل کر برصغیر میں مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان مناظروں اور اختلافات کا پس منظر بنیں۔

بہرحال تقویۃ الایمان کو سید احمد شہیدؒ کی تحریک کا فکری منشور سمجھا جاتا ہے، جس نے توحید کی دعوت کو برصغیر کے وسیع حلقوں تک پہنچایا اور جہاد کے لیے ذہنی تیاری کا کام کیا۔

غلامی و جدوجہدِ آزادیآزادی کی تحریکیں

متعلقہ شخصیات